1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انٹرویو ود مہ جبین

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏جون 13، 2012۔

  1. ‏جون 13، 2012 #1
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,763
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ایک فورم پر مہ جبین بہن کا انٹرویو پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے بہت اچھی اچھی باتیں کی ہیں۔ اس انٹرویو کے اقتسابات پیش خدمت ہیں۔

    زندگی کا ایک طویل سفر طے کر لیا اور اب پیچھے مڑکر دیکھتی ہوں تو یوں لگتا ہے کہ ابھی کل کی بات ہے۔ جن بچوں کو کل گود میں اٹھاتے تھے آج وہ شادی کے لائق ہو چکے ہیں، اب ساس بننے کے دن آگئے،سب دعا کریں کہ میں ایک شفیق ساس بنوں میری بہو بھی خوش اخلاق اور ملنسار ہو آمین

    میں تو بچپن سے ہی کم گو اور سنجیدہ قسم کی ہوتی تھی ( گو کہ اب بھی کچھ فرق نہیں پڑا ہے) اور شرارت بھی ایسی کوئی قابل ذکر نہیں ( ہاں اگر یہ سوال امی سے کیا جاتا تو شاید کوئی شرارت مجھے بھی پتہ چل جاتی) :) ۔ ۔ ۔ ۔ میں جب پرائمری کلاس میں تھی تو پہلی اور آخری بار امی سے ایک جھوٹ بولا اور امی نے وہ جھوٹ پکڑ لیا ، اس کے بعد ہماری جو شامت آئی ہے تو بس نہ پوچھو کیا حال ہوا ہے ہمارا، ایسا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔۔۔ لیکن اس کے بعد ایسا سبق ملا کہ کبھی جھوٹ بولنے کی ہمت نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ کم گو ، سنجیدہ ، کم فہم اور بہت ساری خامیاں ہیں کیا کیا بیان کروں۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ بس پردے میں رہنے دو ۔ ۔ ۔ ۔ زندگی آخرت کی کھیتی ہے، آج جو بوئیں گے ، کل وہی کاٹیں گے اس لئے اس زندگی کو غنیمت سمجھ کر آگے کے لئے اچھا سامان بھیجنا چاہیئے ۔ ۔ ۔ ایک ناول تھا کئی سال پہلے پڑھا تھا، سقوط مشرقی پاکستان کے تناظر میں لکھا گیا تھا اور کیا بہترین لکھا تھا کہ میں تو اسکو پڑھ کر بہت روئی تھی، اور اس کو میں نے بہت دفعہ پڑھا تھا ، اس کا نام تھا "ذرا نم ہو تو یہ مٹی":( بس اسی ناول کو بار بار پڑھنے کا دل چاہتا ہے
     
  2. ‏جون 13، 2012 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,763
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    میں میوزک کا کوئی شوق نہیں رکھتی۔۔۔ ۔۔ الحمدللہ، صرف نعتیں سننے کا شوق ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کسی قسم کی موویز نہیں دیکھتی اور نہ ایسا شوق ہے ، الحمدللہ، اللہ سب کو اس برے شوق سے بچائے آمین ۔ ۔ ۔ ۔ زیادہ تر کیو ٹی وی دیکھتی ہوں۔ لیکن کبھی کبھی جو ڈرامے آجکل اچھے چل رہے ہیں وہ بھی دیکھ لیتی ہوں ( حالانکہ یہ بھی اچھی بات نہیں ہے ،اللہ کرے کہ اس سے جلد چھٹکارا مل جائے آمین)

    شاید تم کو سن کر بڑی حیرت یوگی کہ میں ُنے اپنے کپڑے کبھی خود نہیں خریدے۔ وجہ یہ ہے کہ مجھے خریداری کرنا نہیں آتی:( ہمیشہ میرے شوہر نے ہی میری خریداری کی ہے کیونکہ وہ بہت اچھی خریداری کرتے ہیں، بلکہ گھر کی ساری خریداری ہمیشہ سے وہی کرتے ہیں اور میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے گھر بیٹھے ہی سب کچھ مل جاتا ہے ۔ ۔ ۔ سوچتی ہوں کہ اگر ان کو بھی خریداری کرنا نہ آتا تو میرا کیا ہوتا ؟؟؟ اللہ کا شکر ہے کہ ان کی پسند بھی اعلٰی درجے کی ہوتی ہے ۔۔۔ ۔۔ ہے نا مزے کی بات۔۔۔ ؟ جیولری میں انگوٹھی ، بالیاں اور جھمکے بہت پسند ہیں۔

