• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ ﴿٣٠﴾
پھر ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں ملامت کرنے لگے۔

قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ ﴿٣١﴾
کہنے لگے ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھے۔

عَسَىٰ رَ‌بُّنَا أَن يُبْدِلَنَا خَيْرً‌ا مِّنْهَا إِنَّا إِلَىٰ رَ‌بِّنَا رَ‌اغِبُونَ ﴿٣٢﴾
کیا عجب ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے ہم تو اب (١) اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیں۔
٣٢۔١ کہتے ہیں کہ انہوں نے آپس میں عہد کیا کہ اب اگر اللہ نے ہمیں مال دیا تو اپنے باپ کی طرح اس میں سے غربا و مساکین کا حق بھی ادا کریں گے۔ اسی لیے ندامت اور توبہ کے ساتھ رب سے امیدیں بھی وابستہ کیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَذَٰلِكَ الْعَذَابُ ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَ‌ةِ أَكْبَرُ‌ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿٣٣﴾
یوں ہی آفت آتی ہے (۱) اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔ کاش انہیں سمجھ ہوتی۔ (٢)
٣٣۔١ یعنی اللہ کے حکم کی مخالفت اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں بخل کرنے والوں کو ہم دنیا میں اسی طرح عذاب دیتے ہیں۔ (اگر ہماری مشیت اس کی مقتضی ہو)
٣٣۔٢ لیکن افسوس وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے، اس لیے پروا نہیں کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَ‌بِّهِمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿٣٤﴾
پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں۔

أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِ‌مِينَ ﴿٣٥﴾
کیا ہم مسلمانوں کو مثل گناہ گاروں کے کر دیں گے۔ (١)
٣٥۔١ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اگر قیامت ہوئی تو وہاں بھی ہم مسلمانوں سے بہتر ہی ہوں گے، جیسے دنیا میں ہم مسلمانوں سے زیادہ آسودہ حال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا، یہ کس طرح ممکن ہے ہم مسلمانوں یعنی اپنے فرماں برداروں کو مجرموں یعنی نافرمانوں کی طرح کر دیں؟ مطلب یہ ہے کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے خلاف دونوں کو یکساں کر دے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ﴿٣٦﴾
تمہیں کیا ہو گیا، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟

أَمْ لَكُمْ كِتَابٌ فِيهِ تَدْرُ‌سُونَ ﴿٣٧﴾
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب (١) ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟
٣٧۔١ جس میں یہ بات لکھی ہوئی ہو جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو، کہ وہاں بھی تمہارے لیے وہ کچھ ہو گا جسے تم پسند کرتے ہو؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُ‌ونَ ﴿٣٨﴾
کہ اس میں تمہاری من مانی باتیں ہوں؟
٣٩۔١ یا ہم نے تم سے پکا عہد کر رکھا ہے، جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے کہ تمہارے لیے وہی کچھ ہو گا جس کا تم اپنی بابت فیصلہ کرو گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ لَكُمْ أَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۙ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ ﴿٣٩﴾
یا تم نے ہم سے قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وہ سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لو۔ (١)

سَلْهُمْ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ ﴿٤٠﴾
ان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہ دار (اور دعویدار) ہے؟ (١)
٤٠۔١ کہ وہ قیامت والے دن ان کے لیے وہی کچھ فیصلہ کروائے گا جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے فرمائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ لَهُمْ شُرَ‌كَاءُ فَلْيَأْتُوا بِشُرَ‌كَائِهِمْ إِن كَانُوا صَادِقِينَ ﴿٤١﴾
کیا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو چاہیے کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر یہ سچے ہیں۔ (۱)
٤۱۔۱ یا جن کو انہوں نے شریک ٹھہرا رکھا ہے، وہ ان کی مدد کر کے ان کو اچھا مقام دلوا دیں گے؟ اگر ان کے شریک ایسے ہیں تو ان کو سامنے لائیں تاکہ ان کی صداقت واضح ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ ﴿٤٢﴾
جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو (سجدہ) نہ کر سکیں گے۔ (١)
٤٢۔١ بعض نے کشف ساق سے مراد قیامت کے شدائد اور اس کی ہولناکیاں لی ہیں لیکن ایک صحیح حدیث اس کی تفسیر اس طرح بیان ہوئی ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا، (جس طرح کہ اس کی شان کے لائق ہے) تو ہر مومن مرد اور عورت اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے، البتہ وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھلاوے اور شہرت کے لیے سجدہ کرتے تھے، وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی ریڑھ کی ہڈی کے منکے، تختے کی طرح ایک ہڈی بن جائیں گے جس کی وجہ سے ان کے لیے جھکنا ناممکن ہو جائے گا (صحیح بخاری، تفسیر سورۃ ن والقلم) اللہ تعالیٰ کی یہ پنڈلی کس طرح کی ہو گی؟ اسے وہ کس طرح کھولے گا؟ اس کیفیت کو ہم نہ جان سکتے ہیں نہ بیان کر سکتے ہیں۔ اس لیے جس طرح ہم بلا کیف و بلا شبہ اس کی آنکھوں، کان، ہاتھ وغیرہ پر ایمان رکھتے ہیں، اسی طرح پنڈلی کا ذکر بھی قرآن اور حدیث میں ہے، اس پر بلا کیف ایمان رکھنا ضروری ہے۔ یہی سلف اور محدثین کا مسلک ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
خَاشِعَةً أَبْصَارُ‌هُمْ تَرْ‌هَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ ﴿٤٣﴾
نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھا رہی ہو گی، (۱) حالانکہ یہ سجدے کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جبکہ صحیح سالم تھے۔ (۲)
٤۳۔۱ یعنی دنیا کے برعکس ان کا معاملہ ہو گا، دنیا میں تکبر وعناد کی وجہ سے ان کی گردنیں اکڑی ہوتی تھیں۔
٤٣۔۲ یعنی صحت مند اور توانا تھے، اللہ کی عبادت میں کوئی چیز ان کے لیے مانع نہیں تھی۔ لیکن دنیا میں اللہ کی عبادت سے یہ دور رہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَذَرْ‌نِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِ‌جُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٤٤﴾
پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے (١) ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو گا۔ (۲)
٤٤۔١ یعنی میں ہی ان سے نمٹ لوں گا، تو ان کی فکر نہ کر۔
٤٤۔۲ یہ اسی استدراج (ڈھیل دینے) کا ذکر ہے جو قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے اور حدیث میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ نافرمانی کے باوجود، دنیاوی مال و اسباب کی فراوانی، اللہ کا فضل نہیں ہے، اللہ کے قانون امہال کا نتجہ ہے، پھر جب وہ گرفت کرنے پر آتا ہے تو کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔
 
Top