• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انجینیئر محمد علی مرزا کے ایک پمفلٹ "واقعہ کربلا ٧٢ صحیح احادیث کی روشنی میں" کا تحقیقی جائزہ

شمولیت
اکتوبر 27، 2017
پیغامات
39
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
41
السلام علیکم میرے بھائی! میں ایک لمبا عرصہ اہل حدیث رہ چکا ہوں اور ہمیں بہت اچھے اور دلائل کے ساتھ جواب بتاۓ جاتے تھے، اور ہم جب مقلدین کے قرآن اور حدیث کے غیر مطابق جواب دیکھتے تھے تو ہمیں پتا چل جاتا تھا کہ ان کے پاس کوئی صحیح جواب نہیں ہے- میں اب بھی اہل حدیث کو باقی تمام مسلک میں سے سب سے زیادہ قرآن اور احادیث کے قریب سمجھتا ہوں لیکن میں آج سے غالبا ٨ آٹھ سال پہلے اہل حدیث مسلک کے کچھ علماء کے کچھ مسائل کے بارے میں قرآن اور احادیث کے خلاف آئیں باہیں شاہیں کرنے کی وجہ سے علیحدہ ہوا اور ویسے بھی مجھے اپنے آپ کو اہل حدیث کی بجاۓ مسلمان کہنا اچھا لگتا تھا کیونکہ یہی قرآن نے بتایا-
وعلیکم السلام
محترم بھائی کامل علم کسی کے پاس نہیں ہوتا جتنا معلوم ہو اتنا ہی بتانا چاہئے ، مسئلہ معلوم نہ ہونے کے باوجود اپنی طرف سے اگر کوئی بتانا شروع کر دے تو ایسا عالم خود بھی گمراہ کہلائے گا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔
حق کی تلاش کیلئے تھوڑی بہت محنت کرنے پڑتی ہے اگر کسی ایک عالم کو مسئلے کا علم نہیں تو کسی دوسرے سے پوچھیں ، حق پانے کی جستجو ہو اور نیت اچھی ہو منزل ان شاءاللہ ضرور مل جاتی ہے ، ایک بہت پیارے صحابی رسول حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان لانے والا واقعہ پڑھا ہوگا آپ نے جوکہ ایک بہترین مثال ہے ، اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسا ایمان نصیب فرمائے اللھم آمین
پھر آج سے ایک یا دو سال پہلے انجنیئر محمد علی مرزا کو سنا تو وہی باتیں جو میں سمجھ چکا تھا، وہی باتیں دل کو لگیں-
آسمان سے گرے اور کھجور میں اٹکے
میں نے اسے جتنا پڑھا اور سنا اس سے یہی اخز کیا کہ یہ شیعہ کا سہولت کار ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کئی مرتبہ فضیلت الشیخ ابو یحییٰ نور پوری حفظہ اللہ نے انہیں مناظرے کا چیلنج کیا تاکہ حق اور باطل عام لوگوں کے سامنے آ جائے ایک لاکھ روپے ایک گھنٹے کے مناظرے کا اعلان کیا جوکہ انجینئر کو انہوں نے اپنی طرف سے دینے تھے لیکن وہ بند کمرے سے باہر ہی نہیں نکلتا ، وہ بس یہ چاہتا ہے کہ سوال کرنے والے جاہل ہوں جو میری بات کو تسلیم بھی کرتے چلے جائیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو گالی دینے کی ممانعت اور بعد والوں پر ان کی فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ»صحیح مسلم،حدیث نمبر: (2540)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میرے اصحاب کو برا مت کہو، میرے اصحاب کو برا مت کہو، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر کوئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا (اللہ کی راہ میں) خرچ کرے تو ان کے دیئے ایک مُد (آدھ کلو) یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔

اس میں، میں نے بولڈ کیے ہوے الفاظ پر غور کیا- یہ تو وہی لفظ ہے جس کے کرنے کا حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ حکم دے رہے ہیں اور نہ کرنے پر پوچھ رہے ہیں کہ تم علی پر سب کیوں نہیں کرتے- اسی سب کرنے سے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا- میں حضرت امیر معاویہ کو نہ تو کافر کہتا ہوں، نہ میں انکو معصوم عن الخطاء کا عقیدہ رکھتا ہوں اور نہ یہ سمجھتا ہوں کہ الله لازمی انکی غلطیوں کی وجہ سے انکو دوزخ میں ڈالے گا- میرا یہ عقیدہ ہے کہ صحیح احادیث کی روشنی میں ان سے کچھ غلطیاں ہوئیں جو کافی سنگین ہیں اور ہمیں اس کو واضح کرنا چاہیے اور بے جا غیر منصفانہ ڈیفنڈ (دفاع) نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اگر ہم ایسا نہ کریں گے تو ان کے مقابل خلیفہ راشد علی رضی الله عنہ ہیں، نہیں تو کیا ہم خلیفہ راشد کو برا کہیں گے؟
صحیح مسلم کی حدیث 6220 کی وضاحت ایک بہن نے فیس بک پر بہت اچھے انداز سے کی ہے ملاحظہ فرمائیں
*(مرزا جہلمی کی مکاری)*
معاذاللہ، کیا معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضي الله عنه کو گالیاں دیتے تھے؟)*

مرزا جہلمی اور انکے حواری عام مسلمانوں کو گمراہ کرنے کیلئے یہ جھوٹی افواہیں پھیلاتے رہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھی معاذاللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے تھے۔
اس حوالے سے مرزا جہلمی کی طرف سے جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں انکی حقیقت پیش خدمت ہے۔

*دلیل نمبر ایک:*
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟ فَقَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلَاثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَنْ أَسُبَّهُ، لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ، خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ» قَالَ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ: «ادْعُوا لِي عَلِيًّا» فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ، فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ، فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ، وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} [آل عمران: 61] دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي»

*ترجمہ:*
بکیر بن مسمار نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے ،انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: آپ کو اس سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ ابوتراب (سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو برا کہیں۔ انھوں نے جواب دیا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے کہی تھیں، میں ہرگز انھیں برا نہیں کہوں گا ان میں سے کوئی ایک بات بھی میرے لئے ہو تو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہو گی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ ان سے (اس وقت) فرما رہے تھے جب آپ ایک جنگ میں ان کو پیچھے چھوڑ کر جا رہے تھے اور علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان سے کہا تھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "تمھیں یہ پسند نہیں کہ تمھارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے۔" اسی طرح خیبر کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا: "اب میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و سلم اس سے محبت کرتے ہیں۔" کہا: پھر ہم نے اس بات (مصداق جاننے) کیلئے اپنی گردنیں اٹھا اٹھا کر (ہر طرف) دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "علی (رضی اللہ عنہ) کو میرے پاس بلاؤ۔" انھیں شدید آشوب چشم کی حالت میں لایا گیا آپ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور جھنڈا انھیں عطا فرما دیا۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کر دیا اور جب یہ آیت اتری: "(تو آپ کہہ دیں:آؤ) ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلا لیں۔"تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ،حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ،حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ ،اور حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بلایا اور فرمایا: "اے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں۔"
*صحیح مسلم حدیث نمبر: 6220.*

*وضاحت::*
اس روایت میں "سُب" کے الفاظ ہیں مرزا جہلمی صاحب اس کا معنی "گالیاں دینا" کرتے ہیں حالانکہ اس لفظ کا ہر وقت یہ معنی نہیں ہوتا۔
جبکہ حقائق یہ ہیں کہ جب ایک شخص، دوسرے کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اس پر رد کرے اور اسکے مؤقف پر تنقید کرے اور اپنے دلائل پیش کرے، تو اسے بھی "سُبّ" کہا جاتا ہے اور معاویہ رضی اللہ عنہ کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کو اجتھادی خطاء پر تصور کرتے تھے اس وجہ سے کہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے اور معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے جلد قصاص لینے کا مطالبہ کر رہے تھے اور یاد رہے یہ صرف ایک معاویہ رضی اللہ عنہ کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ دیگر کئی کبار صحابہ کا بھی تھا۔
جن میں ام المؤمنین عائشہ، طلحہ ،زبیر رضی اللہ عنھم وغیرہ بھی شامل ہیں۔

