• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِ‌ينَ ﴿١٨﴾
وہ لوگ ہیں جن پر (اللہ کے عذاب کا) وعدہ صادق آگیا، (١) ان جنات اور انسانوں کے گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے، (٢) یقیناً یہ نقصان پانے والے تھے۔
١٨۔١ جو پہلے ہی اللہ کے علم میں تھا، یا شیطان کے جواب میں جو اللہ نے فرمایا تھا ﴿لأَمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ (سورۃ ص: ۸۵)
١٨۔٢ یعنی یہ بھی ان کافروں میں شامل ہو گئے جو انسانوں اور جنوں میں سے قیامت والے دن نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلِكُلٍّ دَرَ‌جَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا ۖ وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَالَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿١٩﴾
اور ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجے ملیں گے (۱) تاکہ انہیں ان کے اعمال کے پورے بدلے دے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ (۲)
۱۹۔۱ مومن اور کافر، دونوں کا، ان کے عملوں کے مطابق اللہ کے ہاں مرتبہ ہو گا۔ مومن مراتب عالیہ سے سرفراز ہوں گے اور کافر جہنم کے پست ترین درجوں میں ہوں گے۔
۱۹۔۲ گناہ گار کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی اور نیکو کار کے صلے میں کمی نہیں ہو گی۔ بلکہ ہر ایک کو خیر یا شر میں سے وہی کچھ ملے گا جس کا وہ مستحق ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَوْمَ يُعْرَ‌ضُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا عَلَى النَّارِ‌ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُ‌ونَ فِي الْأَرْ‌ضِ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ ﴿٢٠﴾
اور جس دن کافر جہنم کے سرے پر لائے جائیں گے (۱) (کہا جائے گا) تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کر دیں اور ان کا فائدہ نہ اٹھا چکے، پس آج تمہیں ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی، (۲) اس باعث کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس باعث بھی کہ تم حکم عدولی کرتے تھے۔ (۳)
۲۰۔۱ یعنی اس وقت کو یاد کرو، جب کافروں کی آنکھوں سے پردے ہٹا دیئے جائیں گے اور وہ جہنم کی آگ دیکھ رہے یا اس کے قریب ہوں گے۔ بعض نے يُعْرَضُونَ کے معنی يُعَذَّبُونَ کے کیے ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کلام میں قلب ہے۔ مطلب ہے جب آگ ان پر پیش کی جائے گی (تُعْرَضُ النَّارُ عَلَيْهِمْ) (فتح القدير)۔
۲۰۔۲ طَيِّبَاتٌ سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان ذوق و شوق سے کھاتے پیتے اور استعمال کرتے اور لذت و فرحت محسوس کرتے ہیں۔ لیکن آخرت کی فکر کے ساتھ ان کا استعمال ہو تو بات اور ہے، جیسے مومن کرتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ احکام الٰہی کی اطاعت کر کے شکر الٰہی کا بھی اہتمام کرتا رہتا ہے۔ لیکن فکر آخرت سے بے نیازی کے ساتھ ان کا استعمال انسان کو سرکش اور باغی بنا دیتا ہے جیسے کافر کرتا ہے اور یوں وہ اللہ کی ناشکری کرتا ہے۔ چنانچہ مومن کو تو اس کے شکر و اطاعت کی وجہ سے یہ نعمتیں بلکہ اس سے بدرجہا بہتر نعمتیں آخرت میں پھر مل جائیں گی۔ جب کہ کافروں کو وہی کچھ کہا جائے گا جو یہاں آیت میں مذکور ہے۔ ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ . . . .﴾ کا دوسرا ترجمہ ہے دنیا کی زندگی میں تم نے اپنے مزے اڑا لیے اور خوب فائدہ اٹھا لیا۔
٢٠۔۳ ان کے عذاب کے دو سبب بیان فرمائے، ناحق تکبر، جس کی بنیاد پر انسان حق کا اتباع کرنے سے گریز کرتا ہے اور دوسرا فسق۔ بے خوفی کے ساتھ معاصی کا ارتکاب۔ یہ دونوں باتیں تمام کافروں میں مشترکہ ہوتی ہیں۔ اہل ایمان کو ان دونوں باتوں سے اپنا دامن بچانا چاہئے۔
