• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بچے ، موبائیل اور والدین کی غفلت

شمولیت
جون 16، 2011
پیغامات
100
ری ایکشن اسکور
197
پوائنٹ
97
بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچے ، موبائیل اور والدین کی غفلت

✍ تحریر: شیر سلفی ✍

میں موضوع کو زیادہ لمبا چھوڑا نہیں لکھوں گا ۔ بلکہ کچھ نصیحتیں اور گزارشات رکھنا چاہتا ہوں۔ ہر آدمی کا اس حوالے سے اپنا اپنا زہن اور نظریہ ہوگا کہ آیا بچوں یا وہ لڑکے لڑکیاں جو ابھی بالغ ہو رہے ہیں یا ہو چکے ہیں ۔ ان کو موبائیل دینا چاہیے یا نہیں۔

لیکن مشاہدات یہ بتاتے ہیں کہ بچوں کو موبائیل ہرگز نہیں دینا چاہیے خصوصاً آج کل کے بڑی سکرین والے ٹچ موبائیل۔ وجہ یہ ہے کہ والدین تو اس لحاظ سے خود بہت غافل ہوتے ہیں کہ بچہ کیا دیکھ یا سن رہا ہے۔ لیکن بچے کی تربیت کو جو چیز آج سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہے وہ یہ موبائیل و ٹی وی ہی ہے اور والدین کا اس سے کلی طور پر غافل ہو جانا ہے۔

عزیز بھائیو اور بہنوں۔ یہ بچے ہمارا سرمایہ ہیں۔ اللہ نے ہمیں ان کا ذمہ دار بنایا ہے ان کے بارے میں ہم سے پوچھ گچھ ہوگی کہ ان کو کیا پڑھایا ، کیا سکھایا۔ کن چیزوں کو اہمیت دی۔ دین کو ان کے سامنے رکھا یا دنیا کو!!

اپنے گھر والوں کی فکر کریں کہ ہمارے بچے بہن بھائی سارا دن موبائیل استعمال کر رہے ہیں۔ تو کیا کر رہے ہیں کیا یہ اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں۔

خدارا اپنی نسلوں کو تباہ ہونے سے بچائیں، اور والدین یہ ہرگز نہ سوچیں کہ تباہ ہونے سے صرف مراد وقت ضائع ہونا یا کسی غیر اخلاقی سرگرمی میں پڑ جانا ہے ،نہیں بلکہ یہ فتنوں کا دور ہے۔ حدیث کے مطابق فتنے ہی فتنے ہیں۔ ہر طرف سے کفار و مشرکین اور ملحدین کا ایک طوفان چل پڑا ہے۔ اور ہماری نسلوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ ان کو سیکولرازم وغیرہ سکھایا جا رہا ہے۔

بچوں کو بے لگام چھوڑ کر نہ جانے کس طرح والدین ان سے اچھے اخلاق کی توقع رکھتے ہیں یا اس بات کی کہ وہ اب ہمارا خیال رکھیں گے۔ کیونکہ نہ والدین نے ان کو دین سکھایا۔ اور نہ ان کی تربیت کی۔

کچھ والدین اس غلط فہمی میں بھی رہتے ہیں کہ تربیت تو ہم کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک بچے کو اچھے کپڑے پہنانا، اچھا کھانا یا سکول بھیجنا تربیت ہے۔ نہیں دوستو ہرگز نہیں۔ تربیت اصل میں اس ماحول کا نام ہے جو آپ اپنے بچوں کو گھر میں دیتے ہیں۔ یعنی گھر میں لا کر ٹی وی رکھ دیا وہ جو چاہیں ڈرامے دیکھتے رہیں۔ یا بیہودہ کارٹون دیکھتے رہیں۔ اب آپ ان کی غلط تربیت کر رہے ہیں۔

اور اگر آپ نے گھر میں روزانہ ان کو بیٹھا کر نصیحت کی اور نماز ، اخلاق، وغیرہ کی پابندی کرائی تو اب آپ ان کی صحیح تربیت کر رہے ہیں۔

کم از کم روزانہ 15-20 منٹ اپنی اولاد کو دیں۔ ان کے ساتھ بیٹھیں۔ ان سے دینی باتیں کریں۔ اگر آپ کو کچھ نہیں آتا تو کوئی سیرت کی کتاب لے کر اس سے پڑھ کر اچھے واقعات سنائیں۔ پڑھنا بھی نہ آئے تو اپنی زندگی میں کی جانے والی غلطیوں سے آگاہ کریں کہ بچوں یہ کام تم کبھی نہ کرنا۔ ان کو نماز کی پابندی سکھائیں۔

پتا نہیں 10 روپے گم ہو جائیں یا ایک دن بچے سکول نہ جائیں تو والدین پورا گھر سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ کیا کبھی اسی طرح کی سختی دین کے بارے میں کی ہے!!!

