• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جنت اور اس کی نعمتیں (خطبہ جمعہ)

عمران اسلم

رکن نگران سیکشن
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
333
ری ایکشن اسکور
1,607
پوائنٹ
204
جنت اور اس کی نعمتیں........ 5ربیع الثانی 1434ھ

خطبہ جمعہ حرم مدنی
خطیب : ڈاکٹر صلاح البدیر
پہلا خطبہ:
الحمد لله، آوَى من إلى لُطفه أوَى، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له داوى بإنعامِه من يئِسَ من أسقامِه الدوا، وأشهد أن نبيَّنا وسيدَنا محمدًا عبدُه ورسولُه القائلُ: «كلُّ أمتي يدخُلون الجنةَ إلا من أبَى». قيل: ومن يأبَى يا رسول الله؟ قال: «من أطاعَني دخلَ الجنةَ، ومن عصانِي فقد أبَى»، صلَّى الله عليه وعلى آله وأصحابه صلاةً تبقَى وسلامًا يَتْرَى إلى يوم الدين.
أما بعد
مسلمانان گرامی!
اللہ تعالی نے جنت پیدا کی اور اسے اپنے حقیقی اولیا کے لیے مستقل ٹھکانہ بنایا اور پھر اس کو اپنی رحمت و کرم اور رضا سے بھر دیا۔ اللہ نے اپنے بندوں کو اس کی ترغیب بھی دلائی اور اس جنت کا نام ’دار السلام‘ یعنی سلامتی والا گھر رکھا، وہ ایسا گھرہے جس کی نعمتیں ختم اور نہ ہی خراب ہونگی۔ جہاں ہر چاہنے والی چیز وافر مقدار میں ملےگی، جو اپنے چاہنے والوں کا شوق سے انتظار کرتا ہے، جواپنے چاہنے والوں کیلئے مزید خوبصورت بنے، جس کی صفات کا بیان قرآن اور نبی کے فرمان میں آیاہے۔
وہ کتنے ہی خوش نصیب ہیں جنھیں وہاں رہنے کا موقع ملےگا اور اس کے وارثوں کے کیا ہی کہنے!!
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«قال الله تعالى: أعددتُ لعبادي لصالحِين ما لا عينٌ رأَت، ولا أُذنٌ سمِعَت، ولا خطَر على قلبِ بشر»؛ متفق عليه.
’’اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کیا ہے جو نہ کسی آنکھ نے آج تک دیکھا اور نہ کسی کان نے اس بارے میں سنا، بلکہ اس سے بڑھ کر کسی کے دل میں ان کے بارے میں خیال بھی پید انہیں ہوا۔‘‘
جنت روشن دن کی طرح خوبصورت ہے، صحن بہت ہی کھلے، عمارت بلند، جس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی، جس کا گارا بہترین قسم کی کستوری، جہاں ہیرے جواہرات کنکریوں کی طرح بکھرے ہونگے اور مٹی زعفران کی ہوگی، جو ایک بار اس میں داخل ہوگیا وہ کبھی تکلیف نہیں دیکھے گا۔ ہمیشہ زندہ رہے گا کبھی موت نہیں آئے گی، وہاں پر کپڑے بوسیدہ نہیں ہونگے اور نہ ہی جوانی ختم ہوگی۔
جنت کا سب سے پہلے دروازہ ہمارے پیارے پیغمبر ﷺ ہی کھلوائیں گے، دروازہ کھٹکٹانے پر دربان پوچھے گا: آپ کون؟ تو آپ جواب دیں گے:’محمد‘ تو کہے گا: مجھے آپ ہی کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ آپ سے پہلے کسی کےلیے دروازہ نہیں کھولنا۔ اللہ تعالی ہمارے پیارے نبی پر درود سلام اور اپنی رحمت نازل فرمائے۔
جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور ایک دروازے کی چوکھٹ کے درمیان کا فاصلہ مکہ سے ہجر یا مکہ سے بُصری تک کا ہے۔
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونیوالے افراد کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی مانند چمکتا ہوگا، جو ان کے بعد داخل ہونگے ان کا چہرہ آسمان کے روشن ترین تارے کی طرح چمکتاہوگا، وہاں انہیں قضائے حاجت کی ضرورت پیش نہ آئے گی، حتی کہ ریٹھ اور بلغم بھی نہیں ہوگا۔ ان کی کنگھی سونے کی ہوگی، پسینے سے کستوری کی خوشبو آئے گی، ان کی انگیٹھیوں میں "اگر "کی لکڑی جلے گی۔ آپس میں بالکل بھی اختلاف یا بغض نہیں ہو گا، وہ آپس میں ایک آدمی کے دل کی طرح رہیں گے، تمام کی شکل اپنے باپ آدم علیہ السلام سے ملتی ہوگی اور قد ساٹھ ہاتھ بلند اور چوڑائی سات ہاتھ ہوگی اور صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہوں گے۔
