• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تحریک پاکستان میں علماء اہل حدیث کا کردار

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,307
ری ایکشن اسکور
9,944
پوائنٹ
667
تحریک پاکستان میں علماء اہل حدیث کا کردار

تحریکِ پاکستان اس تحریک کو کہتے ہیں جو برطانوی ہند میں مسلمانوں نے ایک آزاد وطن کے لیے چلائی جس کے نتیجے میں پاکستان قائم ہوا۔تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔قیامِ پاکستان کا قیام اس طویل جدوجہد کا ثمر ہے جو مسلمانانِ برصغیر نے اپنے علیحدہ قومی تشخص کی حفاظت کے لیے شروع کی۔قیام پاکستان وتحریک پاکستان میں اہل حدیث قائدین اور علمائے اہل حدیث کی جدوجہد اور خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں ۔تحریک پاکستان میں علمائے اہل حدیث نے جومثالی کردار ادا کیا وہ تاریخ کا سنہری باب ہے۔مولانا شورش کاشمیری﷫ نے اسی قافلہ آزادی کے علمبرداروں کےبارے میں لکھا تھا کہ چھ لاکھ علمائے اہل حدیث کو تختۂ دار پر لٹکایا گا تھا۔تحریک پاکستان میں علمائے اہل حدیث کاکردار ایک طویل داستان ہے۔مسلک اہل حدیث کے مختلف رسائل وجرائد میں ’’ تحریک پاکستان میں علمائے اہل حدیث کاکردار‘‘ کےعنوان سے مختلف قلم کار گاہے گاہےلکھتے رہتے ہیں۔مولانا محمد امین محمدی صاحب نے زیر نظر کتاب بعنوان ’’ تحریک پاکستان میں علمائے اہل حدیث کاکردار‘‘ میں قیام پاکستان کےسلسلے علمائے اہل حدیث کی خدمات کی پوری داستان کو یکجا کر کےاس کتاب میں سمو دیا ہے عصر حاضر میں جس کی اشد ضرورت تھی مولانا امین محمدی صاحب نےاس ضرورت کو حتی الوسع پورا کرنے کی بھرپور کوشش کر کے نوجوان نسل کے سامنے تحریک آزادی میں علمائے اہل حدیث کی خدمات کا خاکہ پیش کر کے اس موضوع بر قلم اٹھانے والوں کوایک مضبوط بنیاد فراہم کردی ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع میں بڑی جامع او رمعلوماتی ہےجس سےعام قارئین بھی مستفید ہوسکتے ہیں۔اللہ تعالی ٰمصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔(م۔ا)

 
Top