• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تحریک اور اشارہ

ahmed

رکن
شمولیت
جنوری 01، 2012
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
33
پوائنٹ
38
ابوالمحبوب سید انورشاہ راشدی حفظہ اللہ
قسط:۲
البشارۃ فی ان المراد بالتحریک ھو الاشارۃ
امام بہیقی رحمتہ اللہ علیہ سنن کبری میں زائدہ کی اس روایت کو ذکرکرنےکے بعد فرماتے ہیں:
فیحتمل أن یکون المراد بالتحریک الا شارۃ بھا لاتکریرتحریکھا فیکون موافقا لروایة ابن زبیر
یعنی تحریک سےمراد اس (انگلی)سےصرف اشارہ کرنا ہے،بارباراسکوحرکت دینا مراد نہیں،اس اعتبارسےیہ روایت ابن الزبیررضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کے موافق ہوجاتی ہے۔ (۱۳۲/۳)
امام بہیقی رحمتہ اللہ علیہ کےاس بیان سے تین باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
(1) ان کےنزدیک محمدبن عجلان کی روایت (ولایحرکھا کی زیادتی کےساتھ صحیح ہے،اسی لئےزائدہ والی روایت کو ابن عجلان والی روایت کے (مفہوم کےاعتبار سے) موافق کرنےکی کوشش کررہے ہیں۔
(2) انہوں نے یہاں جو مفہوم زائدہ کی روایت کاابن عجلان کی روایت کے موافق لیا ہےوہ بغیر کسی وجہ کے نہیں لیا،بلکہ اس کے پیچھے پوری ایک بحث ہے( جسکا آگے ان شاءاللہ آگےذکرآرہاہے) اس بحث کو مدنظررکھتےہوۓ انھوں نے یہ بات فرمائی۔
(3) انہوں نے زائدہ کی روایت کے زیربحث ان الفاظ (ثم رفع اصبعه فرأیته یحرکھا یدعوبھا) سے صرف ایک بار حرکت دینا مراد لیا ہےجس (حرکت) سے سبابہ بلند ہوجاتی ہے اور اسکےبلند ہونےسے اشارہ ہوجاتاہے،اس لحاط سےیہ روایت گویا محمد بن عجلان کی روایت کےعین موافق ہوگئی۔عصرحاضرکےجیدعالم مولانا ابوالحسن مبشر احمدربانی حفظہ اللہ احکام مسائل میں الفاظ "ثم رفع اصبعه ۔۔۔۔" کاترجمہ کرتے ہوۓ فرماتے ہیں:پھرنبی ﷺ نے اپنی انگلی کو اٹھایا اورمیں نےدیکھاکہ آپ ﷺ اسےحرکت دیتےرہےاوردعاکرتےرہے (۲۹۲۸) انتہائی معذرت سےعرض کرتاہوں کہ مذکورہ الفاظ کا یہ ترجمہ صحیح نہیں ۔بلکہ صحیح ترجمہ یہ ہے۔پھربلندکیا آپ ﷺ نےاپنی انگلی کوپس میں نے آپکواپنی انگلی کو حرکت دیتے ہوۓ دیکھا جس سے دعاکررہےتھے۔
اس ترجمہ کوبغوردیکھاجاۓ تومعلوم ہوگا کہ اس سے استمرار التحریک ثابت نہیں ہوتا،بلکہ ایک بار حرکت دینا ثابت ہو رہاہےباربار حرکت دینا نہیں،اسلئے کہ "فرأیته"میں حرف فاء تفسیر یہ ہے، اوراس فاء کامقصد صرف یہ ہےکہ وہ اپنے ماقبل لفظ یا جملہ کی وضاحت کرتی ہےیعنی وہ لفظ یا جملہ مجمل ہوتا ہےتو اسکی وضاحت کیلئے فاء تفسیر یہ لائی جاتی ہےجس سے پہلےلفظ یا جملہ کی پوری وضاحت ہو جاتی ہے۔
معزز قارئین کیلئے اس فاء تفسیریہ کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں تاکہ زیر بحث الفاظ کو سمجھنے میں آسانی رہے۔