"سُب" کے اس معنی کی طرف اشارہ بخاری شریف کی اس روایت میں موجود ہے کہ جب حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما باغ فدک کے مسئلے میں آپس میں بہت زیادہ اختلاف اور ٹکراؤ کرنے کے بعد، فیصلہ کروانے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے اس روایت کے الفاظ ہیں۔
"فاستب علي وعباس" *بخاری حدیث: 4033؛* وغیرہ۔
عباس اور علی رضی اللہ عنہما نے ایک دوسرے پر "سُب" کیا یعنی ایک دوسرے کی ذات اور مؤقف پر تنقید کی اور رد کیا.
*وضاحت ::*
نعوذ باللہ اب کوئی رافضی یا نیم رافضی کہہ سکتا ہے کہ عباس رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں؟؟!!!!
مرزا جھلمی ان کے معتقدین اگر انصاف پسند ہیں تو اس روایت کو ان کے بیان کردہ "سُب" کے ترجمہ کے ساتھ لوگوں کے سامنے کیوں نہیں بیان کرتے؟؟
مرزا صاحب !! یہاں "سُب" کا معنی گالیاں کریں اور لوگوں کے سامنے بیان کریں تو آپ کا تقیے والا پردہ چاک ہو جائے گا اور آپ کے معتقدین آپ کو ملامت کریں گے۔
*مرزا صاحب !!*
آپ تو کہتے ہیں دیگر علماء، حق چھپاتے ہیں اور آپ ظاہر کرتے ہیں آخر یہ روایت آپ نے کیوں نہیں بیان کی؟؟
*مرزا صاحب!*
عباس یا علی رضی اللہ عنھما میں سے کس پر حکم لگائیں گے؟ چچا پر یا بھتیجے پر؟؟؟
کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا (یعنی باپ) کو گالیاں دے رہے تھے؟؟
معاذاللہ ۔ کیونکہ چچا باپ کے قائم مقام ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا أن عم الرجل صنو أبیہ۔ *رواہ مسلم۔*
*مرزا صاحب!*
آپ معاویہ رضی اللہ کے خلاف تو چیخ چیخ کر بولتے ہیں کہ اس نے فلاں کو گالیاں دیں ، یہاں کیوں خاموش ہیں؟؟
*کیا یہ آپ کی منافقت نہیں؟؟؟*

*قابل توجہ بات:*
اس حدیث کے بارے میں مرزا صاحب شاید اھل سنت کے اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں کہ مشاجرات صحابہ کے بارے اپنی زبان کو بند ہی رکھا جائے، کاش اگر مرزا صاحب اس اصول کو تمام صحابہ کیلئے مقرر فرماتے!! لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے لہٰذا معلوم ہوا کہ *مرزا کا مشن ہی عداوت صحابہ پھیلانا ہے نہ کہ حقائق بیان کرنا۔*
*نوٹ:*
*ہمارا منہج ہے کہ اس طرح کی روایات کو عوام کے سامنے بیان نہ کیا جائے* کیونکہ عوام میں ان روایات کی حقیقت سمجھنے کی اہلیت نہیں ہوتی وہ انکی چھوٹی چھوٹی بشری تقاضوں کے مطابق ہونے والی اجتہادی خطاؤں کو دیکھ کر انکے فضائل ، مغفرت اور جنتی ہونے والے دلائل بھلا دیتے ہیں اور الحمدللہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا جنتی ہونا دلائل سے ثابت ہے جس حوالے سے ہمارا مضمون گذرا ہے جبکہ علی رضی اللہ عنہ کا جنتی ہونا بھی یقینی ہے۔
یاد رکھیں اگر عوام کو بات سمجھانا مقصود نہیں ہوتا تو میں عباس اور علی رضی اللہ عنھما کے اختلاف والی روایت کبھی بیان نہ کرتا۔

