- شمولیت
- اگست 28، 2019
- پیغامات
- 82
- ری ایکشن اسکور
- 13
- پوائنٹ
- 56
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حادثات سے ہم کیسے بچیں؟
حادثات سے ہم کیسے بچیں؟
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:
میرے دوستو!پچھلے خطبۂ جمعہ کے اندر آپ نے یہ سنا تھا کہ ہرآئے دن ہونے والے حادثات میں ہمارے لئے کیا کیا پیغام ہوتے ہیں،اورآج کے خطبۂ جمعہ کے اندر میں آپ کو یہ بتانے والاہوں کہ ہم حادثات سے کیسے بچیں؟
(1) اللہ پر بھروسہ رکھیں:
میرے دوستو!اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم ہرطرح کے حادثات واکسیڈینٹ وغیرہ سے بچ کے رہیں تو سب سے پہلے ہم ہمیشہ اپنے رب پر کامل یقین اور کامل بھروسہ رکھیں کہ ہمارے ساتھ ایسانہیں ہوگاکیونکہ قرآن میں رب نے یہ وعدہ کررکھاہے کہ ’’ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ‘‘اورجوشخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔(الطلاق:3)اب آپ یہ سوچیں گے کہ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کے لئے اللہ کیسے اورکس طرح سے کافی ہوجاتاہے تو پھرسیدہ ہاجرہ علیہا السلام کو یادکرلیجئے کہ جب ان کو سیدناابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام مکہ کے کے آب وگیاہ میدان میں تنِ تنہاچھوڑکرروانہ ہوئے تو سیدہ ہاجرہ نے اپنے سرتاج ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام سے کہا کہ ’’ أَيْنَ تَذْهَبُ وَتَتْرُكُنَا بِهَذَا الوَادِي الَّذِي لَيْسَ فِيهِ إِنْسٌ وَلاَ شَيْءٌ ‘‘ آپ مجھے تنِ تنہاچھوڑ کرکہاں جارہے ہیں؟اور آپ تومجھے ایک ایسی وادی میں چھوڑکرجارہے ہیں جہاں نہ کوئی انسان ہے اورنہ ہی کوئی دوسری چیزہے،یہ جملہ باربار کہتے ہوئے سیدہ ہاجرہ ،سیدناابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کے پیچھے پیچھے چل رہی ہوتی ہیں اورادھر اللہ کے خلیل اپنی بیوی سیدہ ہاجرہ کے طرف پلٹ کربھی دیکھتے نہیں ہیں ،بالآخر سیدہ ہاجرہ نے کہا کہ اے میرے سرتاج!’’ آللَّهُ الَّذِي أَمَرَكَ بِهَذَا ‘‘ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے تو ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے بس اتنا کہاکہ ہاں! اتنا سننا تھا کہ سیدہ ہاجرہ نے کہا’’ إِذَنْ لاَ يُضَيِّعُنَا ‘‘ تب تو اللہ ہمیں اس ویرانے میں بھی ضائع وبرباد نہیں کرے گا۔ (بخاری:3364)اللہ اکبر۔ اسے کہتے ہیں اللہ پر بھروسہ کرنا،اورقرآن وحدیث کے اوراق شاہد ہیں کہ جب سیدہ ہاجرہ نے اللہ پر کامل یقین اورکامل بھروسہ کیا تو صرف یہ نہیں کہ اللہ نے ان کی حفاظت کی بلکہ ان کے آثار اوران کے نام ونشان کوقیامت تک کےلئے زندہ رکھ دیا ،اورمیرے دوستو!آپ یہ اچھی طرح سے جان لیں کہ اگر ہم اللہ پر کامل بھروسہ رکھیں گے تو اللہ ہمیں موت کے منہ اور موت کے چنگل سے بھی بآسانی نکال لے گا،کیاآپ نے سنا نہیں کہ اللہ نےسیدناموسی علیہ الصلاۃ والسلام کے لئے کس طرح سے دریا میں راستہ بنادیا تھا،اوراس وقت مصیبت کی گھڑی میں ان کی قوم بنی اسرائیل نے سیدناموسی علیہ الصلاۃ والسلام سے کیا کہاتھا وہ بھی قرآن میں مذکورہے،قرآن گواہی دے رہاہے کہ جب بنی اسرائیل نے یہ دیکھا کہ ان کے پیچھے فرعون اپنے لاؤولشکرکے ساتھ بھاگے چلے آرہاہےاورسامنے دریاہے، انہیں اپنی موت صاف نظرآرہی تھی ،اورانہوں نے کہا بھی کہ اے موسی!’’ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ‘‘ اب تو ہم پکڑے گئےکیونکہ پیچھے فرعون ہے اورسامنے دریا ہے،اب تو ہماری موت بالکل ہی یقینی ہے،یہ سن کر سیدناموسی علیہ الصلاۃ والسلام نے اس وقت اللہ پر کامل بھروسہ اورکامل یقین کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ ‘‘ نہیں!ہرگز نہیں!ایسانہیں ہوسکتاہے کیونکہ میرے ساتھ تو میرا رب ہے جو مجھے ضروربالضرور کوئی نہ کوئی راستہ دکھادے گا،اوریہی تو ہوا کہ اللہ نے فوراً سیدناموسی علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف وحی بھیجی کہ ’’ أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ ‘‘ اے موسی !سوچتے اوردیکھتے کیا ہو!بس اپنی مبارک لاٹھی کو دریاپر ماردو،تمہارےلئے راستہ خود بخود بن جائے گا،(الشعراء:61-63)تو دیکھا آپ نے کہ اللہ پر بھروسہ کرنے سے کس طرح سے اللہ نے بنی اسرائیل کو موت کے منہ اورموت کے چنگل سے بچالیا تھا،اسی طرح سے اگر ہم بھی اپنی زندگی کے ہرمعاملے میں اللہ پر بھروسہ کریں گے تو اللہ ہماری حفاظت بھی ضرورکرے گا اور ہرطرح کے حادثات واکسیڈینٹ وغیرہ سے ہمیں محفوظ رکھے گا۔
(2)اپنے رب سے اچھا گمان رکھیں:
میرے دوستو!اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ہرطرح کے حادثات واکسیڈینٹ وغیرہ سے بچ کے رہیں توپھر ہم ہمیشہ اپنے رب سے اچھا گمان رکھیں،اوریہ سوچیں اوریہ کہیں کہ ہمارے ساتھ ایساویساکچھ نہیں ہوگا،ہم سب سےایک بہت بڑی غلطی ہورہی ہے کہ جب کبھی کہیں پر بھی کوئی حادثہ یا پھر کوئی اکسیڈینٹ ہوتاہے تو ہم ڈرجاتے ہیں اوریہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ کہیں اس طرح کے حادثات واکسیڈینٹ ہمارے ساتھ بھی نہ ہوجائے،نہیں میرے بھائیو نہیں !ہمیں اس طرح کے شکوک وشبہات کو اپنے دل ودماغ میں کبھی بھی نہیں لاناہے بلکہ ہمیشہ یہ کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ ایساویسا کچھ نہیں ہوگا،اورآپ یقین جانئے کہ ہم جیساسوچیں گے ویساہی ہمارے ساتھ ہوگا،اگرہم یہ سوچیں گے کہ ہمارے ساتھ حادثات وغیرہ کبھی نہیں ہوں گے تو ہمارےساتھ کبھی کوئی حادثہ نہیں ہوگا،لیکن اگرہم کوئی حادثہ یاپھر کوئی اکسیڈینٹ دیکھ کر یہ سوچیں گےکہ کہیں یہ ہمارےساتھ بھی نہ ہوجائے تو ہمارےساتھ بھی ہوجائے گا،اوریہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ یہ تو خود آپﷺ نے اعلان کردیا ہے کہ جو اللہ کے بارے میں جیساسوچے گا اس کے ساتھ ویساہی ہوگا، حدیث قدسی ہے اللہ نے کہا کہ ’’ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي إِنْ ظَنَّ بِي خَيْرًا فَلَهُ وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَلَهُ ‘‘میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملات کو انجام دیتاہوں اگر وہ اچھا سوچتااوراچھاگمان رکھتاہے تو اس کو خیروبھلائی ہی حاصل ہوتی ہے لیکن اگر وہ براسوچتا اوربراگمان کرتاہے تو اس کے ساتھ براہی ہوتاہے۔(احمد:9076،الصحیحۃ:1663)اورایک دوسری روایت یعنی حدیث قدسی کےاندر ہے، اللہ نے یہ اعلان کیا کہ ’’ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ ‘‘ میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق اس کے معاملات کو انجام دیتاہوں ،اب بندے کو اختیارہے کہ جیساچاہے ویسامیرے بارے میں گمان رکھ لے۔(احمد:19676،صحیح ابن حبان للألبانیؒ:ؒ632)سناآپ نے کہ جیساہم اپنے رب کے بارے میں گمان رکھیں گے اورسوچیں گے تو ویساہی ہمارے ساتھ بھی ہوگا ،اس لئے اگرہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ہرطرح کے حادثات واکسیڈینٹ وغیرہ سے محفوظ رہیں تو پھر ہم ہمیشہ اپنے رب کے بارے میں اچھاگمان رکھیں اوریہ سوچیں کہ ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
