• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ ﴿١٥﴾
یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ (١)
١٥۔١ یعنی نبی ﷺ کی مخالفت اور دشمنی سے اور آپ ﷺ کو نماز پڑھنے سے جو روکتا ہے، اس سے باز نہ آیا لَنَسْفَعَنَّ کے معنی ہیں لَنَأْخُذَنَّ تو ہم اسے اس کی پیشانی سے پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ حدیث میں آتا ہے ابو جہل نے کہا تھا کہ اگر محمد (ﷺ) کعبے کے پاس نماز پڑھنے سے باز نہ آیا تو میں اس کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا۔ (یعنی اسے روندوں گا اور یوں ذلیل کروں گا) نبی ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے پکڑ لیتے۔ (صحيح البخاری، تفسير سورة العلق)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ﴿١٦﴾
ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے۔ (١)
١٦-۱ پیشانی کی یہ صفات بطور مجاز ہیں، جھوٹی ہے اپنی بات میں، خطا کار ہے اپنے فعل میں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ ﴿١٧﴾
یہ اپنی مجلس والوں کو بلا لے۔

سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ ﴿١٨﴾
ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلا لیں گے۔ (١)
١٨-۱ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل گزرا تو کہا اے محمد! (ﷺ) میں نے تجھے نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا تھا؟ اور آپ ﷺ سے سخت دھمکی آمیز باتیں کیں، آپ ﷺ نے کڑا جواب دیا تو کہنے لگا اے محمد! (ﷺ) تو مجھے کس چیز سے ڈراتا ہے؟ اللہ کی قسم، اس وادی میں سب سے زیادہ میرے حمایتی اور مجلس والے ہیں، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس رضی الله عنہما فرماتے ہیں، اگر وہ اپنے حمایتیوں کو بلاتا تو اسی وقت ملائکہ عذاب اسے اسے پکڑ لیتے۔ (ترمذی، تفسیر سورۂ اقرأ مسند احمد ۱/ ۳۲۹ وتفسیر ابن جریر) اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں کہ اس نے آگے بڑھ کر آپ ﷺ کی گردن پر پیر رکھنے کا ارادہ کیا کہ ایک دم الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا بچاؤ کرنے لگا، اس سے کہا گیا، کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ میرے اور محمد (ﷺ) کے درمیان آگ کی خندق، ہولناک منظر اور بہت سارے پر ہیں"۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، "اگر یہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کی بوٹی بوٹی نوچ لیتے"۔ (كتاب صفة القيامة، باب ﴿إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى﴾) الزَّبَانِيَة، داروغے اور پولیس۔ یعنی طاقتور لشکر، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِ‌ب ۩ ﴿١٩﴾
خبردار! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة القدر

