• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تنقید کیاامام وکیع امام ابوحنیفہ کے قول پر فتوی دیتے تھے

رحمانی

رکن
شمولیت
اکتوبر 13، 2015
پیغامات
382
ری ایکشن اسکور
104
پوائنٹ
91
http://forum.mohaddis.com/threads/کیا-امام-وکیع-بن-الجراح-امام-ابو-حنیفہ-کے-قول-پر-فتوی-دیتے-تھے؟.14202/

علماء کرام کا کہناہے کہ کسی طالب علم کیلئے اورکسی صاحب علم کیلئے انصاف سے بڑھ کر اوربہترکوئی خصلت نہیں،ایک اہل علم کی یاطالب علم کی یہ لازمی خصوصیت ہونی چاہئے ورنہ اس کی علمی تحقیق جانبداری کاشاہکارنمونہ ہوگی ،جب کہ تحقیق کا مطلب ہی یہ ہے کہ کسی شے کی اصل حقیقت کو سامنے لانا،نہ کہ تحقیق کرنےوالے کے اپنے خیالات اور تعصبات کو علمی تحقیق کے پردے میں پیش کرنا۔

حال میں ایک مضمون دیکھنے کا اتفاق ہوا ،جس کا عنوان ہے "کیاامام وکیع بن الجراح امام ابوحنیفہ کےقول پر فتوی ٰ دیتے تھے؟"اس عنوان کے تحت اس قول کی نفی کی گئی ہے کہ امام وکیع بن الجراح امام ابوحنیفہ کے قول پر فتوی نہیں دیتے تھےاوریہ کہاگیا اولاتو سند ضعیف ہے اور اگرمان بھی لیاجائے تو متن شاذ اورمنکر ہے اوربالفرض فتوی کی بات مان بھی لی جائے تو فتویٰ کاتعلق محض نبیذ والے قول کے تعلق سے تھا۔یہ مضمون نگار کے مضمون کا خلاصہ ہے۔

اولاہم اس قول کی سند کو دیکھتے ہیں۔

مضمون نگار کے قول کے مطابق پوری سند درست ہے محض علی کے والد حسین کے حالات نامعلوم ہیں یادوسرے لفظوں میں مجہول ہیں،اورمضمون نگارکے اعتراف کے مطابق اس شخص کے حالات توملتے ہیں مگر عدل وضبط کے تعلق سے کوئی بات نہیں ملتی ،اگرمضمون نگار تھوڑاغورکرتے توان کو معلوم ہوتا کہ بعض محدثین نے اس سند سے احادیث تک کو قبول کیاہے، کیاابن حبان اورابن خزیمہ کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم کہ وہ ایسے راوی کے روایت قبول کرلیتے ہیں جن کے اوپر اورنیچے ثقہ راوی ہو اگرچہ اس درمیان والے راوی کےحالات نامعلوم ہوں، ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس روایت کی سند ابن حبان اورابن خزیمہ کی شرط کے مطابق درست ہے۔دوسرے انہیں غورکرناچاہئے کہ ایک شخص جتنااپنے والد سے واقف ہوتاہے اتناکوئی دوسرانہیں ہوتا تواگر علی نے جوثقہ ہیں اپنے والد کی روایت کو قبول کیاہے تو اس کی کچھ وجہ ہوگی ۔

خود حافظ ذہبی نے دومقام پراس کی روایت کی ہے لیکن اس پرکسی قسم کا اعتراض نہیں کیاہے جب کہ حافظ ذہبی کی ہرجگہ یہ عادت رہی ہے کہ اگروہ کسی قسم کی روایت میں زیادہ بے اعتدالی محسوس کرتے ہیں تواس پر سند یامتن کے لحاظ سے تنبیہ کردیتے ہیں۔

بالخصوص یہ روایت مناقب کےباب میں ہے جس میں احادیث میں زیادہ تشدد نہیں برتا جاتا تو پھر امام ابوحنیفہ کے حالات میں اتناتشدد برتنے کی کیاضرورت ہے؟شریعت کایہ قاعدہ بھی ہمیں معلوم رہے کہ کسی سے حسن ظن رکھنے کیلئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں لیکن بدظنی کیلئے دلیل اورپختہ دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔

مضمو ن نگار نے محض اپنے خیال سے یہ ثابت کردیاکہ اس سند کا متن شاذ اورمنکر ہے اوراس کی وجہ یہ بیان کی کہ اس روایت میں ابن مبارک پر وکیع کوترجیح دی گئی اوردوسری روایت میں ترجیح نہیں دی گئی ،اگرمضمو ن نگار کھلے دل سے سوچتے تو ان کو معلوم ہوتاکہ یہ آگے پیچھے کا واقعہ بھی ہوسکتاہے یعنی ایک زمانہ میں وہ کسی ایک کو ترجیح دینے کے سلسلے میں متردد ہوگئے ہوں اور بعد میں ان کاخیال وکیع کی ترجیح کا اورافضلیت کا ہوگیاہو، ویسے بھی امام وکیع کوفہ کے ہیں جو بغدادکا ہی ایک حصہ ہےاورامام وکیع سے جس طرح یحیی بن معین کو ہروقت کی ملاقات اورشرف حضوری حاصل تھا وہ ابن مبارک کے تعلق سے نہیں تھا اورانسان جس سےزیادہ ملتاجلتاہے،جس کے حالات سےزیادہ واقف ہوتاہے اس کو بالفعل ترجیح دیتاہی ہے۔خود اسی قول میں ابن معین کا اعتراف ہے کہ انہوں نے وکیع کوجوترجیح دی ہے تو وہ کوئی سنی سنائی بات نہیں ہے بلکہ آنکھوں دیکھی بات ہے۔لہذا اس اصول کی رو سے تواس متن کا شاذ ومنکر ہوناغلط ثابت ہوگیا۔

امام وکیع فقیہ تھے مجتہد تھے،لیکن اس سے ان کے حنفی سے انکارہوناکیسےلازم آسکتاہے،امام ابویوسف اورامام محمد بن الحسن کے اعلیٰ درجہ کے مجتہد اورفقیہہ ہونےمیں کسے شک ہوسکتاہے لیکن اسی کے ساتھ ان کے حنفی ہونے کا کوئی شخص بہ ہوش وخرد انکارکرسکتاہے؟کیا امام مزنی کو قرآن وحدیث کا پتہ نہیں تھا تو وہ امام شافعی کے مکتب فکر سے کیسے وابستہ ہوگئے، امام مالک کے شاگردماجشون،قاسم ،ابن وہب وغیرہ کو قرآن وحدیث کا پتہ نہیں تھا توپھر وہ امام مالک سے کیوں چپکے رہے اورکیوں کے ان کے اقوال کی خدمت کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنایالہذا یہ کہناکہ وہ خود مفتی تھے وہ مجتہد تھے تو وہ حنفی کیسے ہوسکتے تھے، ایک ایسی بات ہے جس کا علم اورعقل سے دور کابھی تعلق نہیں۔

لہذا یہ کہنا کہ امام وکیع قرآن و حدیث کی بجائے ابو حنیفہ کے قول پر فتوی دیتے تھے، بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔

یہ سطراسی بات کی نشا ندہی کرتی ہے کہ مضمو ن نگار نے پہلے سے فرض کرلیاہے کہ امام ابوحنیفہ کاقول قرآن وحدیث کے مخالف ہوتاتھا،لہذا وکیع قران وحدیث کے مخالف قول پر فتوی نہ دے کر قران وحدیث کے مطابق فتوی دیاکرتے تھے۔استغفراللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ،اگرمضمون نگار کامنشایہ ہے کہ وہ خودفقیہہ اورمجتہد تھے تو امام ابوحنیفہ کے قول پر فتوی کیسے دے سکتے تھے اس کی وضاحت ماقبل میں گذرچکی ہے۔

سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ عِيسَى يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ حِينَ رَوَى هَذَا الحَدِيثَ، فَقَالَ: «لَا تَنْظُرُوا إِلَى قَوْلِ أَهْلِ الرَّأْيِ فِي هَذَا، فَإِنَّ الإِشْعَارَ سُنَّةٌ، وَقَوْلُهُمْ بِدْعَةٌ». وَسَمِعْتُ أَبَا السَّائِبِ يَقُولُ: " كُنَّا عِنْدَ وَكِيعٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ مِمَّنْ يَنْظُرُ فِي الرَّأْيِ: أَشْعَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ أَبُو حَنِيفَةَ هُوَ مُثْلَةٌ؟ قَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: الإِشْعَارُ مُثْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ وَكِيعًا غَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: أَقُولُ لَكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ، مَا أَحَقَّكَ بِأَنْ تُحْبَسَ، ثُمَّ لَا تَخْرُجَ حَتَّى تَنْزِعَ عَنْ قَوْلِكَ هَذَا "


"میں نے یوسف بن عیسیٰ کو یہ حدیث وکیع کے حوالے سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے فرمایا کہ اس مسئلے میں اہل رائے کا قول نہ دیکھو اس لئے کہ نشان لگانا (یعنی اشعار) سنت ہے اور اہل رائے کا قول بدعت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے ابوسائب سے سنا وہ کہتے ہیں ہم وکیع کے پاس تھے کہ انہوں نے اہل رائے میں سے ایک شخص سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشعار کیا (یعنی نشان لگایا) اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ یہ مثلہ ہے، اس پر وکیع غصے میں آگئے اور فرمایا میں تم سے کہتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور تم کہتے ہو کہ ابراہیم نخعی نے یوں کہا، تم اس قابل ہو کہ تمہیں قید کر دیا جائے یہاں تک کہ تم اپنے اس قول سے رجوع کرلو۔"

مجھے لگتاہے کہ مضمون نگار نے یہ ترجمہ کہیں اور سےکاپی پیسٹ کیاہے اوراسی وجہ سے درمیان ابراہیم نخععی کےقول کا ترجمہ چھوٹ گیاہے کیونکہ ایک اورجگہ اورکتاب میں ،میں نے ایسادیکھاہے۔

اولاًتوکسی مسئلے میں سختی سے انکار سے یہ لازم نہیں آتاکہ وہ امام ابوحنیفہ سے برگشتہ ہوگئے ہوں، المبسوط للسرخسی میں دیکھئے ،وہاں امام محمد بن حسن نے امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے ایک قول کو تحکم سے تعبیر کیاہے توکیااس کا مطلب ہم یہ نکال لیں کہ امام محمد حنفی نہیں رہے یاللعجب!متبحر علماء نے اگراپنے متبوعین کی کوئی غلطی دیکھی ہے تواس پر انکار کرتے آئے ہیں، کبھی یہ انکار نرم لفظوں میں بھی ہوااورکبھی سخت لفظوں میں بھی ،محمد بن عبدالحکم امام شافعی کے شاگردوںمیں ہیں لیکن امام شافعی کے خلاف ایک کتاب لکھی اورکتاب کا موضوع ہے ماخالف فیہ الشافعی القران والسنہ ،یعنی یہ کتاب اس بیان میں ہےکہ جس میں شافعی نےقرآن وحدیث کی مخالفت کی ہے، توکیااب محمد بن عبدالحکم کو امام شافعی کا شاگرد تسلیم نہ کیاجائےکیوں کہ انہوں نے ایسی پوری کتاب لکھ دی۔لہذا وکیع کے شعارمسئلہ میں انکار کو فقہ حنفی سے برگشتہ ہونے کی دلیل بناناعلمی معیارپردرست نہیں اترتا۔

جواقتباس پیش کیاگیاہے اس میں یہ حقیقت واضح ہے کہ جب امام ابوحنیفہ کے قول کا ذکر ہواکہ اشعار مثلہ ہےاوراس پر امام وکیع نے تنقید کی تو کسی شخص نے ابراہیم نخعی کاحوالہ دیاتوامام وکیع غصے میں آگئے حالانکہ اس شخص کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ امام ابوحنیفہ پر حدیث کی مخالفت کی جوبات کہہ رہے ہیں اس کا الزام ابراہیم نخعی تک جائے گاکیونکہ ان کا بھی یہی قول ہے،اس شخص کا یہ مطلب نہیں تھاکہ ابراہیم کا قول رسول اللہ کے قول کے مقابلہ میں پیش کیاجاسکتاہے،ایساکوئی مسلمان نہیں سوچ سکتا،اس شخص نے محض امام ابوحنیفہ سے مخالفت حدیث کا دفاع کرناچاہاتھاکہ امام ابوحنیفہ سے بیشتر ایک جلیل القدر تابعی اور عبداللہ بن مسعود سے فیض یافتہ خاندان کا ایک فرد علقمہ واسود جیسے اکابرتابعین کے بھانجے کا بھی قول یہی ہے۔