(3) صلہ رحمی کریں:
میرےدوستو!اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم ہرطرح کے حادثات واکسیڈینٹ وغیرہ میں بری موت سے ہمیشہ بچے رہیں تو پھر ایک بہت ہی آسان کام کرتے رہا کریں ،اللہ ہمیں بری موت سے بچالے گا،وہ عمل یہ ہے کہ ہم اپنے رشتے داروں کے ساتھ ہمیشہ صلہ رحمی کرتے رہا کریں،کیونکہ رشتے داروں کی خبرگیری کرنا،رشتے داروں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا،رشتے داروں کی مدد کرتے رہنا،رشتے داروں کی غلطیوں کو معاف کرنا،ہراچھے برے میں رشتے داروں کاساتھ دینا یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے بری سے بری موت بھی ٹل جاتی ہے جیسا کہ سیدناعلیؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ وَيُوَسَّعَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُدْفَعَ عَنْهُ مِيتَةُ السُّوءِ ‘‘کہ جس انسان کو اس بات کی خواہش ہوکہ اس کی عمر میں اضافہ کردیا جائے اوراس کی روزی روٹی میں کشادگی پیداکردی جائے اوراس کے اوپر سے بری موت کو ٹال دیا جائے تو وہ انسان ’’ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ‘‘ اللہ کا تقوی اختیارکرے اور صلہ رحمی کرے۔(احمد:1213،شیخ احمد شاکرؒ نے اس کی سندہ کو صحیح کہا ہے)تو اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہمیں ہرطرح کی بری موت سے ہمیشہ محفوظ رکھے تو پھرہم سب سے پہلے اپنے دلوں میں اللہ کا ڈر وخوف پیداکریں اور ساتھ میں ہم اپنے اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی بھی کرتے رہاکریں،صلہ رحمی کا مطلب ہوتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اورجس طرح سے بھی اپنے رشتے داروں کو فائدہ پہنچانااور اوران سے ان کے شروتکلیف کو دورکرنا۔
(4)فجر کی نماز کا اہتمام کریں:
میرے دوستو!اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری حفاظت کرے اور اللہ ہمیں اس طرح کے حادثات وواقعات اوراکسیڈینٹ وغیرہ سے ہمیشہ بچاکررکھے تو ہم ہمیشہ فجر کی نماز کی پابندی کیاکریں کیونکہ جو انسان بھی فجر کی نماز کو اداکرتاہے تو وہ اللہ کی حفاظت میں آجاتاہے جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ ‘‘ جو فجرکی نماز پڑھتاہے تووہ اللہ حفاظت میں ہوتاہے۔(ابن ماجہ:3945،اسنادہ صحیح)اب اگر ہم فجر کی نماز کی پابندی کریں گے تو اللہ ہماری حفاظت کرے گااور اگر فجرکی نماز نہیں پڑھیں گے توپھر اللہ ہمیں ہلاک وبربادہونے کے لئے چھوڑ دے گا۔اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔آمین۔اور میرے دوستو!یہ صرف فجرنماز کی بات نہیں ہے بلکہ پانچوں وقت کی نمازوں کامعاملہ ہی کچھ ایسا ہے کہ جو انسان پنجوقتہ نمازوں کی پابندی کرے گا تو وہ مسلمان دنیا وآخرت میں خوشحال اورشاد وآبادرہے گا اورجو انسان پنجوقتہ نمازوں کی پابندی نہیں کرے گا تو وہ مسلمان دنیا وآخرت میں ہمیشہ پریشان وبدحال رہے گا۔اللہ ہم سب کو پانچوں وقت کی نمازوں کی پابندی کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین۔
(5) گھر سے نکلتے وقت کی دعا کا ہمیشہ اہتمام کیا کریں:
میرے بھائیو اوربہنو!اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری جانوں کی حفاظت فرمائے تو پھر ہم ہمیشہ اپنے گھر سے نکلتے وقت ایک چھوٹی سی دعاکو ضرورپڑھ لیا کریں کیونکہ اس دعا کی فضیلت میں خود جناب محمدعربیﷺ نے یہ بتایا ہےکہ جو انسان بھی اپنے گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھ لے گا تو اس کی حفاظت کی جائے گی ،وہ دعا ہے ’’ بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ‘‘ یعنی کہ میں اللہ کے نام سے اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے گھر سے نکلتاہوں،کسی شر اوربرائی سے بچنا اور کسی نیکی یاخیر کا حاصل ہونا ،اللہ کی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔اب جو انسان یہ دعا پڑھ کراپنے گھر سے نکلے گا تو اس کے ساتھ کیاہوتاہے خود جناب محمدعربی ﷺ کی زبانی سن لیجئے ،آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب یہ ایک چھوٹی سی دعا پڑھ کر کوئی انسان اپنے گھر سے نکلتاہے تو اس کے بارے میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ جا ’’ هُدِيتَ وَكُفِيتَ وَوُقِيتَ ‘‘ تجھے ہدایت ملی،تیری کفایت کی گئی،اور تجھے ہرآفت ومصیبت اور ہربلا سے بچالیا گیا۔سبحان اللہ۔ اور اس حدیث کے اندر یہ بات بھی موجود ہے کہ شیاطین اس دعا پڑھنے والے انسان سے دورہوجاتے ہیں اور دوسرا شیطان اپنے شیطان دوست سے کہتا ہے کہ ’’ كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ ‘‘ تیرا داؤ ایسے آدمی پرکیسے کام کرے گا جسے ہدایت دی گئی ہے اور جس کی کفایت کردی گئی ہے اور جسے بچالیا گیا ہے۔(ابوداؤد:5095،اسنادہ صحیح)اب اگر ہم یہ دعا پڑھیں گے توہماری حفاظت کی جائے گی ورنہ ہمیں ہلاک وبرباد ہونے کے لئے چھوڑدیا جائے گا۔
(6) اپنے ہراچھے کام چھپ کرانجام دیا کریں:
میرے دوستو!اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری حفاظت فرمائے اور ہرطرح کی آفت ومصیبت سے ہمیں بچاکررکھا کریں تو ہم سب اپنے اپنے اچھے اچھے کاموں کوچھپ کرانجام دیا کریں،اور یہ آپﷺ کی تعلیم بھی ہے کہ ’’ اسْتَعِينُوا عَلَى إِنْجَاحِ الْحَوَائِجِ بِالْكِتْمَانِ فَإِنَّ كُلَّ ذِي نِعْمَةٍ مَحْسُودٌ ‘‘ تم اپنی ضرورتوں کو چھپ چھپا کر انجام دیاکرو، کیونکہ جسے بھی نعمتیں ملتی ہیں اس سے لوگ حسد کرنے لگ جاتے ہیں۔(الصحیحۃ:1453)دیکھئے آپﷺ نے کیا حکم دیا ہے اورلوگ کیا کرتے ہیں جب حج یاپھر عمرہ کو جاتے ہیں تو جانے سے پہلے اس کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں،دعوتیں کرتے ہیں،اورآج کل تو لوگ عمرہ میں جانے سے پہلے ایک عظیم فنکشن ہی کرنے لگے ہیں کہ فنکشن ہال میں اپنا عقیقہ کرتے ہیں اور لوگوں کو کھلاتے ہیں اور پھر خوب واہ واہی لوٹتے ہیں،اسی طرح سے سماج ومعاشرے کے اندریہ بھی دیکھاجاتاہے کہ جب لوگوں کو کچھ کرنا ہوتاہے تو وہ کرنے سے پہلے ہی اس کا خوب ڈھنڈورا پیٹتے ہیں،اوروہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایساکرنے سے پورے محلے اورپورے سماج میں ان کا نام ہوگا،مگرہوتایہ ہے کہ اس کاکام رک جاتاہے اوروہ اپنے مقصد میں کامیاب ہی نہیں ہوپاتاہے کیونکہ اس وقت اس کی اس نعمت کو دیکھ کرکوئی ان سے حسدکرنے لگ جاتاہے یاپھر اس انسان کو بری نظر بھی لگ جاتی ہے، اور جب بری نظر ایک انسان کو لگ گئی تو سمجھو کہ اس انسان کی ہلاکت وبربادی بالکل ہی یقینی ہے، اور یہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ خود جناب محمدعربی ﷺ نے کہا ہےکہ بری نظر ایک انسان کو قبر میں پہنچاسکتی ہے ،سنئے حدیث ،فرمایا ’’ إِنَّ الْعَيْنَ لَتُدْخِلُ الرَّجُلَ الْقَبْرَ وَتُدْخِلُ الْجَمَلَ الْقِدْرَ ‘‘بے شک بری نظر تو آدمی کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں داخل کردیتی ہے۔ (الصحیحۃ:1245،صحیح الجامع للألبانیؒ:4144)اور ایک دوسری حدیث میں آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ ‘‘ بری نظر کا لگ جانا یہ برحق ہے اوراگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے سکتی تھی تو وہ یہی بری نظر ہے۔ (مسلم:2188)اورایک تیسری حدیث کےاندرآپﷺنے فرمایا کہ ’’ الْعَيْنُ حَقٌّ تَسْتَنْزِلُ الْحَالِقَ ‘‘ بری نظر کا لگ جانا برحق ہے اوربری نظر انسان کو اونچے پہاڑ سے نیچے بھی گراسکتی ہے،اور اس کا معنی ومفہوم یہ بھی ہوسکتاہے کہ بری نظر پہاڑ کوبھی ہلادیتی ہے۔(الصحیحۃ:1250)اورایک چوتھی حدیث کےاندر ہے کہ آپﷺ نے فرمایا’’أَكْثَرُ مَنْ يَمُوتُ مِنْ أُمَّتِي بَعْدَ كِتَابِ اللَّهِ وَقَضَائِهِ وَقَدَرِهِ بِالأَنْفُسِ يَعْنِي الْعَيْنَ ‘‘کہ اللہ کی قضاوتقدیر کے بعد سب سے زیادہ بری نظر کی وجہ سے ہی میری امت میں اموات ہوں گی۔(الصحیحۃ:747،صحیح الجامع للألبانیؒ:1206)دیکھا اور سنا آپ نے کہ بری نظر کتنی خطرناک ہےاسی لئے تو آپﷺ نے یہ حکم دیا کہ اے لوگو!’’ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ تَعَالىٰ مِنَ الْعَيْنِ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ ‘‘ بری نظر سے اللہ تعالی سے پناہ طلب کرتے رہا کرو کیونکہ بری نظر کا لگ جانا برحق ہے۔(ابن ماجہ:3508،اسنادہ صحیح) اسی لئے اے میرے بھائیو اور بہنو! اگر ہم ہرطرح کے حادثات اوراکسیڈینٹ وغیرہ سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر ہم جوبھی اچھے کام کریں ،اس کو ہمیشہ چھپ چھپاکرانجام دیاکریں۔
(7)صبح وشام کی اس دعاکو کبھی نہ بھولیں:
میرے دوستو!اگرہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ہرطرح کے حادثات واکسیڈینٹ اورہرطرح کی آفت ومصیبت سے بچے رہیں تو پھر ہم سب ایک بہت ہی آسان کام ہمیشہ کرتے رہاکریں،اورجوبھی مسلمان یہ آسان کام کرے گا تو ا س کے لئے جناب محمدعربیﷺ نے خود یہ ضمانت اورگارنٹی دی ہے کہ اس کی ہرصورت اورہرحال میں حفاظت کی جائے گی ۔سبحان اللہ۔بہت ہی آسان عمل ہے ،بس عمل کرنے کی ضرورت ہے ،سنئے حدیث،سیدناعثمان بن عفانؓ بیان کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا کہ جوبھی مسلمان صبح میں تین مرتبہ اور شام میں تین مرتبہ یہ دعاپڑھے گا تو ’’ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ ‘‘اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاسکتی ہے۔(ترمذی:3388،الادب المفرد:660)اورایک دوسری روایت کے اندراس دعاکی یہ فضیلت ثابت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَوْ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ‘‘ کہ اس دن اوراس رات میں اسے رتی برابر بھی کوئی مصیبت و تکلیف نہیں پہنچ سکتی ہے۔(مسنداحمد:474)اورایک تیسری روایت کے اندر ہے آپﷺ نے فرمایا کہ جوبھی شخص صبح میں اس دعاکوتین مرتبہ پڑھ لے گا تو اسے شام تک کوئی اچانک آفت ومصیبت ٹچ بھی نہیں کرسکتی ہےاوراسی طرح سے اگر کوئی شام میں اس دعاکو تین مرتبہ پڑھ لے گا تو اسے صبح تک کوئی بھی اچانک آفت ومصبیت چھونہیں سکتی ہے۔