• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل بدعات کی بدعت پر ردکرنا

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
اہل بدعات کی بدعت پر ردکرنا
اہلسنّت والجماعت کے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اہل بدعت کی گمراہی کو واضح کرکے بیان کیا جائے ،امت کو ان سے خبردار کیا جائے ،مذ ہب سنت کو غالب اورظاہر کیا جائے ،اور مسلمانوں کو اس کی تعلیم وتبلیغ کی جائے ، بدعات کو مٹایا جائے اور ان کے حاملین کے بغی وعدوان سے بچا اور بچایا جائے ،مگر یہ سب کچھ عدل وانصاف کے ترازو کے پابند رہتے ہوئے اور کتاب وسنت کی نصوص کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جائے ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۱۰۴ ﴾ (آل عمران:۱۰۴)
''اور تم میں ایک گروہ ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے' نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے یہی لوگ کامیاب ہیں۔''

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے۔ اگر (ہاتھ سے روکنے کی) طاقت نہ ہوتو زبان سے ( اس کی برائی واضح کرے) اگراس کی بھی طاقت نہ ہوتو دل سے (برا جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ (مسلم۔ح۔۴۹)

عبد اللہ بن مسعود؄ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا''اسلام جس طرح اجنبی حالت میں شروع ہوا تھااسی طرح اجنبی حالت میں لوٹ جائے گا ۔ اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہو ۔پوچھا گیا:اے اللہ کے رسول یہ کون لوگ ہیں ؟آپ ﷺ نے فرمایا جب لوگوںمیں فساد برپا ہو گا تووہ ان کی اصلاح کریں گے۔'' (سلسلہ صحیحہ للالبانی:1273)

آپ ﷺنے فرمایا: مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھیجے۔ اس کے حواری اور ساتھی ہوتے تھے جو اس کے حکم کی پیروی اور اس کی سنت پر عمل کرتے پھر ایسے ناخلف پیدا ہوئے جو ایسی بات کہتے جو وہ کرتے نہیں تھے اور وہ کام کرتے جس کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا۔پس جو شخص ان سے ہاتھ سے جہاد کرے گا وہ مومن ہے۔جو شخص ان سے زبان سے جہاد کرے گا وہ مومن ہے ۔جو شخص ان سے دل سے جہادکرے گا وہ مومن ہے۔اور اس کے علاوہ رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔(مسلم:۵۰)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
امام ابن تیمیہ  فرماتے ہیں :
''ومثل أئمۃ البدع من اھل المقالات المخالفۃ للکتاب والسنۃ،أوالعبادات المخالفۃ للکتاب والسنۃ،فان بیان حالھم وتحذیر الأُمۃ منھم واجب باتفاق المسلمین......حتیٰ قیل لأحمد بن حنبل :الرجل یصوم ویصلیی ویعتکف أحبٌّ الیک ،أویتکلم في أھل البدع؟ فقال:اذا قام وصلیٰ واعتکف فانما ھو لنفسہ، واذاتکلم في أھل البدع فانما ھو للمسلین،ھذاأفضل۔
فبین أن نفع ھذا عام للمسلیمن في دینھم،من جنس الجھاد في سبیل اللہ اذتطھیر سبیل اللہ ودینہ ومنھاجہ وشرعتہ ودفع بغي ھؤلاء وعدوانھم علیٰ ذلک واجب علیٰ الکفایۃ باتفاق المسلمین،ولولا من یقیمہ اللہ لدفع ضرر ھؤلاء لفسد الدین، وکان فسادہ أعظم من فساداستیلاء العدو من أھل الحرب،فان ھؤلاء اذااستولوالم یفسدوالقلوب ومافیھا من الدین الا تبعًا ،،وأما أولئک فھم یفسدون القلوب ابتداء''

[خلاف کتاب وسنت عقائد یا عبادات کے حاملین ائمہ بدعات کے متعلق یہی ہے کہ ان کے بارے میں لوگوں کو آگاہ اورخبردار کرنا واجب ہے اور اس بات پر تمام مسلمانوں کااتفاق ہے حتیٰ کہ جب امام احمدسے دریافت کیاگیا کہ ایک آدمی نماز روزہ اور اعتکاف بکثرت کرتا ہے دوسرا اہل بدعات کا رد کرتا ہے ،آپ کے نزدیک کون سا بہتر ہے ؟توکہنے لگے : ''اگر کوئی شخص نماز ،روزہ اور اعتکاف کرتا ہے تو وہ اس کے اپنے لئے ہے اور اگر اہل بدعات کا رد کرتا ہے تو یہ مسلمانوں کے لئے ہے اور یہی افضل ہے ''۔امام صاحب نے یہاں یہ بات واضح کی ہے کہ موخرالذکر کا نفع وفائدہ تمام مسلمانوں کے لئے ان کے دین کی خاطر ہے جو کہ جہاد کے زمرے میں آتا ہے ۔مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ اللہ کے دین اورمنہج وشریعت کو پاک کرنا اور اس پر یہ لوگ جس ظلم وعدوان کے مرتکب ہوتے ہیں اس کا رد کرنا فرض کفایہ ہے ۔اور اگراللہ تعالیٰ اہل بدعت کے پھیلائے ہوئے ضرر اور شر کو رد کرنے کے لئے علمائے حقہ کو کھڑا نہ کرتا تو آج دین برباد ہوچکا ہوتا ،اور دین کا فساد اہل حرب جیسے دشمن کے غلبے کے فسادسے کہیں بڑا ہوتا ہے کیونکہ یہ اہل حرب لوگ اگر غلبہ حاصل کرلیں تو دلوں میں فساد پیدا نہیں کریں گے ،الا یہ کہ شکست کے نتیجے میں بعد میں ایسا ہو ،لیکن اہل بدعت کے فساد کی بنیاد اور ابتداء دلوں سے ہوتی ہے''۔(مجموع الفتاویٰ، ج ۲۸ ص۲۳۱-۲۳۲)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
رد کرنے میں حکمت اختیار کرنا:
حق کا اظہار اور باطل بات کا رد انتہائی ضروری ہے ۔مگر اس میں حکمت کا لحاظ رکھنا چاہیے ۔سیدنا عمر فاروق؄ نے جب ایک غلط بات کو سنا تو فوراً حج کے موقع پر منیٰ کے مقام پر رد کرنا چاہا لیکن عبدالرحمن بن عوف؄ نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ اس کا رد مدینہ جا کر ہونا چاہیے' تاکہ سمجھدار لوگ بات کو صحیح طور پر سمجھ سکیں تو انہوں نے قبول کیا ۔ملاحظہ فرمائیں:

سیدنا ابن عباس ؄ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر ؄ نے آخری حج کیا تو ایک آدمی نے کہا کہ اگر امیر المومنین انتقال کر جائیں تو ہم فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے۔سیدنا عمر فاروق ؄ نے کہا کہ میں آج شام کو کھڑے ہو کر لوگوں کو ڈرائوں گا جو مسلمانوں کے حق کو غضب کرنا چاہتے ہیں۔سیدناعبدالرحمان بن عوف ؄ نے کہا آپ ایسا نہ کریں اس لیے کہ حج کا موسم ہے ۔ آپ کی مجلس میں زیادہ تر عام لوگ ہوں گے ۔مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ اس کو سن کر صحیح مقام پر نہیں رکھیں گے اور ہر طرف لے اڑئیں گے اس لیے آپ انتظارکریں دارالہجرۃ، دارالسنۃ یعنی مدینہ پہنچ کر صرف اصحاب رسول مہاجرین و انصار کو جمع کریں ۔وہ لوگ آپ کی گفتگو کو یاد رکھیں گے اور صحیح مقام پر رکھیں گے۔ سیدنا عمر؄ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں مدینہ پہنچتے ہی سب سے پہلے یہی کہوں گا۔ (بخاری:۷۳۲۳)

سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؄ مسجد نبوی میں ایک بدعت ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور انہیں اس سے منع کرنے کی بجائے عبداللہ بن مسعود؄ کی طرف جاتے ہیں ۔گھر کے باہر بیٹھ کر ان کا انتظار کرتے ہیں ۔ جب وہ باہر آتے ہیں تو انہیں بتا کر ان سے رد کرواتے ہیں تاکہ بڑے عالم کے رد سے بدعت کے رد میں زور پیدا ہو۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
ملاحظہ فرمائیں:
عمر بن یحییٰ کے دادا فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود؄ کے دروازے پر صبح کی نماز سے پہلے بیٹھتے تھے ، جب آپ باہر آتے تو ہم آپ کے ساتھ مسجد کی طرف جاتے۔ ہمارے پاس ابو موسیٰ اشعری ؄ آئے تو انہوں نے کہا :'' ابو عبدالرحمن (ابن مسعود) ابھی باہر نہیں آئے ؟'' ہم نے کہا : '' نہیں۔'' پھر وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ حتی کہ عبداللہ بن مسعود ؄ باہر آئے ۔ جب وہ باہر آئے تو ہم سب ان کی طرف کھڑے ہوئے ، ان سے ابو موسیٰ؄ نے کہا : '' اے ابو عبدالرحمن ! میں نے مسجد میں ابھی ایک کام دیکھا ہے ، وہ مجھے برا معلوم ہوا ہے عبداللہ بن مسعود ؄ نے کہا : '' وہ کیا ہے ؟'' ابو موسیٰ ؄ نے کہا: '' اگر آپ زندہ رہے تو اسے دیکھ لیں گے۔ میں نے ایک جماعت کو حلقوں کی شکل میں مسجد میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ وہ نماز کاا نتظار کر رہے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں۔ہر حلقہ میں ایک آدمی ہے جو کہتا ہے : سو بار'' لا الہ الا اللہ '' پڑھو تو وہ سو بار'' لا الہ الا اللہ پڑھتے ہیں ۔ پھر وہ کہتا ہے : سو بار '' سبحان اللہ'' کہو تو وہ سو بار '' سبحان اللہ '' کہتے ہیں '' عبداللہ بن مسعود؄ نے کہا :'' پھر تو نے ان سے کیا کہا ؟'' ابو موسیٰ؄ نے کہا:'' میں نے آپ کی رائے کا انتظار کرتے ہوئے ،ان سے کچھ نہیں کہا؟'' انہو ں نے کہا:'' کیا تم نے انہیں حکم نہیں دیا کہ وہ اپنی برائیوں کو شمار کریں ؟'' اور ان کو ضمانت دینا تھی اس طرح سے گننے سے ان کی نیکیاں ضائع ہوں گی۔'' پھر وہ چلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ چلے۔ حتی کہ آپ ان حلقوں میں سے ایک کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا :'' یہ کیا ہے ، جو میں تمہیں کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ؟'' انہوں نے کہا: '' اے ابو عبداللہ ! ہم ان کنکریوں کے ساتھ اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ کو شما رکرتے ہیں ۔'' انہوں نے فرمایا : ''اپنی برائیوں کو شمار کرو۔ میں ضامن ہوں کہ نہ گننے سے تمہاری نیکیوں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو گی۔ اے محمد ﷺ کی امت! تم پر افسوس ہے کہ تم کتنی جلدی ہلاک ہو رہے ہو ۔ یہ تمہارے نبی ﷺ کے صحابہ کثرت سے موجود ہیں ۔ اور آپ ﷺ کے کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے اور ان کے برتن ابھی نہیں ٹوٹے۔ مجھے اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یا تو تم ایسے (بدعت والے) طریقے پر ہو جس میں محمد ﷺ کے طریقہ سے زیادہ ہدایت ہے یا تم نے گمراہی کا دروازہ کھولا ہوا ہے ۔'' انہوں نے کہا : '' اے ابو عبدالرحمن ! اللہ کی قسم ! ہم نے تو صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا ۔'' انہوں نے کہا:'' بہت سے لوگ نیکی کا ارادہ کرتے ہیں مگر انہیں نیکی حاصل نہیں ہوتی ۔(سنن دارمی:۲۱۰)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
