1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ محدث فورم میں موجود تمام ممبران سے گزارش ہے

'اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏ستمبر 05، 2013۔

  1. ‏ستمبر 05، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,039
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ محدث فورم میں موجود تمام ممبران سے گزارش ہے

    میری کسی بھی پوسٹ سے کسی کو دکھ پھوچھا ہے تو اللہ کے لیے مجھے معاف کر دیں

    آج محدث فورم میں میرے ایک بھائی نے میری ایک پوسٹ پر میری اصلاح کر دیں ان کی وہ نصیحت میں یہاں پیسٹ کرتا ہو-

    میں تو صرف ایک بات کا قائل ہوں، کیا میں نے اس سفر کی تیاری اسی طرح کی ہے،جس طرح کرنے کا حق ہے؟کیا معاملات ویسے ہیں جیسے صحابہ اکرام کے تھے، کیا میری اپنی نمازوں میں ویساخشوع خضوع ہے۔کیا میں کبھی تنہائیوں میں بیٹھ کے اُس رب کے سامنے رویا ہوں؟ کیا میں نے کسی مقلد غیر مقلد یا جو بھی ہیں ان کی ہدایت کی دعا مانگی ہے؟ کیا میرے اندر ان سب کا سچا جذبہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو لوگوں کے ایمان کے حریص تھے۔

    اگر میں نے آج اپنا محاسبہ نہیں کیا تو پھر میری کسی پوسٹ کا کسی تحریر کا کوئی فائدہ نہیں۔بس اللہ تعالیٰ ہمارے اندر اخلاص دے۔اور ویسے بھی کسی کو نہیں پتا کل کلاں اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اس سے بہترہے کہ ہم آج سے اپنی لائین سیدھی کر لیں۔

    اللہ کی قسم جب میری اپنی لائن سیدھی ہو گئی تو میری بات لوگوں کے دلوں میں تیر کی طرح بیٹھے گئی۔ اگر نہ یقین آئے تو تجربہ کر کے دیکھ لیں۔ ان شاءاللہ سمجھ آجائے گی۔ بس خیرخواہی کا جذبہ رکھنا ہے اور امت کی بھلائی کی دعا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو امت کے لیے راتوں کو اٹھ اٹھ کے روتے تھے۔ ہم کب کریں گے؟

    میرے سے اپنے بہت سے بھائی ناراض ہیں یہاں پر بھی اور دوسرے فورم پر بھی، میں تو اکثر سوچتا رہتا ہوں کہ میں ان سے معافی کیسے مانگوں، کیا پتا میری کوئی بات ان کے لیے تکلیف کا باعث بنی ہو، اور کل کلاں وہ میرے اعمال کے آڑے آجائے۔ نہیں مجھے آج ہی ان سے معافی مانگنی ہے اور اپنی لائین سیدھی کرنی ہے۔ رب کی رضا کے لیے جس کو بھی مجھ سے تکلیف پہنچی ہے میں معافی کا درخوستگار ہوں۔ کہ اللہ کے بندے بھی مجھے معاف کردیں اور اللہ رب العزت بھی معاف فرمادے۔ آمین یا رب العالمین

    دعوت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ ھم سب کی سوچ یہ بنا دیں - آمین یا رب العالمین

    ایک ویڈیو اصلاح کے لئے پو سٹ کرتا ہو سب بھائی ضرور دیکھیں


    http://forum.mohaddis.com/threads/اس-ویڈیو-کو-ضرور-دیکھیں۔.16269/#post-120424

    آخر میں آپ سے یہی کہوں گا کہ اللہ کے لیے مجھے معاف کر دیں

    آپکا بھائی محمد عامر یونس

    ا
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 05، 2013 #2
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    وعلیکم السلام ،
    اگر آپ سچائی اور اخلاص سے لوگوں کو دین کی طرف بلاتے ہیں تو ان شاء اللہ ،،اللہ آ پ کی مدد فرمائے گا۔آمین
    عامر بھائی ہمیشہ ایسے جذبے قائم رکھنا۔اللہ تعالی معاف فرمانے والا ہے۔
    اللہ ہم سب کی اصلاح کر دے ۔آمین
     
  3. ‏ستمبر 05، 2013 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,039
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    دعوت الی اللہ کس پرواجب ہے

