• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بشریت رسول اللہ ﷺ

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
بسم اللہ الرحمن الرحیم​
بشریت رسول اللہ ﷺ

بریلوی حضرات کے بہت سے ایسے عقائد ہیں ،جن کا قرآن و حدیث سے کوئی واسطہ ناطہ نہیں۔اس کے باوجود بھی یہ لوگ خود کو اہل سنت کہلانا پسند کرتے ہیں اور اس میں ذرا سی بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔
چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کے نور کا حصہ ہیں۔یہ لوگ آپ ﷺ کو دائرہ انسانیت سے خارج کر کے نوری مخلوق میں داخل کر دیتے ہیں ۔
یہ غیر عقلی اور غیر منطقی عقیدہ ہے اور عام آدمی کے فہم سے بالاتر ہے ۔شریعت اسلامیہ سادہ اور عام فہم شریعت ہے۔اس قسم کے ناقابل فہم اور خلاف عقل عقائد سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔لہذا قرآنی آیات میں اس بات کی واضح تصریح موجود ہے کہ آپ ﷺ بشر تھے۔اور اسی طرح قرآن ہمیں یہ بھی بتلاتا ہے کہ کفار سابقہ انبیاء و رسل علیھم السلام کی رسالت پر جو اعتراضات کرتے تھے ،ان میں ایک اعتراض یہ تھا کہ وہ کہتے تھے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر کو اپنی ترجمانی کے لیے منتخب فرما لیا ہو اور اس کے سر پر تاج نبوت رکھ لیا ہو؟اس کام کے لیے ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ نوری مخلوق میں سے کسی فرشتے کو منتخب فرماتا ۔تو گویا انبیاء و رسل علیھم السلام کی بشریت کو اللہ تعالیٰ نے کفار کی ہدایت میں مانع قرار دیا۔
ثابت ہوا کہ یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی بشر رسول نہیں ہو سکتا ،عقیدہ کفار تھا۔فرق صرف اتنا ہے کہ کفار کہتے تھے بشریت رسالت کے منافی ہے۔اور بریلویت کے پیروکار یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسالت بشریت کے منافی ہے۔بہرحال اسی حد تک دونوں شریک ہیں کہ بشریت و رسالت کا اجتماع ناممکن ہے۔اب اس سلسلے میں قرآن کی آیات ملاحظہ فرمائیں:
وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤْمِنُوٓا۟ إِذْ جَآءَهُمُ ٱلْهُدَىٰٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَبَعَثَ ٱللَّهُ بَشَرًۭا رَّسُولًۭا ﴿94﴾
ترجمہ: اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوئی کہ کہنے لگے کہ کیا اللہ نے آدمی کو پیغمبر کرکے بھیجا ہے (سورۃ بنی اسرائیل،آیت 94)
اللہ نے اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
قُل لَّوْ كَانَ فِى ٱلْأَرْضِ مَلَٰٓئِكَةٌۭ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَلَكًۭا رَّسُولًۭا ﴿95﴾
ترجمہ: کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے (کہ اس میں) چلتے پھرتے (اور) آرام کرتے (یعنی بستے) تو ہم اُن کے پاس فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے (سورۃ بنی اسرائیل،آیت 95)
قَالُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَٰنٍۢ مُّبِينٍۢ ﴿10﴾
ترجمہ: انہوں نے کہا تم بھی تو ہمارے جیسے انسان ہو تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان چیزوں سے روک دو جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے رہے سو کوئی کھلا ہوامعجزہ لاؤ (سورۃ ابراھیم،آیت 10)
جوابا پیغمبروں نے اپنی بشریت کا اثبات کرتے ہوئےان کی تردید فرمائی:
قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ
ترجمہ: ان سے ان کے رسولوں نے کہا ضرور ہم بھی تمہارے جیسے ہی آدمی ہیں لیکن الله اپنے بندوں میں جس پر چاھتا ہے احسان کرتا ہے (سورۃ ابراھیم،آیت 11)
نیز
وَٱضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَٰبَ ٱلْقَرْيَةِ إِذْ جَآءَهَا ٱلْمُرْسَلُونَ ﴿13﴾إِذْ أَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍۢ فَقَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَيْكُم مُّرْسَلُونَ ﴿14﴾قَالُوا۟ مَآ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا وَمَآ أَنزَلَ ٱلرَّحْمَٰنُ مِن شَىْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَكْذِبُونَ ﴿15﴾