سورہ ھود میں اللہ تعالی فرماتا ہے: ونادی نوح ربه فقال رب ان ابنی من اھلی وان و عدل الحق وانت احکم الحاکمین
اس کا ترجمہ یہ ہےکہ اور پکارا نوح علیہ السّلام نے اپنےرب کو پس کہا اے میرے پروردگار بیشک میرا بیٹا میرےہی اہل میں سے ہے اور یقیناً تیرا وعدہ سچاہےاور توبادشاہوں کا بادشاہ ہے۔
اس آیت مبارکہ میں "ونادی نوح ربه" مجمل جملہ فقال رب ان ابنی من اھلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تفسیر ہے کہ نوح علیہ السّلام نے کیا آواز لگائی؟ یعنی اس نداء کی وضاحت ہے، اسطرح یہ بات واضح ہو جاتی ہےکہ نوح علیہ السّلام اپنےرب کو پکارکر اس کے کیے ہوۓ وعدہ کی یاددہانی کرا رہےتھے۔
خلاصہ کلام یہ کہ "ونادی۔۔۔۔۔۔۔" کےبعد فقال فاء تفسیریہ ہے اسکو ذکری اور تفصیلی بھی کہتےہیں۔
اوراگر اس آیت کاترجمہ اسطرح کیا جاۓاور پکارا نوح علیہ السّلام نے اپنےرب کو پھرکہا، تواسطرح یہ دو جملےہوجاتےہیں اورپھر اس میں یہ بات پوشیدہ رہ جاتی ہےکہ ونادی نوح میں انہوں نے اللہ تعالی کوکیا آواز لگائی؟ تو اس لحاظ سےیہ جملہ مجمل ہی رہ جاتاہے۔
دوسری مثال ملاحظہ فرمائیں
سورۂ اعراف میں اللہ تعالی فرماتا ہے: وکم من قریة أھلکنھا فجاءھابأسنا بیاتا وھم نائمون
ترجمہ یہ ہے: اورکتنی ہی بستیوں کوہم نے ہلاک کیا پس ہمارا عذاب اچانک آیا وہ سو رہے تھے۔
پہلےجملہ میں بستیوں کی مطلق ہلاکت کی خبرہےاوردوسرے جملہ میں اسکی وضاحت ہورہی ہےکہ ان بستیوں کوکس طرح تباہ وبرباد کیا گیا۔
اگراس آیت میں فاءتفسیریہ کا انکارکیا جاۓ تو اس کا ترجمہ اس طرح ہوگا اورکتنی ہی بستیوں کوہم نے ہلاک کیا پھرہمارا عذاب اچانک آیا وہ (لوگ) نیندمیں سو رہےتھے۔
اس ترجمہ سےیہ مطلب نکل رہا ہےکہ ان بستیوں کو پہلےہلاک وبرباد کیا گیا تھا پھراس کے بعد اللہ تعالی کا ان بستیوں پر عذاب نازل ہوا۔
اب ان بستیوں کوبرباد کرنےکےبعد ان پرعذاب آناکوئی معنی نہیں رکھتا، دوسری بات یہ کہ یہ بستیاں جب برباد ہوگئیں تو لوگوں کا نیند میں سونا بعیداز عقل ہے،لہذا یہ بات ماننا پڑےگی،یہاں بھی فاء تفسیریہ ہے جو اپنےماقبل جملہ کی وضاحت کررہی ہے۔اس طرح ترجمہ صحیح ہو جاتا ہے۔
تنبیہ: یہ بات ذہن میں رہےکہ مجمل لفظ یا جملہ کی تفسیر اس طرح کی جاتی ہے کہ اس (مجمل لفظ یامجمل جملہ) کےمعنی میں تفسیر کرتے وقت فرق نہ آۓ۔
اسی طرح تیسری مثال ملاحظہ فرمائیں
اللہ تعالی سورۂ نساء میں فرماتا ہے: فقدسألواموسی اکبرمن ذلك فقالواأرنااللہ جھرۃ
ترجمہ یہ ہے:انہوں (بنی اسرائیل) نےموسی علیہ السّلام سےاس سے بھی بڑی بات کاسوال کیا، اور دوسرےجملہ میں اس کی وضاحت ہو رہی ہےکہ وہ بڑی چیزاللہ تعالی کو ظاہر ظہوردیکھنےکا سوال ہے۔
اوراگر اس آیت کا ترجمہ یہ کیا جاۓ کہ انہوں نے موسی علیہ السّلام سے اس سے بھی بڑی بات کا سوال کیا، پھر انہوں نے کہا..........الخ
