• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

* تحقیق حدیث میں جمع طرق کی اہمیت *

شمولیت
جون 21، 2019
پیغامات
92
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
22
*جمع طرق کی اہمیت*

*سلسلۂ علل حدیث ۴*

[emoji419]ہم ابھی اصل مقصود کی طرف بڑھتے ہیں کیوں کہ کسی بھی فن کی مبادیات ہی میں غور وخوض کرتے رہیں، تو اس کے لئے بہت وقت درکار ہوگا۔

[emoji420]فی الحال ہم اس بات کو سب سے پہلے ضبط الصدر کرتے ہیں کہ فن علل کے ماہر علماء خصوصا متقدمین جیسے *شعبہ بن حجاج، یحیی بن سعید القطان، عبد الرحمن بن مہدی، یحیی بن معین، علی بن المدینی، اسحق بن راہویہ، احمد بن حنبل، بخاری، مسلم رحمہم اللہ* وغیرہ سے جب کسی حدیث کے متعلق سوال کیا جاتا، کوئی خاص روایت کے سلسلے میں پوچھا جاتا، کسی معین راوی کی فلاں شیخ سے روایت کے بارے میں دریافت کیا جاتا، تو وہ فورا کہہ دیتے کہ:

[emoji419]یہ روایت صحیح ہے اور وہ روایت باطل ہے۔

[emoji419]یہ روایت منکر ہے تو وہ روایت غیر محفوظ ہے۔

[emoji419]اس راوی کی فلاں سے روایت کرنا اختلاط کے بعد ہوا ہے۔

[emoji419] کبھی کسی روایت کے بارے میں بے جھجک کہہ دیتے تھے کہ فلاں کا بصرہ یا اور کسی علاقے والوں سے سماع ثابت نہیں ہے وغیرہ۔

_[emoji420](میں نے ان ماہر علماء سے صناعتِ حدیث کی چند مثالیں نقل کی ہیں)_

[emoji419] *یہ کیسے ہوتا تھا؟*

۱۔ وہ حضرات حفاظ دنیا تھے، یعنی سب کچھ حفظ کر لیتے تھے۔

۲۔ راویوں کے حالات اور طرق حدیث گویا ان کی آنکھوں کے سامنے تھے۔

۳۔ کسی راوی کا حال پتہ کرنے میں سارے طرق و روایات جمع کر لیتے تھے، اس طرح سے کہ اصل مخرج تک رسائی ہو جائے۔

[emoji419]معلوم ہوا کہ نقدِ حدیث میں سب سے پہلے حدیث کے تمام طرق کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔

[emoji420]جیسے علی ابن مدینی رحمہ اللہ کا قول ہے۔

*الباب اذا لم تجمع طرقه لم يتبين خطؤه.*

جب تک کسی باب میں تمام طرقِ حدیث کو جمع نہ کر لیا جائے، اس وقت تک حدیث میں واقع ہوئی غلطیوں(علل) کا انکشاف ممکن نہیں ہے۔

[emoji419]خطیب بغدادی رحمہ للہ نے کہا: ۔
*السبیل إلى معرفة علة الحديث، أن يجمع بين طرقه، و ينظر في اختلاف رواته.... الخ.*

مطلب یہ ہوا کہ کسی حدیث کی علت کا ادراک تبھی ممکن ہے جب تمام طرق کو جمع کر لیا جائے اور اس میں اختلافِ روات اور اس سے متعلق اوصاف کا دقت نظری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔

[emoji419]اسی لیے کوئی محقق اس وقت تک تحقيقِ حديث کے دوسرے مرحلے میں قدم نہیں رکھ سکتا ، جب تک کہ بلا تقصیر تمام طرق کے جمع ہوجانے کا یقین نہ ہوجائے ۔

[emoji94] تو پتہ چلا کہ قواعد کی تطبیق کے لیے سب سے پہلے ایک روایت کے تمام طرق کو جمع کرنا بے حد ضروری امر ہے۔

[emoji421]محمد عبد الرحمن اڑیشوی


Sent from my BKL-L09 using Tapatalk
 
Top