"سُب" کا یہ معنی کہ کسی کو غلطی پر تصور کرتے یا دیکھتے ہوئے اس پر تنقید کرنا دیگر کئی دلائل صحیحہ سے ثابت ہے۔ جیسا کہ تبوک کے سفر کے بارے میں تفصیلی روایت مسلم میں موجود ہے آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
«إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا، إِنْ شَاءَ اللهُ، عَيْنَ تَبُوكَ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ، فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ» فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، قَالَ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا؟» قَالَا: نَعَمْ، فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ. قَالَ: ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ، قَالَ وَغَسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا، " فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ أَوْ قَالَ: غَزِيرٍ - شَكَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا قَالَ - حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ «يُوشِكُ، يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ، أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا»

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ کل تم لوگ اگر اللہ تعالٰی نے چاہا تو تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور دن نکلنے سے پہلے نہیں پہنچ سکو گے اور جو کوئی تم میں سے اس چشمے کے پاس جائے، تو اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آؤں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اس چشمے پر پہنچے اور ہم سے پہلے وہاں دو آدمی پہنچ گئے تھے۔ چشمہ کے پانی کا یہ حال تھا کہ جوتی کے تسمہ کے برابر ہو گا، وہ بھی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ تم نے اس کے پانی میں ہاتھ لگایا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہا (اس لئے کہ انہوں نے حکم کے خلاف کیا تھا) اور اللہ تعالٰی کو جو منظور تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنایا۔ پھر لوگوں نے چُلوں سے تھوڑا تھوڑا پانی ایک برتن میں جمع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اور منہ اس میں دھویا، پھر وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا تو وہ چشمہ جوش مار کر بہنے لگا اور لوگوں نے (اپنے جانوروں اور آدمیوں کو) پانی پلانا شروع کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! اگر تیری زندگی رہی تو تُو دیکھے گا کہ یہاں جو جگہ ہے وہ گھنے باغات سے لہلہا اٹھے گی۔"
*وضاحت::*
اس روایت میں الفاظ ہیں جلدی کرنے والے دو افراد کو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے" سُب" کیا ، اب ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی شخص یہ بدگمانی نہیں کر سکتا کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاذاللہ گالیاں دی ہوں گی۔ اس حدیث کا مطلب یہی ہے کہ آپ نے ان پر تنقید فرمائی ہو گی اور انہیں اپنی اصلاح کا کہا ہو گا۔

جیسا کہ ایک اور حدیث میں اس معنی کی طرف اشارہ موجود ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ القِيَامَةِ»

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ ! میں نے جس مومن کو بھی "سُب" کیا ہو (یعنی برابھلا کہا ہو) تو اس کے لئے اسے قیامت کے دن اپنی قربت کا ذریعہ بنا دے ۔
*صحیح بخاری حدیث نمبر: 6361*
اس حدیث کے عربی الفاظ پر غور کریں تو "سُب" لفظ کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو رہی ہے، اب کیا کوئی گمان کر سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گالی دی تھی ۔
*نستغراللہ، نعوذ باللہ۔*
اسی طرح "سُب" کا لفظ ہر چھوٹے بڑے اختلاف کیلئے بھی آتا ہے جیسا کہ *صحیح بخاری حدیث: (2411)*
میں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
اسْتَبَّ رَجُلاَنِ رَجُلٌ مِنَ المُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ اليَهُودِ
"مسلمانوں میں سے ایک شخص اور یہودیوں میں سے ایک شخص نے ایک دوسرے کو "سُب" کیا"
اب وہ "سُب" والے جملے کیا تھے؟ اس کی وضاحت اسی حدیث کے اگلے جملے میں موجود ہے:
قَالَ المُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى العَالَمِينَ، فَقَالَ اليَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى العَالَمِينَ ،
مسلمان نے کہا: کہ مجھے اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے، اور یہودی نے کہا کہ مجھے اس ذات کی قسم کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے۔
اس حدیث میں ان دو مذکورہ جملوں کو "سُب" کہا گیا ہے ایک جملہ مسلمان کا تھا اور دوسرا یہودی کا، کیا کوئی ان جملوں کا معنی گالیاں کر سکتا ہے؟؟
*ہر گز نہیں۔ بالکل بھی نہیں*

لہٰذا حدیث نے ہم کو یہ بتایا کہ کبھی کبھار "سُب" کا معنی تنقید کرنا بھی ہوتا ہے، یا دلائل کے اعتبار سے ایک دوسرے پر رد کرنا بھی ہوتا ہے۔