ترجمہ: اور ان سے بستی والوں کا حال مشال کے طور پر بیان کر جب کہ ان کے پاس رسول آئے جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا انھوں نے ان کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے مدد کی پھر انہوں نے کہا ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں انہوں نے کہا تم کچھ اور نہیں ہو مگر ہماری طرح انسان ہو اور رحمان نے کوئی چیز نہیں اتاری تم اور کچھ نہیں ہو مگر جھوٹ بول رہے ہو (سورۃ یس،آیت13تا15)
الہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے پیروکاروں کے حوالہ سے فرمایا:
ثُمَّ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَٰرُونَ بِـَٔايَٰتِنَا وَسُلْطَٰنٍۢ مُّبِينٍ ﴿45﴾إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًا عَالِينَ ﴿46﴾فَقَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَٰبِدُونَ ﴿47﴾
ترجمہ: پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلی سند دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا پھر انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے پھر کہا کیا ہم اپنے جیسے دو شخصوں پر ایمان لائیں جن کی قوم ہماری غلامی کر رہی ہو (سورۃ المومنون،آیت 45تا47)
فَقَالَ ٱلْمَلَؤُا۟ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ مَا هَٰذَآ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ يُرِيدُ أَن يَتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَأَنزَلَ مَلَٰٓئِكَةًۭ مَّا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِىٓ ءَابَآئِنَا ٱلْأَوَّلِينَ ﴿24﴾إِنْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌۢ بِهِۦ جِنَّةٌۭ فَتَرَبَّصُوا۟ بِهِۦ حَتَّىٰ حِينٍۢ ﴿25﴾
ترجمہ: سواس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ یہ بس تم ہی جیسا آدمی ہے تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر الله چاہتا تو فرشتے بھیج دیتا ہم نے اپنے پہلے باب دادا سے یہ بات کبھی نہیں سنی یہ تو بس ایک دیوانہ آدمی ہے پس اس کا ایک وقت تک انتظار کرو (سورۃ المومنون،آیت 24،25)
نیز
مَا هَٰذَآ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ ﴿33﴾وَلَئِنْ أَطَعْتُم بَشَرًۭا مِّثْلَكُمْ إِنَّكُمْ إِذًۭا لَّخَٰسِرُونَ ﴿34﴾
ترجمہ: کہ یہ بس تمہیں جیسا آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو اوراگر تم نےاپنے جیسے آدمی کی فرمانبرداری کی توبے شک تم گھاٹے میں پڑ گئے (سورۃ المومنون،آیت 33،34)
اور اصحاب ایکہ نے بھی حضرت شعیب علیہ السلام کو اسی طرح کہا تھا :
وَمَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ ﴿186﴾
ترجمہ: اورتو بھی ہم جیسا ایک آدمی ہے اور ہمارے خیال میں تو تو جھوٹا ہے (سورۃ الشعراء،آیت 186)
وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّجْوَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ هَلْ هَٰذَآ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ ٱلسِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ ﴿٣﴾
ترجمہ: اور ظالم پوشیدہ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ تمہاری طرح ایک انسان ہی تو ہے پھر کیا تم دیدہ دانستہ جادو کی باتیں سنتے جاتے ہو (سورۃ الانبیاء،آیت 3)
اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا:
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِمْ ۖ فَسْـَٔلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٧﴾
ترجمہ: اور ہم نے تم سے پہلے بھی تو آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا ان کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھ لو (سورۃ الانبیاء،آیت7)
اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو حکم فرمایا کہ:
قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ
ترجمہ: کہہ دو کہ میں بھی تمہارے جیسا آدمی ہی ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے (سورۃ الکہف،آیت 110)
اور
قُلْ سُبْحَانَ رَبِّى هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًۭا رَّسُولًۭا ﴿93﴾
ترجمہ: کہہ دو کہ میرا پروردگار پاک ہے میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں (سورۃ بنی اسرائیل،آیت93)
لَقَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًۭا مِّنْ أَنفُسِهِمْ
ترجمہ: اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے (سورۃ آل عمران،آیت164)
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌۭ مِّنْ أَنفُسِكُمْ
ترجمہ: البتہ تحقیق تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آیا ہے (سورۃ التوبہ،آیت128)
كَمَآ أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًۭا مِّنكُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِنَا
ترجمہ: جیسا کہ ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے (سورۃ البقرۃ،آیت151)
حضور ﷺ نے اپنے متعلق فرمایا:
إنما أنا بشر مثلكم، أنسى كما تنسون، فإذا نسيت فذكروني
"بس میں تمہارے جیسا انسان ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں پس میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلادیا کرو۔(صحیح بخاری)
اس مسئلے میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا فیصلہ بھی سن لیجیے :
"رسول اللہ ﷺ بشر کے سوا کوئی دوسری مخلوق نہیں تھے۔اپنے کپڑے دھوتے اپنی بکری کا دودھ دھوتے اور اپنی خدمت آپ کرتے تھے "(شمائل ترمذی،فتح الباری)(1)
اور خود بریلویوں کے خان صاحب نے بھی اپنی کتاب میں ایک روایت درج کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ہر شخص کی ناف میں اس مٹی کا کچھ حصہ موجود ہے ،جس سے اس کی تخلیق ہوئی ہے اور اسی میں وہ دفن ہو گا ۔اور میں ،ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ ایک مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں۔(فتاوی افریقہ ص85مطبوعہ1236ھ)(2)
یہ ہیں قرآنی تعلیمات اور ارشاد نبویہ ﷺ ،منکرین کے عقائد کے بالکل برعکس۔بریلوی حضرات انبیاء و رسل علیھم السلام کی نبوت و رسالت کا انکار تو کر نہ سکے،مگر انہوں نے کفار و مشرین کی تقلید میں ان کی بشریت سے انکار کر دیا۔حالانکہ انسانیت کو رسالت کے قابل نہ سمجھنا انسانیت کی توہین ہے،اور اس عقیدے کے بعد انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا کوئی معنی نہیں رہتا۔یہ خلاف عقل بات ہے کہ انسان تمام مخلوقات سے افضل بھی ہو اور پھر اس میں نبوت و رسالت کی اہلیت بھی موجود نہ ہو۔مگر بریلویت چونکہ ایسے متضاد افکار اور خلاف فطرت عقائد کے مجموعے کا نام ہے ،جنہیں سمجھنا عام انسان کے بس کے باہر ہے،اس لیے اس کے پیروکاروں کے ہاں اس قسم کے عقائد اکثر ملیں گے۔انہی عقائد میں سے یہ عقیدہ بھی ہے کہ بریلوی حضرات نبی ﷺ کو نور خداوندی کا حصہ سمجھتے ہیں۔چنانچہ بریلویت کے ایک امام لکھتے ہیں:
"رسول ﷺ اللہ کے نور میں سے ہیں اور ساری مخلوق آپ ﷺ کے نور سے ہے۔(مواعظ نعیمیہ،احمد یار بریلوی ص14)
مزید ارشاد ہوتا ہے:
بے شک اللہ ذات کریم نے صورت محمدی ﷺ کو اپنے نام پاک بدیع سے پیدا کیا اور کروڑ ہا سال ذات کریم اسی صورت محمدی ﷺ کو دیکھتا رہا۔اپنے اسم مبارک منان اور قاہر سے،پھر تجلی فرمائی اس پر اپنے اسم پاک لطیف ،غافر سے۔(فتاوی نعیمیہ ص37)
خود بانی بریلویت نے رسول اللہ ﷺکی بشریت کے انکار میں بہت سے رسالے تحریر کیے۔ان میں سے ایک رسالے کا نام ہے "صلوۃ الصفا فی نور المصطفی"۔اس کا خطبہ انہوں نے شکستہ عربی میں لکھا ہے ۔اس کا اسلوب عجیب و غریب اور ناقابل فہم ہے۔اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
"اے اللہ تیرے لیے سب تعریفیں ہیں ۔تو نوروں کا نور ہے۔سب نوروں سے پہلے نور،سب نوروں کے بعد نور،اے وہ ذات جس کے لیے نور ہے،جس کے ساتھ نور ہے،جس سے نور ہے،جس کی طرف نور ہے اور جو خود نور ہے۔درود و سلامتی اور برکتیں نازل فرمااپنے روشن نور پر جسے تو نے اپنے نور سے پیدا کیا ہےاور پھر اس کے نور سے ساری مخلوق کو پیدا کیا۔اور سلامتی فرما اس کے نور کی شعاعوں پر،اس کی آل ،اصحاب اور اس کے چاندوں پر۔"(رسالۃ صلوۃ الصفا بریلوی مندرجہ مجموعۃ رسائل ص33)
اس غیر منطقی اور بعید از خطبے کے بعد انہوں نے ایک موضوع اور خود ساختہ روایت سے استدلال کیا ہے۔چنانچہ
حافظ عبدالرزاق کی طرف منوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
"رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے جابر،بے شک بالیقین اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبی کے نور کو پیدا کیا۔نبی ﷺ کا نور پنے قدرت الہی سے جہاں خدا نے چاہا،دورہ کرتا رہا۔اس وقت لوح و قلم،جنت و دوزخ،فرشتگان،آسمان،زمین،سورج،چاند،جن،آدمی کچھ نہ تھا۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصے فرمائے۔پہلے سے قلم،دوسرے سے لوح،تیسرے سے عرش بنایا،پھر چوتھے کے چار حصے کیے۔(رسالۃ صلوۃ الصفا بریلوی مندرجہ مجموعۃ رسائل ص33)
یہ موضوع حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
" اس حدیث کو امت نے قبول کر لیا ہے۔اور امت کا قبول کرنا وہ شئے عظیم ہےجس کے بعد کسی سند کی حاجت نہیں رہتی،بلکہ سند ضعیف بھی ہو تو کوئی حرج نہیں کرتی۔(رسالۃ صلوۃ الصفا بریلوی مندرجہ مجموعۃ رسائل )
خان صاحب بریلوی اس امت سے کون سی امت مراد لے رہے ہیں؟
اگر اس سے مراد خان صاحب جیسے اصحاب ضلال اور گمراہ لوگوں کی امت ہےتو خیر،اور اگر ان کی اس سے مراد علماء و ماہرین حدیث ہے،تو ان کے متعلق تو ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے اس حدیث کو قبول کیا ہو۔اور پھر یہ کس نے کہا ہے کہ امت کے کسی حدیث کو قبول کرلینے سے اس کی سند دیکھنی کی حاجت نہیں رہتی؟
اور یہ روایت توقرآنی نصوص اور احادیث نبویہ (ﷺ) کے صریح خلاف ہے۔اور پھر تمام واقعات و شواہد اس غیر اسلامی و غیر عقلی نظریے کی تردید کرتے ہیں۔اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ دوسرے انسانوں کی طرح اپنے بابا عبداللہ بن عبدالمطلب کے گھر پیدا ہوئے،اپنی والدہ آمنہ کی گود میں پلے،حلیمہ سعدیہ کا دودھ نوش فرمایا،ابوطالب کے گھر پرورش پائی،حضرت خدیجہ ررضی اللہ عنہا،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا،زینب رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا اور دوسری ازواج مطہرات سے شادی فرمائی۔پھر مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ نے جوانی اور کہولت کے ایام گزارے،مدینہ منورہ ہجرت کی،آپ ﷺ کے ہاں بیٹوں ابراہیم،قاسم،طیب،طاہر اور بیٹیوں زینب رضی اللہ عنہا،رقیہ رضی اللہ عنہا،ام کلثوم رضی اللہ عنہااور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ولادت ہوئی۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ،حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ،آپ ﷺ کا سسر،حضرت ابوالعاص ،حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنھم اجمعین آپ کے داماد بنے۔حضرت حمزہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنھما آپ ﷺ کے چچا تھے۔حضرت صفیہ اور حضرت اروی رضی اللہ عنہماآپ (ﷺ) کی پھوپیاں تھیں اور دوسرے اعزاء و اقارب تھے۔
ان ساری باتوں کے باوجود آپ ﷺ کی بشریت اور آپ ﷺ کے انسان ہونے سے انکار کس قدر عجیب اور غیر منطقی بات ہے؟
کیا مذہب اسلام اس قدر متضاد اور بعید از قیاس عقائد کا نام ہے؟
ان نظریات اور عقائد کی طرف دعوت دے کر آپ غیر مسلموں کو کس طرح قائل کر سکیں گے؟
ان عقائد کی نشرواشاعت سے دین اسلام کیا ناقابل فہم مذہب بن کر رہ جائے گا ؟

(بریلویت از علامہ احسان)​
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)چونکہ مصنف نے یہاں حدیث مبارکہ کا عربی متن درج نہیں کیا اسی لیے یہ حدیث مبارکہ کا ترجمہ یا مفہوم ہے۔(محمد ارسلان)
(2)اس حدیث مبارکہ کی سند پر اہل علم حضرات روشنی ڈالیں۔(محمد ارسلان)
 

وقار عظیم

مبتدی
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
41
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
28
اور خود بریلویوں کے خان صاحب نے بھی اپنی کتاب میں ایک روایت درج کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ہر شخص کی ناف میں اس مٹی کا کچھ حصہ موجود ہے ،جس سے اس کی تخلیق ہوئی ہے اور اسی میں وہ دفن ہو گا ۔اور میں ،ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ ایک مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں۔(فتاوی افریقہ ص85مطبوعہ1236ھ)(2)
(2)اس حدیث مبارکہ کی سند پر اہل علم حضرات روشنی ڈالیں۔(محمد ارسلان)

یہ حدیث موضوع ہے
الكتاب: الحجة في بيان المحجة
1.png

بریلویوں کا حوالہ
2.png
 
شمولیت
نومبر 21، 2013
پیغامات
105
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
56
کچھ لوگ بنی پاک ﷺ کی بشریت کو تو تسلیم کرتے ہیں مگر وہ آپ کی وفات کو تسلیم نہیں کرتے
اور انکا عقیدہ ہے کہ آپﷺ قبر اطہر کے اندر اس دنیا جیسی زندگی گزار رہے ہیں ۔جب یہ لوگ بشریت تسلیم کرتے ہیں ۔آپ ﷺ کی اولاد تسلیم کرتے ہیں،آپکی ازواج مطہرات ؓ تسلیم کرتے ہیں،آپکے مصائب اور مشکلات تسلیم کرتے ہیں،آپ ﷺ کا خوش ہونا،آپ ﷺ کا غمگین ہونا تسلیم کرتے ہیں تو کیا وجہ آپ ﷺ کی وفات کو تسلیم نہیں کرتے۔حالانکہ آپ ﷺ قبر اطہر کے اندر جو زندگی گزار رہے ہیں وہ اس طرح اعلی ٰ ہے جس طرح آپﷺ کی زندگی دنیا کے اندر اعلیٰ تھی۔
 

وقار عظیم

مبتدی
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
41
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
28
کچھ لوگ بنی پاک ﷺ کی بشریت کو تو تسلیم کرتے ہیں مگر وہ آپ کی وفات کو تسلیم نہیں کرتے
اور انکا عقیدہ ہے کہ آپﷺ قبر اطہر کے اندر اس دنیا جیسی زندگی گزار رہے ہیں ۔جب یہ لوگ بشریت تسلیم کرتے ہیں ۔آپ ﷺ کی اولاد تسلیم کرتے ہیں،آپکی ازواج مطہرات ؓ تسلیم کرتے ہیں،آپکے مصائب اور مشکلات تسلیم کرتے ہیں،آپ ﷺ کا خوش ہونا،آپ ﷺ کا غمگین ہونا تسلیم کرتے ہیں تو کیا وجہ آپ ﷺ کی وفات کو تسلیم نہیں کرتے۔حالانکہ آپ ﷺ قبر اطہر کے اندر جو زندگی گزار رہے ہیں وہ اس طرح اعلی ٰ ہے جس طرح آپﷺ کی زندگی دنیا کے اندر اعلیٰ تھی۔
جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کو نہیں مانتا وہ قیامت کے دن کا بھی منکر ہے کیونکہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی رسول اللہ ﷺ کی وفات بھی ہے
 
Top