اس طرح ترجمہ کرنےسےلگتا ہے کہ بنی اسرائیل نےموسی علیہ السّلام سے دو بڑی باتوں کا سوال کیا،ایک "اکبرمن ذلك" دوسری " فقالواأرنااللہ جھرۃ " اور پہلے سوال کا علم نہیں کہ انہوں نےکیا سوال کیا؟
حالانکہ یہ بات قطعاً صحیح نہیں،بات بالکل واضح ہے۔
بہرکیف بات کو مختصرکرتے ہوۓ ہم زیربحث الفاظ کی طرف آتے ہیں کہ "فرأیته یحرکھا" میں فاء تفسیریہ ہےجو "ثم رفع" کی تفسیر(وضاحت) کررہی ہے، اب رفع کی تفسیرکیسی ہونی چاہیے۔رفع کامعنی ہےکہ آپ نے بلندکیا،اب بلند ایک مرتبہ حرکت دینے سےہوتا ہےیا باربار حرکت دینےسے،پہلےیہ بیان کیا جاچکا ہےکہ مجمل کی جس وقت تفسیر کی جا رہی ہوتویہ بات ذہن میں رہےکہ معنی میں کوئی فرق نہ آۓ،اگر اس کی تفسیر ہم بار بار حرکت دینا کریں گے تو یہ رفع کی تفسیر نہیں۔
دراصل اس روایت میں راوی مہلےمجمل لفظ لاتا ہے، پھر اسکی تفسیرکرتا ہے، جیسےتشہد میں بیٹھنے کی کیفیت کو بیان کرتا ہے،تو پہلے " ثم قعد" کالفظ کہتا ہےپھر بیٹھے آپ ﷺ ؟ آپ کس طرح بیٹھے؟ تو اس کی تفسیر کیلئے یہ جملہ " فافترش رجله الیسری....الخ" بیان کیا، یعنی بیٹھنے کی کیفیت یہ ہےکہ پس آپ ﷺ نے اپنا پاؤں بچھایا .....الخ
اگرکہا جاۓ اس میں فاء تفسیریہ نہیں تو اسکامطلب یہ ہوگا کہ آپ ﷺ بیٹھےیعنی پوری طرح بیٹھنے کےبعد اپنا پاؤں بچھایا۔
بہرکیف " ثم قعد" کےبعد پوراجملہ اسکی تفسیرہے، اس لحاظ سے اس معنی میں کوئی فرق نہیں آتا۔
بعینہ اسی طرح یہاں بھی یہی صورتحال ہے کہ پہلے "ثم رفع" کالفظ ذکرکیا کہ، پھربلندکیا اپنی انگلی کو، انگلی کوکس طرح بلند کیا؟ فرأیته یحرکھا کہہ کراسکی تفسیرکردی کہ میں نے آپ کو اپنی انگلی کوحرکت دیتےہوۓ دیکھا جس سے وہ بلند ہوگئی یعنی حرکت دینے سے سبابہ بلند ہو گئی اور اس کے بلند ہونے سے اشارہ ہو جاتا ہے۔بعض نے الفاظ کا مفہوم بیان کیا ہےیعنی اشارہ اور بعض نے رفع کا لفط بیان کیا ہے اور زائدہ نے حدیث کے مکمل الفاظ (مفہوم کےبجاۓ) بیان کئے ہیں۔
گویا زائدہ نےروایت بالمعنی کےبجاۓ روایت بالفاظ سےکام لیا ہےابن حبان رحمہ اللہ کے بیان سے تومعلوم ہوتا ہےکہ شائد وہ روایت بالمعنی کرتے نہیں تھے، چنانچہ آپ فرماتے ہیں کان من الحفاظ المتقین وکان لا یعد السماع حتی یسمه ثلاث مرات
یعنی وہ (زائدہ) حفاظ، متقین میں سےہیں اور وہ ایک بار سماع کو کافی نہیں سمجھتےتھےیہاں تک کہ اس کوتین بار نہ سن لیں۔ (کتاب الثقات: ۳۴۰/۶)
ابن حبان رحمہ اللہ کے اس بیان سےتو ہمیں یہی سمجھ آرہا ہے کہ ان کا کسی بات کو تین بار سننا اس پر دلالت کر رہا ہےکہ وہ ان الفاظ کو اچھی طرح محفوظ کرسکیں اور ان کو بعینہ اسی طرح بیان کرسکیں، لہذا ہمیں ایسا معلوم ہوتا ہےکہ وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ کے الفاظ وہی ہیں جو زائدہ نے بیان کئے ہیں،باقی دوسروں نے ان الفاظ کا جو مفہوم ہےوہ بیان کیا ہے۔
اگر ان الفاظ کو نہ ذکرکیا جاتا تب بھی بات بالکل واضح ہے،یہی وجہ ہےکہ جس نے بھی رفع کالفظ بیان کیا ہے ان میں سے کسی نے بھی اسکی تفسیر بیان نہیں کی۔اسلئےکہ اسکی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
غالباً امام ابن خزیمہ کابھی یہی مؤقف ہےکہ زائدہ کے ان الفاظ سے استمرار التحریک مراد نہیں یہ بات ان کے باب سے مترشح ہوتی ہے جو انہوں نے زائدہ کی اس روایت پر قائم فرمایا ہے۔
چنانچہ آپ فرماتے ہیں: باب صفحة وضع الیدین علی الرکبتین فی التشھد وتحریك سبابة عند الشارۃ بھا
یہ باب اصل میں اس طرح ہے: باب صفۃ وضع الیدین علی الرکبتین فی التشھد وصفۃ تحریک السبابۃ عند الاشارۃ بھا۔اسلئےکہ وتحریک میں واؤ عاطفہ ہے جس کا عطف صفۃ پرپڑرہاہے،گویا اس باب میں دو باتو ں کے صفت بیان کی گئی ہے۔
(۱) تشہد میں ہاتھوں کو گھٹنوں پررکھنےکی صفت
(۲) سبابہ کو اشارہ دیتے وقت حرکت کی صفت
اس حدیث میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنے کی صفت تو مذکور ہےمگرتحریک کی صفت کیا ہونی چاہیے؟
اگر اس جگہ استمرار التحریک کی صفت مراد ہے،تو وہ ہمیں نظرنہیں آ رہی، یہی وجہ ہےکہ ہم نےکئی بار لوگوں کا مشاہدہ کیا ہے کہ بعض الناس سبابہ کو آہستہ آہستہ ہلاتے ہیں اور بعض تیز، بعض وقفہ سے اور بعض بلا وقفہ۔
یہ تنقید نہیں بلکہ اپنا مشاہدہ بیان کر رہا ہوں، میری یہ بات اگرکسی پرگراں گزری ہو تومعذرت خواہ ہوں۔
اور اگر سبابہ کو ایک مرتبہ حرکت دینے کی صفت مراد ہےتووہ سنت موجود ہے، یعنی حرکت کی صفت ایسی ہو کہ جس سے سبابہ بلند ہو جاۓ، وصفۃ تحریک السبابۃ عند الاشارۃ بھا۔کایہی مطلب ہےکہ اس (سبابہ) کو اشارہ دیتے وقت حرکت دینا، یہ مطلب نہیں کہ اشارہ کی حالت میں
اس بات کواس مثال سےسمجھیں۔
کان رسول اللہ ﷺ یرفع یدیه عند الرکوع وعند رفع الرأس منه وعند الرکعة الثالثة
یعنی آپ رکوع میں جاتے ہوۓ اور اس (رکوع) سےسر اٹھاتے ہوۓ اور تیسری رکعت میں جاتے ہوۓ رفع الیدین کرتے تھے۔
اسکا مطلب بالکل واضح ہے کہ آپ ﷺ جیسے ہی رکوع میں جاتے .....الخ یعنی رفع الیدین شروع میں ہوتا تھا۔بعینہ اسی طرح یہ حرکت اشارہ دیتے وقت یعنی اشارہ کے شروع میں ہونی چاہیے جس حرکت سے اشارہ ہو جاۓ نہ کے اشارہ کے ساتھ مسلسل حرکت ہو۔
مذکورہ مثال کو سمجھنے سے ان شاء اللہ یہ بات سمجھ آجائیگی بہرکیف اس اعتبار سےحدیث اور باب میں مطابقت ہو جاتی ہے کوئی اشکال باقی نہیں رہتا، گویا امام بہیقی رحمہ اللہ اورامام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی بات کا ایک ہی مفہوم ہوا۔
دوسری بات یہ بھی قابل غور ہےکہ "یدعوبھا" کا یہ جو ترجمہ (اس سے دعا کررہےتھے) کیا جاتا ہےتو "اس سے" کیامراد ہے؟