ملاحظہ فرمائیں:
عمر بن یحییٰ کے دادا فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود؄ کے دروازے پر صبح کی نماز سے پہلے بیٹھتے تھے ، جب آپ باہر آتے تو ہم آپ کے ساتھ مسجد کی طرف جاتے۔ ہمارے پاس ابو موسیٰ اشعری ؄ آئے تو انہوں نے کہا :'' ابو عبدالرحمن (ابن مسعود) ابھی باہر نہیں آئے ؟'' ہم نے کہا : '' نہیں۔'' پھر وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ حتی کہ عبداللہ بن مسعود ؄ باہر آئے ۔ جب وہ باہر آئے تو ہم سب ان کی طرف کھڑے ہوئے ، ان سے ابو موسیٰ؄ نے کہا : '' اے ابو عبدالرحمن ! میں نے مسجد میں ابھی ایک کام دیکھا ہے ، وہ مجھے برا معلوم ہوا ہے عبداللہ بن مسعود ؄ نے کہا : '' وہ کیا ہے ؟'' ابو موسیٰ ؄ نے کہا: '' اگر آپ زندہ رہے تو اسے دیکھ لیں گے۔ میں نے ایک جماعت کو حلقوں کی شکل میں مسجد میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ وہ نماز کاا نتظار کر رہے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں۔ہر حلقہ میں ایک آدمی ہے جو کہتا ہے : سو بار'' لا الہ الا اللہ '' پڑھو تو وہ سو بار'' لا الہ الا اللہ پڑھتے ہیں ۔ پھر وہ کہتا ہے : سو بار '' سبحان اللہ'' کہو تو وہ سو بار '' سبحان اللہ '' کہتے ہیں '' عبداللہ بن مسعود؄ نے کہا :'' پھر تو نے ان سے کیا کہا ؟'' ابو موسیٰ؄ نے کہا:'' میں نے آپ کی رائے کا انتظار کرتے ہوئے ،ان سے کچھ نہیں کہا؟'' انہو ں نے کہا:'' کیا تم نے انہیں حکم نہیں دیا کہ وہ اپنی برائیوں کو شمار کریں ؟'' اور ان کو ضمانت دینا تھی اس طرح سے گننے سے ان کی نیکیاں ضائع ہوں گی۔'' پھر وہ چلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ چلے۔ حتی کہ آپ ان حلقوں میں سے ایک کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا :'' یہ کیا ہے ، جو میں تمہیں کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ؟'' انہوں نے کہا: '' اے ابو عبداللہ ! ہم ان کنکریوں کے ساتھ اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ کو شما رکرتے ہیں ۔'' انہوں نے فرمایا : ''اپنی برائیوں کو شمار کرو۔ میں ضامن ہوں کہ نہ گننے سے تمہاری نیکیوں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو گی۔ اے محمد ﷺ کی امت! تم پر افسوس ہے کہ تم کتنی جلدی ہلاک ہو رہے ہو ۔ یہ تمہارے نبی ﷺ کے صحابہ کثرت سے موجود ہیں ۔ اور آپ ﷺ کے کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے اور ان کے برتن ابھی نہیں ٹوٹے۔ مجھے اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یا تو تم ایسے (بدعت والے) طریقے پر ہو جس میں محمد ﷺ کے طریقہ سے زیادہ ہدایت ہے یا تم نے گمراہی کا دروازہ کھولا ہوا ہے ۔'' انہوں نے کہا : '' اے ابو عبدالرحمن ! اللہ کی قسم ! ہم نے تو صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا ۔'' انہوں نے کہا:'' بہت سے لوگ نیکی کا ارادہ کرتے ہیں مگر انہیں نیکی حاصل نہیں ہوتی ۔(سنن دارمی:۲۱۰)
 
Top