    میری شادی کو ماشاءاللہ 28 سال ہو چکے ہیں، الحمد للہ میرے شوہر بہت محبت کرنے والے اور اپنی فیملی کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے ہیں۔انہوں نے ہر وقت میرا بہت خیال رکھا اور مجھے کبھی کسی چیز کی تکلیف یا کمی نہیں ہونے دی الحمدللہ اور شاید میں اس انداز سے انکا خیال نہ رکھ سکی ہوں، لیکن پھر بھی اتنی ساری خوبیوں کے باوجود میں سمجھتی ہوں کہ جب کسی ایک فریق کو غصہ کسی بھی بات پر آجائے تو دوسرے فریق کو مکمل خاموشی اختیار کرنا چاہئے، چاہے غلطی ہو یا نہ ہو ہر صورت میں مکمل خاموشی ہی بڑے سے بڑے طوفان کو ٹال دیتی ہے۔

    بے شک مجھے اپنے مسلمان عورت ہونے پر بہت بہت فخر ہے کیونکہ اسلام نے عورت کو جو مرتبہ دیا ہے وہ کچھ کم نہیں ہے، بلکہ اور کسی مذہب نے ایسا مقام عورت کو دیا ہی نہیں ، اور دوسری باعث فخر بات یہ ہے کہ ماں کو جو بلند مقام ملا ہے اس کی وجہ سے بھی مجھے عورت ہونے پر فخر ہے ، میرا رواں رواں رب کریم کا شکر گزار ہے کہ اس نے ہمیں یہ عزت بخشی ہے ،ہم ساری زندگی اس رب ذوالجلال کے حضور سجدے میں گزار دیں تب بھی اس کا شکر ادا نہ کرسکیں گے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ الحمدللہ رب العالمین
    حالانکہ اگر غور کریں تو ہمارے والدین بھی تو یہی چاہتے ہیں کہ ہم انکے ماضی کی طرح زندگی گزاریں، تو ہم تو زمانے کے ساتھ چلتے ہیں لیکن جب ہمارے بچوں کا دور آتا ہے تو ہم ڈکٹیٹر بن کر یہ چاہتے ہیں کہ وہ ویسا کریں جیسا ہمارے ماضی میں ہوتا تھا، ایسا ممکن نہیں ہوتا پھر بھی ہم ایسی توقعات کیوں لگاتے ہیں، ہمیں اپنے رویے میں لچک رکھنی چاہئے تاکہ زندگی پرسکون رہے اور ہمارے بچے بھی ہم سے خوش رہیں۔ لہٰذا میں ایسی امیدیں نہیں لگاتی جو کبھی پوری نہ ہوں، زندگی کا توازن بھی اسی بات میں ہے کہ ماضی کے بجائے حال میں زندہ رہنے کی کوشش کریں
     
  3. ‏جون 13، 2012 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,763
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ایک بات تو یہ ہے کہ میرے اندر قوت فیصلہ بالکل بھی نہیں ہے، ہمیشہ میں فیصلہ کرنے میں تذبذب کا شکار رہتی ہوں اس لئے جب ایسا وقت آیا تو میں نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا اور انہوں نے مجھے کبھی اس بات کا طعنہ نہیں دیا کہ تم کو تو کچھ خریدنا ہی نہیں آتا بلکہ ہمیشہ ایسے وقت میں مجھے ان کی مکمل سپورٹ حاصل رہی اور عید ہو بقرعید ہو یا کوئی اور موقع، ہمیشہ انہوں نے میری بھرپور مدد کی ہے اور مجھے گھر بیٹھے ہی بہترین چیزیں مل جاتی ہیں تو مجھے بازار کے چکر لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر تو مجھے انکی سپورٹ نہ ہوتی تو پھر مرتی کیا نہ مرتی خود ہی بازار کے چکر کاٹ کر خریداری کرنا آجاتی، لیکن انکی اس مدد نے مجھے اس معاملے میں بالکل نکما کر دیا ( اچھا ہی ہے نا ، جان چھٹی سو لاکھوں پائے)

    یہ زندگی ہے ہمیں یہاں قدم قدم پر ہر قسم کے لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کچھ بہت اچھے بھی ہوتے اور کچھ بہت برے بھی ہوتے ہیں، بجائے اس کے کہ ہم یہ توقع رکھیں کہ سب لوگ ہمیں اچھے ملیں ، ہم کو دوسروں (برے لوگوں) کے لئے اچھا بننے کی کوشش کرنی چاہئے، کیا پتہ کہ وہ ہمارے اچھے طرز عمل سے ہمارے لئے اچھا بن جائے ۔ بس ہمیشہ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی کوشش کرنی چاہئے یہ سوچ کر کہ اچھوں کے ساتھ اچھا بننا کوئی خوبی نہیں بلکہ بروں کے ساتھ اچھا بننا خوبی ہے ۔ ویسے مجھے تعمیری سوچ کے حامل مذہبی لوگ متاثر کرتے ہیں
    میں نے زندگی میں بہت کچھ پایا ہے، اپنی بساط سے بھی بڑھ کر ، مجھے میرے رب کریم نے اتنا نوازا ہے کہ اب تو دامن بھی تنگ پڑ گیا ہے۔ بے شک جھولی ہی میری تنگ ہے ، تیرے یہاں کمی نہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔! انسان خواہشات کا غلام ہے ، جتنی بھی پوری ہو جائیں پھر بھی یہی سوچتا ہے کہ وہ نہیں ملا، یہ نہیں ملا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ جیسے کہ کسی بزرگ کا قول ہے کہ ضرورتیں تو فقیر کی بھی پوری ہو جاتی ہیں لیکن خواہشات بادشاہوں کی بھی باقی رہتی ہیں۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ سو اسی لئے میں نے اپنی زندگی میں بہت زیادہ خواہشات نہیں پالیں اور ہمیشہ اطمینان قلب حاصل رہا الحمدللہ بس پایا ہی پایا ہی کچھ نہیں کھویا، ہاں ایک احساس شدت سے ہوتا ہے کہ زندگی غفلت میں گزار دی اور اللہ کی بندگی کا حق کماحقہ ادا نہ کر سکی ۔ ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں میں رب کریم کو راضی بھی کر سکی ہوں کہ نہیں اور آخرت میں میرا کیا ہوگا ، جب اللہ کے حضور میں پیش ہونگی تو میرے اعمال کے پیش نظر جو ہوگا وہ سوچ کر ہی لرز جاتی ہوں استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ
     
  4. ‏جون 13، 2012 #4
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,763
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ماضی کو یاد رکھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کریں اور اپنے حال کو اچھا بنانے کی کوشش جاری رکھنی چاہئے ، یہی کامیاب زندگی کا راز ہے۔۔ ۔ ۔ اللہ ہمارے بچوں کو ہمارے لئے صدقہ جاریہ بنائے آمین ۔

    ۔ کھانے کی میں اپنے منہ سے کیا تعریف کروں :) بس ٹھیک ٹھاک بنا لیتی ہوں، گزارا ہے۔ چاول کی کافی ساری ڈشز کی فرمائش کی جاتی ہےجیسے بریانی، پلاؤ ،قبولی، کھچڑی، تاہری، کابلی چنے کا پلاؤ ،دال چاول ۔ہمارے گھر بریانی بہت زیادہ پسند کی جاتی ہے تو اسی کی ترکیب لکھ دیتی ہوں :

    ترکیب:
    پین میں تیل ڈالیں اور پھر پیاز کو گولڈن براؤن کرلیں، پھر تھوڑی پیاز کو الگ نکال کر رکھ لیں (تہ میں لگانے کے لئے) اب اسمیں لہسن، ادرک کا پیسٹ ڈالیں اور پھر ایک ایک کرکے سارے مصالحے ڈالکر بھونیں جب مصالحہ بھن جائے تو دہی ڈالیں ، آلو ، چکن، چوپڈ ٹماٹر ڈال کر اسکو ڈھک کر درمیانی آنچ پر گلنے تک پکائیں گل جائے تو بھون لیں اور تیل کو اوپر سے نتھار کر الگ رکھ لیں
    اب چاول کو ایک کنی پر ابال کر الگ رکھ لیں پھر اسکی تہ لگائیں پہلے تھوڑے چاول پتیلی میں ڈالیں پھر اس پر چکن اور آلو کا سالن ڈال دیں اب اسکے اوپر ہرا دھنیا، پودینہ، ہری مرچ ، تلی پیاز اور پسا گرم مصالحہ ڈالیں ، پھر بقیہ ابلے چاول ڈال کر اس پر سانکا نکالا ہوا تیل ڈالیں اور آخر میں زردے کا رنگ گھول کر ڈال دیں اور اب دم پر رکھیں، پہلے تھوڑی تیز آنچ پر اور پھر 2۔3 منٹ کے بعد آنچ کو کم کرکے کچھ دیر کو دم پر چھوڑ دیں۔ مزیدار اسٹوڈنٹس بریانی تیار ہے مزے سے نوش فرمائیں : اففف۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ میں تھک گئی بریانی پکا کر۔ :)

