• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک حدیث کے بارے میں استفسار

شمولیت
دسمبر 21، 2015
پیغامات
137
ری ایکشن اسکور
36
پوائنٹ
46
کیا اس طرح کی کوئی حدیث ہے

قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں، دو جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا،
جو شخص حق جانتا ہے، حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ جہنم میں جائے گا، دوسرا وہ جو حق جانتا ہی نہیں اور جہالت کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے وہ بھی جہنم میں جائے گا، تیسرا وہ جو حق جانتا ہے اور حق کے مطابق ہی فیصلہ کرتا ہے وہ جنت میں جائے گا،،
اسحاق سلفی بھائی
خضر حیات بھائی
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,568
پوائنٹ
791
کیا اس طرح کی کوئی حدیث ہے
قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں، دو جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم بھائی یہ بات صحیح حدیث میں وارد ہے ،جو درج ذیل ہے ،
( عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَاثْنَانِ فِي النَّارِ، فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ، وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ، فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ فِيهِ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ ‘‘
(سنن ابو داود ، 3573 )نیز یہ حدیث سنن الترمذی اور سنن ابن ماجہ (اور دیگر کئی کتب )میں بھی موجود ہے ،اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ،
جناب بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے“۔ اور وہ شخص جس نے نادانی سے لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی ابن بریدہ کی ”تین قاضیوں“ والی حدیث اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے۔
سنن ابن ماجہ/الأحکام ۳ (۲۳۱۵)، (تحفة الأشراف: ۲۰۰۹)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأحکام ۱ (۱۳۲۲)
 
Top