• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تحقیق کے نام پر تلبیس اور کتاب کی مشہوری کے لیے ایک چال

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
157
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
28
تحقیق کے نام پر تلبیس اور کتاب کی مشہوری کے لیے ایک چال

تحریر: حافظ عبيد الله

اپنے آپ کو مکتب اہل حدیث کی طرف منسوب کرنے والے "ہومیو پیتھک" ڈاکٹر ابو جابر عبدالله دامانوى کی کتاب کا سرسری مطالعہ مکمل ہوا، مختصر تبصرہ یہ ہے کہ یہ کتاب "چوں چوں کا مربہ بلکہ اچار" ہے، کوئی نئی بات نہیں وہی پرانے "سبائیت زدہ" نام نہاد محققین کے چبائے ہوئے لقمے ہیں، جہاں اپنا "اُلّو" سیدھا کرنا ہوتا ہے وہاں ایسے مطالبے کرتے ہیں کہ "صحیح اسناد سے ثابت کرو کہ صحابہ کرام نے یزید بن معاويه کی بيعت کی تھی" (اس کی بنیاد پر ہومیو محقق صاحب نے اس بات کا انکار کیا ہے کہ صحابہ نے یزید کی بيعت کی تھی)، اور جہاں اپنے خلاف بات آئے تو وہاں صحیح السند روايات کے بارے میں چودھویں صدی کے کچھ دوسرے اپنے ہم نوا علماء کی تحریر نقل کرکے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں اور "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟" ، "یہ ممکن ہی نہیں" جیسے دلائل دے کر صحیح سند کے بارے میں تشکیک پیدا کرتے ہیں.

سر دست ان "ہومیو" محقق صاحب کی دو تحقیقات بطور مثال پیش ہیں.

کتاب کے "اندر والے" ٹائٹل پر کتاب کی طباعت کے بعد ایک سٹکر الگ سے لگایا گیا ہے جس پر لکھا ہے :
"سنابلی صاحب کے شبہات کا ازالہ"

FB_IMG_1631448614828.jpg


واضح رہے کہ "كفايت الله سنابلى صاحب" مسلک اہل حدیث کے ہی ایک عالم ہیں جنہوں نے یزید بن معاويه پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے، تو ہومیو محقق صاحب نے یہ سٹکر لگا کر یہ تأثر دیا جیسے ان کی یہ کتاب سنابلی صاحب کی کتاب کا جواب اور رد ہے ... لیکن ہومیو محقق صاحب کی کتاب کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ چند ایک مقامات پر کچھ روایات پر بات کرتے ہوئے سنابلی صاحب کا ذکر آیا ہے اور بس.
یہ "سٹکر" صرف اپنی کتاب کو بیچنے کے لیے لگایا گیا ہے اور بس .

پھر دامانوی صاحب نے اپنی کتاب کا اختتام ان الفاظ پر کیا ہے:
"هذا ما عندى والله علم بالصواب" (علم بن الصواب ہی لکھا ہے_ناقل)
اور پھر نیچے تاریخ لکھی ہے:
"8 ربيع الثانى 1433ھ "

FB_IMG_1631448773821.jpg


آج ہجری سنہ 1443ھ ہے، یعنی دامانوی صاحب نے یہ کتاب دس سال قبل لکھی تھی .

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتاب پر تو یہ سٹکر لگایا ہے کہ یہ سنابلی صاحب کے شبہات کا جواب ہے تو یقینا سنابلی صاحب کی کتاب دس سال پہلے شائع ہوئی ہوگی کیونکہ دامانوی صاحب کی کتاب میں جہاں چند ایک مقامات پر سنابلی صاحب کا ذکر آیا ہے وہاں ان کی اس کتاب کے حوالے ہیں جو 2015 میں شائع ہوئی تھی، کسی ایسے مضمون یا کتاب کے حوالے نہیں جو 2011 يا 2010 میں شائع ہوئی ہو ، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دامانوی صاحب نے جو یہ "چوں چوں کا مربہ" ڈالا ہے یہ بہت پہلے تیار کیا تھا اور اب اسے شائع کیا ہے تو اس کی مشہوری کے لئے اس پر یہ سٹکر لگا دیا جس سے یہ دھوکہ دیا کہ یہ سنابلی صاحب کی کتاب کا جواب ہے .

