ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 928
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
جامیہ و مداخلہ کا فتنہ اور اطاعتِ طاغوت کا منہج
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للّٰہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، وعلی آلہ وصحبہ ومن اتبع ہداہ۔
جب دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیاوی حکمرانوں کی خوشنودی کے لیے مسخ کیا جانے لگا، جب منابرِ توحید سے طواغیت کی مدح و ثناء گائی گئی، اور جب اہلِ جہاد کو ’’خوارج‘‘ کے القاب سے مطعون کیا جانے لگا، تو اس وقت ایک ایسا فتنۂ منحرف و دینی تباہی کا سرچشمہ ظہور پذیر ہوا جسے آج جامیہ و مداخلہ کہا جاتا ہے۔
شیخ خالد بن علی المرضی الغامدی جو شیخ ابن باز و علامہ ابن عثیمین کے تلامذہ میں سے ہیں انہوں نے اپنے مشاہدہ و تجربہ کی بنیاد پر فرقہ جامیہ و مدخلیہ کے باطن کو نہایت وضاحت سے بیان کیا ہے۔
شیخ خالد بن علی المرضی الغامدی فرماتے ہیں :
الجامية والمداخلة اتباع محمد أمان الجامي الإثيوبي ، وربيع بن هادي المدخلي . وقد ظهرت هذه الفرقة في المدينة عام ١٤١١ ، وقد تأثرت من قبل بحركة الألباني حين كان بالمدينة عام ١٣٨١ هـ ، وبقيت على منهجه حتى خرج جهيمان عام ١٤٠٠ وكان كثير منهم معه ، ثم تغير فكرهم للدعوة للطاعة لكن لم تظهر إلا بعد حرب الخليج والإنكار على من أفتى بالاستعانة بالكفار، وتزعمها أمان الجامي وربيع المدخلي وكان من رؤوس الإخوان فانقلب عليهم ، وكان المقصود من حركتهم مواجهة كل من ينكر على الحكام أو يخرج عليهم ، بل إنهم جابهوا حتى من يرى شرعية الحكومات إذا أنكر المنكرات الظاهرة، لأنه يوغر القلوب على الولاة. وقد نال هجومهم السلفيين والمجاهدين والمحتسبين وجماعة الإخوان.
جامیہ و مداخلہ محمد امان الجامی ایتھوپی اور ربیع بن ہادی المدخلی کے پیروکار ہیں۔ یہ فرقہ سنہ 1411ھ میں مدینہ منورہ میں ظاہر ہوا۔ اس سے پہلے یہ لوگ البانی کی تحریک سے متاثر تھے، جب وہ 1381ھ میں مدینہ میں موجود تھے، یہ لوگ اس کے منہج پر قائم رہے یہاں تک کہ جہیمان نے 1400ھ میں حکومت کے خلاف خروج کیا، اور ان میں سے بہت سے لوگ اس کے ساتھ تھے۔ بعد ازاں ان کا فکری رجحان بدل گیا اور وہ دعوتِ طاعتِ حکام کی طرف مائل ہو گئے، تاہم یہ جماعت ظاہر نہ ہوئی یہاں تک کہ خلیجی جنگ کے بعد سامنے آئی، جب بعض علما نے کفار سے استعانت کے فتوے پر انکار کیا۔ تب امان جامی اور ربیع مدخلی نے اس تحریک کی قیادت سنبھالی، اور ربیع مدخلی خود اخوان المسلمین کے سرکردہ افراد میں سے تھا، پھر انہی پر پلٹ گیا۔ ان کی تحریک کا مقصد ہر اس شخص کا مقابلہ کرنا تھا جو حکمرانوں پر تنقید کرے یا ان کے خلاف خروج کرے، بلکہ انہوں نے ان علما اور دعات تک کو بھی نشانہ بنایا جو حکومتوں کو شرعی طور پر جائز تو مانتے تھے، لیکن ظاہر منکرات پر نکیر کرتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ عمل حکام کے خلاف عوام کے دلوں میں بغض پیدا کرتا ہے۔ ان کے حملوں کی زد میں سلفی علما، مجاہدین، محتسبین اور جماعتِ اخوان سب آئے۔
[شرح نواقض الاسلام للشيخ خالد علي مرضي الغامدي، ص : ١١١]
شیخ خالد بن علی المرضی الغامدی نے بڑی بصیرت کے ساتھ فرمایا: «اتباع محمد أمان الجامي الإثيوبي، وربيع بن هادي المدخلي.» یہ فرقہ محمد امان الجامی ایتھوپی اور ربیع بن ہادی المدخلی کی پیروی کرنے والوں کا گروہ ہے۔ یہ دونوں نام دراصل فتنۂ اطاعتِ طاغوت کے بانی ہیں، جنہوں نے منہجیت کو طاغوتی حکومتوں کے استحکام کے لیے سیاسی ہتھیار کے روپ میں تبدیل کرنے کی سازشیں کی۔
شیخ خالد الغامدی فرماتے ہیں «وقد ظهرت هذه الفرقة في المدينة عام ١٤١١...» یہ فرقہ سنہ 1411ھ میں مدینہ منورہ میں ظاہر ہوا۔ اگرچہ اس سے قبل ان کے افکار کی جڑیں البانی کی تحریک کے بعض اثرات میں پائی جاتی تھیں۔
چنانچہ وہ مزید فرماتے ہیں «وقد تأثرت من قبل بحركة الألباني حين كان بالمدينة عام ١٣٨١ هـ، وبقيت على منهجه حتى خرج جهيمان عام ١٤٠٠...» یہ لوگ پہلے البانی کی تحریک سے متاثر رہے، یہاں تک کہ جہیمان نے حکومت کے خلاف خروج کیا تو ان میں سے بہت سے اس کے ساتھ تھے۔
جہیمان کے واقعے کے بعد جب حکومتوں کو اسلامی بیداری اور سلفی دعوت سے خطرہ محسوس ہوا، تو انہی لوگوں کو درباری علماء کے سانچے میں ڈھال کر ایسے افراد تیار کیے گئے جو “منہج” کے نام پر حق کے مقابل باطل کی وکالت کریں۔
شیخ خالد الغامدی فرماتے ہیں: «ثم تغير فكرهم للدعوة للطاعة...» پھر ان کا فکری رجحان بدل گیا اور وہ اطاعت کی دعوت دینے لگے۔ یہ وہ "دعوت" تھی جس نے امت کی روحِ جہاد، غیرتِ ایمانی، اور فریضۂ امر بالمعروف کو غفلت کے غار میں دفن کردیا۔ یہ لوگ "طاعت" کا نعرہ لگاتے ہیں مگر طاعتِ خالق نہیں، بلکہ طاعتِ حاکم طاغوت! ان کے نزدیک وہ عالم، جو ظالم پر نکیر کرے، "خارجی" ہے؛ اور وہ حاکم جو صہیونی صلیبی حمایتی اور کفار کا غلام ہو "ولیّ الامر" ہے! یہ منہج قرآن و سنت کے نصوص کا صریح تحریف شدہ مفہوم پیش کرتا ہے۔
شیخ خالد الغامدی فرماتے ہیں: «لكن لم تظهر إلا بعد حرب الخليج والإنكار على من أفتى بالاستعانة بالكفار...» یہ فرقہ ظاہراً خلیجی جنگ کے بعد سامنے آیا، جب بعض علماء نے کفار سے مدد لینے کے فتوے پر انکار کیا۔ جب امت کے غیرت مند سلفی علماء کرام نے کفار سے عسکری مدد لینے کو ناجائز قرار دیا، تو درباری عناصر نے حکومتوں کے دفاع میں جامیہ و مداخلہ کی بنیاد رکھ دی۔ یوں مدخلی تحریک دراصل امریکی مفادات کی دینی تعبیر اور طاغوتی سیاست کا مذہبی چہرہ بن گئیں۔
شیخ خالد الغامدی نے فرمایا: «وتزعمها أمان الجامي و ربيع المدخلي، وكان من رؤوس الإخوان فانقلب عليهم.» اس تحریک کی قیادت امان جامی اور ربیع مدخلی نے کی، اور ربیع مدخلی خود اخوانیوں کے سرکردہ افراد میں سے تھا، پھر انہی پر پلٹ گیا۔ یہ جملہ اپنے اندر گہری معنویت رکھتا ہے۔ ربیع مدخلی دراصل اخوانیت کے فکری بطن سے پیدا ہوا، اور اس نے اخوانیوں کی مکر و فریب کی سیاست، منہجی تلبیسات اور دو رخی حکمتِ عملی کو پوری طرح سیکھا۔
چنانچہ جب وہ حکومتی خوشنودی کے در پر پہنچا، تو اسی اخوانی مکر و حیلہ کو اپنے طاغوتی آقاؤں کے دفاع میں استعمال کیا۔ اخوانیوں نے جس طرح "الحکمة" اور "المصلحة" کے نام پر باطل کے ساتھ مصالحت کا دروازہ کھولا تھا، اسی منہجی تلبیس کو ربیع مدخلی نے "طاعتِ حکام" کے لبادے میں اور زیادہ خطرناک انداز میں پیش کیا۔
شیخ خالد الغامدی ان کے طرزِ عمل پر فرماتے ہیں «وكان المقصود من حركتهم مواجهة كل من ينكر على الحكام...» ان کی تحریک کا مقصد یہ تھا کہ ہر اس شخص کا مقابلہ کیا جائے جو حکمرانوں پر نکیر کرے یا ان کے خلاف نکلے۔
یہاں تک کہ وہ مزید لکھتے ہیں: «بل إنهم جابهوا حتى من يرى شرعية الحكومات إذا أنكر المنكرات الظاهرة، لأنه يوغر القلوب على الولاة.» بلکہ وہ ان لوگوں کے بھی دشمن بن گئے جو ان حکومتوں کو شرعی مانتے ہوئے منکراتِ ظاہرہ پر نکیر کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ طرزِ عمل حکمرانوں کے خلاف لوگوں کے دلوں میں بغض پیدا کرتا ہے۔
مدخلیوں کا مقصد یہ تھا کہ ہر اُس شخص کا مقابلہ کیا جائے جو طاغوتی حکمرانوں پر نکیر کرے یا ان کے ظلم کے خلاف لب کشائی کرے۔ بلکہ وہ تو یہاں تک گئے کہ اُن لوگوں کے بھی مخالف ہو گئے جوان حکومتوں کو تسلیم کرتے تھے مگر منکراتِ ظاہری پر نکیر کرتے تھے۔ مگر حقیقت یہاں بھی اس سے زیادہ عمیق اور مکّارانہ ہے۔ مدخلیوں کی ایک بہیمانہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ سلفی علماء، مجاہدین اسلام اور مفاد پرست سیاسی جماعت اخوان کو ایک ہی صف میں پیش کریں جیسا کہ شیخ خالد الغامدی نے بھی کہا: «وقد نال هجومهم السلفيين والمجاهدين والمحتسبين وجماعة الإخوان.»
مدخلیوں نے جان بوجھ کر ان سبھی کو ایک ہی قطار میں لا کر پیش کیا تاکہ اخوانی روانیت کو استعمال کیا جائے اور جب سلفی علماء یا مجاہدین مدخلیوں کے طواغیت کے خلاف کھڑے ہو تو انہیں اسی اخوانی فریم ورک میں گھسیٹ کر دکھایا جائے تاکہ عوامی فہم میں سچائی دھندلا جائے اور اصل دشمن یعنی طواغیت کو محفوظ رکھا جائے۔
پس اہلِ علم پر لازم ہے کہ وہ جامیہ مداخلہ کے باطل منہج کو آشکار کریں اور عوام کو ان کے فریب سے محفوظ رکھیں۔ اللّٰہ تعالیٰ اہلِ حق کو استقامت عطا فرمائے، اور اس امت کو ان دین فروش درباری مجرموں کے شر سے محفوظ رکھے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بصیرتِ سلف، جراءتِ حق اور فتنوں سے نجات عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