• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حديث میں نکارت کی مثال

شمولیت
جون 21، 2019
پیغامات
92
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
22
[emoji3544] نکارت کی مثال[emoji3544]

سلسلۂ علل حدیث

[emoji421]محمد عبد الرحمن اڑیشوی

حدیث میں نکارت کب آتی ہے؟
[emoji420]مختصر جواب یہ ہے کہ جب روایت کرنے میں کوئی ضعیف راوی منفرد ہو، یا وہ راوی کسی ایسے شخص کی مخالفت کرتا ہو جو اس سے ثقاہت میں بڑھا ہوا ہے۔

چلیے اسے مثال سے سمجھتے ہیں۔

[emoji419]حَدَّثَنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إبْراهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ قالَ: حَدَّثَنا الوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قالَ: حَدَّثَنا الأوْزاعِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ، عَنْ *يَزِيدَ الرَّقاشِيِّ* ، عَنْ أنَسِ بْنِ مالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قالَ:
*«لَيْسَ بَيْنَ العَبْدِ والشِّرْكِ إلّا تَرْكُ الصَّلاةِ، فَإذا تَرَكَها فَقَدْ أشْرَكَ»*
یہ حدیث انس بن مالک رضی اللہ سے مروی ہے جس میں یزید بن ابان الرقاشی راوی ضعیف اور متفرد ہے، اور یہ حدیث سنن ابن ماجہ میں موجود ہے۔

اس کے علاوہ مروزی رحمہ اللہ کی مشہور کتاب _تعظیم قدر الصلاۃ_ میں بھی اس سلسلہ میں یزید بن ابان الزقاشی کی تین روایات آئی ہیں۔

[emoji637]٨٩٨ - حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيى، قالَ: حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قالَ: حَدَّثَنا الأوْزاعِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ، عَنْ *يَزِيدَ الرَّقاشِيِّ* ، قالَ: قُلْتُ لِأنَسِ بْنِ مالِكٍ رضي الله عنه إنَّ هاهُنا قَوْمًا يَشْهَدُونَ عَلَيْنا بِالكُفْرِ ويُكَذِّبُونَ بِالشَّفاعَةِ والحَوْضِ فَهَلْ سَمِعْتَ مِن رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:
*«بَيْنَ العَبْدِ والكُفْرِ والشِّرْكِ تَرْكُ الصَّلاةِ فَإذا تَرَكَها فَقَدْ أشْرَكَ»*

[emoji638]٨٩٩ - حَدَّثَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ المُسْنَدِيُّ، قالَ: حَدَّثَنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، قالَ: حَدَّثَنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمّارٍ، قالَ: سَمِعْتُ *الرَّقاشِيَّ* ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أنَسُ بْنُ مالِكٍ رضي الله عنه قالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:
*«بَيْنَ العَبْدِ وبَيْنَ الكُفْرِ أوِ الشِّرْكِ تَرْكُ الصَّلاةِ فَإذا تَرَكَ الصَّلاةَ فَقَدْ كَفَرَ»*

[emoji639]٩٠٠ - حَدَّثَنا أحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قالَ: حَدَّثَنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قالَ: حَدَّثَنا عِكْرِمَةُ، قالَ: حَدَّثَنا *يَزِيدُ* ، عَنْ أنَسٍ رضي الله عنه قالَ: قُلْتُ: يا أبا حَمْزَةَ إنَّ قَوْمًا يَشْهَدُونَ عَلَيْنا بِالكُفْرِ؟ قالَ: أُولَئِكَ شَرُّ الخَلْقِ والخَلِيقَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:
*«بَيْنَ العَبْدِ والكُفْرِ والشِّرْكِ تَرْكُ الصَّلاةِ فَإذا تَرَكَ الصَّلاةَ كَفَرَ»*

[emoji426]صحیح مسلم میں اس ضمن میں جابر رضی اللہ عنہ سے ایک صحیح روایت بھی وارد ہوئی ہے۔
[emoji3500]حَدَّثَنا يَحْيى بْنُ يَحْيى التَّمِيمِيُّ، وعُثْمانُ بْنُ أبِي شَيْبَةَ، كِلاهُما عَنْ جَرِيرٍ، قالَ يَحْيى: أخْبَرَنا جَرِيرٌ، عَنِ الأعْمَشِ، عَنْ أبِي سُفْيانَ، قالَ: سَمِعْتُ جابِرًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: *«إنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وبَيْنَ الشِّرْكِ والكُفْرِ تَرْكَ الصَّلاةِ»*

[emoji1630]نکتے کی بات یہ ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں یزید بن ابان ہیں۔ وہ ایک ضعیف راوی ہونے کے ساتھ مناکیر بیان کرنے میں بھی مشہور ہیں۔

[emoji419] اس کے باوجود جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کو بطور شاہد پیش کرتے ہوئے یزید بن ابان والی حدیث کی تصحیح کرنا درست نہیں ہے۔

[emoji419] تصحیح کرنے کی صورت میں یزید بن ابان کی نکارت سے چشم پوشی ہوگی۔ اور تعدد طرق کی بنیاد پر ایسی روایت کی تصحیح کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ کیوں کہ سند میں یزید بن ابان کی نکارت معروف ہے۔ اور یہ بھی کسی پر مخفی نہیں کہ یزید کی انس رضی اللہ سے روایت غیر محفوظ ہے۔

Sent from my BKL-L09 using Tapatalk
 
Top