نوٹ: یقین کریں ہم نے بھی اسی بات سے دھوکہ کھا کر کتاب منگوائی تھی.

اب ایک مثال پیش خدمت ہے "ہومیو محقق" صاحب کی تحقیق کی، واقعہ کربلا کے ضمن میں سیدنا حسين رضى الله عنه سے ایک روایت (صحیح سند کے ساتھ) مروی ہے کہ آپ نے ایک موقع پر یہ تجویز پیش فرمائی تھی کہ "مجھے امير المؤمنين کے پاس لے چلو تاکہ میں اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھ دوں"، اس روایت کی سند کے راویوں کے بارے میں "ہومیو محقق" صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ "یہ بخاری و مسلم کے راوی ہیں" (صفحہ 374)، لیکن چونکہ انہیں یہ بات ہضم نہیں ہوتی اس لئے اس پر عنوان قائم کیا ہے کہ "یہ روایت ضعیف ہے" اور پھر پہلے تو ایک دیوبندی عالم عبدالرشيد نعمانى صاحب مرحوم کی تحریر سے ایک طویل اقتباس نقل کیا ہے جس میں نعمانى صاحب نے بغیر کسی دلیل کے اپنے مفروضوں کی بنیاد پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایسی بات سیدنا حسين رضى الله عنه کر ہی نہیں سکتے تھے، لیکن چونکہ دامانوی صاحب اپنے آپ کو اہل حدیث بتاتے ہیں اور اس روایت کے راوی "صحيحين" کے راوی تھے تو اب اس کی سند میں کیڑے یوں نکالتے ہیں کہ:

"امام بخاری نے عباد بن العوام عن عن حصين بن عبيد الرحمن السلمى کے طریق سے ایک روایت بھی نقل نہیں کی ہے امام مسلم نے اس سے ایک روایت کتاب الهبات میں پیش کی ہے مگر چونکہ اس کی سند کمزور ہے اس لئے انہوں نے اس کی تائید کے لئے ایک اور سند سے حادث کے ان الفاظ کو نقل کیا ہے..." (صفحه 374)

ملاحظہ فرمائیں "ہومیو پیتھک" تحقیق، یعنی یہ راوی تو سب بخاری و مسلم کے ہیں لیکن چونکہ امام بخاری نے خاص اس سند کے ساتھ کوئی روایت نقل نہیں کی اس لئے یہ ضعیف ہوگی ... اور امام مسلم پر (جنہوں نے خاص اسی سند کے ساتھ اپنی صحیح میں ایک روایت نقل کی ہے) یہ بہتان بھی باندھ دیا کہ "چونکہ اس کی سند کمزور ہے اس لئے انہوں نے اس کی تائید کے لئے اور سند سے بھی حدیث کے ان الفاظ کو نقل کیا ہے"..

جبکہ امام مسلم نے کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ پہلی سند کمزور تھی اس لئے میں نے یہ روایت دوسری سند سے بھی نقل کی ہے، بلکہ امام مسلم نے اصل روایت پہلی سند کے ساتھ ہی نقل کی ہے اور "واللفظ له" بھی لکھا ہے کہ روایت کے الفاظ پہلی سند سے ہی نقل کر رہا ہوں ... امام مسلم بہت سی روایات نقل کرتے وقت مختلف اسناد ذکر کردیتے ہیں اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ چونکہ پہلی سند کمزور تھی اس لئے دوسری اسناد ذکر کیں یہ صرف تلبیس ہے ، تحقیق نہیں.

