ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 871
- ری ایکشن اسکور
- 229
- پوائنٹ
- 111
امام ابو الولید الطیالسی کا 80 سال بعد رفع الیدین کی طرف رجوع
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
امام علی بن المدینی فرماتے ہیں کہ میں نے امام ابو الوليد الطيالسی سے کہا:
مَا عُذْرُك عِنْدَ اللَّهِ؟ وَبِأيّ شَيءٍ تَحتجُّ إِذَا أوَقَفْتَ بَينَ يَديهِ ؟
’’اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کیا عذر پیش کریں گے یا آپ کے پاس اُس وقت کیا دلیل ہوگی؟‘‘
پھر امام علی بن المدینی نے حدیث بیان کی کہ امام سفیان (بن عیینہ) امام زہری سے روایت کرتے ہیں، وہ سالم بن عبد اللہ بن عمر بن الخطاب سے، وہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاة كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيه حَذْو منكببه، وَإذَا رَكَعَ رَفَعَ يَديه، وَإِذَا رَفَعَ رَأسَهُ مِن الرُّكُوعِ رَفَع يَديهِ، وَلا يَفْعَلَ ذَلكَ بَيْن السَّجَدتينِ
اللہ کے حبیب ﷺ جب نماز پڑھنا شروع کرتے تو تکبیر تحریمہ کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک اُٹھاتے، اسی طرح اللہ کے حبیب ﷺ جب رکوع میں جاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے، اسی طرح اللہ کے حبیب ﷺ جب رکوع سے سر مبارک اُٹھاتے تو دونوں ہاتھ اُٹھاتے۔ اور اللہ کے حبیب ﷺ سجدوں میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
امام علی بن المدینی فرماتے ہیں کہ
فَرَفعَ أَبُو الوَليدَ في الصَّلاةِ بَعْد مَا أَتَى عَلَيْهِ ثَمَانُونَ سَنَةً لا يَرْفَعُ
اس کے بعد امام ابو الوليد الطيالسی نے نماز میں رفع یدین شروع کر دیا، حالانکہ اس سے پہلے وہ اسی (80) سال کی عمر تک رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
(معجم شیوخ ابن الاعرابی: 1257 وسندہ صحیح، مفہوماً)
امام ابو سعید ابن الاعرابی کے استاد ’’تمیم‘‘ سے مراد تميم بن عبد اللہ ابو محمد المطوعی النيسابوری ہیں جن کے بارے میں امام عبد الغافر الفارسی فرماتے ہیں: ’’شيخ صالح ثقة‘‘ (المنتخب من كتاب السياق لتاریخ نیسابور: 441 ص 253)
اس حکایت کو متاخرین میں سے امام ذہبی نے تاریخ الاسلام (16/ 439) میں بھی ذکر کیا ہے۔
یاد رہے کہ امام سفیان بن عیینہ اور امام ابن شہاب الزہری دونوں نے مسند الحمیدی (614، وسندہ صحیح) میں سماع کی تصریح کر دی ہے، والحمدللہ۔ والد محترم رحمہ اللہ مسند الحمیدی کی تخریج میں فرماتے ہیں: ’’وسندہ صحیح‘‘۔
امام عبد الرحمن بن مہدی سے کہا گیا کہ
إِنَّ أَبَا دَاوُدَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ بأَصْبَهَانَ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
امام ابو داود الطیالسی جب اصبھان کے علاقے میں تشریف لائے تو انھوں نے رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین نہیں کیا۔
ثقہ امام عبد الرحمن بن عمر رستہ فرماتے ہیں کہ امام عبد الرحمن بن مہدی نے اس بارے میں مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا:
يَرْفَعُهُمَا جَمِيعًا تَحْتَ ثِيَابِهِ
امام ابو داود الطیالسی نے دونوں مقامات یعنی رکوع کو جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کیا تھا لیکن کپڑے (چادر/وغیرہ) کے نیچے سے رفع یدین کیا تھا۔
تو امام عبد الرحمن بن مہدی نے فرمایا:
بِئْسَ مَا صَنَعَ , أَلَا يُظْهِرُ فَيَرَاهُ النَّاسُ فَيَقْتَدُوا بِهِ
’’انھوں نے اچھا نہیں کیا۔ ان کو تو کھلم کھلا رفع یدین کرنا چاہیے تھا تاکہ لوگ انھیں دیکھتے اور لوگ بھی ان کو دیکھ کر رفع یدین کرتے۔‘‘
(طبقات المحدثین باصبھان: 2/ 48 وسندہ حسن)
یاد رہے کہ امام ابو داود الطیالسی اور امام ابو الولید الطیالسی دو علیحدہ محدث ہیں.
رحمہم اللہ اجمعین
ترجمہ وتحقیق: حافظ معاذ بن زبیر علی زئی