ملحوظہ۔ بعض صحابہ کرام رضی الله عنہم کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے سامنے عمدہ نعمتیں وغیرہ آتی تو یہ آیت انہیں یاد آجاتی اور وہ اس ڈر سے اسے ترک کر دیتے کہ کہیں آخرت میں ہمیں بھی یہ نہ کہہ دیا جائے کہ تم نے اپنے مزے دنیا میں لوٹ لیے۔ تو یہ ان کی وہ کیفیت ہے جو غایت ورع اور زہد و تقویٰ کی مظہر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اچھی نعمتوں کا استعمال وہ جائز نہیں سمجھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاذْكُرْ‌ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنذَرَ‌ قَوْمَهُ بِالْأَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ‌ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿٢١﴾
اور عاد کے بھائی کو یاد کرو، جبکہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا (۱) اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی یہ کہ تم سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کی عبادت نہ کرو۔ بیشک میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے خوف کھاتا ہوں۔ (۲)
۲۱۔۱ أَحْقَافٌ، حِقْفٌ کی جمع ہے۔ ریت کا بلند مستطیل ٹیلہ، بعض نے اس کے معنی پہاڑ اور غار کے کیے ہیں۔ یہ حضرت ہود عليہ السلام کی قوم عاد اولیٰ کے علاقے کا نام ہے، جو حضر موت (یمن) کے قریب تھا۔ کفار مکہ کی تکذیب کے پیش نظر نبی ﷺ کی تسلی کے لیے گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے واقعات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
٢١۔۲ یوم عظیم سے مراد قیامت کا دن ہے، جسے اس کی ہولناکی کی وجہ سے بجا طور پر بڑا دن کہا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالُوا أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ آلِهَتِنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ﴿٢٢﴾
قوم نے جواب دیا، کیا آپ ہمارے پاس اس لیے آئے ہیں کہ ہمیں اپنے معبودوں (کی پرستش) سے باز رکھیں؟ (۱) پس اگر آپ سچے ہیں تو جس عذاب کا آپ وعدہ کرتے ہیں اسے ہم پر لا ڈالیں۔
۲۲۔۱ لِتَأْفِكَنَا لِتَصْرِفَنَا یا لِتَمْنَعَنَا یا لِتُزِلَنَا، سب متقارب المعنی ہیں۔ تاکہ تو ہمیں ہمارے معبودوں کی پرستش سے پھیر دے، روک دے، ہٹا دے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّـهِ وَأُبَلِّغُكُم مَّا أُرْ‌سِلْتُ بِهِ وَلَـٰكِنِّي أَرَ‌اكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ ﴿٢٣﴾
(حضرت ہود نے) کہا (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں (۱) لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو۔ (۲)
۲۳۔۱ یعنی عذاب کب آئے گا؟ یا دنیا میں نہیں آئے گا، بلکہ آخرت میں تمہیں عذاب دیا جائے گا، اس کا علم صرف اللہ کو ہے، وہی اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے، میرا کام تو صرف پیغام پہنچانا ہے۔
٢٣۔۲ کہ ایک تو کفر پر اصرار کر رہے ہو، دوسرے، مجھ سے ایسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو میرے اختیار میں نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَمَّا رَ‌أَوْهُ عَارِ‌ضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَـٰذَا عَارِ‌ضٌ مُّمْطِرُ‌نَا ۚ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ ۖ رِ‌يحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٢٤﴾
پھر جب انہوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے کہنے لگے، یہ ابر ہم پر برسنے والا ہے، (۱) (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وہ (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے، (۲) ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ (۳)
۲٤۔۱ عرصہ دراز سے ان کے ہاں بارش نہیں ہوئی تھی، امنڈتے بادل دیکھ کر خوش ہوئے کہ اب بارش ہو گی۔ بادل کو عارض اس لیے کہا ہے کہ بادل عرض آسمان پر ظاہر ہوتا ہے۔
٢٤۔١ یہ حضرت ہود عليہ السلام نے انہیں کہا کہ یہ محض بادل نہیں ہے، جیسے تم سمجھ رہے ہو۔ بلکہ یہ وہ عذاب ہے۔ جسے تم جلد لانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
