• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جوائنٹ فیملی کا نظام اور بہو کے حقوق کی پامالی

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
870
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
جوائنٹ فیملی کا نظام اور بہو کے حقوق کی پامالی

از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ

پاکستان و افغانستان میں جوائنٹ فیملی کے فرسودہ نظام سے جو دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں، وہی ایک مسئلہ ساس سسر (بعض اوقات دیور اور نندوں کا بھی) کا بہو کے ساتھ زیادتی کرنا اور اپنے بیٹے کو بھی اس میں شریک کرنا ہے۔

ایسے میں بیٹے کو سمجھ نہیں آتی کہ کیا کروں؟ ایک طرف والدین ہیں جن کا حکم ماننا لازم ہے، دوسری طرف وہ صاف دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اس کی بیوی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

تو یہ بات سمجھ لو کہ والدین کی اطاعت بے لگام نہیں ہوتی بلکہ اس کی حدود و قیود ہیں۔ والدین کی اطاعت گناہ کے کاموں میں نہیں ہے۔ اگر وہ شرک کرنے، بدعت کرنے، جادو کرنے، کسی کو قتل کرنے، کسی پر ظلم کرنے، کسی کا مال ہڑپ کرنے، کسی کی زمین پر قبضہ کرنے کا حکم دیں تو ہرگز ان کا حکم ماننا لازم نہیں ہے، اور ایسے احکامات ماننے پر اولاد ثواب نہیں، عذاب کی مستحق ہوتی ہے۔

اسی طرح بہو پر ظلم کے لیے بیٹے کو جو حکم دیں، وہ بھی ایک انسان پر ظلم ہی ہے، اور اس کا ماننا بھی لازم نہیں ہے۔

ایسے والدین کو سمجھائیں کہ ذرا اپنی بیٹی پر ہی نظر ڈال لو، کیا آپ چاہتے ہو کہ اس کا سسرال اس کے ساتھ وہ سلوک کرے جو سلوک آپ اپنی بہو کے ساتھ کر رہے ہو اور مجھے بھی اس میں شریک کر رہے ہو؟

اور اس مسئلے کا سب سے بہتر حل یہ ہے کہ شادی کرتے ہی بیٹا، اگر ممکن ہو، تو گھر کے اندر ہی اور اگر ممکن نہ ہو تو اڑوس پڑوس میں کسی مکان میں منتقل ہو جائے اور وہیں سے اپنے والدین کی خدمت کرے، لیکن اپنی بیوی کو علیحدہ رکھے۔

اور اگر والدین کی خدمت کے لیے کوئی نہیں ہے تو ملازمہ رکھے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو اور بہو کا ہی خدمت کرنا مجبوری ہو تو بیشک بہو ہی خدمت کرے، لیکن اس کے خلاف زیادتیوں میں اس کا شوہر ہرگز اپنے والدین کا ساتھ نہ دے۔

اور یہ ہمیشہ یاد رکھو کہ یہ ایک آزاد عورت ہے جس کو تم نے ایک عہد کے تحت اللہ کے نام پر اپنے لیے حلال کیا ہے، اس لیے اس معاملے میں اللہ سے ڈرنا چاہئے۔
 
Top