(ابوداؤد:5088،مسنداحمد:528)اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ دعاکون سی ہے تو وہ دعاہے ’’ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ‘‘ اس دعاکا معنی ومفہوم یہ ہے کہ اس اللہ کے نام سے جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی بھی چیز نقصان نہیں دے سکتی ہے، اوروہ ہربات کو خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔تومیرے بھائیو اور بہنو!اگر ہم ہرطرح کے حادثات واکسیڈینٹ وغیرہ سے بچناچاہتے ہیں تو پھر اس دعاکو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں اورہمیشہ بلا ناغہ یعنی بغیر بھولےہوئے اس دعاکا اہتمام ضرورکیاکریں،لیکن اگر ہم من میں آیا توپڑھیں گے اورمن میں آیا تو چھوڑدیں گے تو اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہےکہ ہماری حفاظت کی جائے گی ،جیسا کہ ابن ماجہ کےاندر اسی دعاکے نیچے یہ مذکور ہے کہ اس حدیث کو سیدنا عثمان غنیؓ سے اَبان بن عثمانؒ نے روایت کیا ہے،راویٔ حدیث کہتے ہیں کہ حضرت ابانؒ کے جسم پر فالج کا اثرتھا،اب جب وہ یہ حدیث بیان کررہے تھے تو ایک شخص ان کو بڑی حیرت وتعجب سے دیکھ رہاتھا کہ یہ امام تو ایسی حدیث بیان کررہے ہیں کہ یہ دعاپڑھنے سے ایک انسان کی حفاظت کی جاتی ہے مگر یہ خود مصیبت میں مبتلاہیں،جب ایساحضرت ابانؒ نے محسوس کیا کہ یہ شخص حدیث کو سن کر میری طرف تعجب سے دیکھ رہاہے تو اس سے فرمایا کہ تم اس طرح سے میری طرف حیرت و تعجب سے کیا دیکھتے ہو؟حدیث اپنی جگہ پر بالکل ہی صحیح ہے، اورحدیث اسی طرح ہے جیسے میں نے تجھے سنائی ہے، لیکن ایک دن میں نےیہ دعانہیں پڑھی تھی تو مجھے یہ فالج ہوگیا۔(ابن ماجہ:3869)اورابوداؤد کے اندر ہے کہ ابان بن عثمانؒ نے اس تعجب کرنے والے انسان سے کہا کہ تومجھے اس طرح سے تعجب سےکیوں دیکھتاہے؟ اللہ کی قسم !نہ تو میں نے سیدناعثمان غنیؓ پر جھوٹ بولاہے اور نہ ہی حضرت عثمان غنیؓ نے آپﷺ پر جھوٹ باندھا ہے،دراصل بات یہ ہے کہ جس دن مجھے یہ فالج کا اٹیک اورحملہ ہوا ،اس دن میں بہت ہی زیادہ غصے میں تھا اور یہ کلمات پڑھنا بھول گیا تھا۔(ابوداؤد:5088)اس لئے میرے بھائیو اوربہنو!اگرہم اپنی سلامتی چاہتے ہیں اورہرطرح کے حادثات واکسیڈینٹ اورہرطرح کی آفت ومصیبت سے بچناچاہتے ہیں تو پھر اس دعاکوکبھی نہ چھوڑیں۔
(8) تین آسان سورتوں کو پڑھنا کبھی نہ بھولیں:
میرے دوستو!اگرہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم ہرطرح کی آفت ومصیبت اورہرطرح کے اچانک ہونے والے حادثات سے بچ کے رہیں تو پھرہم قرآن مجید کی تین آسان سورتوں کو پڑھنا کبھی نہ بھولیں،ان تین آسان سورتوں کی فضیلت میں آپﷺ نے فرمایا کہ جو بھی مسلمان ان تین سورتوں سورہ اخلاص،سورہ فلق اور سورہ ناس کو صبح میں تین تین مرتبہ اورپھر شام میں تین تین مرتبہ پڑھ لے گا توپھر’’ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ‘‘ اسے دنیا کی کوئی بھی چیز تکلیف نہیں پہنچاسکتی ہے۔ (ابوداؤد:5082،ترمذی:3575،اسنادہ حسن)سبحان اللہ کتنی عظیم فضیلت ہے مگر ہم اورآپ اس سےغفلت ولاپرواہی میں ہیں،لوگ کتنے بڑے نادان ہیں کہ ان سورتوں کو تو پڑھتے نہیں ہیں مگر اپنے اپنے گھروں کی دیواروں پر لٹکاکررکھ لیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کو کچھ نہ کچھ فائدہ حاصل ہوگا،جی نہیں !ہرگز نہیں!ان آیتوں کو لٹکانے سے کچھ بھی فائدہ ملنے والا نہیں ہے اورنہ ہی ان آیتوں کو لٹکانے سے گھروالوں کی حفاظت کی جائے گی،اگر حفاظت کی جائے گی تو صرف اورصرف پڑھنے اورعمل کرنے سے، اس لئے میرے بھائیو اوربہنو! ان تینوں سورتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنالو،ہمیشہ اللہ کی حفاظت میں رہوگےاورہرطرح کے حادثات اورآفت ومصیبت سے بچ جاؤگے۔
