• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جو کافر کو کافر نہ کہے، وہ بھی کافر؟

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
847
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
جو کافر کو کافر نہ کہے، وہ بھی کافر؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

٢٥٧ - حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلَفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ فَهُوَ كَافِرٌ، وَمَنْ لَمْ يُكَفِّرْهُ فَهُوَ كَافِرٌ، وَمَنْ شَكَّ فِي كُفْرِهِ فَهُوَ كَافِرٌ "

محمد بن مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یزید بن ہارون رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: "جس نے کہا کہ قرآن مخلوق ہے، وہ کافر ہے اور جو اسکی تکفیر نہ کرے وہ بھی کافر ہے؛ اور جو اس کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔"


[الإبانة الكبرى لابن بطة، ج : ٦، ص : ٥٧]

IMG_20250528_115726.jpg

IMG_20250528_134040_324.jpg

"تکفیر" (یعنی کسی شخص کو اس کے قول، فعل یا عقیدے کی بنا پر کافر قرار دینا) اسلام کے تحفظ، اہلِ ایمان کی شناخت، اور کفر و ضلالت سے امت کو بچانے کا ایک اصولی و ایمانی فریضہ ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار افراد و گروہوں کی واضح تکفیر کی ہے مثلاً :

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ﴿۱۷﴾
یقیناً کافر ہو گئے وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے۔

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ
﴿۷۳﴾
وہ لوگ بھی قطعاً کافر ہوگئے جنہوں نے کہا، اللہ تین میں سے تیسرا ہے۔

وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ
﴿۴۴﴾
اور جو لوگ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے نہ کریں وہ پورے اور پختہ کافر ہیں۔

اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا
﴿۱۵۱﴾
یقین مانو کہ یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔

اللہ تعالیٰ خود تکفیر کر رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین نے بھی تکفیر کو اپنایا۔ تکفیر سے کراہت کرنا اہل بدعت کا شعار ہے، نہ کہ اہل سنت کا۔ اہل بدعت ہمیشہ تکفیر سے کراہت کرتے ہیں، اسے "فتنہ" کہتے ہیں، تاکہ کفر کو "اختلافِ رائے" بنا کر پیش کریں، اہل السنۃ کی غیرت دینی کو ختم کریں، عقائدِ کفر کو مسلمانوں میں پھیلائیں یہ منہج آج صوفیاء، قادیانی، اور مدخلی فرقے کا ہے، جو ہر کافر و طاغوت کو مسلمان کہتے ہیں، اور کفرِ بواح کے مرتکب کو بھی کافر نہیں مانتے۔
 
Top