• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حجیّة الحدیث المرسل عند الاحنافِ

شمولیت
اگست 13، 2019
پیغامات
12
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
13
☆حجیة الحدیث المرسل عند الاحناف

■ الامام الحافظ المحدّث ابو بکر احمد بن علی بن ثابت

المعروف =بالخطیب البغدادی:

انه مقبول و یجب العمل به اذا کان المرسل ثقة عدلا و ھذا قول مالک و اھل المدینة و ابی حنیفة۔
(کتاب الکفایة فی علم الدرایة □ باب الکلام فی ارسال الحدیث،معناہ،و ھل یجب العمل بالمرسل ام لا؟)

ترجمہ:
بے شک *حدیث مرسل مقبول ہے اور اس پر عمل واجب ہے* جب ارسال کرنے والا ثقہ ہو اور یے مالک،اہل مدینہ اور •ابوحنیفہ• کا قول ہے۔

■المحدث الحافظ ابی الفضل عبد الرحیم بن الحسین العراقی
المعروف بالحافظ العراقی:
و احْتجّ مالکٌ و کذا النعمانُ۔
(فتح المغیث شرح الفیة الحدیث ☜ ذکرہ فی بیان المرسل)

ترجمہ:

اور حدیث مرسل سے امام مالک اور اسی طرح نعمان(ابوحنیفہ) نے احتجاج کیا ہے۔

■الامام ابی عمرو عثمان بن عبدالرحمن الشھرزوری
(المعروف ابن الصلاح) :
الاحتجاجُ بِهٖ مذھبُ مالکٍ و ابِی حنیفةَ۔
(مقدمة بن الصلاح > النوع التاسع معرفة المرسل)
ترجمہ:
حدیث مرسل سے احتجاج کرنا امام مالک اور ابو حنیفہ کا مذہب ہے۔
■ امام نووی تقریب میں لکھتے ہیں:

و قالَ مالکٌ و ابوحنیفةَ فی طائفةٍ صحیحٌ۔
(تدریب الراوی تحت ذکر المرسل)

ترجمہ:

اور امام مالک و ابوحنیفہ نے کہا ایک جماعت (انہیں میں سے بنا بر قول مشہور امام احمد بن حنبل ہیں) میں کہ حدیث مرسل صحیح ہے۔
■ علامہ حافظ ابن حجر العسقلانی رقم طراز ہیں:

وھو قول المالکیین و الکوفیین یُقبل مطلقا۔
ترجمہ:

حدیث مرسل مطلقا قابل قبول ہے یے مالکیین و کوفیین کا قول ہے۔
اب جو ہم قول نقل کرنے جا رہے ہیں وہ دیوبندی حضرات کے لیے ہے۔
■ العلامة ظفر احمد العثمانی التھانوی:
و مرسل اھل القرن الثانی و الثالث عندنا (ای الحنفیة) و عند مالک مطلقا۔
محشی ابو غدة قرن و ثانی کی تشریح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

و ھم التابعون والقرن الثالث ھم اتباع التابعین۔

اس اعلاوہ بھی بے شمار حوالاجات ہیں جنہیں ہم طوالت سے اجتناب کرتے ہوئے نقل نہیں کر رہے۔
تحریر : علی الامینی
 

سید طہ عارف

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 18، 2016
پیغامات
737
ری ایکشن اسکور
141
پوائنٹ
118
امام شافعی کے ہاں بھی بعض شروط کے ساتھ قبول کی جاتی ہے

امام شافعی کے نزدیک مرسل سے احتجاج کی شرائط

1. کبار تابعین نے ارسال کیا ہو.
2. راوی خود ثقہ ہو. حفاظ روات کی روایات کی مخالفت نہ کرتا ہو.
3. ضعیف روات مجہول روات اور مجروح روات سے روایت کرنے میں مشہور نہ ہو
4. وہ مرسل روایت راوی سے ثابت ہو

5. اس مرسل روایت کے معنی میں مسند متصل صحیح روایت لائے. جس سے اس کی مرسل روایت کی صحت ثابت ہو.
6. اگر ایسی روایت نہی ملتی تو اس باب میں دوسری مرسل لائے جس کی شرائط وہی ہیں جو 1,2,3,4 میں مذکور ہیں.
7. دونوں مرسل روایت کی سند میں شیخ ایک نہ ہو بلکہ ہر مرسل روایت کے راوی کے اپنے شیوخ ہوں.
8. اگر یہ بھی نہ ملے تو دیکھا جائے گا کہ اصحاب نبی نے اس مرسل روایت کے معنی کے مطابق فتوی دیا ہے یا نہی. اگر دیا ہے تو یہ اس مرسل روایت کو مضبوط کرتی ہے.
9. اگر یہ بھی نہ ملے تو دیکھیں گے عام العلماء نے اس روایت کے معنی میں فتوی دیا ہے یا نہی اگر ہاں تو یہ اس مرسل کی صحت پر ایک دلیل ہے.
 
شمولیت
اگست 13، 2019
پیغامات
12
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
13
امام شافعی کے ہاں بھی بعض شروط کے ساتھ قبول کی جاتی ہے

امام شافعی کے نزدیک مرسل سے احتجاج کی شرائط

1. کبار تابعین نے ارسال کیا ہو.
2. راوی خود ثقہ ہو. حفاظ روات کی روایات کی مخالفت نہ کرتا ہو.
3. ضعیف روات مجہول روات اور مجروح روات سے روایت کرنے میں مشہور نہ ہو
4. وہ مرسل روایت راوی سے ثابت ہو

5. اس مرسل روایت کے معنی میں مسند متصل صحیح روایت لائے. جس سے اس کی مرسل روایت کی صحت ثابت ہو.
6. اگر ایسی روایت نہی ملتی تو اس باب میں دوسری مرسل لائے جس کی شرائط وہی ہیں جو 1,2,3,4 میں مذکور ہیں.
7. دونوں مرسل روایت کی سند میں شیخ ایک نہ ہو بلکہ ہر مرسل روایت کے راوی کے اپنے شیوخ ہوں.
8. اگر یہ بھی نہ ملے تو دیکھا جائے گا کہ اصحاب نبی نے اس مرسل روایت کے معنی کے مطابق فتوی دیا ہے یا نہی. اگر دیا ہے تو یہ اس مرسل روایت کو مضبوط کرتی ہے.
9. اگر یہ بھی نہ ملے تو دیکھیں گے عام العلماء نے اس روایت کے معنی میں فتوی دیا ہے یا نہی اگر ہاں تو یہ اس مرسل کی صحت پر ایک دلیل ہے.
احسنتم
ان شاء اللہ
جلد ہی اس پر بھی پوسٹ اپلوڈ کریں گے نیز مالکیہ و حنابلہ کے نزدیک حدیث مرسل کا کیا حکم ہے
اور آخر میں محدثین کے مسلک پر روشنی ڈالی جائے گی۔
 
Top