• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بٹیں گے تو کٹیں گے

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
78
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
56
بسم اللہ الرحمن الرحیم


بٹیں گے تو کٹیں گے​



ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی​


الحمدللہ رب العالمین والصلاۃوالسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:



برادران اسلام!

وقت اور حالات کی مناسبت سے آج کے خطبۂ جمعہ کے لئے جس موضوع کا ہم نے انتخاب کیا ہے وہ ہے ’’ بٹیں گے تو کٹیں گے ‘‘ یعنی کہ اگر ہم مسلمان اسی طرح سےمسلکی اختلاف وانتشارمیں الجھے رہیں تو پھر ہماری ہلاکت وبربادی بالکل ہی یقینی ہے،افسوس صد افسوس آج ہمارے ملک میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو چھیننے اورہرمعاملات میں مسلم قوم کو چاروں طرف سے گھیرنے کی ناپاک کوششیں کی جارہی ہیں اورحالت بایں جارسید کہ مسلمانوں کو نیست ونابود کرنے کے لئے قبریں کھودی جارہی ہیں اور جاچکی ہیں مگر یہ ناعاقبت اندیش مسلم قوم مسلکی اختلافات میں الجھی ہوئی ہے،آج ہمارے ملک میں مسلم قوم کی جان ومال اور عزت وناموس داؤ پرلگی ہوئی ہے مگر مسلم قوم اس بات سے بے خبر’’ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ‘‘یعنی کہ ہرگروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر اترا رہاہے۔ (المؤمنون:53)کے تحت ایک دوسرے کو نیچاگرانے اورایک دوسرے کو کافر قراردینے میں اپنے تن من دھن سے مست ومگن ہے،مسلم قوم یہ سوچ رہی ہے کہ وہ ایساکرکے اپنے آقاکو خوش کرکے اپنے آپ کو بچالےگی مگر انہیں اس بات کی خبرنہیں ہے کہ کٹیں گے تو مریں گے ،یہ جملہ جس نے بھی کہاوہ یقیناًاپنوں کو نہیں بلکہ ہمیں یہ پیغام دے گیا کہ اے مسلمانوں اب بھی وقت ہے جاگ جاؤ،بیدارہوجاؤ اور اپنے تمام مسلکی اختلافات اورذاتی مفادکو بالائے طاق رکھ کرمتحد ہوجاؤ،ورنہ تم اس سرزمین ہند سے نیست ونابود کردئے جاؤگے اور پھر تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ،بزبان شاعر