    کیا ہرمسلمان مرد وعورت پردعوت الی اللہ واجب ہے یا کہ صرف علماء کرام اورطلاب علم پرمنحصر ہے ؟

    الحمد للہ :
    جب انسان بصيرت كے ساتھ دعوت كا كام كرے توپھر اس میں کوئي‏ فرق نہیں کہ وہ کو‏ئى بڑا عالم ہو یا جس کی بات مانی جاۓ یا پھر وہ کوئي مجتھد طالب علم ہو اوریا کو‏ئى عامی ہو مسئلہ یہ ہے کہ اسے علم یقینی ہونا چاہیے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :
    ( اگرایک آیت کا بھی علم ہے تواسے بھی آگے پہنچادو ) ۔

    داعی کے لیے کوئ شرط نہیں کہ وہ ایک بڑا عالم دین ہی ہو لیکن شرط صرف اتنی ہے کہ جس چیزکی وہ دعوت دے رہا ہے اس میں اسے علم چاہیے ، یہ جائزنہیں کہ وہ اپنے دعوتی شوق سے ہی دعوت دینی شروع کردے اوروہ اس مسئلہ ميں جاہل ہو ۔
    تواس لیے ہم دیکھتےہیں کہ جنہیں دعوتی کاموں کا شوق ہوتا ہے لیکن ان کے پاس علم بالکل نہیں ہوتا سواۓ قلیل سے علم کے جس قابل ذکرنہیں ہوتا جس کی بنا پروہ ایسی اشیاء حرام کرنا شروع کردیتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے توحرام نہیں کیا ، اوراسی طرح ان اشیاء کوواجب قراردیتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے بندوں پرواجب نہیں کیا جوکہ ایک بہت ہی خطرناک بات ہے ۔

    اس لیے کہ جسے اللہ تعالی نے حلال کیا ہواسے حرام قراردینا اللہ تعالی کی حرام کردہ چيزکوحلال کرنے کے مترادف ہے ، تومثلا جب وہ کسی دوسرے پراس چيزکے حلال ہونے کاانکارکریں گے تو ان کے علاوہ دوسرے ان پراس کے حرام ہونے کابھی انکارکریں گے ، اس لیے کہ اللہ تعالی نے یہ دونوں امربرابر قرار دیتے ہوۓ فرمایا ہے :
    { کسی چيزکے بارہ میں اپنی زبان سے جھوٹ موٹ یہ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اوریہ حرام ہے کہ اللہ تعالی پرجھوٹ بہتان باندھ لو سمجھـ لو کہ اللہ تعالی پربہتان بازی کرنے والے کامیابی سے محروم ہی رہتے ہیں } النحل ( 116 )۔
    الشيخ محمد بن صالح بن عثیمین رحمہ اللہ تعالی

    http://islamqa.info/ur/2023
     
  4. ‏ستمبر 05، 2013 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,039
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    دوسروں کوکسی کام سے روکنا اورخود اس کا ارتکاب کہیں نفاق تونہیں ؟

    جب میں اپنے بھائیوں کوایک برائ سے منع کروں لیکن میں خود وہ برائ کرتا رہوں توکیا میں منافق شمارہوں گا ؟
    جواب دے کرمستفید فرمائيں اللہ تعالی آپ کوجزاۓ خیرفرماۓ ۔

    الحمد للہ
    آّپ پر واجب ہے کہ گناہوں اورمعاصی سے توبہ کریں اوراپنے بھائیوں کو بھی اس نصیحت کریں ، اورآّپ کے لیے معاصی پرقا‏ئم رہنا اوراپنے بھائیوں کونصیحت ترک کردینا جائزنہيں اس لیے کہ یہ دومعصیتوں کوجمع کرنا ہے ۔
    تواس سے آّّپ اللہ تعالی کے ہاں توبہ کرنے کے ساتھ اپنے بھائیوں کونصیحت بھی کرتے رہیں ، تواس طرح آپ منافق نہیں ہونگے ، لیکن آّپ ایک فعل کا ارتکاب کررہے ہیں جس کی اللہ تعالی نے مذمت کی اور اس کے فاعل پرعیب لگاتے ہوۓ کچھ اس طرح فرمایا ہے :
    { اے ایمان والو ! تم وہ بات کیوں کہتے ہوجوخود نہیں کرتے ، تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالی کوسخت ناپسند ہے } الصف ( 2 - 3 ) ۔
    اوراللہ تعالی کا ایک اورمقام پرکچھ اس طرح فرمان ہے :
    { کیا لوگوں کوتوبھلائیوں کا حکم دیتے ہو ؟ اورخود اپنے آپ کوبھول جاتے ہو باوجود یکہ تم کتاب پڑھتے ہو کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں } ۔ .
    دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 12 / 268 )

    http://islamqa.info/ur/10214
     
  5. ‏ستمبر 05، 2013 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,039
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    الحمد للہ:

    دعوت الى اللہ كا كام كرنے والا شخص اپنى دعوت ميں علم و بصيرت كا محتاج ہوتا ہے.
    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " ہوشمند اور عقل و خرد كے مالك اور دعوت الى اللہ كا خيال ركھنے والے مسلمان نوجوان ذرا اس فرمان بارى تعالى پر تامل اور غور كرو:
    ﴿ كہہ ديجئے ميرى راہ يہى ہے ميں اور ميرے متبعين اللہ كى طرف پورے يقين اور اعتماد و بصيرت كے ساتھ دعوت ديتے ہيں اللہ پاك ہے اور ميں مشركوں ميں سے نہيں ﴾يوسف ( 108 ).
    يعنى جس كى دعوت دے رہے ہو اس كى بصيرت ہو، اور جسے دعوت دے رہے ہو اس كے حال كى بھى بصيرت ركھتے ہو، اور دعوت كى كيفيت كى بھى بصيرت ہونى چاہيے، تو اس سے يہ علم ہوا كہ دعوت كى كچھ شروط ہيں جن كا پايا جانا ضرورى ہے ان ميں سے چند ايك درج ذيل ہيں:
    اول:
    جس كى دعوت دى جا رہى ہے اس كى بصيرت ہونى چاہيے يعنى جس كى دعوت دے رہا ہے اس حكم شرعى كا عالم ہو؛ كيونكہ ہو سكتا ہے وہ كسى ايسى چيز كى دعوت دے رہا ہو جس كے متعلق اس كا خيال ہو كہ وہ واجب ہے، ليكن شرع ميں وہ واجب نہ ہو.
    اس طرح وہ اللہ كے بندوں پر وہ كام لازم كر دے جسے اللہ نے لازم نہيں كيا، اور ہو سكتا ہے وہ كسى چيز اور كام كے ترك كرنے كى دعوت دے جس كے متعلق اس كا خيال ہو كہ وہ حرام ہے، ليكن اللہ كے دين ميں وہ حرام نہ ہو، اس طرح وہ اللہ كے بندوں پر اللہ نے جو حلال كيا ہے اسے حرام كر دے.
    دوم:
    اسے مدعو يعنى جسے دعوت دى جا رہى ہے كے حال كا بھى علم و بصيرت ہونى چاہيے: آپ كے ليے مدعو كى حالت كا علم ركھنا ضرورى ہے، اس كى تعليمى قابليت كيا ہے ؟ وہ بحث كى كتنى قابليت ركھتا ہے ؟ تا كہ آپ اس كے ساتھ بحث و مناقشہ كرنے كى تيارى كر سكيں؛ كيونكہ اگر آپ اس طرح كے شخص كے ساتھ بحث و مناقشہ كرنے لگيں تو اس كے قوت مناظرہ اور مناقشہ كى بنا پر معاملہ آپ كے خلاف ہو جائيگا.
    تو اس طرح آپ كے سبب حق پر آزمائش و مصيبت ہو گى يہ خيال مت كريں كہ باطل پر چلنے والا شخص ہر حال ميں نرم اور ايزى ہوتا ہے.
    سوم:
    دعوت دينے والا دعوت كى كيفت كى بصيرت ركھتا ہو، اس ليے ميں اپنے دعوت دينے والے بھائيوں كو ابھارتا ہوں كہ وہ دعوت ميں حكمت نرمى اختيار كريں انہيں علم ہو كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
    ﴿ اللہ جسے چاہتا ہے حكمت عطا فرماتا ہے، اور جسے حكمت دے دى جائے تو اسے خير كثير عطا كر دى گئى اور اس سے نصيحت صرف عقلمند ہى حاصل كرتے ہيں ﴾البقرۃ ( 269 ).
    ديكھيں: فتاوى الحرم المكى ( 1063 - 1066 )
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں