• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل دیوبند کو سلف صالحین اہلسنت کے اجماعی عقائد کی طرف پلٹنے کی دعوت

شمولیت
اگست 16، 2017
پیغامات
112
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
55
انصاران خلافت اسلامیہ کا دیوبندی حضرات کے نام پیغام

منجانب: ٹیم منبرالجہاد واحوال امت
(انصار خلافت اسلامیہ ولایت خراسان)

ہم اہل دیوبند کو سلف صالحین اہلسنت کے اجماعی عقائد کی طرف پلٹنے کی دعوت دیتے ہیں۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

خلافت اسلامیہ کے مجاہدین کی عراق و شام اور دنیا کے دیگر خطوں میں فتوحات پر اور خلافت اسلامیہ کے قیام کے اولین ایام میں برصغیر و خراسان میں دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والوں نے خیر مقدم اور خوشی کا اظہار کیا اور اس خطے میں دیوبندیوں کی کافی تعداد نے خلافت سے بیعت بھی کی۔

لیکن ان میں سے بہت سے وہ تھے جو خطے میں موجود تحریک طالبان سے اسلام وخلافت اسلامیہ سے بڑھ کر تعصب و تقلید کا شکار تھے، اور جب تحریک طالبان نے شخصیت و جماعت پرستی کو بت بناتے ہوئے صحیح احادیث رسول میں ذکر کردہ خلافت شام کو رد کر کے اس سے مخالفت کا آغاز کیا تو یہ لوگ بھی خلافت کی بیعت توڑ کر اس سے دشمنی پر نکل آئے، اور کچھ جنہوں نے جماعتی بت کو معبود و مطاع تونہ بنایا اور خلافت اسلامیہ کی حمایت اور بیعت پر قائم رہے۔

لیکن جب خلافت اسلامیہ نے اہلسنت کے خالص اسلامی عقیدہ پر کسی مصلحت و مداہنت اختیار کرنے کی بجائے عقیدہ توحید و سلفی منہج کو حرزجان بناتے ہوئے اور شخصیت و فرقہ پرستی کی دیواروں کو منہدم کرتے ہوئے اپنے آفیشل رسالے دابق (Dabiq) میں دیوبندی مسلک میں پائے جانے والے خلاف اسلامی عقائد جہمیہ، اشاعرہ و ماتریدیا کے عقائد، تقلید جامد اورغالی صوفیانہ عقائد پرتنقید کی تو شیطان آخرکار ان لوگوں کے دل میں مسلک کے بت کو سجا کرخلافت اسلامیہ کی حمائت و بیعت ترک کرانے میں کامیاب ہوگیا، اور یہ لوگ بھی خلافت اسلامیہ کی مخالفت کرنے اور اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں ایک اور انداز میں مصروف ہو گئے۔

یہ دولت اسلامیہ اور اہل سنت کے خالص اسلامی عقائد کے متعلق عوام کو الجھانے لگے، ان لوگوں نے عقیدہ و منہج جیسے خاص اور بنیادی چیز کو درست کرنے اور اپنی عاقبت سنوارنے کی ذرا کوشش نہ کی کہ یہ دیوبند کے عقائد کو قرآن وحدیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و سلف صالحین اہلسنہ کے عقائد سے موازنہ کرلیں کہ جن کا اجماع دین میں سند کی حیثیت رکھتاہے۔

شیطان نے ان کو اس انداز سے ورغلایا کہ ہم بھی احناف میں سے ہیں جو قرون اولٰی سے اہلسنت میں گنے جاتے ہیں، لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ موجود احناف کے نام سے نہاد طور پر منسوب دیوبندی مسلک کے عقائد قرون اولٰی کے ائمہ اہلسنت سے یکسر مخالف ہیں، جس کایہ خود اقرار بھی کرتے ہیں، اور اعتقاد جیسے بالاجماع اورغیر متبدل معاملات میں اجتہاد کا دعوی کرتے ہیں۔

جبکہ دوسری طرف یہی لوگ دین کے فروعی مسائل میں اجتہاد پرسلفیت پرتنقید کرتے پائے جاتے ہیں۔

دیوبندی مسلک کی سلفیوں پر یہ تہمت بے جا کہ وہ اجماع صحابہ کے منکر ہیں اور وہ تروایح یا طلاق کے مشہور نزعی مسائل میں قرآن وحدیث اور صحابہ کرام کے اجماع کے مخالف عمل کرتے ہیں۔ سلفیوں کے نزدیک بھی اجماع صحابہ وسلف صالحین دین میں سندکی حیثیت رکھتا ہے۔

شیخ الحدیث حافظ محمد گوندلوی فرماتے ہیں:

"اہلحدیث کے اصول کتاب وسنت، اجماع اور اقوال صحابہ ہیں۔ یعنی جب کسی ایک صحابی کا قول ہو اور اس کا کوئی مخالف نہ ہو، اگر اختلاف ہو تو ان میں سے جو قول کتاب وسنت کے زیادہ قریب ہو اس پرعمل کیا جائے اور اس پر کسی عمل، رائے یا قیاس کو مقدم نہ سمجھا جائے اور بوقت ضرورت قیاس پرعمل کیا جائے، قیاس میں اپنے سے اعلم پراعتماد کرنا جائز ہے یہی مسلک امام احمد بن حنبل اور دیگر ائمہ اہلحدیث کاہے۔" [الاصلاح:۱۴]

دراصل تراویح کے مسئلہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں آٹھ تروایح ہونا باسند صحیح ثابت ہے۔ اورنفلی عبادت کے اس فروعی مسئلہ میں اختلاف کی گنجائش ہے۔ اس طرح احناف کے دین کے دیگر فروعی مسائل میں اختلاف پر بھی بالکل کوئی تنکیر وتنقید نہیں۔

طلاق کے خاص مسئلہ میں صحیح روایات کے مطابق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ایک مجلس میں تین طلاق ایک گنے جانا ہی مروج تھا جس پر تمام صحابہ کا اجماع تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے دور حکومت کے صرف تھوڑے سے عرصے یہ پابندی لگائی کہ طلاق کی کثرت کی وجہ سے ایک مجلس میں تین طلاق کے ہونے کو مروج فرمایا۔

یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ عرصے بعد اس طریقے کو کالعدم کرکے پر ان اطلاق کا مروجہ طریقہ دوبارہ رائج کرا دیا۔ جیساکہ اغاثۃ الافہان میں امام ابن قیم کی صحیح روایت سے ثابت ہوتا ہے۔ اگر کوئی حضرت عمر رضی اللہ کو اس اجتہاد پر بدعتی یا فاسق کہتا ہے تو ایسا شخص رافضی و زندیق کے زمرے میں ہی یقینا گنا جائے گا چاہے وہ کسی بھی مسلک سے نسبت رکھتا ہو۔ لیکن یہ تکفیرمعین علماء اہلسنہ کے تکفیر کے اصول وقواعد کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہو۔

بہرحال اہلسنت کے نزدیک اعتقاد ایسا معاملہ ہے کہ جس میں اجتہاد کی اجازت سرے سے ہی نہیں ہے اور اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین کے اجماع اور ان کی اختیار کردہ تشریح کی پیروی کرنا واجب ہے۔

امام حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"سلف نے اس بات سے ممانعت فرمائی ہے کہ اللہ تعالٰی یا اس کے اسماء وصفات کے بارے میں بحث اور اختلاف ہو۔ البتہ جہاں تک فقہی مسائل کی بات ہے تو سلف کا اتفاق ہے کہ ان امور میں بحث اور اخذ ورد ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ (فقہ) ایسا علم جس میں قیاس کرنے کی حاجت ہے۔ جبکہ اعتقادات کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ اہلسنت والجماعت کے نزدیک اللہ عز وجل کی بابت کوئی بات کی ہی نہیں جا سکتی سوائے اس بات کے جو خود ہی اپنی ذات کے بارے میں بیان کردے، یا رسول اس کی بابت بیان کردے، یا جس پر امت نے اجماع کرلیا ہو اللہ کی مثل کوئی چیز ہے ہی نہیں جس کا قیاس یا گہرے غورو خوض (یا عقل) کے نتیجے میں ادراک ہونا ممکن ہو۔"[صحیح جامع بیان العلم وفضله:۳۷۳]

ذیل میں ہم پہلے مسلک دیوبند کے اہلسنت سے مخالف عقائد کا ثبوت مسلک دیوبند کی عقیدہ کی متفقہ کتاب 'المہند علی المفند' سے دیں گے جس پر بے شمارعلماء دیوبند کی تصدیقات موجود ہیں۔ اور اس ضمن میں ان کے اکابرین کے اقوال بھی ذکر کریں گے۔ تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مسلک دیوبند پر یہ عقائد اکابرین دیوبن دکے اقوال کی غلط تعبیر اخذ کرکے منسوب کیے جار ہے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہمارا یہ دعوی نہیں کے دیوبند کے تمام علماء بعینہ ان ہی تمام گمراہ عقائد (جہمیہ، اشاعرہ، ماتریدیا، معتزلہ، مرجئہ، غالی صوفیہ) کے حامل ہیں، بلکہ ان میں ملے جلے عقائد ہیں۔ اوربعض کچھ عقائد میں اہلسنت کی پیروی بھی کرتے ہیں۔ اوران میں سے کچھ چیدہ چیدہ وہ ہیں جنہوں نے اپنے اکابرین سے مخالف اہلسنت کے عقائد کی پیروی کی ہے۔

