• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

توحید کے تقاضے از سید ابو بکر غزنوی

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
896
ری ایکشن اسکور
231
پوائنٹ
111
توحید کے تقاضے از سید ابو بکر غزنوی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

"پہلی بات میں یہ کہتا ہوں اور میرا اوّلین مخاطب خود میرا نفس ہے کہ یہ سمجھنا خود فریبی میں مبتلا ہونا ہے کہ صرف قبروں کی پوجا نہ کرکے آدمی نے توحید کے سب تقاضے پُورے کردئیے۔

((وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّـهِ أَندَادًا))
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ سے ہٹ کر اوروں کو اس کا ہم پلہ بنالیتے ہیں۔ “​

آپ غور کیجئے کہ قرآن نے جہاں بھی توحید بیان کی ” مِن دُونِ اللَّـهِ “ کے لفظ استعمال کیے۔

((إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ))
اللہ کے علاوہ جن کو تم پُکارتے ہو، وہ بھی تمہاری طرح بندگان ِخُدا ہیں۔ “​
یہاں بھی لفظ ” مِن دُونِ اللَّـهِ

((وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ))
اور جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں، وہ خود کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ انہیں پیدا کیا گیا ہے۔ “​

مِن دُونِ اللَّـهِ “ کے لفظ اتنے جامع ہیں کہ ان میں تمام غیر اللہ شامل ہیں۔ ان میں زندہ بھی شامل ہیں اور مُردہ بھی شامل ہیں۔

تُم میں سے بعض نے مُردوں سے مرادیں مانگیں اور تم میں سے بعض نے زندوں سے مُرادیں مانگیں، افسوس ! تُم نے مل کر غیر اللہ سے مرادیں مانگیں۔

قرآن اُٹھا کر دیکھئے۔ قرآن کے تیس پاروں میں سب سے زیادہ زندہ فرعونوں کی نفی پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا گیا کہ یہ نمرود جو خُدا بن بیٹھا ہے اس کی نفی کرو۔ یہ قبر کی نفی نہیں ہو رہی تھی بلکہ زندہ جابر حکمران کی نفی کا حکم دیا جا رہا تھا۔

حکیم الاُمت رحمۃ اللہ علیہ ، اللہ ان کی قبر کو نُور سے بھردے ، اُنھوں نے دو مصرعوں میں اس مطلب کو بیان کیا۔

اے کہ اندر حجرہ ہاسازی سُخن
نعرہ لا پیش نمرود ے بُزن


اے حجروں کے اندر بیٹھ کر باتیں بنانے والو! کسی نمرود کے سامنے جاکر لا کا نعرہ لگاؤ۔

قبر تو مٹی کا ڈھیر ہے۔ اس کی نفی میں کون سی دقت پیش آتی ہے جس کسی نے قبر پر چادر نہ چڑھائی اور چراغ نہ جلایا ، وہ اتراتا پھرتا ہے کہ توحید کے سب تقاضے اس نے پُورے کر دئیے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو توحید کی ارتقائی منزلوں سے گزارا گیا تو ان سے بھی یہی کہا گیا کہ:

((اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ))
جاؤ جاکر فرعون کی نفی کرو اور اُس کے روبرو جا کر اس کی نفی کرو وہ سرکش ہوگیا ہے۔‘‘​

اور حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھو کہ عزیز مصر کی نفی کررہے ہیں۔ زندہ خداؤں کی نفی کرنا بڑی کٹھن منزل ہے۔ انبیاء کرام کی توحید یہی تھی۔ صحابہ کرام کی توحید یہی تھی ائمہ کرام کی توحید یہی تھی۔

وہ تمام ضمیر فروش علماء جو دنیا دار جاہ طلب، سرمایہ داروں کی زکوٰتیں کھا کر سال بھر ان کی کاسہ لیسی اور حاشیہ برداری کرتے ہیں اور اس کے باوجود اپنے آپ کو توحید کے بلند ترین مقام پر فائز سمجھتے ہیں اور پُوری ملت اسلامیہ کو حقیر جانتے ہیں اور ان کی توحید کا حال یہ ہے کہ حقیر ترین دنیاوی اغراض کے لیے دُنیا دارسرمایہ داروں کے گھروں کا طواف کرتے ہیں اور اُن کی صُبحیں اور شامیں ان کی چاپلوسی میں بسر ہوتی ہیں۔

کیا ” مِن دُونِ اللَّـهِ “ میں صرف حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ہی شامل ہیں؟ کیا فاسق وفاجر حکام اور دُنیا دار سرمایہ دار ” مِن دُونِ اللَّـهِ “میں شامل نہیں ہیں؟ یہ کیا منطق ہوئی؟

توحید کا یہ تصور ان لوگوں نے اپنے جی سے گھرالیا ہے۔ کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توحید تو بڑی انقلاب آفریں ہے، وہ تو ساری دُنیا کے بادشاہوں کے نام انقلابی خطوط لکھنے والی توحید ہے۔

أَسْلِمْ تَسْلَمْاسلام لاؤ تو محفوظ رہ سکو گے۔

اس توحید کے نتائج کا ظہور تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے اس اعلان میں ہوا تھا۔

((هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ هَلَكَ كِسْرَى ، فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ))
فرمايا كہ میری آمد کا بدیہی نتیجہ قیصر وکسریٰ کی ہلاکت ہے اور یہ انقلاب جو میں برپا کررہا ہوں۔ اس کا بدیہی نتیجہ قیصر یت اور شہنشاہیت کی تباہی ہے۔

دوستو! وقت کے فرعونوں کی بھی نفی کرو۔ دُنیا دار سرمایہ داروں کی بھی نفی کرو ۔

((لا تَسألَ النّاسَ شيئًا)) غیر اللہ سے کچھ نہ مانگو۔ نہ مُردوں سے مانگو، نہ زندوں سے کُچھ مانگو۔

حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ”فتوح الغیب“ میں توحید بیان فرماتے ہیں:

((مادمت قائماً مع الخلق، راضياً لعطاياهم، متردداً اليٰ ابوابهم، انت مشرك باللّٰه خلقه۔ ))

جب تک تو مخلوق کے سہارے لیتا ہے۔ زندوں کے سہارے لیتا ہے اور مرُدوں کے سہارے لیتا ہے جب تک ان کی جیب پر تمہاری نظر ہے، جب تک ان کی بخشش اور نوال کی آس لگائے بیٹھا ہے، جب تک ان کے دروازوں پر تو دھکے کھا رہا ہے۔ تو اللہ کے ساتھ ان کو شریک ٹھہرا رہا ہے۔‘‘​

محمد علی جوہر رحمۃ اللہ علیہ توحید بیان فرماتے ہیں:

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

اور سلطان باہو فرماتے ہیں:

چوتیغ لا بدست آری بیا تنہا چہ غم داری
مُجوازغیرحق یاری کہ لا فتَّاح اِلَّا ہُو


جب لا کی تلوار تیرے ہاتھوں میں ہے تو حق کے سوا کسی کا سہارا نہ لو کہ اس کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں۔‘‘​

اور شیخ شیراز سے توحید سُنیے:

موحد کہ در پائے ریزی زرش
وگر تیغ ہندی نئی برسرش
امید وہراش نہ باشدزکس

ہمیں است بنُیاد توحید وبس

موحد وہ ہے جس کے قدموں میں تم سونے کے انبار لگادو، مگر اس کی رال نہ ٹپکے،جس کے سر پر آرا لٹکادو، لیکن اللہ کے سوا کسی کا خوف اس کے دل میں نہ ہو۔ “​

(تقاریر وخطابات سید ابوبکر غزنوی ص ۱۱)
 
Top