• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اگر غسل ميں دونوں حدث ختم كرنے كى نيت ہو تو كلى كب كرے اور ناك ميں پانى كب چڑھائے ؟

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,116
ری ایکشن اسکور
6,780
پوائنٹ
1,069
اگر غسل ميں دونوں حدث ختم كرنے كى نيت ہو تو كلى كب كرے اور ناك ميں پانى كب چڑھائے ؟

جب انسان غسل كرے اور اس سے وضوء كى بھى نيت ہو تو كلى كرنا اور ناك ميں پانى چڑھانا واجب ہے، ليكن ميرا سوال يہ ہے كہ كلى اور ناك ميں پانى كب چڑھايا جائيگا ؟

يعنى غسل كرنے سے قبل يا كہ غسل كے بعد ؟

الحمد للہ:

اول:

غسل وضوء سے كفائت اس وقت كرتا ہے جب غسل حدث اكبر ( يعنى حيض يا نفاس يا غسل جنابت ) سے كيا جائے.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" جب غسل جنابت كيا جائے اور اس سے دونوں حدث يعنى حديث اصغر اور حدث اكبر دونوں سے پاك ہونے كى نيت كى جائے تو يہ كفائت كرے گا.

ليكن اگر غسل اس كے علاوہ كوئى اور غسل ہو مثلا جمعہ كا غسل يا گرمى دور كرنے كے ليے، يا صفائى كے ليے تو يہ غسل وضوء سے كفائت نہيں كريگا، چاہے اس كى نيت بھى كر لى جائے، كيونكہ ترتيب نہيں ہے، جو كہ وضوء كے فرائض ميں شامل ہے، اور اس ليے بھى كہ طہارت كبرى كا وجود نہيں جو كہ نيت كى بنا پر طہارت صغرى كى جانب جاتى ہے، جيسا كہ غسل جنابت ميں ہے" انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى الكبرى ابن باز ( 10 / 173 ).

دوم:

احناف اور حنابلہ كے مسلك كے مطابق غسل ميں كلى اور ناك ميں پانى چڑھانا ضرورى ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

بعض اہل علم كا كہنا ہے كہ: وضوء كى طرح ان كے بغير غسل بھى صحيح نہيں ہوتا.

اور ايك قول يہ بھى ہے كہ: ان كے بغير بھى غسل صحيح ہے.

ليكن پہلا قول صحيح ہے؛ كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ تو تم غسل كرو ﴾المآئدۃ ( 6 ).

اور يہ سارے بدن كو مشتمل ہے، اور ناك اور منہ بدن ميں شامل ہے جس كى طہارت اور غسل كرنا ضرورى ہے، اسى ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے وضوء ميں ان دونوں كا حكم ديا ہے، كيونكہ يہ اس فرمان بارى تعالى ميں داخل ہيں:

﴿ چنانچہ اپنے چہرے دھوؤ ﴾المآئدۃ ( 6 ).

جب يہ چہرہ دھونے ميں شامل ہيں جو كہ وضوء ميں دھونا واجب ہے تو اس طرح يہ دونوں غسل ميں بھى داخل ہيں كيونكہ يہاں تو ان كى طہارت زيادہ يقينى ہے. انتہى.

ماخوذ از: الشرح الممتع.

سوم:

غسل كرنے والے كے ليے غسل كى ابتدا ميں وضوء كرنا مستحب ہے، اگر وہ وضوء نہيں كرتا بلكہ اپنے سارے جسم پر پانى بہا ليتا ہے تو يہ اس كے ليے كافى ہے اور اس كا غسل صحيح ہے، اسے يہ حق ہے كہ چاہے وہ كلى اور ناك ميں پانى غسل كے شروع ميں چڑھا لے يا پھر درميان ميں يا آخر ميں؛ كيونكہ غس ميں ترتيب واجب نہيں.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 140 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب

http://islamqa.info/ur/88066
 
Top