1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جائیداد کی زكواة کے متعلق ایک سوال

'زکوۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از مبشر الحسن, ‏مارچ 31، 2019۔

  1. ‏مارچ 31، 2019 #1
    مبشر الحسن

    مبشر الحسن مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 31، 2019
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    میں نے قسطوں پر ایک گھر خریدا ھے. قسطیں مکمل ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گذر گیا. مگر مجھے کمپنی نے ابھی تک اس کا قبضہ نہیں دیا.. کیا اس پر مجھے زکواة ادا کرنی ھوگی ؟
     
  2. ‏مارچ 31، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيد المرسلين
    سعودی عرب کے جید علماء کا فتوی پیش ہے ؛

    لا زكاة في هذه الأراضي والأملاك إلا إذا كان قد أعدها للبيع والتجارة فيها .
    وطريقة حساب زكاتها : أن تُقوَّم عند تمام الحوْل ثم يُخرج ربع عشر قيمتها أي 2.5%
    أما إن كانت هذه الأملاك معدة لاستخدام الرجل لها ولخدمته أو أنه يستخدمها في العمل مثل تأجيرها أو ما شابه ذلك ولا يتاجر بعينها : فإنه لا زكاة عليها والحالة هذه .
    يقول الشيخ ابن عثيمين حفظه الله تعالى - مفصلاً القول في زكاة عروض التجارة - :

    العروض : جمع عَرَض أو عَرْض بإسكان الراء ، وهو المال المعد للتجارة وسمي بذلك ؛ لأنه لا يستقر ، يُعرض ، ثم يزول ، فإن المتَّجر لا يريد هذه السلعة بعينها ، وإنما يريد ربحها؛ لهذا أوجبنا زكاتها في قيمتها لا في عينها.

    العروض إذاً : كل ما أُعد للتجارة من أي نوع ، ومن أي صنف كان ، وهو أعم أموال الزكاة وأشملها ؛ إذ إنه يدخل في العقارات ، وفي الأقمشة ، وفي الأواني ، وفي الحيوان ، وفي كل شيء .

    ترجمہ :
    اراضى اور املاك پر زكاۃ نہيں ہے، ليكن اگر اراضی اور مکانات فروخت اور تجارت كے ليے ركھا ہوں تو پھر زكاۃ ہو گى.
    اور اس كى زكاۃ كا حساب اس طرح ہو گا: سال مكمل ہونے پر اس اراضى اور املاك كى ماركيٹ ويليو كے مطابق قيمت لگا كر اس ميں سے دس كا چوتھائى حصہ يعنى اڑھائى فيصد زكاۃ ادا كى جائے گى.
    ليكن اگر يہ املاك آدمى كے استعمال اور خدمت يا پھر اس نے اپنے كام ميں استعمال كے ليے ركھى ہو مثلا اسے كرايہ پر دے ركھا ہو، يا اس طرح كسى اور كام ميں اور وہ اس املاك كى بعينہ تجارت نہ كرتا ہو تو اس حالت ميں اس پر زكاۃ نہيں ہو گى.

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى ـ تجارتى سامان كى زكاۃ ميں تفصيل بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:
    العروض: عرض راء پر زبر يا عرض راء پر سكون كى جمع ہے، اور يہ وہ مال اور سامان ہے جو تجارت كے ليے تيار كيا گيا ہو، اور اسے يہ نام اس ليے ديا گيا ہے كيونكہ يہ مستقر نہيں رہتا، پيش كيا جاتا ہے، اور پھر زائل ہو جاتا ہے كيونكہ تجارت كرنے والا بعينہ يہ سامان نہيں چاہتا، بلكہ وہ تو اس كا منافع حاصل كرنا چاہتا ہے، اس ليے اس كى قيمت ميں زكاۃ واجب ہے، نہ كہ بعينہ اس چيز ميں.

    لہذا عروض يعنى تجارتى سامان اس وقت ہر وہ چيز ہو گى جو تجارت كے ليے تيار ہوئى ہو، چاہے وہ كسى بھى نوع اور قسم سے تعلق ركھے، اور يہ زكاۃ كے اموال كو عام اور شامل ہے؛ كيونكہ يہ جائداد ميں بھى داخل ہے، اور كپڑے ميں بھى، اور برتنوں ميں بھى، اور حيوانات ميں، بلكہ ہر چيز ميں.
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    فتوی 2
    الأراضي والشقق والمحلات لا زكاة فيها مهما بلغت قيمتها إلا إذا كانت للتجارة ، بمعنى أن صاحبها يتاجر فيها ، فيشتري العقارات ثم يبيعها من أجل الربح ، وقد سبق بيان ذلك في الفتوى رقم : (10823) .
    وبناء على هذا ، فالعقارات المؤجرة لا زكاة فيها ، وإنما تجب الزكاة في الأجرة إذا بلغت نصابا ومرت عليها سنة .
    قال الشيخ ابن باز رحمه الله:
    " إن كان العقار من بيت أو دكان أو أرض ، معدا للإجارة : فإن الزكاة لا تجب في أصله ، وإنما تجب في الأجرة إذا بلغت النصاب ، وحال عليها الحول" .
    انتهى من " مجموع فتاوى ابن باز " ( 14 / 167 ) .

    وعلى هذا ، فلا زكاة في تلك الشقة المذكورة في السؤال ، وإنما تجب الزكاة في الأجرة إذا ادخرت لمدة سنة ، وكانت نصابا ، ونصاب النقود هو قيمة 595 جرام من الفضة .

    اگر زمین، مکانات، دکانیں تجارت کیلئے نہیں ہیں تو ان میں سے کسی پر بھی زکاۃ نہیں ہے، چاہے ان کی قیمت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، یعنی اگر مالک ان اراضی اور مکانات وغیرہ کی خرید و فروخت کا کام نفع کمانے کیلئے نہیں کرتا،

    چنانچہ کرایہ پر دی گئی پراپرٹی پر زکاۃ لاگو نہیں ہوتی، تاہم حاصل شدہ کرایہ کی رقم نصاب تک پہنچ جائے اور ایک مکمل سال بھی گزر جائے تو اس پر زکاۃ واجب ہوگی۔

    شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "اگر پراپرٹی مکان، دکان، یا زمین کی صورت میں کرایے پر دی گئی ہو تو اس میں زکاۃ نہیں ہے، البتہ ان سے حاصل ہونے والے کرایے پر زکاۃ ہو گی ، بشرطیکہ کرایے کی رقم سے اس قدر رقم ہو جائے جو نصاب کو پہنچتی ہو اور اس پر ایک سال بھی پورا ہو جائے" انتہی " مجموع فتاوى ابن باز " ( 14 / 167 )

    لہذا سوال میں مذکور مکان پر زکاۃ نہیں ہے، تاہم نصاب مکمل ہونے کے بعد ایک سال تک جمع ہونے والے کرایے پر زکاۃ ہوگی، نقدی رقم کیلئے نصاب 595 گرام چاندی ہے۔
     
  3. ‏مارچ 31، 2019 #3
    مبشر الحسن

    مبشر الحسن مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 31، 2019
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    جزاك الله خيرا في الدارين..
    آپ نے تو تمام سوال اور مسائل کا حل پیش کر دیا.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں