• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالیٰ سے نیک اولاد طلب کرنا

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,861
ری ایکشن اسکور
41,092
پوائنٹ
1,155
بسم اللہ الرحمن الرحیم​
اللہ تعالیٰ سے نیک اولاد طلب کرنا

سیرت ابراہیم علیہ السلام میں موجود باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے اپنے وطن اور قوم سے ہجرت کرتے وقت اللہ تعالیٰ سے نیک اولاد عطا فرمانے کی درخواست کی۔
دلیل:
اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ارشاد فرمایا:
وَقَالَ إِنِّى ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّى سَيَهْدِينِ ﴿٩٩﴾رَبِّ هَبْ لِى مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ﴿١٠٠﴾
ترجمہ: اور کہا میں نے اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے راہ بتائے گا اے میرے رب! مجھے ایک صالح (لڑکا) عطا کر (سورۃ الصافات،آیت 99-100)
تفسیر آیت کریمہ:
علامہ زمخشری نے (رَبِّ هَبْ لِى مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ) کی تفسیر میں قلم بند کیا ہے کہ ان کی دعا کا مقصود یہ ہے کہ مجھے نیک اولاد عطا فرما کیونکہ لفظ (الحبۃ) غالبا اولاد کے عطا فرمانے کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔(الکشاف، التفسیر الکبیر )
شیخ محمد عدوی نے تحریر کیا ہے:
پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں صالح اولاد عطا فرمائے۔(دعوۃ الرسل،ص:60)

نیک اولاد طلب کرنے کی حکمت:
قاضی بیضاوی نے نیک اولاد نیک اولاد طلب کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
"وہ دعوت و اطاعت کے کاموں میں میری اعانت کریں اور پردیس میں میرے مونس اور غم خوار بنیں۔"(تفسیر البیضاوی،فتح القدیر،وروح المعانی)

بعض لوگوں کا طرز عمل:
اس مقام پر شاید یہ تنبیہ کرنا مناسب ہو کہ بعض لوگ اللہ تعالیٰ سے اولاد طلب کرتے وقت نیک ہونے کا ذکر نہیں کرتے ،ان کی دعا صرف یہ ہوتی ہے کہ "اے اللہ! ہمیں اولاد عطا فرما"۔اور کچھ حضرات ایسے بھی ہیں کہ اولاد کے بگڑنے کی مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد بھی اولاد کی نیکی کی دعا کے موثر ،مفید اور مضبوط ہتھیار سے فیض یاب نہیں ہوتے۔خلیل الرحمن حضرت ابراہیم علیہ السلام ایسے لوگوں کے برعکس اولاد کے ملنے سے پہلے ہی سے یہ فریاد شروع کر دیتے ہیں کہ وہ صالحین میں سے ہوں،کیونکہ نیکی سے دور اولاد اپنے والدین کے لیے افسوس ،رنج،پریشانی اور بے چینی کا سبب بنتی ہے،بلکہ وہ تو ان کے لیے دنیا و آخرت میں وبال جان ہوتے ہیں۔
اقتباس حضرت ابراہیم علیہ السلام بحیثیت والد از ڈاکٹر فضل الہی​
 
Top