• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تعویز والی حدیث

طارق بن زیاد

مشہور رکن
شمولیت
اگست 04، 2011
پیغامات
324
ری ایکشن اسکور
1,718
پوائنٹ
139
السلام علیکم ورحمہ
مجھے یہ جاننا تھا کہ کیا اس حدیث کی سند صحیح ہے اور کیا ایسا تعویز بنا کر پہنایا جاسکتا ہے ؟
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) گھبراہٹ کے لئے انہیں یہ کلمات سکھاتے تھے، میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی اس کے غضب سے اور اس کے برے بندوں سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس آئیں اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کا یہ معمول تھا کہ ان کے بیٹوں میں سے جو عقل مند (بالغ ہوتا) تو اسے یہ کلمات سکھلاتے اور جو نادان (نابالغ) ہوتا تو ان کلمات کو لکھ کر اس کے اوپر گلے میں لٹکا دیتے۔ سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 503
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,495
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمہ
مجھے یہ جاننا تھا کہ کیا اس حدیث کی سند صحیح ہے اور کیا ایسا تعویز بنا کر پہنایا جاسکتا ہے ؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم بھائی
سنن ابی داود میں یہ روایت سند کے ساتھ درج ذیل ہے :
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْفَزَعِ كَلِمَاتٍ: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ غَضَبِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ» وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ عَقَلَ مِنْ بَنِيهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْقِلْ كَتَبَهُ فَأَعْلَقَهُ عَلَيْهِ "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور سنن الترمذی میں یوں ہے :
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا فَزِعَ أَحَدُكُمْ فِي النَّوْمِ فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ". فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، يُلَقِّنُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ، وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهُمْ كَتَبَهَا فِي صَكٍّ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ "(سنن الترمذی 3528 )
یہ حدیث ضعیف ہے ، کیونکہ اس کی سند میں محمد بن اسحاق راوی ہیں جو مدلس ہیں ، اور وہ یہاں سماع کی تصریح کے بغیر (عن ) سے نقل کررہے ہیں ،
امام عقیلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
حَدَّثَنِي الْخَضِرُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ: مَا تَقُولُ فِي مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ؟ قَالَ: هُوَ كَثِيرُ التَّدْلِيسِ جِدًّا[الضعفاء الكبير للعقيلي 4/ 28 وسندہ صحیح، و الحضربن داود عندی ثقۃ]۔
امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)سے پوچھا گیا: آپ محمد بن اسحاق کے بارے میں کیا کہتے ہیں : فرمایا وہ کثرت سے تدلیس کرتے ہیں ،
اور امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
كان يدلس على الضعفاء فوقع المناكير في روايته من قبل أولئك [الثقات لابن حبان 7/ 383]کہ وہ ضعیف روات سے تدلیس کرتے تھے ، جس کے سبب انکی روایات میں " منکر " روایات پائی جاتی ہیں "
اسلئے اس حدیث سے استدلال جائز نہیں ،
مزید تفصیل کیلئے درج ذیل تھریڈ کا مطالعہ کیجئے
تعویذ کے متعلق
 
Top