• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک مرد غیور کا ایمان افروز واقعہ

شمولیت
نومبر 04، 2012
پیغامات
82
ری ایکشن اسکور
351
پوائنٹ
36
ابوعبد اللہ محمد بن احمد فرماتے ہیں :میں قاضی موسی بن اسحق کی مجلس میں موجودتھا،ایک عورت حاضر ہوتی ہے ،جس کے ولی نے اس کے شوہر پر پانچ سو دینار کا دعوی دائر کیا ،شو ہر نے اس دعوی کا انکا رکردیا ،قاضی نے کچھ گواہ طلب کیے ،جن کا گواہی دینے کےلیے عورت کے چہرے کو دیکھنا ضرور ی تھا ،شوہر بولا :میری بیوی مہر کا دعوی کر رہی ہے میں اس کے ادا کرنے کا اقرار کرتا ہو ں ،لہذا یہ گواہوں کے سامنے اپنے چہرہ نہ کھولے ۔عو رت کو واپس بٹھا دیاگیا ۔او راسے خاوند کے اقرار کی خبر دی گئی ب،جس پر اس خاتو ن نےکہا :میں اپنا حق مہر اپنے شو ہر کو ہبہ کرتی ہوں ۔او راسے دنیا وآخرت میں بری قرار دیتی ہو ں ۔
قاضی عش عش کر اٹھا او رکہا :ا س واقعہ کو ہمیشہ کیلئے مکارم الاخلاق میں تحریر کردیا جائے ۔۔
((تاریخ بغداد))
 

امل احمد

مبتدی
شمولیت
مارچ 08، 2013
پیغامات
19
ری ایکشن اسکور
76
پوائنٹ
5
((تاریخ بغداد))
بھائی یہ کیسے ممکن ہے کہ کہ گواہوں کو گواہی دینے کے لیے عورت کا چہرہ لازمی دیکھنا پڑے۔۔۔۔۔کیا اس واقعہ کی منطق سمجھ نہ انے والی نہیں ہے ؟؟؟میرے سوال سے کسی کی دل ازاری ہوتو اس سے پیشگی معذرت
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,424
پوائنٹ
521
السلام علیکم

قاضی جج کو کہتے ہیں۔ اور اس کی مجلس کورٹ۔
عدالت گھر میں نہیں لگی تھی۔
گواہ گھر والے نہیں ہوتے۔
چہرہ دیکھے بغیر گواہی نہیں ہوتی۔

والسلام
 

امل احمد

مبتدی
شمولیت
مارچ 08، 2013
پیغامات
19
ری ایکشن اسکور
76
پوائنٹ
5
السلام علیکم

قاضی جج کو کہتے ہیں۔ اور اس کی مجلس کورٹ۔
عدالت گھر میں نہیں لگی تھی۔
گواہ گھر والے نہیں ہوتے۔
چہرہ دیکھے بغیر گواہی نہیں ہوتی۔

والسلام

السلام علیکم
بھائی !!!
معلومات دینے کا شکریہ کہ قاضی جج کو کہتے ہیں ۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا سوال یہ تھا کہ گواہوں کا کسی نامحرم خاتون کے چہرہ دیکھنے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے ؟؟جب کہ نکاح کے وقت بھی ایسی کوئی بیہودہ حرکت شرعا حرام ہے کہ
کسی ایسے نامحرم کو گواہ بنانا پڑے کہ جس کے لیے خاتون کا چہرہ کھولنا لازمی ٹھہرے ۔۔۔۔۔اور معذرت کے ساتھ خلافت شریعہ کی موجودگی ایسا کون بے وقوف قاضی (بقول اپ کے جس کو جج بھی کہتے ہیں ) ہوگا جو فریقین میں فیصلہ کرنے کے لیے ایک حرام عمل کا سہارا لے ؟؟؟
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,424
پوائنٹ
521
امینڈمنٹس

اج بھی عمومآ مسلمان گھرانوں میں شادی کے گواہ محرم ہی ہوتے ہیں ۔۔۔ ممکن ہےاپ کے برسٹل (انگلینڈ) میں ایسا نہ ہوتا ہو۔۔۔۔۔ ویسے بھی کافروں کے درمیان سکونت اختیار کرنے والوں کے ہاں شریعت کی پیمانے ان کی مرضی کے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ اور چہرے کے پردے کے تو اپ کے لوگ قائل ہی نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔ کوئی بات بری لگے تو معذرت
السلام علیکم

محترم، میں نے آپکو مخاطب نہیں کیا تھا بلکہ عبارت پر نوٹ لکھا تھا اور آپ نہ جانے غصہ میں ذاتیات پر اتر آئے رہی بات آپکی شہر برسٹل پر پشین گوئی تو آپ لکھنے میں آزاد ہیں جب ایسا موقع ہوا تو پھر اس پر جواب دیں گے۔

اپنی عقل و سوچ سے جو چاہے سوچ کر فیصلہ کر لیں، جب معاملہ قاضی کے پاس جا رہا ھے تو پھر چہرہ کا ڈھنپنا کیا اور چھپانا کیا۔ پہلے اس پر غور فرمائیں کہ کوئی اگر چوری میں پکڑے جاتا ہیں اور وہ یہ کہے کہ اسے صوفہ پر بٹھایا جائے اور بنگلہ میں رکھا جائے۔ اھادیث مبارکہ ہیں کہ زنا پر گواہی جنہوں نے دونوں کو ؟؟؟ دیکھا ہو، اب آپ یہاں اپنی عقل سے سوچیں کہ یہ بہودہ حرکت ھے تو میں اس پر آپکو کچھ نہیں کہہ سکتا۔

والسلام
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,092
پوائنٹ
1,155

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,771
ری ایکشن اسکور
8,479
پوائنٹ
964
((تاریخ بغداد))
أَخْبَرَنِي محمد بن أحمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن نعيم الضبي قال: سمعت أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى القاضي يقول: حضرت مجلس موسى بن إسحاق القاضي- بالري- سنة ست وثمانين ومائتين، وتقدمت امرأة فادعى وليها على زوجها خمسمائة دينار مهرا، فأنكر، فقال القاضي شهودك، قَالَ: قد أحضرتهم فاستدعى بعض الشهود أن ينظر إلى المرأة ليشير إليها في شهادته، فقام الشّاهد وقال للمرأة قومي، فقال الزوج تفعلون ماذا؟ قَالَ الوكيل ينظرون إلى امرأتك وهي مسفرة لتصح عندهم معرفتها، فقال الزوج: وإني أشهد القاضي أن لها علي هذا المهر الذي تدعيه، ولا تسفر عن وجهها، فردت المرأة وأخبرت بما كان من زوجها، فقالت المرأة: فإني أشهد القاضي أن قد وهبت له هذا المهر وأبرأته منه في الدنيا والآخرة.
فقال القاضي: يكتب هذا في مكارم الأخلاق.

تاریخ بغداد و ذیولہ ج ١٣ ص ٥٥ ص پر یہ واقعہ تو موجود ہے ۔ سند وغیرہ مجھے تو ٹھیک ہی لگتی ہے باقی کفایت اللہ بھائی کا انتظار کرتے ہیں ۔
ویسےیہاں سمجھ نہیں آرہی کہ عورت کے چہرے کا پردہ کھلوانا کیوں ضروری تھا ؟

بہر صورت جو بھی ہے ارسلان بھائی نے علماء کو دعوت نامہ بھیج دیا ہے ان شاء اللہ جلد ہی بات واضح ہو جائے گی ۔
 
Top