جنتی جب جنت میں داخل ہونگے تو بالکل ابھرتی جوانی ہوگی گویا کہ ان کے چہروں پر مونچھیں بھی اچھی طرح واضح نہیں ہوئیں،گوری رنگت، گھنے بال، سرمگیں آنکھیں، جیسے کہ انکی عمریں تینتیس سال ہو، چمکتے دمکتے چہرے، خوبصورتی اور ترو تازگی کی انتہا۔ ان کے چہرے دیکھ کر ہی نعمتوں کے اثرات پہچان لو گے، انھیں یہ بھی کہہ دیا جائے گا: اب تم یہاں ہمیشہ زندہ رہو گے،کبھی تمہیں موت نہیں آئے گی، تم یہاں ہمیشہ صحت مند رہو گے کبھی بیمار نہیں پڑوگے، تم یہاں ہمیشہ نوجوان ہی رہو گے کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا، تم ہمیشہ آسائشوں میں رہو گے کبھی تمہارے حالات نا ساز نہیں ہونگے اور ہمیشہ تمہیں ہر قسم کے پھل ملیں گے۔ اسی لیے تو ایک جنتی کے ہاتھ کا کنگن اس دنیا کو اپنی جھلک دکھا دے تو اس کے آگے سورج کی روشنی ماند پڑ جائے گی، جیسے سورج کے آگے تاروں کی روشنی ماند پڑ جاتی ہے۔
جب بھی اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس کا سوال کرو، وہ بہترین اور بلند ترین جنت ہے، اسی کے اوپر اللہ کا عرش ہے، اسی سے جنت کی تمام نہریں جاری ہوتی ہیں، سب سے بڑی، خوبصورت اور میٹھی جنت کی نہر ’کوثر‘ ہے، اللہ نے اسے ہمارے نبی کے اعزاز کیلئے بنایا، اسکے کنارے گول خول دار موتیوں سے بنے ہوئے ہیں، اس کی مٹی بہترین قسم کی کستوری ہے، اس کی کنکریاں موتی ہیں، اس کا پانی دودھ سے سفید اور شہد سے میٹھا ہے، آبگینوں کی تعداد تاروں کے برابر ہے، وہاں بڑے بڑے پرندے بھی پانی پر آتے ہیں جن کی گردنیں اونٹ کی طرح لمبی ہوں گی۔
نبیﷺ کا یہ حوضِ کوثرمیدانِ محشر میں ہوگا، جس کی لمبائی چوڑائی یکساں ہوگی، ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک فاصلہ ایک ماہ یا مدینہ سے صنعاء کی مسافت کے برابر ہوگا، جس میں دو پرنالے جنت سے نکل کر گرتے ہیں، اہل ایمان اس حوض سے پانی پی سکیں گے، جو ایک بار پانی پی لے گا وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا اور حوضِ کوثر سے دین میں تبدیلی کرنے والوں اور بدعتیوں کو دھتکار دیا جائے گا۔
جب سارے کے سارے جنتی اپنی اپنی جگہوں پر پہنچ جائیں گے تو سب سے نچلے درجے کے جنتی کو بلا کر کہا جائے گا: جنت میں چلے جاؤ: وہ کہے گا: یا اللہ! میں اب کیسے جاؤں؟ سب لوگ اپنی اپنی جگہوں پر براجمان ہو چکے ہیں اور سب نے اپنا اپنا حصہ لے لیا ہے؟ اسے کہا جائے گا: کیا خیال ہے کہ تمھیں دنیا کے کسی بادشاہ کی بادشاہت کے برابرجنت مل جائے؟ تو وہ کہے گا: جی ہاں! اے اللہ! میں راضی ہوں، تو اللہ تعالی فرمائے گا: جاؤ تمہیں میں اتنی جنت دیتا ہوں، مزید اس کے برابرایک حصہ اور، مزید اس کے برابرایک حصہ اور، مزید اس کے برابرایک حصہ اور، مزید اس کے برابرایک حصہ اور، پانچویں بار وہ کہہ اٹھے گا: یااللہ بس کافی ہے میں راضی ہو گیا ہوں۔ تو اللہ تعالی فرمائے گا: یہ سارا تمہارا ہے اور اس سے دس گُنازیادہ اور میں تمہیں دیتا ہوں، وہاں پر تم جو چاہو اور جس سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہو ںوہ سب کچھ ملے گا۔ تو وہ کہے گا: یا اللہ ! میں راضی ہو گیا ہوں۔
اور سب سے بلند درجہ اہل جنت کے بارے میں اللہ تبارک و تعالی فرمائے گا: میں انہی لوگوں کو چاہتا ہوں، انکی عزت و تکریم کیلئے میں نے اپنے ہاتھوں سے (جنت کو) پیدا کیا، اور پھر اسے سیل بند کردیا، اب نا تو اسے کسی آنکھ نے دیکھا ، نا اسکے بارے میں کسی کان نے سنا، اور کسی انسان کے دل میں اسکے بارےمیں خیال پیدا ہوا۔
جنت کا ایک درخت ایسابھی ہے جس کے سائے کو عبور کرنے کیلئے گھوڑ سوار ایک سو سال تک بھی چلتا رہے تب بھی نہیں کر پائے گا اور مؤمن کیلئے جو خیمہ تیار کیا گیا ہے وہ صرف ایک خول دار موتی سے بنا ہوا ہوگا، جسکی اونچائی ساٹھ میل ہوگی، اس کے اہل خانہ اسی میں رہیں گے، وہ انکے پاس باری باری جائے گا اور وہاں کوئی کسی کو دیکھ نہیں پائے گا۔
ایک جنتی عورت زمین پر نگاہ ڈال دے تو آسمان اور زمین کے درمیان کا خلا روشن ہو جائے اور ایک مہک پھیل جائے۔ اس کے سر کا آنچل دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے بہتر ہے اور جنت میں کوئی بھی بیوی کے بغیر نہیں رہے گا۔
اللہ تعالی اہل جنت کو مخاطب کر کے فرمائیں گے، اہل جنت!! سب کہیں گے: ہم حاضر ہیں ، اللہ تعالی فرمائےگا: کیا تم راضی ہو گئے ہو؟ سب کہیں گے: یا اللہ کیوں نہیں ؟ ہم راضی ہیں۔ تو نے ہمیں وہ کچھ دے دیا ہے جو ہمارے علاوہ کسی کو نہیں دیا۔ اللہ فرمائے گا: کیا تمہیں اس سے بڑھ کر نہ دوں؟ سب کہیں گے: ان سب سے بڑھ کر کیا چیز ہو سکتی ہے؟ تو اللہ توتعالی فرمائے گا: آج میں تم سب سے راضی ہو گیا ہوں آج کے بعد کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا، یہ کتنی بڑی نعمت ہے!! اور کیا کہنے ہیں اس عزت افزائی اور تکریم کے!!
سب سے بڑی نعمت اور سب سے بڑی کرم نوازی وہ ہے جس کے سامنے ساری نعمتیں ہیچ ہیں اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے با برکت چہرے کا دیدار۔ جریر بن عبد اللہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے آپ نے چودھویں رات کے چمکتے چاند کی جانب دیکھ کر فرمایا:
«إنكم سترَون ربَّكم عِيانًا كما ترَون هذا القمرَ، لا تُضامُون في رُؤيتِه»؛ متفق عليه.
’’یقیناً تم اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چودھویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو، تمہیں دیدار کرنے میں کسی قسم کی تنگی بھی نہیں ہو گی۔‘‘
اہل جنت اور اللہ تعالیٰ کے چہرے کے درمیان صرف ایک حجاب ہو گا، اس دن آواز لگانے والا کہے گا: اہل جنت اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ ایک وعدہ کیا ہوا ہے جس کو وہ پورا کرنا چاہتا ہے، سب کہیں گے: وہ کونسا وعدہ ہے؟ اللہ نے ہمارے نامہ اعمال والا پلڑا بھی وزنی کر دیا، ہمارے چہروں کو سفید چمکتا دمکتا بنایا، ہمیں جنت کا داخلہ بھی نصیب کردیا اور جہنم سےبھی ہمیں دور رکھا (اب کیا باقی رہ گیا ہے؟) اللہ تعالیٰ پھر اپنے چہرے سے پردہ ہٹائے گا اور تمام جنتی اپنے رب کا دیدار کریں گے اوریہ دیدار سب کے نزدیک ہر نعمت سے زیادہ محبوب ہوگا۔
اللہ اکبر! اللہ اکبر! اللہ نے انہیں ہر قسم کی نعمت بھی دی اور انکی خواہشات سے بڑھ کر انہیں عنایت فرمایا۔
اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اہل جنت میں سے بنائے اور ہمیں اچھا بدلہ اور اپنا دیدار نصیب فرمائے۔ (آمین)
أقول ما تسمعون، وأستغفر الله لي ولكم ولسائر المسلمين من كل ذنبٍ وخطيئةٍ؛ فاستغفروه، إنه كان للأوابين غفورًا.
