• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایمان باللہ توحید اور اس کی اقسام

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
135
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
28
ایمان باللہ توحید اور اس کی اقسام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایمان باللہ توحید سب سے بڑی نیکی اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

قال موسى عليه السلام : يا رب علمني شيئا أذكرك به وأدعوك به قال : يا موسى قل : لا إله إلا الله قال : يا رب كل عبادك ، يقول هذا قال : قل : لا إله إلا الله قال : لا إله إلا أنت يا رب ، إنما أريد شيئا تخصني به قال : يا موسى لو كان السماوات السبع ، وعامرهن غيري ، والأرضين السبع في كفة ، ولا إله إلا الله في كفة مالت بهن لا إله إلا الله

حضرت موسٰی علیہ السلام نے جناب باری تعالیٰ میں عرض کیا کہ الٰہی! مجھے وہ طریقہ تلقین فرما جس سے میں تجھے یاد کروں اور تجھے پکاروں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسٰی لا الٰہ الا اللہ پڑھا کرو۔ جناب موسٰی علیہ السلام نے عرض کیا اے پروردگار!طیہ کلمہ تو تیرے سب بندے پڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسٰی اگر میرے سوا ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اور ان کی آبادی ایک پلڑے میں رکھ دی جائے اور دوسرے پلڑے میں لا اله الا اللہ ہو تو کلمہ طیبہ والا پلڑا بھاری ہوگا۔

(المستدرك على الصحيحين، كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر، فضل لا إله إلا الله وأمر الله به موسى عليه السلام : ١٩٧٩)

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:

قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ

ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ اے اللہ کے رسول! اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تو کسی کو اللہ کا شریک بنائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔

(صحيح البخاري: كِتَابُ الدِّيَاتِ، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} حدیث :۶۸۶۱)


توحید پر عمل پیرا ہونے اور شرک سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی توحید اور شرک کو مکمل تفصیل سے جانے اور اس کا علم حاصل کرے۔

  • توحید کا لغوی معنی :
توحید کا مادہ "وحد" ہے اور اس کے مصادر میں"وحد" اور "وحدہ" زیادہ مشہور ہیں۔ جس کا مطلب ہے اکیلا اور بے مثال ہونا۔ وحید یا وحد اس شئی کو کہتے ہیں جو اپنی ذات اور صفات میں اکیلی اور بے مثال ہو۔ وحد کا واؤ ہمزہ سے بدل کر احد بنا ہے۔ یہی لفظ اللہ تعالیٰ نے سورۃ اخلاص میں بیان فرمایا ہے :

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ۔ (اخلاص: ۱)
کہہ دیجئے کہ وہ اللہ ایک ہے۔


  • توحید کی تعریف :
توحید سے مراد یہ ہے کہ اللہ اپنی ربوبیت (خالق، مالک، رازق اور متصرف الامور ہونے) میں، الوہیت (عبادت، اطاعت، استغاثہ) میں، اسماء وصفات اور اپنے افعال میں اکیلا اور خاص ہے۔ اسی طرح وہ قادر و مختار، عالم الغیب، الحی القیوم، لا زاوال اور بے مثال ہے اور ہر قسم کی دعا و ندا، نذرونیاز، استغاثہ و وسیلہ، محبت و خوف اور توکل و بھروسہ صرف اسی سے ہے۔

  • توحید کی اقسام :
عام طور پر علماء نے توحید کو قرآن کے بیان کے مطابق ان بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے :

(۱) توحید ربوبیت
(۲) توحید الوہیت :
(توحید الدعاء والعبادہ)
(توحید الحکم والطاعۃ)
(۳) توحید اسماء وصفات


  • توحید ربوبیت
توحید ربوبیت رب کے افعال ہیں یہ اس بات کے پختہ اعتقاد کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، مالک، رازق اور تدبیر کائنات کا تنہا مالک ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَن يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ۔ (یونس: ۳۱)

آپ کہہ دیں کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے، یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہے، کون بے جان سے جاندار کو اور جاندار سے بے جان کو نکالتا ہے، کون اس نظم عالم کی تدبیر کر رہا ہے، وہ ضرور کہیں گے اللہ تعالیٰ، کہو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں۔


