• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
265
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
53
اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے

غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ:

فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ

اللہ کی قسم ! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔

[صحیح البخاری، حدیث : ٤٢١٠]

اسلام کا مقصود حقیقی اشاعت دین ہے، جنگ وقتال مقصود حقیقی نہیں۔ اس لئے ہمیں بھی کافروں کے قتل پر زور خرچ کرنے کی بجائے ان کے ایمان پر آنے کی فکر کرنی چاہیے۔

جواب نمبر ا :


یہ بات تو درست ہے کہ ایک کافر کا اسلام قبول کرنا سو سرخ اونٹوں کے صدقہ کرنے سے بہتر ہے اور واقعۃ ًکافروں کے ایمان لانے کی فکر بھی کرنی چاہیے مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہو گا کہ جو کافر ایمان نہ لائے بلکہ اشاعت ِاسلام کے راستہ میں رکاوٹ بن کر مزید دوسرے لوگوں کو بھی ہدایت پر آنے سے روکے تو ایسے کافروں کو قتل بھی نہیں کرنا چاہیے، جبکہ کفار کا قتل ہی تو در اصل دوسرے کفار کے اسلام میں داخل ہونے کا ذریعہ بنتا ہے ۔

جواب نمبر ۲:

کیا حضرت پاک ﷺ کا ارشاد ِگرامی سننے کے بعد اسی غزوہ خیبر میں حضرت علی ؓنے پھر کسی کافر کو قتل نہیں کیا ؟ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کفار کو قتل کرنا چھوڑ دیا؟ اور مرحب کا حشر کس نے کیا تھا ؟

صحیح مسلم کے باب غَزْوَةِ ذِي قَرَدٍ وَغَيْرِهَا میں بیان ہوا ہے کہ:

وخرج مرحب، فقال: قد علمت خيبر اني مرحب شاكي السلاح بطل مجرب إذا الحروب اقبلت تلهب، فقال علي: انا الذي سمتني امي حيدره كليث غابات كريه المنظره اوفيهم بالصاع كيل السندره، قال: فضرب راس مرحب، فقتله

مرحب نکلا اور کہنے لگا «‏‏‏‏قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّى مَرْحَبُ شَاكِى السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ» ‏‏‏‏۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں، یہ کہا «أَنَا الَّذِى سَمَّتْنِى أُمِّى حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ» ”یعنی میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا۔ مثل اس شیر کے جو جنگلوں میں ہوتا ہے (یعنی شیر ببر) نہایت ڈراؤنی صورت (کہ اس کے دیکھنے سے خوف پیدا ہو) میں لوگوں کو ایک صاع کے بدلے سندرہ دیتا ہوں۔ (سندرہ صاع سے بڑا پیمانہ ہے یعنی وہ تو میرے اوپر ایک خفیف حملہ کرتے ہیں اور میں ان کا کام ہی تمام کر دیتا ہوں) پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مرحب کے سر پر ایسی تلوار ماری کہ وہ اسی وقت جہنم کو روانہ ہوا۔

[صحیح مسلم، حدیث: ٤٦٧٨]

جواب نمبر ۳:


اگر أَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا والی حدیث کا یہی مطلب ہے جو جہاد سے پیچھے بیٹھے رہنے والے لوگ لے رہے ہیں تو پھر ان احادیث کا کیا مطلب لیں گے جس میں حضرت پاک ﷺ نے کفار کے قتل کرنے کی ترغیب دی ہے اور ایک کافر کے قتل پر جنت کی بشارت دی ہے ۔

سنن ابی داوُد کے باب فِي فَضْلِ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا یعنی کافر کو قتل کرنے والے کی فضیلت کے بیان میں حدیث ہے :

حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا إسماعيل يعني ابن جعفر، عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يجتمع في النار كافر وقاتله ابدا".
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر اور اس کو قتل کرنے والا مسلمان دونوں جہنم میں کبھی بھی اکٹھا نہ ہوں گے ۱؎“۔

[سنن ابي داود، حدیث : ٢٤٩٥، صحیح مسلم/الإمارة ٣٦ (١٨٩١)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٣، ٣٦٨، ٣٧٨) (صحیح)]

اسی طرح صحیح مسلم کے باب مَنْ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ میں بیان ہوا ہے کہ:

حدثنا عبد الله بن عون الهلالي ، حدثنا ابو إسحاق الفزاري إبراهيم بن محمد ، عن سهيل بن ابي صالح ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يجتمعان في النار اجتماعا يضر احدهما الآخر "، قيل: من هم يا رسول الله؟، قال: " مؤمن قتل كافرا ثم سدد ".

‏‏‏‏
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں جہنم میں اس طرح اکھٹا نہ ہوں گے جو ایک دوسرے کو نقصان پہنچا دے۔“ لوگوں نے عرض کیا، وہ کون لوگ ہیں؟ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان کافر کو قتل کرے پھر نیکی پر قائم رہے۔“

[صحیح مسلم، حدیث: ٤٨٩٦]


بجا ارشاد ہے ایمان لانا ایک کافر کا
مسلمانوں کے حق سرخ سو اونٹوں سے بہتر ہے
مگر سچ پوچھئے تو اس کا یہ ہر گز نہیں مطلب

فسادی کافروں کو قتل کرنا اس سے کم تر ہے

اس لئے میری درد مندانہ گزارش ہے کہ کفار کو ایمان پر لانے کی فکر اگر ضروری ہے اور یقینا ضروری ہے تو سرکش کفار کی سرکشی کو توڑنے اور بد دماغ کفار کے دماغ کو درست کرنے کی فکر بھی ضروری ہے ۔

تاکہ اسلام پھیل جائے اور ہمار ایمان پختہ ہو جائے اور اسلام کے غلبہ شان و شوکت کو دیکھ کر لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سارے دین کو سمجھنے اور سار ے دین پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین یَارَبَّ الْعٰلَمَیْن۔
 
Top