اور ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ کسی آدمی کا اپنا نقل کیا ہوا واقعہ ہے ،ڈائریکٹ کسی دیوبندی یا تبلیغی کی کتاب سے ثابت شدہ بات نہیں ہے۔لہذا بغیر تحقیق اس قسم کی باتیں لکھنے سے گریز کریں،یہ قرآن کریم کی توہین ہے۔ہمارا دیوبند سے اختلاف اپنی جگہ لیکن بات ثبوت کے ساتھ ہونی چاہیے۔
ارسلان بھائی ما شا ء اللہ آپ نے بہت اچھی اصلاحی باتیں کی ہیں۔جزاک اللہ خیرا
لیکن پیارے بات یہ ہے کہ جب کوئی اپنے آپ کو یا اپنی جماعت کو آیئڈئل بنا کر دوسروں کے سامنے پیش کرے۔اور خود اُن کی اپنی حالت ایسی ہو تو تکلیف تو پہنچے گی نا۔؟
مجھے یا د ہے آج سے کم و بیش ١٠ سال پہلے ہمارے گھر کے سامنے والی مسجد میں جب جماعت آئی تو اُس میں ایک بزرگ جن کا تعلق کوئٹہ سے تھا۔جب میں نے اُن سے یہ کہا کہ بابا جی ہمیں آپ کی تبلیغی سرگرمیوں سے کوئی اعتراض نہیں صرف اتنی گزارش ہے کہ جو فضائل اعمال میں ضعیف احادیث شامل کی گئی ہیں۔اُن کی بجائے اگر صحیح احادیث شامل ہو جایئں توسونے پہ سہاگہ۔اوراگر خالص قرآن و حدیث ہی سنا دیا جائے تو کیا حرج ہے؟
بزرگ کہنے لگا۔یہ جو آپ قرآن و حدیث کی رٹ لگائے رکھتے ہو۔یہ تو فتنہ ہے۔(نعوز با اللہ من زالک) کیونکہ آجکل ہر شخص نے اپنی اپنی حدیثیں گھڑ رکھیں ہیں۔
اب بتایئں بھائی کیا ایسے لوگوں کا پردہ چاک نہ کیا جائے۔؟