دوسرا خطبہ:
الحمد لله حمدًا يُوافِي نعمَاه، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ولا معبُود بحقٍّ سِواه، وأشهد أن نبيَّنا وسيدَنا محمدًا عبدُه ورسولُه وصفيُّه ومُصطفاه، صلَّى الله عليه وعلى آله وأصحابه صلاةً وسلامًا دائِمَين مُمتدَّين إلى يوم الدين.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ [التوبة: 119]
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچےلوگوں کا ساتھ دو۔
مسلمانو!
یہ جنت کے کچھ اوصاف اور نعمتوں کا تذکرہ تھا، اس نعمت کیلئے کیسے سستی کی جاسکتی ہے؟ حالانکہ اس دنیا فانی کو سب نے چھوڑ جانا ہے یہاں کسی نے نہیں رہنا،اس دنیا میں باقی رہ کیا گیاہے؟ صرف گندی مٹی کی پیداوار، مطلبی دوستی، جھوٹے آنسو، باقی ماندہ سزائیں،سخت فتنے، اندھیریوں کی طرح آزمائشیں، بُرے جانشینوں کی زیادتیاں، ایسی زندگی جس میں مدد گار بننا تو دور کی بات حقوق سلب کر لئے جائیں اور انسانی زندگی اٹکنےوالا نوالہ بن جائے۔
اللہ کے بندو! اپنے آپ کو بچاؤ، مو ت ہر ایک کو آنے والی ہے، دنیاتباہ و برباد کر دی جائے گی، اس دنیا میں موت ایک زخم یا ٹھوکر لگنے سے بھی آجاتی ہے، اس لیے اللہ سے ڈرو، جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ پہلے ہی سے تیاری شروع کر دیتا ہے اور جو منزل کی تیاری شروع کردے وہ آخر کار منزلِ مقصود تک پہنچ جاتا ہے، غور سے سنو اللہ کا سودا بہت مہنگا ہے، اللہ کا سودا بہت مہنگا ہے، اللہ کا سودا بہت مہنگا ہے اور اللہ کا سودا جنت ہی ہے۔
وصلُّوا وسلِّموا على أحمدَ الهادي شفيعِ الورَى طُرًّا؛ فمن صلَّى عليه صلاةً واحدةً صلَّى الله عليه بها عشرًا.
اللهم صلِّ وسلِّم على عبدِك ورسولِك محمدٍ، وارضَ اللهم عن خلفائه الأربعة، أصحاب السنَّة المُتَّبعة: أبي بكر، وعُمر، وعثمان، وعليٍّ، وعن سائر الصحابة أجمعين، وتابعِيهم بإحسانٍ إلى يوم الدين، وعنَّا معهم بمنِّك وكرمِك وإحسانِك يا أكرم الأكرمين.
اللهم أعِزَّ الإسلامَ والمسلمين، اللهم أعِزَّ الإسلامَ والمسلمين، اللهم أعِزَّ الإسلامَ والمسلمين، وأذِلَّ الشركَ والمُشرِكين، ودمِّر أعداءَ الدين يا رب العالمين.
اللهم انصُر أهلَنا في الشام، اللهم انصُر أهلَنا في الشام، اللهم انصُر أهلَنا في الشام، اللهم عجِّل بنصرِهم وفرَجِهم يا كريمُ يا سميعَ الدعاء، اللهم عجِّل بفرَجهم ونصرِهم يا سميعَ الدعاء، اللهم عجِّل بنصرِهم وفرَجهم يا سميعَ الدعاء.
اللهم أدِم على بلاد الحرمين الشريفين أمنَها ورخاءَها، وعِزَّها واستِقرارَها.
اللهم وفِّق إمامَنا ووليَّ أمرنا خادمَ الحرمين الشريفين لما تحبُّ وترضى، وخُذ بناصِيته للبرِّ والتقوى، ووفِّق جميعَ ولاة أمور المُسلمين لتحكيم شرعِك، واتِّباع سُنَّة نبيِّك محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -.
اللهم مُنَّ على جميع أوطان المُسلمين بالأمن والاستقرار والرخاء والوحدة يا كريمُ يا رب العالمين، اللهم اكفِهم شرَّ الأشرار، وكيدَ الفُجَّار يا قويُّ يا عزيز، يا رب العالمين.
اللهم اشفِ مرضانا، وعافِ مُبتلانا، وارحم موتانا، وفُكَّ أسرانا، وانصُرنا على من عادانا.
اللهم أغِثنا، اللهم أغِثنا، اللهم أغِثنا، اللهم أنزِل علينا الغيثَ ولا تجعَلنا من القانِطين، اللهم أنزِل علينا الغيثَ ولا تجعَلنا من القانِطين برحمتِك يا أرحم الراحمين.
عباد الله:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [النحل: 90].
فاذكروا الله العظيم الجليل يذكركم، واشكروه على نعمه يزِدكم، ولذِكرُ الله أكبر، والله يعلمُ ما تصنعون.

 
Top