• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایسے میں روزے کا کیا حکم ہوگا ؟

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
اگر دانتوں میں سے خون نکلے اور اسکا ٹیسٹ (taste) بھی محسوس ہو تو کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟
اور جسم کے کسی اور جگہ سے خون نکلے جیسے کہیں کوٹ جائے تو پھر کیا حکم ہے ؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
سوال ؛ کیا دانتوں سے نکلنے والا خون روزہ فاسد کرتا ہے کہ نہيں ؟ اوراگر کوئي انسان کسی دوسرے کو زد کوب کرے جس سے اس کے دانتوں سے خون جاری ہوجائے توکیا روزے پرکچھ اثر ہوگا ؟ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے

الحمد للہ
دانتوں سے نکلنے والاخون روزے پر اثرانداز نہيں ہوتا اورنہ ہی اس سے روزہ ٹوٹتا ہے ، چاہے وہ خود نکلے یا کسی کے زدکوب کرنے سے ۔

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آل اورصحابہ کرام پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 10 / 267 ) ۔

لیکن روزے دار پر اس خون کو نگلنا حرام ہے ، اوراگر اس نے جان بوجھ کر نگل لیا توروزہ ٹوٹ جائے گا ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
سوال ؛ اگر كسى شخص كو رمضان المبارك ميں اٹھائيس يوم تك نكسير آتى رہے تو اس كا حكم كيا ہے ؟ آپ كى اطلاع كے ليے عرض ہے كہ ميرى عمر انچاس برس ہو چكى ہے ليكن اب تك مجھے نكسير نہيں آئى تھى، ليكن پچھلے برس رمضان المبارك ميں صبح سے ليكر غروب آفتاب تك تقريبا چھ بار نكسير پھوٹى، اور خون ميرے حلق ميں چلا جاتا اور ميں اسے جما ہوا باہر نكالتا رہا ہوں ؟

الحمد للہ:

اگر تو معاملہ وہى ہے جو آپ نے بيان كيا ہے تو آپ كا روزہ صحيح ہے؛ كيونكہ آپ كو نكسير ميں كوئى اختيار نہيں تھا اور وہ خود ہى آئى ہے اس ليے اس كے وجود پر آپ كا روزہ نہيں ٹوٹا اس كى دليل شريعت اسلاميہ كى آسانى ہے.

اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اللہ تعالى كسى بھى جان كو اس كى استطاعت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا }البقرۃ ( 286 ).

اور اللہ سبحانہ و تعالى كا يہ بھى فرمان ہے:

{ اللہ تعالى تم پر كوئى تنگى نہيں كرنا چاہتا }المآئدۃ ( 6 ).

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمت نازل فرمائے " انتہى

مستقل فتوى اينڈ علمى ريسرچ كميٹى سعودى عرب.

الشيخ عبد العزبز بن عبد اللہ بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

الشيخ عبد اللہ بن قعود.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 264 - 265 ).

اور مستقل كميٹى كے فتاوى جات ميں يہ بھى درج ہے:

" اگر كسى شخص كے اختيار كے بغير روزے كى حالت ميں نكسير پھوٹ جائے تو اس كا روزہ صحيح ہے " انتہى.

الشيخ عبد العزبز بن عبد اللہ بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 267 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
 
Top