*معزز قارئین!*
*مذکورہ وضاحت سے پتہ چلتا ہے کہ جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ کی طرف منسوب "سُب" لفظ کا ترجمہ گالیاں کرتے ہیں وہ صرف اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں اور ان کے دِل بغض صحابہ سے بھرے ہوئے ہیں۔*

مذکورہ وضاحت کے سمجھنے کے بعد مرزا صاحب کی طرف سے اس پیش کردہ روایت کی وضاحت پیش خدمت ہے۔

*اولاً:::*
یہاں مراد یہ ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ، سعد رضی اللہ عنہ سے کہنا چاہتے تھے کہ آپ بھی یہ مؤقف بیان کریں کہ قصاص عثمان رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں، علی رضی اللہ عنہ کا اجتہاد ٹھیک نہیں اور علی رضی اللہ عنہ پر رد کریں تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جو فضائل بتائے ان میں یہ بھی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں ہارون علیہ السلام کی جگہ دی، جس کا مطلب ہے وہ بلند پائے کے عالم ہیں، وہ اجتہاد میں غلط نہیں ہو سکتے۔
جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: أن معناه : ما منعك أن تخطئه في رأيه واجتهاده ، وتظهر للناس حسن رأينا واجتهادنا ، وأنه أخطأ ؟ .
معاویہ نے سعد رضی اللہ عنھما سے کہا کہ :کیا مسئلہ ہے کہ آپ علی رضی اللہ عنہ کے رائے اور اجتہاد کو خطاء قرار نہیں دیتے؟؟؟ اور لوگوں کے سامنے ہمارے رائے اور اجتہاد کی اچھائی ظاہر نہیں کرتے؟؟ اور کیوں بیان نہیں کرتے کہ علی رضی اللہ عنہ خطاء پر ہیں؟؟

*ثانیاً::*
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں::
فقول معاوية هذا ليس فيه تصريح بأنه أمر سعدا بسبه ، وإنما سأله عن السبب المانع له من السب ، كأنه يقول : هل امتنعت تورعا ، أو خوفا ، أو غير ذلك ، فإن كان تورعا وإجلالا له عن السب فأنت مصيب محسن ، وإن كان غير ذلك فله جواب آخر ۔
معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس فرمان میں کوئی صراحت نہیں ہے کہ انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو برا بھلا بولنے کا حکم دیا تھا بلکہ پوچھا تھا کہ آپ تنقید کیوں نہیں کرتے؟؟ گویا کہ کہا : کیا آپ خوف اور ڈر کی وجہ سے تنقید نہیں کرتے يا تورعا (احتیاطاً) نہیں کرتے؟ یا کوئی دوسرا مسئلہ ہے؟؟
اگر آپ علی رضی اللہ عنہ کے اجلال (عزت) کی وجہ سے اور تورعا (احتیاطاً) تنقید نہیں کرتے تو آپ درست اور اچھا کرنے والے ہیں اگر یہ نہیں تو جواب دوسرا ہو گا۔

*ثالثاً=*
اس روایت میں موجود ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید یعنی علمی رد کا حکم دیا لیکن حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جب انکار کر دیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ پر کوئی سختی نہیں کی، نہ ہی مجبور کیا !!!
بلکہ خاموش ہو گئے۔
*رابعاً::*
اس روایت کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے بیچ میں موجود تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کر رہے تھے جبکہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نہیں کر رہے تھے اور ان پر رد کرنے سے عاجز تھے حضرت معاویہ رضی اللہ نے پوچھ لیا آپ کیوں نہیں تنقید کر رہے؟؟ تو اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان تنقید کرنے والوں پر رد کرتے ہوئے فضائل علی رضی اللہ عنہ بیان کرنا شروع کر دیے۔ اشار الیہ النووی بقولہ
(لعل سعدا قد كان في طائفة يسبون فلم يسب معهم ، وعجز عن الإنكار ، وأنكر عليهم ، فسأله هذا السؤال)