جہاں تک یفتی بقول ابی حنیفہ کی یہ تاویل ہے کہ وہ محض شرب نبیذ کے مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کے قول پر فتوی دیتے تھے تویہ عبدالرحمن کی حددرجہ مضحکہ خیزاورغلط تاویل ہے۔اگرکسی کے نام کے ساتھ یفتی بقول الشافعی آئے توکیایہ کہناصحیح ہوگا کہ وہ محض امام شافعی کے ایک قول پرفتوی دیاکرتے تھے، یفتی عام ہے مطلب کہ عام حالات میں اورعام معاملات میں وہ امام ابوحنیفہ کے قول پر فتوی دیتے تھے تاکہ وقتیکہ کے کسی مسئلہ کےبارے میں ان کی اپنی کوئی مستقل رائے نہ ہو اوریہ کہ وہ قول ان کی نگاہ میں قرآن وحدیث کے مخالف نہ ہو۔

امام ذہبی کا جوقول اس کی تائید میں نقل کیاکہ وہ محض شرب نبیذ کے مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کی رائے سے متفق تھے ،اولاًتو یہ کہناہی غلط ہے کہ شرب نبیذ امام ابوحنیفہ کی ذاتی رائے تھی یہ فقہاء کوفہ کی عمومی رائے تھی ،اس میں امام ابوحنیفہ کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اہل کوفہ کے نبیذ پینے کی بات کو دیگر شہروں کے علماء اورعوام میں بھی شہرت تھی۔

ثانیایہ کہ حافظ ذہبی کا وکیع کے نبیذ پینے کو ذکر کرنے کا یفتی بقولہ سے کوئی تعلق نہیں ہے،وہ تومحض وکیع پرتنقید کرناچاہ رہے ہین کہ ان میں تمام خصال خیر جمع تھے بس یہ ایک نبیذپینے کی عادت غلط تھی اور نبیذ کےبارے میں ان کو غلو بھی تھا چنانچہ جب کسی نے اپنے خواب کا ذکر کیاتوانہوں نےشیطانی کارروائی قراردے دی،پتہ نہیں کس طرح ان ذہین لوگوں نے کہاں کی اینٹ اورکہاں کےروڑے کو کہاں لاکر جوڑدیاہے۔اورحقیقت یہ ہے کہ حافظ ذہبی نے اہل کوفہ کی کئی شخصیات اورخود وکیع کے نبیذ پینےپرتنقید کی ہے۔ اس کا یفتی بقولہ سے کوئی تعلق نہیں۔

جہاں تک بن ابی رباح سے سماع کا تعلق ہےتوامام وکیع کا عطاء بن ابی رباح سے امام ابوحنیفہ کی سماعت پرشک کرنا غلط ہے کیونکہ امام ابوحنیفہ سے بسند صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایاہے کہ میں نے عطاء بن ابی رباح سے زیادہ افضل کسی کونہیں دیکھااور یہ کہ ان کےاساتذہ میں عطاء کا نام موجود ہے،کتاب الآثار میں ان کی روایت موجود ہے چنانچہ دیگر محققین نے بھی وکیع کی اس بات کوغلط قراردیاہے

رہ گیا دوسوحدیث کی مخالفت کا مسئلہ

اگر ٹھنڈے دل سے سوچیں تو ایساہوتاہے کہ ایک ہی حدیث سے مسائل کے استنباط میں لوگوں کے نقطہ نظر مختلف ہوجایاکرتے ہیں ،کوئی اس کو اختلاف رائے کا نام دیتاہے اورکوئی مخالفت حدیث کا ،پھر دوسری جانب امام ابوحنیفہ سے ایک محتاط ترین اندازہ کے مطابق 60ہزار مسائل منقول ہیں ،اگردوسومسائل میں غلطی ہوگئی توزیادہ امکان یہ ہے کہ ان تک یہ حدیث نہیں پہنچی ہوگی اوراگرپہنچی ہوگی بھی تو ان کے نزدیک یہ حدیث صحیح ثابت نہیں ہوئی ہوگی،تووکیع کے بقول محض دوسومسائل میں ان سے غلطی ہوئی بقیہ 59800جو مسائل ہیں اس بارے میں اگرہم مفہوم مخالف کو سامنے رکھیں تو کہناپرے گاکہ وہ اس میں امام ابوحنیفہ کے ہمنوا تھے اور 60ہزار میں دوسوکا تناسب کیاہے یہ ہرایک بآسان جان سکتاہے۔
 
Top