     
  5. ‏جون 13، 2012 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,763
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    عورتوں پر مردوں کے تشدد کے تو میں بھی خلاف ہوں لیکن میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ایسے ٪ 95 کیسز میں کہیں نہ کہیں عورتوں کا قصور ہوتا ہے (اس بات سے کہیں یہ نہ سمجھنا کہ میں شتر بے مہار مردوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہوں)

    ۔۔۔ لیکن اکثر ہوتا کچھ یوں ہے کہ کہیں ہماری انا ، کہیں ہمارے والدین کی انا اس کام میں بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے اور یوں پھر پہلے ایک سرد جنگ کا آغاز ہوتا ہے اور ہوتے ہوتے یہ جنگ توتکار میں بدل جاتی ہے ، یہ سب مرد کی انا پر کاری ضرب لگاتی ہیں اور پھر یہ سارا لاوا ابل پڑتا ہے ، مرد اپنی طاقت کے بل پر عورت کو دبانا چاہتا ہے اور عورت اس کو اپنی توہین سمجھ کر اپنی صفائیاں دیتی ہے جو مرد برداشت نہیں کرتا ، نتیجہ پھر ذہنی جسمانی تشدد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو پھر ہم صرف مرد کو اسکا ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے،
    میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو یہی پیغام دینا چاہوں گی کہ آزمائشوں کی بھٹی میں پک کر ہی کندن بنا جاسکتا ہے اور اللہ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے بھی یہی ایک راستہ ہے، آج کی تکلیفیں کل کی راحتوں میں بدل جائیں گی انشاءاللہ ( معاف کرنا تقریر کافی طویل ہو گئی)
     
  6. ‏جون 13، 2012 #6
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,763
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    مجھے یوں لگ رہا ہے کہ جیسے مجھے کمرہ امتحان میں بٹھا کر سوالنامہ ہاتھ میں دے دیا گیا ہے اب سوچ رہی ہوں کہ : زندگی کے پرچے کے سب سوال لازم ہیں ، سب سوال مشکل ہیں۔ مجھے یہ سوال کہ، کیا آپ کو اپنے عورت ہونے پر فخر ہے؟؟؟؟ ، اچھا لگا :)
    ویسے تو اس کی لسٹ کافی لمبی ہے لیکن ایک قابل ذکر خامی جس سے چھٹکارا چاہتی ہوں وہ ہے راستے یاد نہ رہنا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ مجھے بہت کوفت ہوتی ہے اپنی اس عادت سے ، دل چاہتا ہے کہ بغیر کسی کی مدد کے ہر جگہ چلی جاؤں ، مگر ایسا نا ممکن ہے :(:(
    جن بھائیوں اور بہنوں کو میری بہت ساری باتوں سے اختلاف ہے یا انہیں میری بہت سی باتیں ہضم نہیں ہو رہی ہیں تو ان کی خدمت میں نہایت ادب کے ساتھ یہ عرض ہے کہ میں نے زندگی کو جس طرح سمجھا ، جانا یا جو بھی میرے نظریات اور مشاہدات ہیں وہ میں نے نہایت سچائی کے ساتھ یہاں لکھ دئے ہیں ، ان کو زبردستی کسی پر ٹھونسنا یا اپنی بات کو ہر ایک سے منوانا میرا مقصد تھا ، نہ ہے، اب کوئی میری کسی بھی بات کو ایک ایشو بنالے یا اس کو گاندھی گیری کہے مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔

    کراچی میں تو مجھے بس اپنا گوشہء عافیت (اپنا پیارا گھر) سب سے زیادہ اچھا لگتا ہے۔ ویسے اس کے علاوہ سی ویو بہت اچھا لگتا ہے ( لیکن جب سمندر جائیں تو گیلے پیروں پر جو مٹی چپکتی ہے تو بڑی الجھن ہوتی ہے:)) اپنا ملک پاکستان بڑا ہی خوبصورت ہے لیکن ابھی تک اس کی سیر کا موقعہ ٹھیک سے نہیں ملا ، بہت مختصر قیام لاہور، ملتان اور حیدرآباد میں رہا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔لیکن کراچی تو کراچی ہے اس کے علاوہ کہیں دل نہیں لگتا۔ میرے بچے ماشاءاللہ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور انکی مطالعہ کی عادت مجھے بہت اچھی لگتی ہے

     
  7. ‏جون 13، 2012 #7
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,763
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    شاپنگ کا تو بالکل بھی شوق نہیں ہیں ۔۔ کوئی مجھ سے اگر بازار چلنے کا کہہ دے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ میری سزا ہو۔۔۔ ۔۔ہاہاہاہا
    لیکن اگر مارے باندھے کسی کے ساتھ بازار جانا بھی پڑ جائے تو بس جو لینا ہو لے کر جلد سے جلد گھر واپسی کی فکر ہوتی ہے بسسس س ۔۔۔ ۔۔۔ ہے نا مزے کی بات۔۔۔

    میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے بھی اور ہوش سنبھالنے کے بعد بھی پاکستان میں حادثات و سانحات ہوتے ہی رہے ہیں لیکن شاید 80 کی دہائی میں ایک پی آئی اے کا جہاز اغوا ہوگیا تھا اور مسافروں سمیت عملے کو یر غمال بنا لیا گیا تھا ، اس وقت یہاں پاکستانیوں میں جو کیفیت تھی وہ بس بیان سے باہر ہے ۔ جب اس طرح تو ہر وقت تازہ ترین خبریں نہیں ملتی تھیں بس شام ہی کو خبرنامہ کا انتظار ہوتا تھا بس غم و غصہ کی ایک لہر تھی جو پورے پاکستان میں تھی ، وہ لوگ جب رہا ہوکر واپس آئے ہیں تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے یہ سب ہمارے ہی عزیز ہوں اور خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ، یہ میرے لئے ناقابل فراموش واقعہ ہے

    اصل بات تو یہ ہے کہ اچھائی اور برائی اس دنیا میں موجود ایسی حقیقتیں ہیں کہ جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ سب ہماری آزمائشیں ہیں کہیں ہم اس میں پورے اترتے ہیں اور کہیں ہم شیطان کا آلہ کار بن جاتے ہیں۔ ہر خاندان میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں ، پہلے کے مقابلے میں اس وقت برائی کا تناسب زیادہ ہوگیا ہے یا پہلے لوگ ڈھکے چھپے برے کام کرتے تھے اب کھلم کھلا کرتے ہیں بہرحال شیطان کا مکرو فریب تو صدیوں سے جاری ہے اور قیامت تک کے لئے اسکو اللہ نے چھوٹ بھی دی ہے اور طاقت و قوت بھی ، لیکن ۔۔۔ ۔۔۔ ۔جو اللہ کے نیک بندے ہیں وہ اسکے بہکاوے میں نہیں آتے۔

    ہمارا مذہب ہمیں آپس کے میل جول کی تعلیم دیتا ہے اور بنیادی طور پر ہمیں گناہ سے نفرت کا درس ملتا ہے گناہ گار سے نہیں، اس لئے ملنا جلنا بھی بہت ضروری ہے بس ایسے شخص سے ملنے میں احتیاط لازم ہے اور اپنا رویہ بالکل لئے دیئے رکھنا ضروری ہے کہ وہ ہماری کمزوریوں کو پکڑ کر ہمیں بلیک میل نہ کر سکے اور یہ کہ کسی اور کو بتا کر ہمیں نقصان نہ پہنچا سکے
     
  8. ‏جون 13، 2012 #8
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,763
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    میرا اس بارے میں یہ خیال ہے کہ لڑکیوں کو بلا ضرورت جاب نہیں کرنا چاہئے ، اگر کوئی مجبوری ہو یا معاشی طور پر تنگی ہو تو جاب کرنا ٹھیک ہے لیکن اگر معاشی الجھنیں نہ ہوں اور بظاہر کوئی مجبوری بھی نہ ہو تو پھر بلاوجہ گھر سے باہر نکل کر اپنے آپ کو مشقت میں ڈالنے سے کیا حاصل ہے؟

    ہاں یہ ٹھیک ہے کہ ہر لڑکی یا عورت اس زعم میں مبتلا نہیں ہوتی ، لیکن اکثریت اس نظریے کی یا تو حامی ہوتی ہے یا پھر یہ معاشرہ اس کو باغی کردیتا ہے تو وہ ایسا سوچنے میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھنے لگتی ہے بہرحال کچھ مثبت سوچ کی حامل لڑکیاں اور عورتیں اب بھی ہیں جو بے لوث کام کرتی ہیں اور صلہ کچھ بھی نہیں مانگتیں ( بے شک ایسی خواتین کی تعداد کم ہے)

    بچپن میں اشیاق احمد کے ناول میں انسپکٹر جمشید کا کردار مجھے بہت پسند تھا اور ہمیشہ اسکے بہادری کے قصے پڑھتے ہوئے میں بہت پرجوش ہوجاتی تھی اور وہ تخیلاتی خاکہ مجھے اتنا اچھا لگتا تھا کہ میں سمجھتی تھی کہ میرے ملک کا ہر شہری اور خصوصاً دفاع کے محکموں سے متعلقہ ہر شخص اتنا ہی محبِ وطن ہوتا ہے ۔۔۔

    اپنے شعبے کا چناؤ اور شادی کے معاملات میں بالکل بچوں کی رائے اور مرضی کی بہت اہمیت ہوتی ہے، لیکن اپنے بچوں کو صحیح رہنمائی دینا بھی تو والدین کے فرائض میں شامل ہے ۔ میرا خیال ہے کہ بچے جس عمر میں ہوتے ہیں وہاں جذبات زیادہ اور عقل کم استعمال ہوتی ہے ، اس وقت بچوں کو زمانے کی اونچ نیچ سمجھا کر انکی مرضی پر چھوڑ دینا چاہئے آگے جو انکا نصیب ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔لیکن کچھ جگہ پر انکو انکی مرضی کے مطابق چھوڑ دینا بھی مناسب نہیں ہوتا بلکہ حتی الا امکان انکو سمجھانا ہی چاہئے کہ والدین نے ایک طویل عمر گزاری ہوتی ہے اور اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر۔ وہ جو بھی اپنے بچوں کو سمجھائیں گے وہ غلط نہیں ہوگا اب یہ بچوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین کے فیصلوں سےاستفادہ کرتے ہیں یا نہیں ۔

    مجھے صبح کا وقت اچھا لگتا ہے اس لئے کہ اس وقت تازگی کا احساس بہت ہوتا ہے۔ جب بہت بوریت ہورہی ہوتی ہے تو کبھی کبھار کوئی سا بھی چینل لگا لیتی ہوں اور جو سیاستدانوں کو آپس میں باہم دست و گریباں دیکھوں تو طبیعت اور مکدر ہو جاتی ہے اور پھر کسی کتاب کا مطالعہ کرکے یا نیٹ کھول کر اپنا دھیان بٹاتی ہوں ، ویسے ٹاک شوز بھی کوئی دیکھنے کی چیز ہیں بھلا؟؟؟ جہاں سب ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں ہی مصروف ہوتے ہیں ، قوم کو کیا مسائل درپیش ہیں اس کا تو انکو رتی برابر بھی احساس نہیں ہے ، اسی لئے مجھے ان ٹاک شوز سے بہت چڑ ہے :( ہاں کوکنگ شوز تو میں دیکھتی ہوں اور جو ترکیب اچھی لگے وہ لکھتی بھی ہوں اور جب بھی ضرورت پڑتی ہے تو اسکو آزما کر داد بھی وصول کرتی ہوں۔ زیادہ تر اے آر وائی ذوق چینل کے شوز دیکھتی ہوں سارہ ریاض کی ترکیبیں اچھی لگتی ہیں وہی آزماتی رہتی ہوںمیں نے بیکنگ بھی انہی سے سیکھی ہے الحمدللہ