  • توحید الوہیت
توحید الوہیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ ہی اله واحد ہے اور وہی عبادت و اطاعت کے لائق ہے۔ توحید الوہیت بندوں کے افعال سے متعلق ہے کہ وہ اعتقاداً، قولاً اور عملاً عبادت کی تمام اقسام اور افعال صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کریں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ۔ (البقرہ:۱۶۳)
اور تمہارا الٰہ بس ایک ہی الٰہ ہے۔ اس رحمن رحیم کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

توحید الوہیت کو دو شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے :

  1. توحید الدعاء والعبادہ
  2. توحید الحکم والطاعۃ
توحید الدعاء والعبادہ :

توحید الدعاء والعبادہ سے مراد یہ ہے کہ مدد والتجا، دعا وپکار، استغاثہ ووسیلہ، توکل وامید اور بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرنا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ۔(المومن: ۶۰)

اور تمہارے رب نے کہا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا بلاشبہ جو لوگ میری عبادت سے سرکشی کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل وخوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے۔

توحید الحکم والطاعۃ :


توحید الحکم والطاعۃ سے مراد ہے کہ حاکمیت واطاعت اور فیصلہ وقانون سازی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اس لیے تمام کونی اور شرعی امور میں انسانوں کے عباداتی و معاشرتی اور سیاسی و معاشی معاملات سے متعلق حکم جاری کرنے اور قانون سازی کرنے کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ۔ (یوسف: ۱۰۴)
بے شک اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں اس نے حکم دیا ہے کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو۔


  • توحید اسماء وصفات
توحید اسماء وصفات سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں اور صفات میں اس کو یکتا مانا جائے اور اس کی صفات العلیم، السمیع، البصیر، الحی القیوم، صفت ید، عین، ساق یا عرش پر بلند ہونے وغیرہ کو مانا جائے اور اس کی تشبیہ و تمثیل نہ بیان کی جائے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ۔(الشوریٰ: ۱۱)
اس جیسی کوئی چیز نہیں، اور وہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔

ذات باری تعالیٰ


اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ وہ دو، تین یا کائنات اور مخلوق کی کسی بھی چیز میں منقسم نہیں ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ۔(اخلاص)

کہہ دیجئے اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ کسی کا جنا گیا ہے۔

نیز ارشاد فرمایا :

بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ۔ (الانعام: ۱۰۱)
وہ آسمانوں اور زمینوں کا موجد ہے اللہ تعالیٰ کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں۔

نیزارشادفرمایا :

وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا ۚ إِنَّ الْإِنسَانَ لَكَفُورٌ مُّبِينٌ ۔ (الزخرف: ۱۵)

اور انہوں نے اس کے بندوں کو اس کا جزو بنا دیا بے شک (ایسا) انسان کھلا کافر ہے۔

نیز ارشاد فرمایا :

وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ۖ ذَٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ ۖ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ۔ (التوبہ: ۳۰)

اور یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا عیسٰی اللہ کا بیٹا ہے، یہ ان کے مونہوں کی بات ہے، یہ اس سے پہلے کے کافروں کی بات کی ریس کرتے ہیں، اللہ انھیں ہلاک کرے یہ کہاں پھرے جاتے ہیں۔

نیز ارشاد فرمایا :

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۔ (المائدہ: ۷۲)
یقیناً کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا بے شک اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے۔

اس لئے فرمایا :

مَالَکُمْ مِنْ اِلٰهٍ غَیْرُہٗ۔

اس کا کوئی غیر تمہارا الٰہ نہیں۔

اللہ تعالیٰ کے علاوہ باقی تمام مخلوق و اشیاء کو اللہ کا غیر نہ ماننا یا اللہ تعالیٰ کے انبیاء و اولیاء کو اللہ کے ساتھ اتحاد وحلول اور نور من نور اللہ کا عقیدہ رکھنا اللہ کا جز بنانے اور اس کی ذات میں شرک ہے۔
 
Top