دوسرے لفظوں میں "بھا" کی "ھا" کامرجع کیا ہے؟ انگلی یا استمرار التحریک؟ اگر اس " ھا" کا مرجع انگلی کوقرار دیا جاۓتو یہ قوائد نحویہ کےخلاف ہے، اسلئےکا ضمیرکا مرجع عموماً وہ ہوتا ہےجو اسکےسب سےزیادہ قریب ہوتاہے اور یہاں "ھا"کےقریب استمرار التحریک ہے انگلی نہیں لہذا اس اعتبار سے اس "ھا" کامرجع استمرار التحریک ہونا چاہیے۔ لیکن اس کیلئے پھر "ھا" مؤنث ضمیرکو ہٹاکر مذکر ضمیرکولانا پڑےگا اسلئے کہ تحریک مذکر ہے مؤنث نہیں تو ضمیر بھی مؤنث آنی چا ہیے۔گویا اس سے ثابت ہوا کہ اس جگہ استمرار التحریک کا وجود ہی نہیں ورنہ مؤنث ضمیر کی بجاۓ مذکر کی ضمیر ہوتی جو استمرار التحریک کی طرف لوٹتی۔
بہرکیف مذکورہ تحریر سے یہ ثابت ہوا کہ سبابہ کوباربار حرکت دینا مراد نہیں بلکہ صرف ایک دفعہ حرکت دینا مراد ہےجو رفع کی تفسیرہے۔
خلاصہ کلام جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ امام بہیقی رحمہ اللہ نے ان باتوں کےپیش نظر ابن عجلان کی روایت سے ایک مرتبہ حرکت دینا مراد لیا ہے،اس طرح امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کے مؤقف کوبھی ذکرکیاگیا غالباً ان کا بھی یہی مؤقف ہے
واللہ اعلم بالصواب۔
آخر میں قارئین بالخصوص اہل علم حضرات سے عاجزانہ التماس ہے کہ ان شاء اللہ وہ میری حق کی طرف راہنمائی فرمائیں گےاور میں أقرب الی الصواب مؤقف کو بخوشی قبول کر لوں گا کہ اصل میں عمل سنت الرسول ﷺ پر کرنا ہےنہ کہ اپنی راۓپر۔میری راۓ یقیناً غلط ہو سکتی ہےلیکن سنت رسول ﷺ کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔اول میں نے سنت کا صحیح مفہوم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ویسے بھی اپنی راۓاورعقل کو حدیث کے پیچھے چلانا چاہیے، حدیث کو ان دونوں کے پیچھے نہیں چلانا چاہیے، اور اسکا مرتکب بدعتیوں میں شمارہوتاہےجیسے امام بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب رفع الیدین میں امام وکیع رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوۓ فرماتے ہیں:
ومن طلب الحدیث لیقوی ھواء فھو صاحب بدعة
(جلاءالعینین:۱۰۵)
کہ جو حدیث کو اسلئے حاصل کرتا ہےکہ اس سے اپنی خواہش کو تقویت دے تو وہ بدعتی ہے
اکثریہی دیکھاگیا ہےکہ جو صرف اپنی آراء کو اہمیت دیتا ہے اور احادیث کو ان کے پیچھے چلانےکی کوشش کرتا ہے تو وہ جا بجا تناقضات کا شکار ہوتا رہتا ہے اور دین کی خدمت کرنے کے بجاۓ خود کو بدعتیوں میں شمارکرواتاہے۔
اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھے کہ اس سے ساری کوششیں بے وزن ہوکر رہ جاتی ہیں،بہرکیف میں نے جس کو صحیح سمجھا وہ لکھا اور قارئین کو اس سے آگاہ کیا۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم کو حدیث کا صحیح فہم عطا فرماۓاور اس پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔
ھذاما عندی واللہ اعلم بالصواب
 
Top