• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اِمام حرم

شمولیت
ستمبر 14، 2011
پیغامات
114
ری ایکشن اسکور
576
پوائنٹ
90
ہمارے ہر دلعزیز اور پیارے شیخ صاحب کا سنایا ہوا یہ مختصر سا قصہ ہر ماں کیلئے ایک کھلا خط ہے۔
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ اے ماؤں، اپنے اولاد کے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہو۔ چاہے کتنا ہی غصہ کیوں نہ ہو اُن کیلئے منہ سے خیر کے کلمے ہی نکالا کرو۔ اولاد کو لعن طعن، سب و شتم اور بد دعائیں دینے والی مائیں سُن لیں کہ والدین کی ہر دُعا و بد دُعا قبول کی جاتی ہے۔
یہ سب باتیں شیخ صاحب نے جمعہ کے خطبہ میں اپنے بچپن کی باتیں دہراتے ہوئے فرمائیں۔ شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک لڑکا ہوا کرتا تھا، اپنے ہم عُمر لڑکوں کی طرح شرارتی اور چھوٹی موٹی غلطیاں کرنے والا۔ مگر ایک دن شاید غلطی اور شرارت ایسی کر بیٹھا کہ اُسکی ماں کو طیش آگیا، غصے سے بھری ماں نے لڑکے کو کہا (غصے سے بپھر جانے والی مائیں الفاظ پر غور کریں) لڑکے کی ماں نے کہا؛ چل بھاگ اِدھر سے، اللہ تجھے حرم شریف کا اِمام بنائے۔ یہ بات بتاتے ہوئے شیخ صاحب پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے، ذرا ڈھارس بندھی تو رُندھی ہوئی آواز میں بولے؛ اے اُمت اِسلام، دیکھ لو وہ شرارتی لڑکا میں کھڑا ہوا ہوں تمہارے سامنے اِمام حرم عبدالرحمٰن السدیس۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
جزاک اللہ خیرا ۔ کیا عمدہ بات شیئر کی ہے۔ اللہ ہم سب کو غصہ میں زبان کو کنٹرول کرنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
ما شاء اللہ! بہت خوب!

انسان بھی کتنا جلد باز اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والا ہے کہ جس طرح اپنے لئے اللہ سے خیر کی دُعا کرتا ہے، بالکل اسی طرح غصے اور ناراضگی میں اپنے یا دوسروں کیلئے بد دُعا بھی کر ڈالتا ہے اور اسے علم بھی نہیں ہوتا، اسی طرح ماں باپ بھی۔ اگر اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین اسے بھی لوگوں کی دیگر خیر کی دُعاؤں کی طرح فوری قبول کرنا شروع کر دیں تو کوئی شخص بھی زندہ نہ بچے۔

﴿ وَيَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ‌ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ‌ وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا ﴾ ۔۔۔ الإسراء: ١١
کہ اور انسان شر کی دُعا کرنے لگتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح وہ (اپنے لئے) خیر کی دُعا کرتا ہے، اور انسان بہت جلد باز ہے۔

﴿ وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّـهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ‌ اسْتِعْجَالَهُم بِالْخَيْرِ‌ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۔۔۔ ١١ ﴾ ۔۔۔ سورة يونس
کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی بری (دُعائیں) جلد قبول کرنا شروع کردیں، جس طرح لوگ اپنی خیر کی دُعاؤں کی فوری قبولیت چاہتے ہیں تو یقیناً ان کی اجل (موت) تمام کر دی جائے۔
 
Top