بات موبائیل کی چل رہی تھی۔ تو یہ ایک ایسا ہتھیار یا کوئلہ ہے جو آپ کے بچے کو کسی بھی وقت تباہ کر سکتا ہے۔ میں اکثر مثال دیتا ہوں کہ انٹر نیٹ کی مثال ایک بازار کی ہے۔ جہاں آپ نے اپنے بچے یا بچی کو بے لگام چھوڑ دیا اور اب اس کی مرضی کہ کسی مسجد میں جا گھستا ہے یا کسی ویڈیو سنٹر یا سینما میں۔

بلکہ بازار میں چھوڑ دینا اتنا خطرناک نہیں جتنا خطرناک یہ انٹر نیٹ کا استعمال ہے۔

ہمارا یہ مشورہ ہے کہ بچے کو دینی تعلیم دی جائے اور 20-22 سال تک اسے موبائیل نہ دیا جائے۔ ہاں اگر کوئی شخص خود اس کا استعمال صحیح طرح جانتا ہے اور موبائیل پر سیکیورٹی وغیرہ لگا سکتا ہے تاکہ بچے کا استعمال کسی حد تک ہو اور خود والدین اس کو دیکھتے رہیں۔ تو پھر وہ الگ مسئلہ ہے۔

بچہ موبائیل پر جو کچھ دیکھتا اور سنتا ہے وہی اس کا زہنی ماحول بنتا رہتا ہے اور اس کا زہن انہی باتوں کو لے کر بچے کے خیالات و نظریات کو بناتا ہے۔ یعنی بچے کا زہن ، باتیں ، اخلاق و کردار جیسا ہوگا یہ ضرور اس نے ان چیزوں سے سیکھا ہوگا۔

کچھ دن پہلے ایک رشتہ دار کے چھوٹے 12-14 سال کے بچے کی آئی ڈی فیس بک پر دیکھی تو افسوس ہوا کہ (میری کرسمس یعنی کرسمس مبارک)جو کہ عیسائیوں کی عید ہے وہ اپنی تصویر کے ساتھ لگا کر بڑی خوشی سے شئیر کی ہیں۔ یعنی بچے کو پتا ہی نہیں کہ یہ کرسمس کیا چیز ہے لیکن دوسروں کی دیکھا دیکھی یہ کام کر رہا ہے۔

آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ کرسمس عیسائیوں کی عید ہے اور اس کو عیسائی میری کرسمس کہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اس دن اللہ نے نعوذ باللہ بیٹا جنا ۔ یعنی عیسی علیہ السلام کو اللہ نے جنا تھا ۔ نعوذباللہ

چونکہ یہ ان کا عقیدہ ہے کہ عیسی اللہ کا بیٹا ہے۔نعوذ باللہ

اسی طرح ایک دن ایک عالم دین کے پاس کسی کام کی غرض سے جانے کا اتفاق ہوا تو انہوں نے کہا کہ زرا میرے بیٹے کے موبائیل میں نیٹ صحیح نہیں چل رہا دیکھو کیا مسئلہ ہے۔ ہم نے تو کسی طرح نہ چاہتے ہوئی بھی حامی بھرلی ۔ موبائیل کو جب تھوڑا ٹٹولا تو توبہ توبہ۔ نظر سیدھی ایک ویڈیو پر پڑ گئی جو کہ ایک غیر اخلاقی ویڈیو کلپ تھا۔ میں نےجلدی سے موبائیل کسی بہانے ان کو دیا کہ اوپر کمپنی کی طرف سے نیٹ صحیح نہیں آ رہا۔

میں نے سوچا یہ صاحب بھی سوچتے ہونگے میرا بچہ بہت لائق ہے نیٹ پر خبریں اور معلومات ایک منٹ میں نکال لاتا ہے۔ خیر میں تو جلدی سے کوئی بہانہ کرکے وہاں سے چلتا بنا۔

دل میں درد محسوس ہوا کہ والدین کس طرح اپنے بچوں سے بے غم اور غفلت میں ہیں۔حالانکہ جب بازار سے سبزی وغیرہ لائی جاتی ہے تو بار بار والد محترم والدہ جان سے کہتے ہیں کہ ٹماٹر چیک کرو کہیں خراب تو نہیں ہوئے۔ حالانکہ سوچنے کی بات ہے کہ جب فریج اور ٹھنڈک کی جگہ پر ٹماٹر رکھ دئیے تو خراب کیسے ہونگے لیکن بڑوں نے بتایا کہ کچھ خراب ٹماٹر ان صحیح والوں کو بھی خراب کر دیتے ہیں۔ اس لیے خراب کو نکالنا پڑتا ہے۔اور بار بار دیکھنا پڑتا ہے۔

اب سوچنے کی بات ہے کہ اولاد تو ہمارا قیمتی سرمایہ ہے۔یہ تو ان سبزیوں اور دیگر چیزوں سے قیمتی ہیں۔ کیا ہم ان کے بارے میں اتنے غافل ہو گئے ہیں؟؟

❗ کہ ہم یہ نہ دیکھیں کہ یہ کیا کر رہے ہیں انہوں نے آج نماز پڑھی یا نہیں!!

❗ صبح نماز میں کہاں تھے؟؟

❗ آج تلاوت کی یا نہیں۔ وغیرہ وغیرہ

حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر آدمی اپنی رعیت کا مسؤول ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔(بخاری) یعنی گھر کے سربراہ سے گھر کے بارے میں ۔ حکمران سے ملک کے بارے میں پوچھا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔

خدارا بچوں کو یہ سوچ کر موبائیل نہ دیں کہ یہ کوئی اچھی چیز دیکھے گا یا چلو آج دے دیا ، اس نے کونسا ہر دن استعمال کرنا ہے۔ نہیں بلکہ اس سے بچے کے دل میں موبائیل کی محبت بیٹھے گی۔ اور وہ پھر آپ سے اسی کا مطالبہ کرئے گا۔

ہم نے آج تک ایسا بچہ بلکہ بڑا بھی کوئی نہیں دیکھا جو موبائیل بھی استعمال کرتا ہو اور اس کی نمازوں میں خشوع ہو۔ عاجزی ہو اطمینان ہو، وہ تلاوت یا مسجد میں دل لگاتا ہو۔ الا ماشاء اللہ

اس لیے بہتر ہے کہ 20-22 سال تک بچے کو دینی تعلیم کرائیں۔ پھر اسے موبائیل دیا جائے وہ بھی اپنے فرائض کی پابندی اور نگرانی کے ساتھ۔

بچوں کی تربیت کی حوالے سے کچھ اہم باتیں:

❗ * بچوں پر کڑی نظر رکھیں۔

❗* ان کے دوستوں کے بارے میں جانیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔اور بڑی عمر کے دوستوں کو بچوں کے ساتھ ہرگز نہ رہنے دیا جائے۔

❗* موبائیل ہرگز نہ دیں۔ اگر کسی ضرورت کی وجہ سے دیا بھی جائے تو کوشش کی جائے سادہ موبائیل ہو۔یا پھر نگرانی کے ساتھ۔

❗* نماز کی پابندی کا اہتمام۔ جب بھی ٹائم ہو فوراً بچوں کو ساتھ مسجد لے جایا جائے۔

❗*دن رات میں وقتاً فوقتاً بچوں کو حدیث ، کوئی واقعہ وغیرہ سنایا جائے اور ان کی اخلاقی تربیت پر زور دیا جائے۔

❗* اگر اشد ضرورت کے تحت ان کی تربیت بذریعہ موبائیل کرنی ہو جیسے اسلامی کتابیں پڑھانا وغیرہ تو خود اس کی نگرانی کی جائے۔ بغیر انٹرنیٹ کے موبائیل دیا جائے۔ دن یا رات میں کسی بھی وقت موبائیل چیک کیا جائے۔

❗* بچوں کو جلدی سونے کا عادی بنایا جائے۔ اور صبح جلدی اٹھنے کا۔

❗* بچوں کو روزانہ کوئی کام دیں ۔ مثلاً سورت یاد کرنا یا کوئی اور سیرت کا واقعہ سنا کر ان سے سنیں۔

⚠ تنبیہ!!!! ⚠

یہ یاد رکھیں کہ جب آپ اپنے بچوں سے اللہ کے دین کے بارے میں غافل ہو جاتے ہیں تو اللہ آپ کے بچوں کو آپ سے غافل کر دیتا ہے اور اولاد کی طرف سے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

*وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ (الشوری :30)

ترجمہ: تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے۔*

الداعی الی الخیر :

✍ شیر سلفی ✍

sher.salafe@gmail.com
 
Top