ابو داؤد
رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 654
- ری ایکشن اسکور
- 198
- پوائنٹ
- 77
اہل بدعت مرجئہ کا فتنہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اہلسنت کے نزدیک قرآن وحدیث، صحابہ کرام اور سلف صالحین کے اجماع کے مطابق ایمان تین چیزوں سے مرکب ہے:
"التصدیق بالقلب والاقرار باللسان والعمل بالجوارح"
دل سے تصدیق کرنا، زبان سے اقرار کرنا اور اعضاء سے عمل کرنا۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"ایمان قول اورعمل ہے، قول دل(کا اعتقاد) اور زبان (کا اقرار) اور عمل دل، زبان اور اعضائے جسمانی کا، اور یہ کہ ایمان اطاعت سے بڑھتا اور زیادہ ہوتا ہے اور معصیت سے اس میں کمی واقع ہوتی ہے… (اس پر) تمام صحابہ، تابعین، ائمہ سنت وحدیث اور جمہور فقہاء وصوفیہ، امام مالک، امام سفیان ثوری، امام اوزاعی، امام حماد بن زید، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل وغیرہ ایسے امام اور اہل کلام کے محقیقن سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ ایمان اور دین قول اور عمل ہے۔ صحابہ کرام وغیرہ ایسے سلف کے یہی الفاظ ہیں اگرچہ کسی جگہ ایمان سے عمل کا مغایر(یعنی صرف قول) مراد ہو سکتا ہے لیکن سب کے سب اعمال صالح دین اور ایمان کے معنی میں داخل ہیں۔ قول میں دل (اعتقاد) اور زبان کا قول شامل ہے اور عمل میں دل اور اعضائے جسمانی کے عمل شامل ہیں."
[مجموع الفتاوی:۳-۱۵۱، ۱۲-۴۷۱]
جبکہ مرجیہ کے بدعتی فرقہ نے صرف اعتقاد قلبی کو ایمان کی حقیقت قرار دیا اور وہ عمل کو ایمان اور اس کی شروحات سے خارج کرتے ہیں۔
مسلمانوں میں بدعتی مرجئہ فرقہ کا آغاز تقریباً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پہلی صدی ہی میں ہوگیا تھا۔ آج مسلمانوں میں اہلسنہ کے عقیدہ کو مکمل طور پر جاننا اور اس کے مقابل اہل بدعت کا علم ہونا اس قدر کم ہے کہ آج اچھے خاصے دین دار لوگوں سے بھی جب اہل بدعت مرجیہ کی بابت میں بات کی جاتی ہے تو وہ اس سے استعجاب اور بے رغبتی کا اظہار کرتے ہیں۔
اور لوگ یہ بالکل نہیں جانتے کہ مرجیہ کی بدعت کا مسلمانوں کے ایمان پر کس قدر ہلاکت خیز اثر ہے۔ اور مسلمانوں کے زوال اور مغلوبیت میں بنیادی کردار اسی بدعت کا ہے۔ مرجیہ کی بدعت کی مسلمانوں کی دین ودنیا کے لیے اس قدر سخت نقصان اور ہلاکت خیزی کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق خاص طور پر امت محمدیہ کو متنبہ و خبردار فرمایا ہے۔
صحیح حدیث میں ذکر ہے حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول صلی اللی علیہ وسلم نے فرمایا:
"میری امت کے دو گروہوں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے مرجئہ اور قدریہ"۔ [ترمذی: ٢١٤٩، ابن ماجہ: ٦٢]
حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ہر امت میں مجوسی طبقہ ہوتا ہے اور ہر امت میں نصاریٰ کا طبقہ ہوتا ہے اور ہر امت میں زفر (یہود) کا طبقہ ہوتا ہے۔ اور میری امت کے مجوسی طبقہ قدریہ ہیں اور نصاریٰ کا طبقہ حشویہ اور یہودیوں کا طبقہ مرجئہ ہیں"۔ [الطبرانی]
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا یہ قول بالکل سچ ہے کہ مرجئہ اہل قبلہ یہودی ہیں کیونکہ انہوں نے صریح شرک کو جہنم میں ہمیشہ دخول کا سبب نہیں مانا۔(جیسا کہ یہود نے کہا تھا) وقالو لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ؛ انہوں نے کہا ہمیں ہرگز آگ نہ چھو سکے گی مگر چند روز"۔
سلف صالحین بھی اس بدعت کی امت مسلمہ پر ہلاکت خیزی کو اچھی طرح جانتے تھے اس لیے انہوں نے اس بدعت کے متعلق مسلمانوں کو خاص طور پر خبردار کیا۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں یحیٰی اور قتادہ کہتے تھے:
"اس امت کیلئے ارجاء سے زیادہ بدعات میں سے کوئی اور چیز خطرناک نہیں"۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ازارقہ(خوارج) کے فتنہ سے زیادہ مرجئہ کا فتنہ اس امت کیلئے خطرناک ہے"۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا: "انہوں نے ہر فاسق اور ڈاکو کو تباہ کن (کفریہ) گناہ پر جری کر دیا۔ ہم اس خزلان سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں"۔
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا: "یہ(مرجئہ)خبیث ترین لوگ ہیں حالانکہ خباثت میں رافضہ کافی ہیں لیکن مرجئہ اللّٰہ پر جھوٹ بولتے ہیں"۔
[حوالہ جات، کتاب السنۃ عبداللہ بن احمد: ۱-۳۱۳]