• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیثِ مرسل احناف کے نزدیک مطلقا قابلِ احتجاج نہیں؟!

شمولیت
اگست 13، 2019
پیغامات
12
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
13
عند الأحناف حدیثِ مرسل مطلقا قابلِ قُبول نہیں۔

علوم الحدیث کے طالب علم پر یہ بات مخفی نہیں کہ
احناف کے ہاں حدیث مرسل حجت ہے
جیسا کہ علامہ ظفر احمد عثمانی لکھتے ہیں:

■ العلامة ظفر احمد العثمانی التھانوی:
و مرسل اھل القرن الثانی و الثالث عندنا (ای الحنفیة) و عند مالک مطلقا۔

اور قرنِ ثانی و ثالث کی مرسل ہمارے ہاں مطلقا قابل احتجاج ہے۔
محشی ابو غدة قرن و ثانی کی تشریح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

و ھم التابعون والقرن الثالث ھم اتباع التابعین۔

نیز ہم اس کے مفصل دلائل اپنے پچھلے مقالہ میں بیان کر چکے ہیں۔

لیکن یہ اطلاق “شوافع” کے مقابلے میں ہے
ایسا نہیں کہ عند الأحناف اگر کوئی بھی مرسَل ملے تو “آنکھیں بند کر کے” اسے قبول کر لیتے ہیں۔

چنانچہ
علامہ عند المجید الترکمانی اپنی کتاب ( المدخل إلی اصول الحدیث علی منھج الحنفیة ) میں قبول مرسل کی شرائط بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

الأول : أن یکون المرسِل نفسُہ ثقةً
پہلی شرط مرسِل (ارسال کرنے والا) کا خود ثقہ ہونا ہے۔
۔۔۔۔۔

پھر اکثر مصنفین کی اس شرط ذکر نا کرنے کی علت لکھتے ہیں:

الأکثر لا یصرِّحُونَ بہ اعتمادا علی معرفة السامعِ و بداھتہٖ

اور اکثر (مصنفین و مولفین) سامع کی پہلے ہی سے جاننے کی وجہ سے اس کی تصریح نہیں کرتے۔

الثانی: أن لا یُرسل الا عن ثقة

دوسری شرط یہ کہ ارسال کرنے والا صرف ثقہ ہی سے ارسال کرتا ہے۔

نوٹ: یہ شرط اگر کلی سبیل کلّ لی جائے تو صعب ہے اس لیے مصنف نے یہ امر راجح قرار دیا کہ اغلب ایسا ہو کہ وہ ثقہ ہی سے ارسال کرتا ہو۔


پھر مصنف نے ان نصوص کو ذکر کیا جو آپ کتاب اسکین میں دیکھ سکتے ہیں:

07B20497-819B-48ED-998A-05594DEBFD9D.jpeg
4E987EC4-A224-4F3B-BAF3-50A73E4F8103.jpeg
4369BBD1-22FB-4233-8095-2D39DDE4A642.jpeg




لیکن
علامہ مفتی تقی عثمانی صاحب ان شرائط کے معاملے میں بڑے سخت واقع ہوئے ہیں
چنانچہ اپنے فتوی میں شرائط قبول مرسل نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

حنفیہ محدثین کی اصطلاح کے مطابق مرسل کو علی الإطلاق حجت نہیں سمجھتے بلکہ جو مرسَل حنفیہ کے ہاں حجت ہوتی ہے اس کے لیے تین شرائط ہیں:

۱ :- پہلی شرط یہ ہے کہ مرسِل قرون ثلاثہ مشہود لھا بالخیر میں سے ہو۔
۲ :- دوسری شرط یہ ہے کہ وہ خود جرح و تعدیل وغیرہ سے باخبر امام اور ثقہ ہو
۳:-تیسری شرط یہ ہے کہ وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے کسی قول یا فعل کو بصیغہ جزم مثلا: “قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کذا”روایت کرے
لھذ عنعنہ کرے گا تو اس شرط کے مفقود ہونے کی بنا پر حدیث حجت نا ہوگی۔

99B01293-5324-468F-B089-4FE8148A8B57.jpeg
D2B1ECEC-1662-43BA-93F4-AFCF8DA5A6EF.jpeg


گرامی قدر قارئین
مذکورہ بالا شرائط میں
“جرح و تعدیل وغیرہ سے باخبر امام”
“صیغہ جزم “

کے اضافہ ملاحظہ فرمائیے نیز نوٹ کر لیجیے


اب دیکھنا یہ ہے کہ جب احناف (خصوصا علماء دیوبند )
مرحلہ تطبیق پر آتے ہیں تو آیا ان شرائط کا پاس رکھتے ہیں یا نہیں؟!
آیا علامہ مفتی تقی عثمانی نے خود ہمیشہ ان شرائط کی پاسداری کی ہے؟!
یا
کوئی معضلہ (مشکل مسئلہ ) حل کرتے ہیں وقت ان شرائط کو نظرانداز کر جاتے ہیں؟!
جانیے اگلی پوسٹ میں:
 
Top