متحد ہوتوبدل ڈالو نظام گلشن

منتشرہوتو مروشور مچاتے کیوں ہو​

جی ہاں میرے دوستو!اچھی طرح سے یہ بات یادرکھ لیں کہ اگرہم نے اب بھی ہوش نہیں سنبھالااور اسی طرح سے مسلکی اختلافات میں الجھے رہے تو پھر ہم لاکھ احتجاج کرلیں،ریلیاں نکال لیں اورجلسے وجلوس اوردھرنے کرلیں مگر پھر بھی ہم سب کی ہلاکت وبربادی بالکل ہی یقینی ہے،کیونکہ اختلاف کے اندر سوائے ہلاکت وبربادی کے اور کچھ نہیں رکھاہےیہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام نے کفروشرک اور بدعات وخرافات کے بعد سب سے زیادہ جس چیز کی مذمت کی ہے وہ ہےآپسی اختلاف و انتشار،اوراللہ رب العزت نے اپنی کتاب کے اندرجابجا اس اختلاف وانتشار سے بچنے کی تلقین کی ہے کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ‘‘ اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو۔(آل عمران:103)کہیں اللہ نےاس اختلاف وانتشارسے ڈراتے ہوئے فرمایا کہ ’’ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ‘‘ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا،انہیں لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔(آل عمران:105)کہیں اللہ رب العزت نے اختلاف وانتشار کی بیج ڈالنے والوں سے اپنے محبوب کو لاتعلقی کا اظہار کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ’’ إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ‘‘بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروہ گروہ بن گئے،آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں،بس ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے،پھر وہ ان کو بتلادے گا جو کچھ وہ (دنیا میں)کرتے رہے۔(الانعام:159)الغرض مذہب اسلام کے نزدیک یہ اختلاف وانتشار بہت ہی بری چیز ہے جس سے امت مسلمہ کو بارہا بچنے کی تلقین کی گئی ہےمگرافسوس صدافسوس مذہب اسلام نے جس چیز سے باربارمسلمانوں کو روکا اور ٹوکا ہے آج مسلمان اسی چیز کے سب سے زیادہ رسیا اور دلدادہ ہوچکے ہیں،آج کا ہرمسلمان اپنے اپنے مسلکی اختلافات میں الجھ کر ایک دوسرے سے دست وگریباں ہے،دست وگریباں ہی نہیں بلکہ اپنے اپنے مسلک میں آج کا مسلمان اتنا جذباتی وجنونی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی جان لینے اور ایک دوسرے کی مسجدوں کو مسمارکرنے سے بھی باز نہیں آتاہے،آج کامسلمان اپنے مسلکی معاملے میں کتناسخت متشدد ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ صوبہ آندھراپردیش اور دیگر علاقوں کے اندر کئی مسجدوں کو صرف اس لئے مسمارکردیا گیا ،صرف مسمار ہی نہیں بلکہ مسجد میں آگ زنی کرکے اس میں پیشاب وغیرہ بھی کئے گئے ۔نعوذ باللہ۔صرف اور صرف اس لئے کہ وہ ان کے مسلک کے خلاف والوں کی مسجد تھی،بھلاآپ ہی مجھے بتلائیے کہ کیاایسے لوگ حقیقی مسلمان کہلائے جانے کے لائق ومستحق ہیں جو صرف اور صرف مسلکی اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے کی جان لیتے اور ایک دوسرے کی مسجدوں کو ڈھاتے اور مسمار کرتے ہیں؟ہرگز نہیں!ایسے لوگ تو اسلام اور مسلمانون کے دشمن ہیں جو اپنی اس بری حرکت سے اسلام اور مسلمانوں کو پوری دنیا میں ذلیل ورسواکرتے ہیں،اورآپ یہ بات اچھی طرح سے جان لیں کہ مسلمانوں کے اسی آپسی رسہ کشی کی وجہ سے ہی آج مسلمانوں کوکفارومشرکین زک پہنچانے میں کامیاب ہوجارہے ہیں،ورنہ کسی کی کیا مجال کہ وہ مسلمانوں کو آنکھ بھی دکھاسکے،کھلے لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج اس اختلاف وانتشار نے امت مسلمہ کو ہلاکت وبربادی کےدہانے پر لاکھڑا کردیاہے۔الامان والحفیظ۔آپ تاریخ اٹھائیے اورپھر دیکھئے،تاریخ کےاوراق شاہد ہیں کہ جب بھی اورجہاں کہیں بھی مسلم قوم اختلاف وانتشار کی شکارہوئی تو عنان حکومت ان کے ہاتھوں سے جاتی رہی اوروہ صفحۂ ہستی سے مٹادئے گئےاورمحکومی وغلامی ان کی مقدر بن گئی،یاد کیجئے کہ اندلس کے اندر مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت جو ہاتھ سے گئی وہ صرف اورصرف اسی اختلاف وانتشار کا نتیجہ تھا،مسلمانوں کے آپسی اختلاف وانتشار اوررسہ کشی کی وجہ سے ہی وہاں پر عیسائیوں نے قبضہ جمالیااورپھر کیاہوا ؟