پھر دوسرا پتہ "ہومیو پیتھک" محقق صاحب نے یہ پھینکا ہے کہ اس روایت کی سند میں "حصين بن عبدالرحمن" ہیں (جو بالاتفاق ثقہ ہیں_ناقل) ، اور بعض علماء نے کہا ہے کہ آخری عمر میں ان کا حافظہ میں تغير واقع ہو گیا تھا (یعنی کمزور ہو گیا تھا) اس لئے یہ روایت ضعیف ہے.

تو ہم یہاں سر دست ان "ہومیو محقق" صاحب کی خدمت میں ابھی صرف ایک "ایلو پیتھک" حوالہ پیش کردیتے ہیں جس سے ان شاء الله انہیں افاقہ ہوگا، اگر نہ ہو تو پھر "سرجری" بھی کی جاسکتی ہے، حافظ صلاح الدين العلائي الدمشقي الشافعى (متوفى 761ھ) نے "كتاب المختلطين" میں ان لوگوں کی تین قسمیں بیان کی ہیں جن کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ان کا حافظہ آخر عمر میں کمزور ہو گیا تھا، اس میں پہلی قسم کے بارے میں یوں لکھا ہے :

"پہلی قسم کے وہ لوگ ہیں جن کا یہ اختلاط (یعنی حافظہ میں گڑ بڑ ہونا) قطعاً انہیں ضعیف نہیں بناتا اور انہیں ان کے مرتبہ سے نیچے نہیں کرتا، یا تو اس وجہ سے کہ ان کے حافظہ میں یہ اختلاط یا تو بہت کم مدت کے لئے ہوتا ہے یا انہوں نے اس اختلاط کے دوران کوئی روایت ہی نہیں کی ہوتی"
(كتاب المختلطين للعلائي، ص3، مكتبة الخانجى بالقاهرة)

اور پھر حافظ علائى نے اسی پہلی قسم میں "حصين بن عبدالرحمن" کو شمار کیا ہے اور ان کے ساتھ لکھا ہے "أحد الأعلام المتفق عليهم" (کہ ان کا شمار متفق علیہ بڑی ہستیوں میں ہوتا ہے) اور یہیں یہ بھی لکھا ہے کہ "امام ابن المدينى نے اس بات کا انکار کیا ہے کہ ان کا حافظہ کبھی خراب ہوا تھا" (حوالہ بالا، ص 21)

لہذا ماننا یا نہ ماننا یہ الگ بات ہے، لیکن یوں بخاری و مسلم کے متفق عليه ثقہ راوی کو ضعیف ثابت کرنا یہ کم از کم مکتب اہل حدیث کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے شخص سے عجیب ہے .

پھر طرفہ تماشہ یہ ہے کہ "ہومیو محقق" صاحب لکھتے ہیں:

"آخری بات یہ کہ اس روایت کے مقابلے میں ایسی روایات ہیں جن سے بھی اس کا رد ہونا ثابت ہوتا ہے، چنانچہ عقبہ بن سمعان کے حوالے سے روایت ہم نقل کر آئے ہیں جس میں حسین رضى الله عنه کا تین شرائط ماننے سے انکار کرنا ثابت ہے، اگرچہ عقبه بن سمعان مجہول ہے ...."
(صفحہ 379)

ہومیو محقق صاحب پر واضح ہو کہ اس روایت میں نہ صرف "مجہول عقبه بن سمعان" ہے بلکہ اس کی سند میں "ابو مخنف لوط بن يحيى" بھی تشریف فرما ہے ... (غالباً دامانوی صاحب نے یہ جھوٹی روایت عبدالرشيد نعمانى صاحب کے حوالے سے نقل کی ہے) .

تعجب ہے، صحیحین کے راویوں پر مشتمل سند والی روایت کا رد "ابو مخنف" جیسے کذاب اور "عقبہ بن سمعان" جیسے مجہول لوگوں کی روایت سے کیا جا رہا ہے۔
 
Top