• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حالات پرستی یا حکمِ الٰہی؟ طارق مسعود دیوبندی کے باطل نظریات کا رد

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
928
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
حالات پرستی یا حکمِ الٰہی؟ طارق مسعود دیوبندی کے باطل نظریات کا رد
​

از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ

کراچی کے ایک حکومت نواز ٹٹو مولوی جو ٹک ٹاکر مولوی کے طور پر زیادہ جانا جاتا ہے جس کا ہر بیان عورت کی شرم گاہ سے شروع ہوکر گندے لطیفوں پر ختم ہوتا ہے ایک تازہ بھونک میں کہا ہے کہ یہ خلافت کا زمانہ نہیں ہے کیونکہ حالات ایسے نہیں ہیں کہ خلافت کی بات کی جاسکے
اس کذاب نے کہا کہ اسلام میں ہمیشہ حالات کو دیکھ کر چلنا پڑتا ہے اور خلافت کے نام پر بہت سے نوجوانوں کو ورغلایا گیا وغیرہ۔

سب سے پہلی بات تو اس گدھے کو کوئی بتائے کہ دین کا اصول ہے کہ ہمیشہ اللہ کے احکامات کو دیکھ کر چلنا پڑتا ہے نہ کے حالات کو دیکھ کر اور اسی بات کا جھگڑا نوح علیہ السلام کے دور سے چلا ارہا ہے کہ اہل باطل کہتے ہیں کہ حالات کو دیکھ کر چلنا ہے جبکہ اہل حق کا کہنا ہے کہ نہیں احکامات کو دیکھ کر چلنا ہے۔

اگر حالات کے مطابق خود کو نہ ڈھالنا بیوقوفی ہے تو گویا اس ٹک ٹاکر مولوی کے نزدیک نوح سے لے کر محمد علیہم السلام تک تمام انبیاء بیوقوف تھے معاذ اللہ!

ابراہیم نے ایسے وقت میں باطل معبود توڑے جب سارے شہر اور ملک میں وہ اکیلا توحید کا داعی تھا اور سارا ملک، حکمران، عدالتیں، علماء، عوام اس کے خلاف اگ بگولا ہوگئے تو یہ مولوی اس وقت ہوتا تو کہتا کہ " ابراہیم نے بیوقوفی کی اور خود کو آگ کا مستحق ٹھرایا؟ یہ توحید کا نعرہ لگانے کا وقت نہیں؟ اور اسلام ہمیشہ حالات کو دیکھ کر چلنے کا حکم دیتا ہے؟

پھر کیا یہ موسی کو بھی بیوقوف سمجھتا ہے جو اکیلا اپنے بھائی کے ساتھ فرعون جیسے اپنے دور کے سپر پاور سمجھے جانے والے حکمران کے دربار میں جاکر اس کے منہ پر اس کا انکار کرتا ہے اور اس کو اپنے خلاف بھڑکا دیتا ہے بلکہ وہ تو خود بھی نہیں گیا بلکہ رب العالمین نے اس کو بیجھا کہ جاو فرعون کو کہو سرکشی چھوڑ دے موسی نے تو کہا بھی کہ اے میرے رب وہ مجھے قتل کر دیں گے مجھ پر پہلے ہی قتل کا پرچہ ہے ان کے ملک میں لکن اللہ تعالی نے فرمایا میں مدد کروں گا جاو اس کے پاس

تو گویا اس جاہل مولوی کے نزدیک یہ اللہ تعالی سے بھی زیادہ سمجھدار ہے کہ وہ تو اپنے نبی کو بلکل حالات کے مخالف سمت میں بیجھ رہا ہے

پھر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہے گا جس نے مکہ کی پہاڑی پر چڑھ کر ساری قوم کو جمع کیا اور جب سب جمع ہوئے تو ان کے آباء و اجداد اور خود ان کی تکفیر کر دی اور فرمایا کہ تم اور تمھارے باپ دادا سب باطل پرست ہو! کیا یہ اقدام حالات کے مطابق تھا؟

اور جب بدر میں وہ صرف 313 کو 1000 کے مقابل لے ایا تھا کیا یہ حالات کے مطابق چلنا تھا؟
اور کیا یہ ٹک ٹاکر احد میں ہوتا تو کہتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کے نام پر نوجوانوں کو ورغلایا ہے اور احد میں مروا دیا؟ اور کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورے دیتا کہ حالات کے مطابق چلو اور عرب سے ٹکر لینا بیوقوفی ہے؟

کیا جب عرب نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشکش کی کہ شدت پسندی چھوڑ دو آپ کو دعوت کی آزادی دیں گے اور صلح کل سے رہیں گے تو یہ کہتا کہ یا رسول اللہ حالات کے مطابق چلنا چاہئے پیشکش قبول کر لو ایک دن ہم لات و منات کی اور اگلے دن وہ اللہ کی عبادت کریں گے؟

اور کیا جب عرب نے ابی طالب سے کہا کہ اس کو کہو تکفیر چھوڑ دے ہم اس کو عرب کا بادشاہ بنا دیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے انکار کیا تو کیا وہ فیصلہ حالات کے مطابق تھا اور کیا ٹک ٹاکر مولوی کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیشکش ٹھکرا کر بیوقوفی کی معاذ اللہ!

یہ اس دور کے علماء ہیں جو آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر بدترین خلائق ہیں اس قدر بے شرم اور خبیث ہیں کہ اپنی بے غیرتی اور بزدلی کے جواز کےلئے دین کے اصول ہی بدل دیتے ہیں اور دین کا چہرہ بگاڑنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ان ہی جیسے بے غیرتوں کے بارے میں اقبال نے کہا تھا

خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
​

اسلام کا مطلب ہے تسلیم ہونا یعنی اللہ تبارک وتعالی کے آگے ہر حال میں سر تسلیم خم کرنا کہ اے آقا آپ جو کہو گے وہ کروں گا جس سے منع کرو گے وہ نہیں کروں گا چاہے حالات مخالف ہوں یا موافق ہوں چاہے کوئی ساتھ دے یا نہ دے چاہے نتیجہ اچھا ہو یا بظاہر انتہائی خوفناک ہو چاہے راستے پھولوں سے بھرا ہو یا کانٹوں سے میں آپ کے احکامات کو ہی مانوں گا اور کسی کا حکم آپ کے حکم کے برابر نہیں ٹھراوں گا۔

یہ ایک مومن کا ایمان ہوتا ہے اور ایک منافق کا ایمان وہ ہوتا ہے کہ جب حالات صحیح ہوں تو اہل ایمان کی طرف بھاگ کر آئیں اور جب حالات برے ہوں تو ان سے الگ ہوکر کفار کی چاپلوسیاں کرے

الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْۚ-فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ﳲ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌۙ-قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ

(وہ جو تمھاری حالت کی تاک میں رہتے ہیں سو اگر تمھیں اللہ کی طرف سے فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمھارے ساتھ نہیں تھے اور اگر کافروں کو جیت نصیب ہو تو کہتے ہیں کیا ہم نے تم پر قابو نہیں پایا تھا اس کے باوجود کیا تمھیں مسلمانوں سے نہیں بچایا۔)

اللہ تعالی نے حالات کے مطابق چلنے کو واضح طور پر منافقین کی صفت بتایا ہے اور ان کی سخت مذمت فرمائی ہے اس بات پر کہ وہ ہمیشہ حالات کو دیکھتے رہتے ہیں اور جس طرف حالات جاتے ہیں یہ بھی اسی کی طرف ہوجاتے ہیں۔

وما علینا الا البلاغ
 
Top