آپ سننا چاہتے ہیں تو سنئے عیسائیوں نے اندلس میں مسلمانوں کی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجاکر ان کےسامنے میں صرف تین راستے رکھے ،نمبر ایک یہ کہ اندلس سے نکل جاؤ،نمبر دو عیسائی بن جاؤ اور نمبر تین یا پھر مرنے کے لئے تیار ہوجاؤ،اور پھر ایک دن ایسا آیا،آسمان وزمین نے دیکھا اورتاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جہاں مسلمانوں نے آٹھ سوسال تک حکومت کی تھی وہاں ایک دن ایسا بھی آیا کہ پورے اندلس( جس کا موجودہ نام اسپین ہے،اورموجودہ دور میں پورا اندلس دوحصوں ،اسپین اور پرتگال میں بٹا ہوا ہے) میں ایک بھی مسلمان نہ تھا۔اللہ اکبر کبیرا۔ذرا غور کیجئے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی تھی اوریہ جگہ ایسے ہی مفت میں نہیں ملی تھی بلکہ اس کے لئے ہمارے اسلاف نے بڑی بڑی قربانیاں دی تھی،کیسی قربانی؟سن کرآپ کے دل دہل جائیں گے اورآپ کی روح کانپ اٹھے گی!یہی وہ جگہ اوریہی وہ علاقہ تھا جس کو فتح کرنے کے لئے طارق بن زیادصرف 7000 فوجوں کے ساتھ ایک لاکھ فوجوں کا سامناکرتے ہوئے اپنا تاریخی خطاب کیا تھا اور کہا تھا کہ’’ أَيُّهَا النَّاسُ أَيْنَ الْمَفَرْ؟ أَلْبَحْرُ مِنْ وَّرَائِكُمْ وَالْعَدُوُّ أَمَامَكُمْ وَلَیْسَ لَكُمْ وَاللهِ إِلَّا الصِّدْقُ وَالصَّبْرُ ‘‘اے میرے دوستو !سن لو!میدان جنگ سے پیٹھ دکھانے اوربھاگنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہےکیونکہ تمہارے پیچھے سمندر ہے اورتمہارے سامنے دشمنوں کا سیلاب ہے،اللہ کی قسم! آج کے دن تمہارے لئے سوائے ثابت قدمی اورصبرکے کوئی اوردوسراچارہ نہیں ہے۔(دولۃ الاسلام فی الاندلس:1/46)دیکھا اور سنا آپ نے کہ ہمارے اسلاف نےاپنا لہو دے کر جس خطے کو فتح کیا تھا،اس خطے وعلاقےسے مسلمانوں کی آپسی رسہ کشی اورآپسی اختلاف اور سیاسی انتشارنےوہاں سے مسلمانوں کا نام ونشان تک مٹا دیا گیا!یہ تو ایک مثال ہےورنہ اگر آپ تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کریں گے تو ہرجگہ پر جو مسلمانوں کی ہلاکت وبربادی ہوئی ہے وہ صرف اور صرف اسی آپسی اختلاف وانتشار اورطوائف الملوکی(سیاسی اختلاف وانتشار) وجہ سے ہی ہوئی ہے،آپ نے بغداد کا نام تو ضرور سنا ہی ہوگا،اس ملک وشہرکو بھی مسلمانوں نے ہی آباد کیا تھا،اور یہ شہر بھی اپنے زمانے میں علم وہنر کا مرکز تھا مگرجب مسلمانوں کے درمیان طوائف الملوکی شروع ہوئی یعنی مسلمانوں کے درمیان سیاسی اختلاف وانتشار کے دورکا آغاز ہوا اورہرکوئی اپنا اپنا علاقہ مختص کرکے حاکم بن کرایک دوسرے سے دست وگریباں ہونے لگا توہلاکو خان نے اس خوبصورت تہذیب یافتہ متمدن شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی،آپ کو کبھی فرصت ملےتو پڑھئے،زوال وسقوط بغداد کے حالات وواقعات،اللہ کی قسم !آپ کی روح کانپ اٹھے گی اور ہفتوں ،مہینوں تک آپ بے چین وبے قرار رہیں گے کہ کیا انسانی تاریخ میں ایسا ظالمانہ اورسفاکانہ تخت وتاراج کا حملہ بھی ہوسکتاہے؟ ایک اندازے کے مطابق جب بغداد شہر پر ہلاکو خان نے حملہ کیا تو اس نے دس لاکھ لوگوں کی جانیں لیں،شہر بغداد میں بیت الحکمہ نام سے ایک بہت بڑی لائبریری تھی جس کے اندر ہر علم وفنون پر نادر ونایاب کتابیں رکھی ہوئی تھیں،ہلاکو خان نے اس کتب خانے کو بھی جلا دیا،اس وقت زندہ بچ جانے والوں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا اورلکھنے والوں نے لکھا کہ کئی دنوں تک دریائے دجلہ کا پانی ان کتابوں کی سیاہی کی وجہ سے سیاہ اور لوگوں کے قتل عام کی وجہ سے سرخ ہوگیا تھا،پورے شہر میں خون کی ندیاں بہہ پڑی تھی،تاحدنگاہ لاشوں کا ڈھیر جماپڑا تھا۔اللہ اکبر کبیرا۔دیکھا اور سنا آپ نے کہ اس اختلاف وانتشار نے کس طرح سے ہنستے اوربستے شہر کو ملیامیٹ کردیا، اوریہی انجام اوریہی حشر ہرزمانے کے ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جو اختلاف وانتشار کے شکار ہوں گے یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام نے ہمیں اس اختلاف سے سختی سے روکا اورٹوکاہے اور ہمیشہ اتحادواتفاق کے ساتھ رہنے کی تلقین کی ہے۔

میرے دوستو!یہ تو پرانی بات ہے مگر کیاآپ نے سنا نہیں کہ اسی آپسی اختلاف وانتشار کی وجہ سے ہی تو ہمارے شہر(آدونی۔ضلع کرنول۔آندھراپردیش) کی چارسوسالہ تاریخی قدیم شاہی جامع مسجد اب وقف بورڈ کے قبضے میں جانے والی ہے،اس کا سبب کیا ہے؟یہی تو ہے کہ اس شاہی جامع مسجد کو لے کر مسلمان دو گروہ میں منقسم ہوچکے ہیں،ایک گروہ کہہ رہاہے کہ میں اس کاحاکم بنوں گا تو دوسرا گروہ کہہ رہاہے کہ میں حاکم بنوں گا،ہرگروہ کا فرد جامع مسجد کا متولی بننے کاخواہاں اورمتمنی ہے کیونکہ اس کی اربوں اورکھربوں کی جائداد ہے۔اعاذنا اللہ۔اب جب کہ مسلمانوں کے دوگروہ اس پررسہ کشی کرنے لگے ہیں توایسامحسوس ہورہاہے اور بہت ممکن ہے کہ مسلمانوں کے دوگروہ کی آپسی رسہ کشی کی وجہ سے یہ قیمتی سرمایہ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھین لی جائے گی اوریہ جگہ اور اس کی ساری کمائی وقف بورڈ کو حاصل ہوجائے گی،بس آپ دیکھتے جائیے کہ آگے ہوتاہے کیا کیا؟؟