*خامساً::*
اگر بالفرض والمحال "سُب" کا معنی گالیاں مان لیں تو، کیا ہم جنتی شہزادوں حسن، حسین رضی اللہ عنھما اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دیگر بیٹوں سے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ خاموشی سے سنتے رہتے تھے !!! کوئی رد نہ کیا!! بلکہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اپنا امیر تسلیم کیا!! یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتا ہو حسنین رضی اللہ عنھما اس سے وظائف وصول کرتے ہوں؟؟ اسے امیر المؤمنین اور مسلمانوں کا قائد اعلٰی مانتے ہوں؟؟ *نعوذ باللہ۔*
جبکہ آج کا رافضی ونیم رافضی تو معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف زبان درازی کر رہا ہے!!
یعنی حسنین کریمین رضی اللہ عنھما کا منہج اور مرزا کا منہج الگ ہے۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2718621075018671&id=100006124157368

الله پاک ہمیں دین اسلام کو صحیح سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ- آمین
آمین یارب العالمین
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,401
ری ایکشن اسکور
1,091
پوائنٹ
412
ویسے بھی مجھے اپنے آپ کو اہل حدیث کی بجاۓ مسلمان کہنا اچھا لگتا تھا کیونکہ یہی قرآن نے بتایا-
ہمارا نام صرف مسلمان !
حافظ ابو یحی نور پوری