(9) کسی حادثہ واکسیڈینٹ کوسنتے ہی یاپھردیکھتے ہی فوراً یہ دعاپڑھ لیاکریں:
میرے دوستو!اگرہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم ہرطرح کی آفت ومصیبت اورہرطرح کے حادثات واکسیڈینٹ وغیرہ سے ہمیشہ محفوظ رہیں تو پھر ہم آپﷺ کے اس فرمان پر ہمیشہ عمل کریں،ہم اگر اس پرعمل کریں گے تو اس بات کی ضمانت اورگارنٹی خودآپﷺ نے دی ہے کہ جو انسان بھی اس پرعمل کرلے گا تو اسے مرتے دم تک کوئی بھی مصیبت لاحق نہیں ہوگی، سبحان اللہ۔وہ عمل یہ ہے کہ جیسے ہی ہم نے سنا اوردیکھا کہ کسی کے ساتھ کوئی حادثہ ہواہے،یاپھر ہم نے یہ دیکھا کہ کسی کا اکسیڈینٹ ہوگیاہے،یاپھر ہم نے یہ سنا اوریہ دیکھا کہ کوئی بڑی آفت ومصیبت سے دوچارہوگیا ہے،یاپھر ہم نے یہ دیکھا اورسنا کہ کوئی کسی لاعلاج بیماری کے اندر مبتلاہوگیا ہے تو سنتے اوردیکھتے ہی فوراً یہ دعاپڑھ لیں ’’ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا ‘‘ اس دعاکا معنی ومفہوم یہ ہے کہ ہرقسم کی تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے اس مصیبت سے محفوظ رکھا ہے جس میں اس اللہ نے تجھ کو مبتلاکردیاہے،اوراس اللہ نے تو مجھے بہت سارے لوگوں پر فضیلت عطاکررکھی ہے،یہ چھوٹی سی آسان دعا ہے مگر اس دعاکی کتنی بڑی فضیلت ہے سنئے،جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ جومسلمان بھی مصیبت میں مبتلاانسان کو دیکھ کر یہ دعافوراً پڑھ لے گا تو ’’ عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ الْبَلَاءِ كَائِنًا مَا كَانَ ‘‘وہ انسان اس مصیبت سےہمیشہ محفوظ رہے گا گرچہ وہ کتنی بڑی آفت ومصیبت ہی کیوں نہ ہو۔(ابن ماجہ:3892،اسنادہ حسن)اورترمذی شریف کے اندر ہے، آپﷺ نے اس دعاکی فضیلت میں فرمایا’’ إِلَّا عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ البَلَاءِ كَائِنًا مَا كَانَ مَا عَاشَ ‘‘ کہ جب تک وہ زندہ رہے گاتب تک تادم حیات وہ اس آفت ومصیبت سے محفوظ رہے گا ،چاہے وہ جوبھی آفت ومصیبت ہو۔(ترمذی:3431،اسنادہ حسن)اور اسی ترمذی شریف کے اندر یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ لَمْ يُصِبْهُ ذَلِكَ البَلَاءُ ‘‘کہ جس مصیبت کو دیکھ کرایک مسلمان یہ دعاپڑھے گا تو پھر اسے یہ مصیبت تادم حیات کبھی نہیں لگے گی۔ (ترمذی:3432،اسنادہ حسن)سنا آپ نے کتنی عظیم فضیلت ہے،اس لئے اے میرے بھائیو اوربہنو!اگرہم یہ چاہتے ہیں ہم ہرطرح کے حادثات واکسیڈینٹ اورہرطرح کی آفت ومصیبت سےہمیشہ محفوظ رہیں تو پھر جیسے ہی ہم کبھی یہ سنیں اوریہ دیکھیں کہ فلاں کے ساتھ ایسا اورایساہوا ہے،یاپھر کسی کےساتھ کوئی بڑا حادثہ ہوگیا ہے تو ہم فوراً یہ دعا پڑھ لیا کریں،اللہ ہمیں ضروربالضرور اس آفت ومصیبت اوراس حادثے واکسیڈینٹ وغیرہ سے بچا لے گا۔
(10)ایساکہناکبھی نہ بھولیں:
میرے دوستو! اب آخر میں سب سے قیمتی ایک بات سن لیں اور یہ بات بتاکر میں اپنی بات کو ختم کردیتاہوں کہ ہم ہمیشہ اپنے جان کی حفاظت کیا کریں کیونکہ یہ جان اللہ کی دی ہوئی سب سے قیمتی چیز ہے اورآپ نے تو یہ محاورہ سنا ہی ہوگا کہ جان ہے توجہان ہے،اورخود اللہ نے بھی اس کا حکم دیا ہے کہ ’’ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ‘‘ کہ اے لوگو! اپنے آپ کو ہلاکت وبربادی میں نہ ڈالو۔(البقرۃ:195) تو ہم ہمیشہ اپنے آپ کو ہراس کام اورہراس حرکت سےدور رکھیں جس سے ہمارا کوئی جانی نقصان ہوسکتاہو جیسےکہ ہم زیادہ رفتار سے گاڑی وغیرہ نہ چلائیں اورنہ ہی ڈرائیور کو تیز چلانے کاحکم دیں،اوراپنے اپنے نوجوان بچوں کو بھی اس بات کی باربارتلقین کرتے رہاکریں کہ وہ تیز رفتارسے گاڑی کبھی نہ چلائے،کیاآپ نے سنا اوردیکھا نہیں کہ اس تیز رفتاری نے نہ جانے کتنے نوجوانوں کی زندگیاں چھین لیں ،تو ہم ہرطرح کے نقصان سے بچنے کی ہمیشہ کوشش کریں، جہاں تک ممکن ہوسکے ہم ہرطرح کےاحتیاط کو اپنائیں ،دعائیں پڑھا کریں،جوجوباتیں ابھی ہم نے سنی ہیں ان تمام باتوں پر ہمیشہ عمل کیاکریں ،اب اگر ساری احتیاطی تدابیر کو اپنانے کے باوجود بھی خدانخواستہ ہمارے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے تو ہم یہ نہ کہاکریں کہ اگرہم ایساکرتے تو ایسا ہمارے ساتھ نہ ہوتا،اگرمیں یہ نہیں کرتاتو میرے ساتھ ایسا نہیں ہوتا ،کاش!اگرمیں یہ کرلیتاتو آج میرے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا وغیرہ وغیرہ،کیونکہ اس طرح کی باتوں سے ایک مسلمان کا دین وایمان خطرے میں پڑجاتاہے،اب آپ کہیں گے کہ کیسے؟تو سنئے حدیث،جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ ‘‘جوچیز بھی تمہیں فائدہ دے سکتی ہے تم اس کی کوشش کرتے رہاکرو،اوراللہ سے ہمیشہ مددمانگتے رہاکرو ،اورلاچار وعاجز اورتھک ہارکر نہ بیٹھ جایاکرو،’’ فَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ ‘‘اوراگر خدانخواستہ تمہیں کبھی کوئی تکلیف یاپھر کوئی آفت ومصیبت پہنچ جائے تو’’ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ‘‘ توتم ایسا نہ کہاکرو کہ اگرمیں اِس طرح سے کرتا یاپھر اُس طرح سے کرتاتو آج یہ دن دیکھنا نہیں پڑتا تھا’’ وَلَكِنْ قُلْ ‘‘ لیکن تم یہ کہا کرو کہ ’’ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ ‘‘اللہ نے یہی مقدر میں لکھاتھا اوراللہ نے جوچاہا کیا، کیونکہ ’’ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ ‘‘لفظ اگر مگر،ایسا اورویسا سے شیطان اپنا کام شروع کردیتاہے۔(ابن ماجہ:79،مسلم:2664)دیکھئےآپﷺ نے ہمیں کتنی عمدہ نصیحت کی ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے آپ کو ہرطرح کے نقصان سے بچانے کی کوشش کریں ،پھر اگر ہرطرح کی تدبیر اورہرطرح کے احتیاط کو اپنانے کے باوجود بھی خدانخواستہ ہماری زندگی میں کوئی حادثہ ہوجائے تو ہم اگر مگر نہ کہا کریں،یہ نہ کہاکریں کہ کاش میں آج یہ نہیں کرتا تو یہ نوبت نہیں آتی تھی!کاش میں نے یہ نہیں کیا ہوتا،کاش میں نے وہ نہیں کیا ہوتا وغیرہ،کیونکہ اس طرح سے سوچنے اوربولنےسےشیطان حرکت میں آجاتاہے اورایسے بولنے والے انسان کوشیطان گمراہ کردیتاہے،یاتو اللہ سے بدظن کردیتاہے یاپھر تقدیر کا منکر بنادیتاہے،اس لئے میرے بھائیو اوربہنو!ہم ہمیشہ اس سلسلے میں ہوشیار رہیں اورشیطان کو کبھی کوئی موقع نہ دیں ،اورجیسے ہی ہماری زندگی میں کوئی حادثہ ہوجائے توفوراً ہم یہی کہیں کہ ’’ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ ‘‘ اللہ کی مرضی،جو اللہ نے لکھا تھا وہ ہوگیا۔
اب آخر میں اللہ رب العزت سے دعاگوہوں کہ اے بارالہ تو ہم سب کو ہرطرح کے حادثات اور ہرطرح کی بری موت سے ہمیشہ محفوظ رکھ۔آمین۔ثم آمین یارب العالمین۔
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
اٹیچمنٹس
-
744.2 KB مناظر: 91