۲٤۔۳ یعنی وہ ہوا، جس سے اس قوم کی ہلاکت ہوئی، ان بادلوں سے ہی اٹھی اور نکلی اور اللہ کی مشیت سے ان کو اور ان کی ہر چیز کو تباہ کر گئی۔ اسی لیے حدیث میں آتا ہے، حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہو گی، لیکن آپ ﷺ کے چہرے پر اس کے برعکس تشویش کے آثار نظر آتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ (رضی الله عنہا) اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس بادل میں عذاب نہیں ہو گا، جب کہ ایک قوم ہوا کے عذاب سے ہی ہلاک کر دی گئی، اس قوم نے بھی بادل دیکھ کر کہا تھا یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ (البخاری، تفسير سورة الأحقاف، مسلم، كتاب صلاة الاستسقاء باب التعوذ عند رؤية الريح والغيم والفرح بالمطر) ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب باد تند چلتی تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھتے [اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِه] اور جب آسمان پر بادل گہرے ہو جاتے تو آپ ﷺ کا رنگ متغیر ہو جاتا اور خوف کی سی ایک کیفیت آپ ﷺ پر طاری ہو جاتی جس سے آپ ﷺ بے چین رہتے، کبھی باہر نکلتے، کبھی اندر داخل ہوتے، کبھی آگے ہوتے اور کبھی پیچھے پھر بارش ہو جاتی تو آپ ﷺ اطمینان کا سانس لیتے۔ (صحیح مسلم، باب مذکور)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تُدَمِّرُ‌ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ‌ رَ‌بِّهَا فَأَصْبَحُوا لَا يُرَ‌ىٰ إِلَّا مَسَاكِنُهُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِ‌مِينَ ﴿٢٥﴾
جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گی، پس وہ ایسے ہو گئے کہ بجز ان کے مکانات کے اور کچھ دکھائی نہ دیتا (۱) تھا۔ گناہ گاروں کے گروہ کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔
۲۵۔۱ یعنی مکین (گھر والے) سب تباہ ہو گئے اور صرف مکانات (گھر) نشان عبرت کے طور پر باقی رہ گئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ مَكَّنَّاهُمْ فِيمَا إِن مَّكَّنَّاكُمْ فِيهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَأَبْصَارً‌ا وَأَفْئِدَةً فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَا أَبْصَارُ‌هُمْ وَلَا أَفْئِدَتُهُم مِّن شَيْءٍ إِذْ كَانُوا يَجْحَدُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ﴿٢٦﴾
اور بالیقین ہم نے (قوم عاد) کو وہ مقدور دیئے تھے جو تمہیں تو دیئے بھی نہیں اور ہم نے انہیں کان آنکھیں اور دل بھی دے رکھے تھے۔ لیکن ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے انہیں کچھ بھی نفع نہ پہنچایا (۱) جبکہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرنے لگے اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان پر الٹ پڑی۔ (۲)
۲٦۔۱ یہ اہل مکہ کو خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم کیا چیز ہو؟ تم سے پہلی قومیں، جنہیں ہم نے ہلاک کیا، قوت و شوکت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں، لیکن جب انہوں نے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں (آنکھ، کان اور دل) کو حق کے سننے، دیکھنے اور اسے سمجھنے کے لیے استعمال نہیں کیا، تو بالآخر ہم نے انہیں تباہ کر دیا اور یہ چیزیں ان کے کچھ کام نہ آسکیں۔
٢٦۔٢ یعنی جس عذاب کو وہ انہونا سمجھ کر بطور استہزاء کہا کرتے تھے کہ لے آ اپنا عذاب! جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے، وہ عذاب آیا اور اس نے انہیں گھیرا کہ پھر اس سے نکل نہ سکے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَ‌ىٰ وَصَرَّ‌فْنَا الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ ﴿٢٧﴾
اور یقیناً ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں تباہ کر دیں (١) اور طرح طرح کی ہم نے اپنی نشانیاں بیان کر دیں تاکہ وہ رجوع کر لیں۔ (٢)
٢٧۔١ آس پاس سے عاد، ثمود اور لوط کی وہ بستیاں مراد ہیں جو حجاز کے قریب ہی تھیں اور یمن اور شام و فلسطین کی طرف آتے جاتے ان سے ان کا گزر ہوتا تھا۔
٢٧۔٢ یعنی ہم نے مختلف انداز سے اور مختلف نوع کے دلائل ان کے سامنے پیش کیے کہ شاید وہ توبہ کر لیں۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔
 
Top