• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بھولا ہوا سجدہ، سلام کے بعد رکعت کی ادائیگی اور مقتدی کی متابعت کا مسئلہ

شمولیت
دسمبر 09، 2025
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
3
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اگر باجماعت نماز میں امام صاحب کسی ایک رکعت کا سجدہ بھول جائیں اور مقتدیوں میں سے کوئی تنبیہ نہ کرے، پھر امام کو سلام پھیرنے کے بعد یہ بات معلوم ہو کہ فلاں رکعت میں ایک سجدہ رہ گیا تھا، تو چونکہ سجدہ نماز کا رکن ہے اور رکن چھوڑنے سے رکعت درست نہیں ہوتی, اس لیے امام کو وہ پوری رکعت دوبارہ لوٹانا ضروری ہوتا ہے۔ چنانچہ سلام پھرنے کے بعد امام کھڑے ہو کر وہ رہ گئی رکعت مکمل کرے گا۔

اس موقع پر دو طرح کے مقتدی موجود ہوتے ہیں:

ایک وہ جن کی نماز امام کے ساتھ مکمل ہو چکی ہو

دوسرا وہ جن کی ایک یا زیادہ رکعتیں ابھی باقی ہے

اب میرا سوال یہ ہے کہ

جب امام وہ رہ گئی رکعت لوٹائے گا تو وہ مقتدی جس کی اپنی رکعتیں باقی تھیں, کیا وہ بھی امام کے ساتھ دوبارہ کھڑا ہو کر اپنی نماز اسی کے ساتھ مکمل کرے؟

یا ایسے مقتدی کے لیے حکم یہ ہوگا کہ وہ امام کے ساتھ شامل نہ ہو اور اپنی باقی رکعتیں الگ ہی مکمل کرے؟

اس صورتِ حال میں سجدہ سهو کی حیثیت اور طریقۂ ادا کیا ہوگا؟
کیا صرف امام پر ہوگا یا وہ مقتدی بھی شریک شمار ہوگا جس کی رکعت رہ گی ہے؟

اگر مقتدی امام کے ساتھ شامل ہو جائے تو اس کی اپنی باقی رکعتوں کا طریقہ و حکم کیا ہوگا؟


اور اگر ایسا ہو کہ جس مقتدی کی ایک رکعت رہ گئی تھی،
وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی رہ گئی رکعت کے رکوع میں چلا جائے،
اور اسی دوران امام کو یاد آ جائے کہ ایک سجدہ رہ گیا تھا،
تو اب جب امام کھڑا ہو کر رہ گئی رکعت مکمل کرے گا،
تو کیا ایسی صورت میں بھی وہ مقتدی امام کے ساتھ دوبارہ ملے گا؟

اور اگر مقتدی اپنی نماز تنہا پڑھے گا تو کیا اسے جماعت کا ثواب ملے گا؟

جزاکم اللہ خیراً و أحسن الجزاء
 
Top