(سورہ قدر مکی ہے اور اس میں پانچ آیتیں ہیں۔ اس سورت کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ میں بھی اختلاف ہے۔ قدر کے معنی قدر و منزلت بھی ہیں، اس لیے اسے شب قدر کہتے ہیں، اس کے معنی اندازہ اور فیصلہ کرنا بھی ہیں، اس میں سال بھر کے لیے فیصلے کیے جاتے ہیں، اسی لیے اسے لیلۃ الحکم بھی کہتے ہیں، اس کے معنی تنگی کے بھی ہیں۔ اس رات اتنی کثرت سے زمین پر فرشتے اترتے ہیں کہ زمین تنگ ہو جاتی ہے۔ شب قدر یعنی تنگی کی رات، یا اس لیے یہ نام رکھا گیا کہ اس رات جو عبادت کی جاتی ہے، اللہ کے ہاں اس کی بڑی قدر ہے اور اس پر بڑا ثواب ہے۔ اس کی تعیین میں بھی شدید اختلاف ہے۔ (فتح القدیر) تاہم احادیث و آثار سے واضح ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوتی ہے۔ اس کو مبہم رکھنے میں یہی حکمت ہے کہ لوگ پانچوں ہی طاق راتوں میں اس کی فضیلت حاصل کرنے کے شوق میں، اللہ کی خوب عبادت کریں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ‌ ﴿١﴾
یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا۔ (١)
١۔١ یعنی اتارنے کا آغاز کیا، یا لوح محفوظ سے اس بیت العزت میں، جو آسمان دنیا پر ہے، ایک ہی مرتبہ اتار دیا۔ اور وہاں سے حسب وقائع نبی ﷺ پر اترتا رہا تا آنکہ ۲۳ سال میں پورا ہو گیا۔ اور لیلتہ القدر رمضان میں ہی ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیت ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾ (البقرة: ۱۸۵) سے واضح ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ‌ ﴿٢﴾
تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟ (١)
٢۔١ اس استفہام سے اس رات کی عظمت و اہمیت واضح ہے، گویا کہ مخلوق اس کی تہ تک پوری طرح نہیں پہنچ سکتی، یہ صرف ایک اللہ ہی ہے جو اس کو جانتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَيْلَةُ الْقَدْرِ‌ خَيْرٌ‌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ‌ ﴿٣﴾
شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (۱)
۳۔۱ یعنی اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے اور ہزار مہینے ۸۳ سال ۴ مہینے بنتے ہیں۔ یہ امت محمدیہ پر اللہ کا کتنا احسان عظیم ہے کہ مختصر عمر میں زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے کیسی سہولت عطا فرما دی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّ‌وحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَ‌بِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ‌ ﴿٤﴾
اس میں (ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل علیہ السلام) اترتے ہیں۔ (۱)
٤۔۱ روح سے مراد حضرت جبرائیل عليہ السلام ہیں، یعنی فرشتے حضرت جبرائیل عليہ السلام سمیت، اس رات میں زمین پر اترتے ہیں، ان کاموں کو سرانجام دینے کے لیے جن کا فیصلہ اس سال میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ‌ ﴿٥﴾
یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے (١) اور فجر طلوع ہونے تک (رہتی ہے)۔
٥۔١ یعنی اس میں شر نہیں۔ یا اس معنی میں سلامتی والی ہے کہ مومن اس رات کو شیطان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں۔ یا فرشتے اہل ایمان کو سلام عرض کرتے ہیں۔ یا فرشتے ہی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں۔ شب قدر کے لیے نبی ﷺ نے بطور خاص یہ دعا بتلائی ہے [اللَّهُمَّ! إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (ترمذی أبواب الدعوات، ابن ماجہ، كتاب الدعاء، باب الدعاء بالعفو والعافية)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة البینة

(سورہ بینہ مدنی ہے اور اس میں آٹھ آیتیں ہیں۔ اس کا دوسرا نام سورہ لَمْ يَكُنِ بھی ہے۔ حدیث میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا، اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں سورہ (لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) تجھے پڑھ کر سناؤں۔ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا، کیا اللہ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا ہے؟ آپ نے فرمایا، "ہاں" جس پر (مارے خوشی کے) حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ (صحیح البخاری، تفسیر سورۃ لم یکن))

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔


لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِ‌كِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ ﴿١﴾
اہل کتاب کے کافر (۱) اور مشرک لوگ (۲) جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آ جائے باز رہنے والے نہ تھے (وہ دلیل یہ تھی کہ)
١۔١ اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔
۱۔۲ مشرک سے مراد عرب و عجم کے وہ لوگ ہیں جو بتوں اور آگ کے پجاری تھے۔ مُنْفَكِّينَ باز آنے والے، بَيِّنَةٌ (دلیل) سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ یعنی یہود و نصاریٰ اور عرب و عجم کے مشرکین اپنے کفر و شرک سے باز آنے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس محمد ﷺ قرآن لے کر آجائیں اور وہ ان کی ضلالت و جہالت بیان کریں اور انہیں ایمان کی دعوت دیں۔
 
Top