لیکن دیوبندیوں کی عامی عوام تو اپنے اکابرین کے ان عقائد سے بالکل نابلد ہیں۔ اس مضمون سے ہمارا مقصود ان سب پر کوئی حکم لگانا نہیں اور نہ ہی دیوبندیوں کے ان خاص اکابرین پرکوئی حکم لگانا ہے، کیونکہ یہ سب چیزیں ان کے شبہات و تاویل کو رد کرنے اور حجت پہنچانے کا تقاضہ کرتی ہیں۔ اور نہ ہی ہمارے اس مضمون سے مقصود نام نہاد مدخلیوں کے (بدعتی مرجئہ) مسلک سے تعصب ہے۔

کسی شخصیت اور مسلک سے محبت اس چیز کا تقاضہ نہیں کرتی کہ ان میں پائے جانے والے اہلسنت سے مخالف اسلامی عقائد پر رد نہ کیا جائے۔ جس طرح ہم آج کے نام نہاد سعودی عرب اور برصغیر کے مدخلیوں کو روافض وطواغیت سے دوستی کرنے اور ان کی تکفیر نہ کرنے کی وجہ سے بدعتی فرقہ مرجئہ کہتے ہیں۔ اور شیخ ابو بصیر (ھداہ اللہ) نے مداخلہ کے ماضی قریب کے امام علامہ البانی کے مرجئہ عقائد پر سخت گرفت کی ہے۔

اس طرح ہمارے دیوبندی بھائی جان لیں کے ہمارے دیوبند کے اہلسنت سے مخالف اسلامی عقائد پر رد سے مقصد کوئی مسلکی تعصب نہیں، بلکہ اخلاص کے ساتھ عقائد کے معاملہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و سلف صالحین و اہلسنت کے منہج اور عقیدے کی پیروی کرنے کی دعوت دینا ہے۔ ہم دولت اسلامیہ ولایت خراسان کے احناف امراء و قائدین اور کارکنان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ عقیدہ کے معاملے میں ثابت قدمی اختیار کریں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی ہرگز پرواہ نہ کریں۔ بلکہ حق کی راہ میں استقامت اختیار کرنے والے اپنے اکابرین احناف شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ جیسوں کے نقش قدم پرچلیں جنہوں نے برصغیر کے احناف عوام میں سے باطل عقائد وبدعات کے استیصال کے لیے مجددانہ کردار اداکیا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مجاہدین اور مسلمانوں میں عقیدہ کی دعوت نہیں دینی چاہیے کہ اس سے مسلمانوں میں آپس میں بغض وعداوت اور اختلاف و تفرقہ پیدا ہوگا اور اختلاف کی وجہ سے جہاد اور مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔

جبکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اختلاف اور تفرقہ کی اصل وجہ ایمان اورعقائد میں گمراہی بیان کی ہے۔ اللہ تعالی نے اہل کتاب میں تفرقہ کی اصل وجہ یہ بیان کی ہے کہ انھوں نے خالص عقیدہ کو چھوڑ دیا، مسلمانوں میں بھی آج اختلاف اورتفرقہ کی اصل وجہ ایمان وعقیدہ میں گمراہی ہے۔

ارشادباری تعالٰی ہے: وَمِنَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَى أَخَذْنَا مِيثَاقَهُمْ فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللَّهُ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ "اور ان لوگوں سے جنھوں نے کہا بے شک ہم نصاریٰ ہیں، ہم نے ان کا پختہ عہد لیا، پھر وہ اس کا ایک حصہ بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی اور کینہ وری بھڑکا دی اور عنقریب اللہ انھیں اس کی خبر دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
"
[سورۃ المائده، آیت :۱۴]

صحیح اور خالص عقیدہ وایمان کی بنیاد پر ہی مسلمان متحد ہوں گے اوراسی کی بنیاد پرمسلمانوں کو مظبوطی و برکت اور تحفظ و استحکام حاصل ہوگا۔ اور اللہ ان کے قدم زمین پرجمادے گا۔

ارشادباری تعالٰی ہے:


أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ
"کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ایک پاکیزہ کلمہ (کلمہ توحید و ایمان) کی مثال کیسے بیان فرمائی (کہ وہ) ایک پاکیزہ درخت کی طرح (ہے) جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی چوٹی آسمان میں ہے۔"
[سورۃ إبراهيم، آیت: ۲۴]

اللہ تعالی نے مسلمانوں کو فتح و نصرت اورغلبے کا وعدہ صحیح اور شرک و بدعت سے پاک خالص ایمان وعقیدے پر کیا ہے۔

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ

"اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کرامن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔"

[سورۃ النور، آیت: ۵۵]

اللهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه
 
Top