برادران اسلام!سماج ومعاشرے اندر دیکھا یہ جاتاہے کہ لوگ بڑے ہی ذوق وشوق سے اختلاف وانتشار کو یہ کہتے ہوئے ہوا دیتے ہیں کہ ہم کیاکرسکتے ہیں !بس یہی اللہ کی مرضی ہے!جو ہوتاہے سب اللہ کی مرضی سے ہوتاہے،واہ رے واہ!کرتے خود ہیں اور یہ کہہ کراپنا پلوجھاڑلیتے ہیں کہ ہم کیا کرسکتے ہیں بس یہی خدا کی مرضی ہے تو جولوگ بھی اللہ کی مرضی کے بہانے اختلاف وانتشار کو ہوا دیتے ہیں تو ایسے لوگوں کو میں تاریخ بغداد سے ایک عبرتناک واقعہ سنا ناچاہتاہوں کہ جب بھی کوئی قوم اختلاف وانتشار میں مست و مگن ہوجاتی ہےاورمصیبت آنے پر یہ کہتی ہے کہ یہ تو اللہ کی مرضی ہے،یہ تو ہونا ہی تھا،تو ایسے لوگوں اور ایسی قوم کا انجام کیا ہوتاہے،واقعہ کچھ یوں ہےکہ جب ہلاکوخان نےبغداد شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو اس وقت کے سب سے آخری عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کوجو کہ ہلاکو خان کی قید میں تھا،خلیفہ کوکئی دن بھوکا رکھنے کے بعدہلاکو خان کے روبروحاضر کیا گیا،جب وہ خلیفہ مستعصم باللہ ہلاکو خان کے دربار میں حاضرہوا تو ان کے سامنے میں ایک ایسا دسترخوان لایاگیا جو اوپر سے ڈھکاہوا تھا،تین چاردن کابھوکا خلیفہ بے تحاشااس دسترخوان کی طرف لپکااور جب اس دسترخوان پررکھے ہوئے پردےکو ہٹایاتو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس برتن میں کھانے کے بجائے ہیرے اور جواہرات رکھے ہوئے ہیں،ہلاکو خان نے خلیفہ سے کہا کہ کھاؤ،خلیفہ نے کہا کہ بھلاہیرے وجواہرات بھی کوئی کھاتاہے؟تو ہلاکوخان نے خلیفہ سے کہا کہ اگر تم ان ہیرے وجواہرات سے اپنے سپاہیوں کے لئے تلواریں اورتیربنالیتے تو میں دریا عبور نہ کرپاتا تھا اور آج تم اس طرح سے ذلیل ورسوا نہ ہوتے تھے،خلیفہ مستعصم باللہ نے کہا کہ اللہ کی یہی مرضی تھی،تو ہلاکو خان نے کہا کہ اچھا!تو اب میں جو تمہارے ساتھ کرنے جارہاہوں یہ بھی اللہ کی مرضی ہے،پھر اس نے خلیفہ کو ایک موٹے چادر وکپڑے میں لپیٹ کر اس کے اوپر گھوڑے دوڑادئے تاکہ زمین کے اوپر اس کا خون نہ بہے۔(اورایسا اس نے اس لئے کیا تھا کہ ان کے یہاں پربادشاہوں کا خون زمین پر گرنے سے بدشگونی لی جاتی تھی)۔(بی بی سی اردونیوز۔10/فروری 2018)

برادران اسلام!ابھی آپ نے اس اختلاف وانتشارکی ہلاکت وبربادی کے کچھ عبرتناک پہلوکو سنا ،جس سے آپ نے یہ اندازہ ضرورلگالیاہوگا کہ یہ اختلاف وانتشار قوم وملت کے حق میں کتنا زہر قاتل اورسم قاتل ہےکہ اختلاف وانتشار سے قوم وملت حاکم سے محکوم،راجہ سے پرجہ بن جاتی ہے اوران کی شرف و عزت ،ذلت ورسوائی میں تبدیل ہوجاتی ہے ،اب آئیے میں آپ کو اس اختلاف وانتشار کے پانچ خطرناک پہلو اوراس کے جان لیوا نقصانات کو واضح کردیتاہوں تاکہ ہم ہندوستانی مسلمان کچھ عقل سے کام لیتے ہوئے اس سے بچنے کی کوشش کریں:

(1)اختلاف کے اندر ہلاکت وبربادی ہے:

جی ہاں میرے دوستو!آپ نے بالکل ہی صحیح سنا کہ اختلاف کے اندر سوائے ہلاکت وبربادی کے اور کچھ نہیں ہے ،یہی وجہ ہے کہ محسن انسانیت جناب محمدعربیﷺ نے ہم کواورآپ کو باربار اس بات کی تلقین کی کہ اے میری امت کے لوگوں کبھی اختلاف نہ کرنا کیونکہ تم سے پہلے والے لوگ اسی اختلاف وانتشار کی وجہ سے ہی ہلاک وبرباد ہوئے جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے ببانگ دہل یہ اعلان کردیا ہے کہ اے لوگو! ’’ لاَ تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَهَلَكُوا ‘‘اختلاف نہ کیا کرو کیونکہ جب تم سے پہلے والے لوگوں نے اختلاف کیا تو وہ لوگ ہلاک وبرباد ہوگئے۔(بخاری:2410)سناآپ نے کہ جناب محمدعربیﷺ نے اپنے فرمان کے ذریعے اپنی امت کو بار بار اس بات کی تلقین کی کہ اے میری امت کے لوگوں اختلاف وانتشار سے ہمیشہ بچنا ورنہ تم ہلاک وبرباد ہوجاؤگے،اورآج یہی تو ہورہاہے کیاآپ دیکھتے نہیں کہ سماج ومعاشرے میں جس خاندان وقبیلے میں اختلاف پیداہوجاتاہے تو اس خاندان وقبیلے کی ساری عزت و دولت ملیامیٹ ہوجاتی ہیں،کیا آپ دیکھتے نہیں کہ سماج ومعاشرے کے اندر کتنے ایسے خاندان اورکتنے ایسے بھائی ہیں جن کو اس اختلاف وانتشار نےمفلوک الحال بناکرسڑکوں پر لاکھڑا کردیا، اور نہ جانےاس اختلاف وانتشار کے چکر میں کتنے خاندان کے خاندان تباہ وبرباد ہوگئے،اورتواور ہےکیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ ادھر مسلمان آپسی اختلاف وانتشار میں الجھے ہوئے ہیں اور ادھر ایوانوں میں مسلمانوں کی ہلاکت وبربادی کے مشورے ہورہے ہیں ، اورمسلمانوں کے مالوں اوراراضی پر قبضہ جمانے کے لئے نئے نئے قانون بنائے جارہے ہیں مگر مسلمانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ الامان والحفیظ۔

(2)اختلاف رحمت نہیں زحمت ہے:

میرے دوستو!آپ نے یہ جملہ بارہاسنا ہوگا کہ اختلاف رحمت ہے،کائنات کے رب کی قسم!یہ سراسر جھوٹ ہے،اختلاف رحمت نہیں زحمت ہے،اختلاف رحمت نہیں عذاب ہے،اختلاف رحمت نہیں بلکہ اختلاف میں تو ہلاکت وبربادی ہے،ذرا سوچئے کہ جب خود اللہ رب العزت نے باربارامت مسلمہ کو اختلاف سے بچنے کی تاکید کی ہے اورخود جناب محمدعربیﷺ نے بھی اس بات کی جانکاری دی ہے کہ اختلاف میں ہلاکت وبربادی ہے تو پھر یہ اختلاف رحمت کیسے ہوجائے گا؟مجھے تو بڑی حیرت ہوتی ہے کہ قرآن وحدیث میں اختلاف کی اتنی شدید مذمت کی گئی ہے مگر اختلاف کے دلدادہ لوگ اس بات کو حدیث سمجھ کر لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اوربڑے زوروشور سے کہتے ہیں کہ اختلاف رحمت ہے!اوریہ جھوٹی حدیث سناتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ اختلاف أمتي رحمة ‘‘ میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔(الضعیفہ:57)یاد رکھ لیجئے کہ اس بارے میں جو حدیث کوپیش کی جاتی ہے وہ موضوع ومن گھڑت روایت ہے،علامہ البانیؒ نے کہا کہ ’’ لا أصل له ‘‘ اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے،یعنی کہ یہ موضوع روایت ہے۔ (الضعیفہ:57)جب یہ حدیث موضوع ہے تواس بات کو نبیﷺ کی طرف منسوب کرنایہ سراسر جھوٹ ہے،اورذرا سوچئے کہ یہ اختلاف رحمت کیسے ہوسکتاہے؟جب کہ اسی اختلاف سے سماج ومعاشرے کے اندر لڑائی وجھگڑے اور قتل وغارت گری،ظلم وزیادتی اور فسادپیداہوتاہے،اوراس بات میں کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے کہ اسی اختلاف نے آج امت مسلمہ کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کو جان ومال کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔الامان والحفیظ۔

(3)اختلاف سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں:

جی ہاں میرے دوستو!آپ نے بالکل ہی صحیح سنا کہ اختلاف سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں اورانسان بہت ساری خیروبھلائی سے محروم کردیاجاتاہے،اگرآپ کو میری باتوں پر یقین نہ ہورہاہو تو آئیے سب سے پہلے ایک ایسی حدیث سنتے ہیں جس کے اندر ایک ایسی بات کا تذکرہ ہے کہ آپسی اختلاف نے امت مسلمہ کوتاقیامت ایک بہت بڑی نعمت سےمحروم کردیا جیسا کہ سيدناعبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَ النَّاسَ بِلَيْلَةِ القَدْرِ ‘‘ آپﷺ لوگوں کو شب قدر کی بشارت دینے کے لئے حجرے سے باہر تشریف لائے ،لیکن ’’ فَتَلاَحَى رَجُلاَنِ مِنَ المُسْلِمِينَ ‘‘ عین اسی وقت مسلمانوں کے دوآدمی آپس میں کسی بات پر لڑتے وجھگڑتے نظرآئے، توآپ ﷺ نے فرمایا کہ’’خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ ‘‘ میں تمہیں شب قدر کے بارے میں بتانے نکلا ہی تھا کہ ’’ فَتَلاَحَى فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ ‘‘ دوآدمی فلاں اورفلاں آپس میں لڑتے وجھگڑتے نظرآئے اور’’ وَإِنَّهَا رُفِعَتْ ‘‘ وہ چیز میرے علم سے اٹھالی گئی ’’ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ ‘‘ ممکن ہے کہ یہی تمہارے لئے بہتر ہو،اس لئے’’ فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ، وَالسَّابِعَةِ، وَالخَامِسَةِ ‘‘ اب تم اس شب قدر کو 29/اور27/اور25/رمضان کی راتوں میں تلاش کیا کرو۔(بخاری:6049)سنا آپ نے آپسی اختلاف وانتشار اورلڑائی وجھگڑا نے شب قدر کی تعیین کا فیصلہ اٹھالیا گیاتو پتہ یہ چلا کہ جب جب لوگ آپسی اختلاف وانتشار میں مبتلاہوں گے تو ان سے کئی طرح کی نعمتیں چھین لی جائیں گی،آج یہ وقف جائیدادیں جوہم سے چھینی جارہی ہیں یہ صرف اور صرف ہم ہندوستانی مسلمانوں کے آپسی اختلاف وانتشار کا نتیجہ ہے ورنہ کسی کی کیا مجال کہ وہ مسلمانوں کے املاک پر قبضہ جمابیٹھے۔ اس لئے اے ہندی مسلمانو!اب بھی وقت ہے،جاگو،ہوش میں آؤ!اگر تمہیں اپنے دین اوراپنی آل واولاد اوراپنی قوم کو ہلاکت وبربادی سے بچانا ہے ،اوراگر اپنے ملک میں عزت وشان سے رہنا ہےتوآپسی مسلکی اختلاف وانتشار کو بالائے طاق رکھ کر ایک ہوجاؤاور یاد رکھ لوکہ!

ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں

ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے​

(4)اختلاف سے بزدلی آتی ہے:

جی ہاں میرے دوستو!آپ نے بالکل صحیح سنا کہ اختلاف وانتشار سے بزدلی آتی ہے،جس کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ دشمن دلیر بن جاتاہے،اورتاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جب کبھی بھی کسی قوم کے اندر بزدلی آجاتی ہے تو اس قوم کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی جاتی ہے اور ان کے اموال کو غصب کرلئے جاتے ہیں اوران کی بہوبیٹیوں کی عزتوں کی بازاروں میں نیلامی کی جاتی ہے،اورآج ایسا ہی کچھ توجگہ جگہ پر پوری امت مسلمہ کےساتھ ہورہاہے کہ ہرجگہ پر مسلمان آلو اورگاجر کی طرح کاٹے جارہے ہیں،جگہ جگہ پر مسلمانوں کی موب لنچنگ ہورہی ہے،مسلمانوں کی بہو اوربیٹیوں کی عزتوں کو سرعام لوٹاجارہاہے مگر یہ قوم محوتماشا کسی کرشمے کا منتظرہے،ان کے اندر اتنی بھی سکت نہیں ہے کہ وہ اپنے اوپرکئے جانے والے ظلم وزیادتی کے خلاف آواز اٹھائے اورقانونی چارہ جوئی کرے،اوریہ سکت آئے بھی کیسے جب کہ امت مسلمہ کو اسی اختلاف وانتشار نے پہلے سے ہی بزدل بنادیا ہے،غالباً موجودہ دور ہی کی عکاسی کرتے ہوئے رب العزت نے برسوں پہلے اپنے کلام پاک میں یہ اعلان کردیا تھا کہ اے مسلمانوں سن لو!’’ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ‘‘اوراللہ اوراس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو،آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہوجاؤگے اورتمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو،یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (الانفال:46)سنا آپ نے کہ اللہ رب العزت نے اس اختلاف سے بچنے کا کتنا تاکیدی حکم دیا ہے اور اس کا نقصان بھی عیاں کردیا ہے کہ اے مسلمانو!یاد رکھ لو! اگر تم اختلاف وانتشار میں پڑوگے تو پھر اس روئے زمین پر تمہاری حیثیت ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگی گرچہ تم اربوں اور کھربوں کی تعداد میں ہی کیوں نہ ہو،اور آج ایسا ہی کچھ منظرتو ہمارے آنکھوں کے سامنے میں ہے،مجھے کہنے دیں کہ آج امت مسلمہ کے اسی اختلاف وانتشار نے ہی یہودیوں کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ فسلطینی قوم اور فلسطینی بچوں کے خون سے ہولی کھیلیں،ورنہ ان کی کیا مجال کہ وہ مسلمانوں کو آنکھ تک دکھا سکیں ،ان یہودیوں کواور ساری دنیا کو بھی یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہوچکی ہے کہ اختلاف وانتشار نے امت مسلمہ کو ایک زندہ لاش کی طرح بنا دیا ہے ،کوئی انہیں کچھ بھی کرلے اب یہ اور اس کی قوم کچھ آواز اٹھانے والی نہیں ہے،انہیں یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہوچکی ہےکہ امت مسلمہ اب مکمل طور پر ذہنی غلام بن چکی ہے اس لئے ہم ان کے ساتھ جو چاہیں کریں ؟اسی بات پر مجھے مسجد بیت المقدس کا ایک واقعہ یاد آرہاہےجو میں نے کبھی سوشل میڈیا پرپڑھا اوردیکھا تھا کہ اسرائیل کی سابقہ وزیر اعظم گولڈا میئر نے کہا تھا کہ میری زندگی کا سب سے برا اور خوشگوار دن وہ تھا جب میں نے مسجد اقصی کو آگ میں جلتے دیکھاتھا،جب اس سے وجہ پوچھی گئی تو کہنے لگی کہ برا دن اس لئے کہ جس دن میں نے مسجد اقصی جلائی تھی تو میں ساری رات سو نہ سکی کہ کہیں صبح عالم اسلام ہم پر حملہ نہ کردےکیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو پھر اسرائیل کا وجود مٹ جائے گا،اور خوشگوار اس لئے کہ ساری رات گذرگئی اوراگلے دن کابھی سورج نکلااورمیں نے مسجد اقصی کے جلانے پر مسلمانوں کا رد عمل دیکھا کہ مسلم حکمرانوں میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ سب اسرائیل پر حملہ کرتےبلکہ وہ لوگ تو خود اپنی عوام کو جنگ سے ڈرانے اورروکنے میں خود ہی پیش پیش تھے،یہ سب دیکھ کر میں مطمئن ہوگئی کہ اب اسرائیل حدود عرب میں محفوظ ہے اورہمیں امت مسلمہ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔اللہ اکبر کبیرا۔۔سناآپ نے کہ یہ یہودیہ عورت ہم مسلمانوں کے بارے میں کیا کہہ رہی ہے؟اوریقیناً اس وقت اگر امت مسلمہ کچھ بھی رد عمل ظاہرکرتی تھی تو آج فلسطینیوں کو یہ دن دیکھنے نہیں پڑتے تھے،مگر مسلمانوں کی آپسی اختلاف وانتشار نے دن بدن انہیں مضبوط اورمستحکم کردیا جس کا نتیجہ آج ہم اورآپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں معصوم بچے مارے جارہے ہیں،پورا غزہ شہر تباہ وبربادہوچکا ہے، لوگ بھوکے مررہے ہیں اورساری دنیا یہ منظر اپنے آنکھوں سے دیکھ رہی ہے مگر کوئی بھی بدبخت وملعون نتن یاہو کو منع کرنے اورروکنے سے قاصر وعاجزہے کیوں؟کیوں؟کیونکہ یہ مسلمانوں کا خون ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ارزاں ہے،اورہم مسلمانوں کے ساتھ بھی تو پچھلے چند سالوں سے ایسا ہی کچھ ہوتے چلا آرہاہےکہ نہ تو ہماری جانیں محفوظ ہیں ،نہ ہی ہماری عزتیں محفوظ ہیں اورنہ ہی اب ہماری عبادت گاہیں ،مسجد ومدرسےمحفوظ ہیں ،بخدا اس وقت ہم مسلمانوں کا ہمارے ر ب کے سوا کوئی نہیں جو ہماری مدد کرسکے اس لئے اے مسلمانوں صبروسہار رکھواوریقین جانو کہ اللہ کی مدد صبروسہار رکھنے والوں کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔

(5)اختلاف باعث موت ہے:

میرے دوستو!اس اختلاف سے جہاں ایک طرف نعمتیں چھین لی جاتی ہیں اور قوم وفرد میں اس سےبزدلی آتی ہے وہیں دوسری طرف اس اختلاف کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس اختلاف وانتشار سے قوم وملت کے لوگوں کا جانی ومالی نقصان بھی ہوتاہے،اس بات میں کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے کہ آج کل جو مسلمانوں کو مارا اورپیٹا جارہاہےاورمسلمانوں کے اموال واراضی غصب کئے جارہے ہیں تو اس کی ایک سب سے بڑی وجہ یہی مسلمانوں کا آپسی اختلاف وانتشار کے اندر مبتلاہونا ہے،کیاآپ نےغزوۂ احد کاوہ واقعہ سنا نہیں کہ آپﷺ نے میدان جنگ میں اپنے پیچھے جبل رماۃ پرپچاس تیراندازوں کو سخت تاکیدی حکم دیتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ اے میرے جاں نثاروں! شہسواروں کو تیرمار کرہم سے دور رکھو،وہ پیچھے سے ہم پر چڑھ نہ آئیں،ہم جیتیں یا ہاریں تم اپنی جگہ رہنا،تمہاری طرف سے ہم پر حملہ نہ ہونے پائے۔(الرحیق المختوم:ص:347)بعض روایتوں کے اندر ہے کہ آپﷺ نے انہیں یہ حکم دیا کہ ہماری پشت کی حفاظت کرنا،اگر دیکھو کہ ہم مارے جارہے ہیں پھر بھی تم ہماری مدد کو نہ آنا اوراگر دیکھو کہ ہم مال غنیمت سمیٹ رہے ہیں پھر بھی تم ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا۔(احمد،طبرانی بحوالہ الرحیق المختوم:ص348)اورصحیح بخاری کے الفاظ کے مطابق آپﷺ نے انہیں یہ نصیحت کی تھی کہ ’’ لاَ تَبْرَحُوا إِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ فَلاَ تَبْرَحُوا وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا فَلاَ تُعِينُونَا ‘‘ تم لوگ اپنی جگہ سے کسی بھی حال میں نہ ہٹنا ، اگر تم دیکھو کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں پھر بھی یہاں سے نہ ہٹنا ،اوراگر تم لوگ یہ دیکھو کہ ہم جنگ ہار چکے ہیں پھر بھی تم یہاں سے ٹس سے مس نہ ہونا ۔(بخاری:4043)اورمسند احمد کے الفاظ ہیں کہ آپﷺ نے ان پچاس تیراندازوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ إِنْ رَأَيْتُمُ الْعَدُوَّ وَرَأَيْتُمُ الطَّيْرَ تَخْطَفُنَا فَلَا تَبْرَحُوا ‘‘اگرتم لوگ یہ دیکھو کہ دشمن ہمیں ہلاک وبرباد کررہاہے اورچڑئے ہمیں اچک رہے ہیں پھر بھی تم لوگ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہونا۔ (احمد:18600)مگرہوا یہ کہ جب اس جنگ میں تقریباً آپ ﷺ اورصحابۂ کرام نے فتح حاصل کرلی تھی اوردشمنوں کو کھدیڑ کھدیڑ کر مارنے لگے تھے توجب یہ منظر ان پچاس تیراندازوں نے دیکھا کہ مشرکین مکہ تو اب اپنی جان بچانے کی فکر میں ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں اورتقریباً جنگ ختم ہوچکی ہےتو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ’’ عَلَيْكُمُ الْغَنَائِمَ‘‘ چلو مال غنیمت حاصل کرتے ہیں کیونکہ اب تو جنگ ختم ہوچکی ہے،جب ایسا ان کے امیر لشکر عبداللہ بن جبیر بن نعمان انصاری دوسی بدریؓ نے سنا تو انہیں آپﷺ کا یہ فرمان سناتے ہوئے یاد دلایا کہ ’’ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبْرَحُوا ‘‘ کیاتمہیں آپﷺ نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ تم لوگ یہاں سے کسی بھی صورت میں نہ ہٹنا۔(احمد:18600)مگر اس وقت ان کی بات سوائے چند افراد کےکسی نے بھی نہ مانی اوراپنے امیر لشکرسے اختلاف کرتے ہوئے اس مورچے کو خالی چھوڑ کرچلے گئے،پھرکیاتھادشمن تو پہلے سے ہی موقع کی تلاش میں تھا جب انہوں نےوہ جگہ خالی دیکھی تو پیچھے سے حملہ کردیا ،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آناًفاناً میں فتح شکست میں تبدیل ہوگئی،اس اچانک کے حملے سے صحابۂ کرام میں افراتفری مچ گئی،آپﷺ کا چہرۂ مبارک بھی زخمی ہوگیا،آپﷺ ایک گڑھے میں بھی گرگئےاورسب سے بڑانقصان تو یہ ہوا کہ 70/صحابۂ کرام بھی شہید ہوگئےاورجوجنگ آپﷺ اورصحابۂ کرامؓ جیت چکے تھے وہ فتح شکست میں تبدیل ہوگئی،ذرا سوچئے کہ یہ سب کیوں ہوا؟صرف اورصرف اسی وجہ سے کہ صحابۂ کرامؓ کے درمیان وہاں رکنے اورنہ رکنے کو لے کر اختلاف ہوگیا،کسی نے کہا کہ جنگ ختم ہوچکی ہے اورکسی نے کہا کہ جنگ کے ختم ہونے یا نہ ہونے سے ہمیں کچھ مطلب نہیں ہے کیونکہ ہمیں یہاں سے آپﷺ نے کسی بھی صورت میں ہٹنے سے منع کیا ہے،دیکھا اورسنا آپ نے کہ معمولی اختلاف سے فتح ،شکست میں اورخوشی ، غمی میں تبدیل ہوگئی،اسی لئےاے میرے بھائیو !اب بھی وقت ہے اگر تمہیں اپنی جان ومال کومحفوظ رکھنا ہے تو پھر ایک ہوکرہرطرح کے آپسی مسلکی اختلافات سے کنارہ کشی اختیارکرلو،ورنہ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں،ادھر تم آپسی مسلکی اختلافات میں الجھتے رہوگے اورادھرتمہاری جانیں جاتی رہیں گی،ادھر تم حنفی ،بریلوی،وہابی کرتے رہوگے اورادھر تمہارے اموال واراضی پر قبضہ ہوتارہے گا،ادھر تم ایک دوسرے کو مشرک وکافرثابت کرنے کے فراق میں رہوگے اورادھر تمہیں اپنے ملک سے ہی نہیں بلکہ تمام آئینی حقوق سے ہی دستبردار وبرطرف کرکے سکینڈ کلاس کا باسی وشہری قرار دے دیا جائےگا،پھرتمہارے ساتھ کیا ہوگا؟ ۔۔اللہ نہ کرے۔۔۔اللہ نہ کرے۔۔اللہ ہم سب مسلمانوں کے جان ومال کی حفاظت فرمائے۔آمین۔ وہی ہوگا جو اندلس وبغداد اوربرما میں مسلمانوں کے ساتھ ہوا تھا،ادھر تم سنی ،وہابی کرتے رہوگے اورادھر تمہاری بہوبیٹیوں کی عزتوں کی نیلامی ہوتی رہے گی،اے مسلمانو!اِدھر تم ایک دوسرے مسلک والوں کو نیچاگرانے اورایک دوسرے کو جہنم رسید کرنے کی فراق میں ہواوراُدھر تمہاری بیٹیوں کو عشق ومعاشقے کے نام پر مرتد بناکرجسم فروشی کے اڈوں پر فروخت کرنےیا پھر کسی اوربہانے سےقتل کردئے جانے کی مہم دن بدن تیز در تیز ہوتی جارہی ہے،اس لئے اے ہندی مسلمانوں !اب بھی وقت ہےجاگو،بیدارہوجاؤ اوراپنی اوراپنی قوم وملت کے جان ومال کی حفاظت کی خاطر متحد ہوجاؤ ورنہ یادرکھ لو کہ وہ نہ تو درگاہ چھوڑیں گے اورنہ ہی قبرستان،نہ دیوبندکامرکز اورنہ ہی بریلی کا مدرسہ،اورنہ ہی اہل حدیث کے مساجد ومدارس اورنہ ہی شیعوں کےامام باڑے،سب کی باری آئے گی،آج کوئی مسلک والے اس بات سے خوش نہ ہوں کہ جو غیرقانونی ہیں ان کا نقصان ہورہاہے،نہیں !نہیں!یہ تو ایک بہانہ ہے ورنہ سبھی نشانے پر ہیں بس اپنی باری کا انتظار کیجئے،آج ان کی باری تو کل ہماری باری ہوگی۔الامان والحفیظ۔



اب آخر میں اللہ رب العزت سے دعاگو ہوں کہ اے بارالہ تو ہم سب مسلمانوں کے جان ومال اور عزتوں کی حفاظت فرما۔آمین۔اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ۔





کتبہ

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

 
Top