بعض لوگوں کو لفظ اسلام اور مسلم کا ہیضہ ہو گیا ہے۔یہ لوگ کسی کافرو مشرک اور بدعتی سے اتنی نفرت نہیں کرتے،جتنی اہل حدیث سے روا رکھتے ہیں۔انہوں نے مسلمانوں کو کافر بنانے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام صرف مسلمان رکھا ہے۔جو کوئی اپنے آپ کو اہل سنت یا اہل حدیث کہتا ہے،وہ کافر و مشرک ہو جاتا ہے۔اس بات سے کسی مسلمان کو انکار نہیں کہ اللہ نے ہمارا نام مسلمان رکھا ہے اور ہم مسلمان ہی ہیں،لیکن اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ تمہارا نام صرف مسلمان ہے۔اس سلسلے میں جو آیت ِ کریمہ پیش کی جاتی ہے ، وہ یہ ہے :
{ہُوَ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ہٰذَا} (الحجّ 22 : 78)
’’اس(اللہ)نے تمہارا نام مسلمان رکھا،اس سے پہلے بھی اور اس (قرآن)میں بھی۔‘‘
اس آیت میں کوئی کلمہ حصر استعمال نہیں کیا گیا،جس سے یہ ثابت ہو کہ ہمارا نام صرف مسلمان ہے یا اللہ نے ہمارا نام صرف مسلمان رکھا ہے ،اس کے علاوہ کوئی نام رکھنا جائز ہی نہیں رہا اور جو اپنا کوئی اور نام رکھ لے گا،وہ مسلمان ہی نہیں رہے گا۔
خود اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے اور بھی نام رکھے ہیں،جیسا کہ :
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’فَادْعُوا بِدَعْوَی اللّٰہِ الَّذِي سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِینَ، الْمُؤْمِنِینَ، عِبَادَ اللّٰہِ‘ ۔
’’تم اللہ کی پکار کے ساتھ پکارو،جس نے تمہارا نام مسلمان،مؤمن اور عباد اللہ رکھا ہے۔‘‘
(سنن الترمذي : 2863، وسندہٗ صحیحٌ)
اس حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہمارے تین نام رکھے ہیں؛ مسلمان،مؤمن اور عباد اللہ۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جو مؤمن کے سوا اپنا کوئی نام رکھ لے گا،وہ مؤمن نہیں رہے گا اور جو عبد اللہ کے علاوہ اپنا کوئی نام رکھ لے،وہ اللہ کا بندہ نہیں رہے گا اور جو ان تینوں میں سے کسی نام کو چھوڑے گا،وہ دائرۂ اسلام و ایمان سے خارج ہو جائے گا؟
ہمارا ایسے لوگوں سے سوال ہے کہ اللہ نے جب مؤمن اور عباد اللہ نام بھی رکھا ہے تو آپ لوگ مؤمن اور عباد اللہ کے نام کیوں نہیں رکھتے؟
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دور ِنبوت کے مسلمانوں کے دو نام ’’مہاجرین‘‘ اور ’’انصار‘‘ بھی ذکر کیے،جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
{لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِيِّ وَالْمُہَاجِرِینَ وَالْاَنْصَارِ} (التوبۃ 9 : 117)
’’یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اور مہاجرین و انصار پر مہربانی فرمائی۔‘‘
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جس طرح مسلمانوں کو [یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ] (اے مسلمانوں کی جماعت!)کہہ کر پکارا(صحیح البخاري : 4141، صحیح مسلم : 2770)،اسی طرح ان کو [یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ] (اے مہاجرین کی جماعت!)(صحیح البخاري : 6830) اور [یَا مَعْشَرَ الْـأَنْصَارِ] (اے انصار کی جماعت!)(صحیح البخاري : 4330، صحیح مسلم : 1059) کہہ کر بھی یاد فرمایا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو کئی اور ناموں سے بھی پکارا اور یاد فرمایا،لیکن ہم نے خصوصاً مہاجرین اور انصار کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ اسلام کے بعض ٹھیکیداروں کو جب یہ کہا جاتا ہے کہ اگر اللہ نے تمہارا نام صرف مسلمان رکھا ہے تو تمہارا نام مسعود،حنیف،شمیم وغیرہ کیوں ہے؟ تو وہ یہ جواب دے کر بات ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ پابندی صرف مذہبی نام پر ہے،یعنی مسلم کے سوا کوئی مذہبی نام نہیں رکھا جا سکتا،مثلاً اہل سنت اور اہل حدیث وغیرہ مذہبی نام ہیں،یہ نام ناجائز ہیں،ان کی وجہ سے مسلمان مشرک اور فرقہ پرست بن جاتا ہے۔
حالانکہ اہل سنت اور اہل حدیث دونوں اسی طرح کے مذہبی نام ہیں،جس طرح کے مذہبی نام مہاجرین اور انصار ہیں۔مہاجرین کو ہجرت جیسے مذہبی فریضے کی بجاآوری پر مہاجرین کا نام دیا گیا اور ان بے یارومددگار مہاجرین کی نصرت جیسے دینی کارنامے کی بنا پر مدینہ کے مسلمانوں کو انصار کا نام دیا گیا۔جب کسی مذہبی کارنامے کی بنا پر کوئی نام جائز ہے تو قرآن و سنت پر عمل جیسے مذہبی کارنامے کی بنا پر اہل سنت یا اہل حدیث کہلوانا کیونکر شرک و کفر بن گیا؟
اگراب بھی کسی کی سمجھ میں بات نہیں آئی تو ہم ایک اور طرح سے سمجھائے دیتے ہیں۔اسلام اور مسلمان کوئی نئی اصطلاح نہیں،بلکہ پہلی امتوں میں بھی دین اسلام ہی تھا، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
{اِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ} (آل عمران 3 : 19)
’’بیشک دین اللہ کے ہاں اسلام ہی ہے۔‘‘
