ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 927
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
جمہوریہ بھارت اور جمہوریہ پاکستان کے مابین جنگی ماحول کے متعلق چند اہم نکتے
از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ
گزشتہ کچھ عرصے سے بلوچستان میں بلوچوں نے پاکستان کو انتہائی کمزور پوزیشن پر دھکیل دیا تھا اور ان کی کارروائیوں سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی بھی وقت صوبے پر قبضہ کر لیں گے، اس کی انتہا تب ہوئی جب انہوں نے جعفر ایکسپریس پر قبضہ کر کے ساری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا سامان کر دیا۔
جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد پاکستان نے سوچا بس یہ اب بہت ہو گیا اور چونکہ پاکستان کا یہ نظریہ ہے کہ بھارت ہی بلوچوں کی مدد کر رہا ہے تو اس نے بلوچستان کا جواب کشمیر میں دینے کا فیصلہ کیا اور اپنے جہادیوں (لشکر یا جیش) کو اشارہ کیا جنہوں نے پہلگام میں اسی طرح شناختی کارڈ دیکھ کر ہندوؤں کو نشانہ بنایا جس طرح بلوچ شناختی کارڈ دیکھ کر بلوچستان میں پنجابیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
اس کارروائی کے بعد پاکستان نے اشاروں میں یہ جتا دیا کہ اب بلوچستان میں ہونے والی ہر کارروائی کا جواب کشمیر میں دیا جائے گا۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف کا جواب لشکر طیبہ یا جیش سے دیا جائے گا۔
بھارت نے اس بار روایتی مذمت یا روایتی جواب دینے کے بجائے سخت ردعمل دیا، انہوں نے سب سے پہلے سندھ طاس کا معاہدہ ختم کر دیا جو کہ بہت اہم قدم تھا۔ اس سے مستقبل میں بھارت کو پاکستان کی پانی کی ناکہ بندی کے لیے فری ہینڈ مل گیا جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اس نے پاکستان پر میزائل بھی داغ دیے۔
پاکستان نے بھارتی جہاز گرائے لیکن جوابی کارروائی نہیں کی کیونکہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا تھا اس لیے کہ جنگ اس کے نہیں بلکہ بھارت کے مفاد میں ہے۔
لیکن بھارت نے اگلے دن ڈرونز سے حملے کیے اور چوتھے دن پھر میزائل سے حملہ کیا جس کا واضح مطلب پاکستان کو جنگ میں گھسیٹنے پر مجبور کرنا تھا اور بالآخر پاکستان نے جوابی کارروائی کر کے اس میں چھلانگ لگا دی۔
اب سوال یہ ہے کہ بھارت کیوں پاکستان کو جنگ میں گھسیٹ رہا ہے اور وہ ماضی کے بجائے اس بار اتنا سخت ردعمل کیوں دے رہا ہے؟ تو یہ اصل نکتہ ہے اور اس کی تین وجوہات ہیں:
پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی انتہائی کمزور اور بھارت کی مضبوط معیشت، کیونکہ جنگ کے لیے مضبوط معیشت درکار ہوتی ہے اور یہ آپ کو مالی طور پر سخت دیوالیہ کرتی ہے۔ اس لیے بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کو کچھ عرصے تک اسی طرح جنگی صورتحال میں الجھا کر رکھا جائے جس سے اس کی رہی سہی معیشت کا بھی جنازہ نکل جائے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ بھارت اتنا سخت ردعمل دینا چاہتا تھا کہ پاکستان دوبارہ آنے والے وقت میں کشمیر میں کسی کارروائی کا خیال بھی دل سے نکال دے کیونکہ بھارت کو پتہ ہے کہ بلوچ تو اس کے قابو میں نہیں ہیں، وہ تو کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ تو ان کی کارروائیوں کے بدلے پاکستان کشمیر میں کارروائیاں کرنے لگا تو یہ پھر سے مستقل دردِ سر بن جائے گا اور وہ اس بار پاکستان کو ایسا ردعمل دینا چاہتا ہے کہ پاکستان آئندہ کشمیر میں ایسی کوئی حرکت کرنے سے پہلے سو بار سوچے۔
اور تیسری وجہ پاکستان کی کمزور پوزیشن ہے۔ اس وقت پاکستان کے ایک صوبے میں آزادی کی تحریک چل رہی ہے، سیاسی طور پر عمران خان کی پارٹی اور فوج میں سخت اختلافات ہیں، پاکستان کے مغرب میں طالبان کی حکومت بھارت کی حامی ہے، جبکہ پاکستان کی معاشی حالت بہت بری ہے۔ یہ سب حساب کتاب کر کے بھارت نے جھڑپوں کا فیصلہ کیا ہے۔
آخری بات: پاکستان اور بھارت سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والے خطے ہیں۔ یہاں کے سرکاری ترجمان یا میڈیا کے علاوہ علماء اور عوام تک بے دھڑک اور بغیر کسی شرم و جھجک کے جھوٹ بولتے ہیں۔ اس لیے ان بھڑک بازیوں اور جھوٹ سے قطع نظر اصل صورتحال یہ ہے کہ پاکستان ان جھڑپوں کا خاتمہ چاہتا ہے اور بھارت ان جھڑپوں کو ایک خاص حد تک رکھ کر کچھ عرصہ پاکستان کو سزا دینا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک میں سے کسی کا بھی مکمل، مستقل اور کسی بڑی جنگ کا ارادہ نہیں ہے۔ اس لیے ایک دوسرے کے ممالک میں افواج داخل کرنے یا بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا امکان اب بھی نہیں ہے، البتہ اگر کسی واقعے سے اچانک صورتحال تبدیل ہوئی تو وہ پھر الگ بات ہے۔