محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,085
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
درج ذیل صورتوں میں تیمم کرنا جائز ہے:
1- پوری کوشش کرنے کے باوجود پانی نہ مل رہا ہو۔
2- پانی موجود ہو لیکن استعمال نہ کر سکتا ہو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ (المائدة: 6)
’’اور اگر جنبی ہو تو غسل کر لو اور اگر تم بیمار ہو، یا کسی سفر پر، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر کوئی پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو، پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو۔‘‘
- جس شخص کے پاس اتنا پانی ہو جس سے وضو کے بعض اعضاء دھوئے جا سکتے ہوں وہ جتنے اعضاء دھو سکتا ہے دھو لے گا باقی اعضاء کے بدلے تیمم کرے گا۔
ارشاد باری تعالی ہے:
فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (التعابن: 16)
’’سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔‘‘
امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کسی مسافر کو پیاس لگنے کا خدشہ ہو اور اس کے پاس پانی تھوڑا ہوکہ اگر وہ اس سے وضو کر لے گا تو پیاسا رہ جائے گا وہ پانی پینے کے لیے رکھ لے گا اورنمازکےلیے تیمم کرے گا۔ (الاوسط از ابن المنذر، جلد نمبر 2، صفحہ نمبر 34)
- وہ مریض آدمی جس کو پانی استعمال کرنے سے ہلاکت کا خدشہ ہوا س کےلیے بھی تیمم کرنا جائز ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (النساء: 29)
’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر ہمیشہ سے بے حد مہربان ہے۔‘‘
- اگر مریض آدمی کو خدشہ ہو کہ پانی استعمال کرنے سے اس کا مرض بڑھ جائے گا یا شفایابی لیٹ ہو جائے گی تو اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (البقرة: 185)
’’اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اورتمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘‘
-اگر کوئی شخص زخمی ہو پانی نہ استعمال کرسکتا ہو تو وہ تندرست اعضاء کو دھوئے گا اور زخمی اعضاء کے بدلے تیمم کرے گا۔
- اگر پانی شدید ٹھنڈا ہو اور اس کے گرم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو، نیز ٹھنڈا پانی استعمال کرنے سے بیمار ہونے کا خدشہ ہو۔
عبدالرحمٰن بن جبیر، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ ذات سلاسل میں مجھے ایك ٹھنڈی رات احتلام ہو گیا، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا، چنانچہ میں نے تیمم کر لیا اور اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی، انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ذکر یا تو آپ ﷺ نے پوچھا ”اے عمرو، کیا تو نے جنبی ہوتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی جماعت کرائی تھی؟“ میں نے بتایا کہ کس وجہ سے میں نے غسل نہیں کیا تھا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اللہ کا فرمان سنا ہے {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} ”اپنے آپ کو قتل نہ کرو، اللہ تم پر بہت ہی مہربان ہے۔“ تو رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور کچھ نہ کہا۔ (سنن أبى داود: 334)
1- پوری کوشش کرنے کے باوجود پانی نہ مل رہا ہو۔
2- پانی موجود ہو لیکن استعمال نہ کر سکتا ہو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ (المائدة: 6)
’’اور اگر جنبی ہو تو غسل کر لو اور اگر تم بیمار ہو، یا کسی سفر پر، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر کوئی پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو، پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو۔‘‘
- جس شخص کے پاس اتنا پانی ہو جس سے وضو کے بعض اعضاء دھوئے جا سکتے ہوں وہ جتنے اعضاء دھو سکتا ہے دھو لے گا باقی اعضاء کے بدلے تیمم کرے گا۔
ارشاد باری تعالی ہے:
فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (التعابن: 16)
’’سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔‘‘
امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کسی مسافر کو پیاس لگنے کا خدشہ ہو اور اس کے پاس پانی تھوڑا ہوکہ اگر وہ اس سے وضو کر لے گا تو پیاسا رہ جائے گا وہ پانی پینے کے لیے رکھ لے گا اورنمازکےلیے تیمم کرے گا۔ (الاوسط از ابن المنذر، جلد نمبر 2، صفحہ نمبر 34)
- وہ مریض آدمی جس کو پانی استعمال کرنے سے ہلاکت کا خدشہ ہوا س کےلیے بھی تیمم کرنا جائز ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (النساء: 29)
’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر ہمیشہ سے بے حد مہربان ہے۔‘‘
- اگر مریض آدمی کو خدشہ ہو کہ پانی استعمال کرنے سے اس کا مرض بڑھ جائے گا یا شفایابی لیٹ ہو جائے گی تو اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (البقرة: 185)
’’اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اورتمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘‘
-اگر کوئی شخص زخمی ہو پانی نہ استعمال کرسکتا ہو تو وہ تندرست اعضاء کو دھوئے گا اور زخمی اعضاء کے بدلے تیمم کرے گا۔
- اگر پانی شدید ٹھنڈا ہو اور اس کے گرم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو، نیز ٹھنڈا پانی استعمال کرنے سے بیمار ہونے کا خدشہ ہو۔
عبدالرحمٰن بن جبیر، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ ذات سلاسل میں مجھے ایك ٹھنڈی رات احتلام ہو گیا، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا، چنانچہ میں نے تیمم کر لیا اور اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی، انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ذکر یا تو آپ ﷺ نے پوچھا ”اے عمرو، کیا تو نے جنبی ہوتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی جماعت کرائی تھی؟“ میں نے بتایا کہ کس وجہ سے میں نے غسل نہیں کیا تھا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اللہ کا فرمان سنا ہے {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} ”اپنے آپ کو قتل نہ کرو، اللہ تم پر بہت ہی مہربان ہے۔“ تو رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور کچھ نہ کہا۔ (سنن أبى داود: 334)