اسی لیے سیدنا ابراہیم اور سیدنا یعقوبiنے اپنے بیٹوں کو وصیت فرمائی تھی :
{اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ}
(البقرۃ 2 : 132)
’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین(اسلام)پسند کیا ہے،لہٰذا تم نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو۔‘‘
سیدنا سلیمان علیہ السلام نے بلقیس اور اس کی رعایا کو خط لکھا تھا :
{اَلَّا تَعْلُوْا عَلَيَّ وَاْتُوْنِيْ مُسْلِمِیْنَ} (النمل 27 : 31)
’’میرے خلاف سرکشی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آ جاؤ۔‘‘
یعنی پہلے انبیاکا دین بھی اسلام ہی تھااور پہلی امتوں کو بھی مسلمان ہی ہونے کا حکم تھا، لیکن اس کے باوجود اپنے انبیا کے پیروکار یہودی کہلاتے تھے یا نصرانی،اگر وہ اہل توحید تھے،تو جنت میں جائیں گے،جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
{اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالنَّصَارٰی وَالصَّابِئِیْنَ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمْ أَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ} (البقرۃ 2 : 62)
’’بلاشبہ جو لوگ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر)ایمان لائے اور جو یہودی،نصرانی اور صابی(آبا و اجداد کا دین چھوڑ کر نیا دین قبول کرنے والے)بنے،ان میں سے جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے تھے اور نیک عمل کرتے تھے،ان کے لیے ان کے ربّ کے ہاں اجر ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہو گا ،نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘
یعنی یہود و نصاریٰ کہلانے والے مؤمنوں کو بھی جنت کی بشارت سنائی گئی ہے۔
اسی طرح کچھ لوگ پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دور ِجاہلیت میں بھی اہل توحید تھے،جنہوں نے بت پرستی چھوڑ کر توحید کو اپنا لیا تھا۔ان کا دین نصرانیت تھا۔مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ ایسے لوگ جنتی ہیں۔ورقہ بن نوفل سے کون واقف نہیں؟یہ انہی لوگوں میں سے تھے۔ذرا ان کا تعارف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی ملاحظہ فرمائیں :
وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاہِلِیَّۃِ، وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعِبْرَانِيَّ، فَیَکْتُبُ مِنَ الْإِنْجِیلِ بِالعِبْرَانِیَّۃِ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَّکْتُبَ ۔
’’ورقہ بن نوفل دور ِ جاہلیت میں بت پرستی چھوڑ کر نصرانی ہوئے تھے،وہ عبرانی زبان لکھنا جانتے تھے،چنانچہ جس قدر انہیں توفیق ملتی عبرانی زبان میں انجیل لکھتے رہتے۔‘‘
(صحیح البخاري : 3، صحیح مسلم : 160)
یعنی موحّد ہونے کے ساتھ ساتھ ورقہ بن نوفل کا مذہب نصرانیت تھا۔
نصرانیت کی وجہ تسمیہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔امام قتادہ تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
تُسُمُّوا بِقَرْیَۃٍ یَّقَالُ لَہَا نَاصِرَۃً، کَانَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَنْزِلُہَا ۔
’’ان کا یہ نام ایک بستی[ناصرہ]کی بنا پر پڑا جس میں عیسیٰ بن مریمi تشریف لایا کرتے تھے۔‘‘(تفسیر الطبري : 145/2، وسندہٗ صحیحٌ)
یعنی پہلی امتوں کو بھی مسلمان ہونے کا حکم تھا اور ان سے بھی صرف دین اسلام ہی کا مطالبہ تھا۔پہلے انبیا نے اسلام ہی کی دعوت دی اور انبیائے کرام کے پیروکار مسلمان ہی تھے، لیکن مسلمان ہونے کے ساتھ کوئی اہل توحید یہودی یا نصرانی بھی کہلایا،تو اللہ کی جنت کا وارث قرار پایا۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان ہوتے ہوئے کوئی ایسا دینی، مذہبی،تنظیمی و تحریکی اور مسلکی نام کفر و شرک نہیں ہوتا،جس میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو۔
اصل بات تو عقیدہ و منہج کی ہے۔اگر عقیدہ و منہج سلامت نہیں،تو لاکھ دفعہ مسلمان کہلائے اور کروڑ دفعہ اسلام کا دعویٰ کرے،نجات ممکن نہیں اور اگر عقیدہ و منہج درست ہے تو مسلمان ہونے کے ساتھ مہاجر کہلائے یا انصاری،اہل سنت کہلائے یا اہل حدیث،نجات سے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
نصرانیت ایک مذہبی نام تھا،جو ایک بستی کی بنا پر پڑا تھا۔ جب مسلمان ہوتے ہوئے ایک بستی کی طرف منسوب مذہبی نام ورقہ بن نوفل کی نجات میں رکاوٹ نہیں بن سکا، تو قرآن و سنت کی طرف منسوب نام ہم اہل توحید کے لیے کفر وشرک کیسے بن گیا؟
یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی کفریہ و شرکیہ اور باطل عقیدہ و منہج کی طرف نسبت کرنے کے لیے رکھے جانے والے جماعتی نام اپنے منسوب الیہ عقیدہ و منہج کی بنا پر ناجائز ہیں،اس لیے نہیں کہ مسلمان ہوتے ہوئے کوئی دوسرا جماعتی نام نہیں رکھا جا سکتا۔
 
Top