    عام خواتین ہوں یا مرد ہم سب ایک ہی جیسے تعصب میں مبتلا ہیں ، سیاسی پارٹیاں بھی اپنے سوا سب کو غلط سمجھتی ہیں یہی عمومی رویہ ہے جو بد امنی کا سبب ہے اور یہی وجہ ہے کہ خاندان میں بھی آپس کی محبتیں اور اتفاق سرے سے کہیں نظر نہیں آتا اور چھوٹی چھوٹی باتیں رنجشوں کا سبب بن جاتی ہیں اور پھر مدتوں تک ہم اپنے دل میں عداوتوں کو پالتے رہتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ اللہ ہم سب کے حال پر رحم فرمائے آمین
     
  9. ‏جون 13، 2012 #9
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,763
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    میں سوشل تو بالکل بھی نہیں ہوں لیکن عجیب بات ہے کہ بننا چاہتی ہوں اور بن نہیں پاتی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ پتہ نہیں کیوں ؟؟؟؟اب لوگ کہیں گے کہ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟؟؟؟؟ مجھے سوشل گیدرنگز اچھی لگتی ہیں لیکن میں ان میں بھرپور طریقے سے شرکت نہیں کر پاتی :(

    ویسے ہماری نسل میں سادگی بہت تھی لیکن آج کا زمانہ بہت گلیمرائزڈ ہو گیا ہے معیارِ زندگی بہت زیادہ بلند ہو گیا ہے جس کی وجہ سے رشتوں کی مٹھاس اور خوبصورتی ختم ہو گئی ہے ، ہمارے زمانے میں بیشک اتنی زیادہ سہولتیں نہیں تھیں لیکن رشتوں میں خلوص اور محبت تھی، اس لئے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ زندگی کی آسائشیں تو مل گئیں لیکن اخلاص رخصت ہو گیا ۔ یعنی کہ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا ہی پڑتا ہے سو ۔۔۔
    زیادہ بولنے سے صحت پرتو کوئی اثر نہیں پڑتا ، لیکن خود ہم اپنے الفاظ کے پھیر میں اکثر پھنس جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ گھر کے کاموں میں سب ہی کام کر لیتی تھی خوشی سے لیکن گھر کی صفائی ستھرائی کرکے زیادہ خوشی محسوس ہوتی تھی اور کھانا پکانا پہلے تو آتا نہیں تھا تو بورنگ لگتا تھا لیکن جب سنجیدگی سے سیکھا تو یہی کام کر کے اچھا لگتا تھا۔ اب بھی یہی کام زیادہ کرتی ہوں، ہاں ایک استری کا کام ہے جو ہمیشہ ہی مارے باندھے کرتی ہوں ، میرا دل چاہتا ہے کہ کوئی مجھے کپڑے استری کر کے دیدے اور میں پہن لوں ورنہ تو یونہی پہن لیتی ہوں:) ۔ ۔ ۔ پرانی چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کی عادت ہے، جس سے میری بیٹی بہت الجھتی ہے ۔میں کھانوں میں نمک، مرچ کے علاوہ زیرے کا بہت کثرت سے استعمال کرتی ہوں، کہیں سادہ اور کہیں بھنا پسا ۔

    بری میں سب سے زیادہ خاص تو نکاح اور ولیمے کا سوٹ ہوتا ہے اسکے علاوہ ایسی کوئی خاص رسم یا چیز نہیں ہے جو نہ ہو تو کوئی بد شگونی کہلائے اس لئے کہ یہ سب بیکار کی باتیں ہیں کہ یہ ہو ، وہ ہو ، بس جتنی فضول رسموں سے بچیں اتنا ہی اچھا ہے تاکہ کسی پر بلاوجہ کا بار نہ ہو اور کوئی ہماری بے جا خواہشات سے تنگی کا شکار نہ ہو ۔ میرا خیال ہے کہ دوسروں میں آسانیاں بانٹنی چاہئیں تاکہ اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرمائے ۔

     
  10. ‏جون 13، 2012 #10
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,763
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    مجھے یہ انٹرویو پڑھ کر اتنا اچھا لگا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ (کم از کم ) نیٹ پر موجود تمام لڑکیاں اور خواتین اسے ضرور پڑھیں ۔ اس انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا:

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں