ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 799
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
حدیثِ نبوی ﷺ ایمان و کفر کے درمیان حدِ فاصل
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہمارا عقیدہ ہے کہ صحیح اور حسن احادیث شریعت محمدی میں قرآن کے بعد دوسرا اصل اور دلیل ہیں، جب کوئی حدیث صحیح اور حسن سند سے ثابت ہو۔ اس لیے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول، فعل اور تقریر ہے جس کا ماننا اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔ جو اس سے انکار کرتا ہے، وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے انکار کرتا ہے اور یہ کفر ہے۔ اس پر درج ذیل دلائل ہیں:
(۱) سورة آل عمران میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ
کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منہ پھیر لیں تو بیشک اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔
[سورة آل عمران : ۳۱-۳۲]
(۲) سورۃ النساء میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا
ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آؤ تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔
[سورۃ النساء : ۶۱]
اسی طرح آیت نمبر ۱۱۵ میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔
[سورۃ النساء : ۱۱۵]
(۳) سورۃ الفرقان میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول اللہ کی راہ اختیار کی ہوتی۔
[سورة الفرقان : ۲۷]
(۴) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ يَأْبَى؟، قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى
میری پوری امت جنت میں داخل ہو گی مگر جس نے انکار کیا، صحابہ کرام نے فرمایا، یا رسول اللہ انکار کون کرے گا؟ آپ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا، جس نے میری نافرمانی کی تو یقیناً اس نے انکار کیا۔
[صحيح البخاري، حدیث: ۷۲۸۰]
(۵) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فَمَنْ أَطَاعَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْقٌ بَيْنَ النَّاسِ
پس جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی تو اس نے یقیناً اللہ تعالی کی اطاعت کی، اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تو اس نے یقیناً اللہ تعالی کی نافرمانی کی، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔
[صحيح البخاري، حدیث: ۷۲۸۱]
(٦) ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ، إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ فَالنَّجَاءَ، فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَدْلَجُوا فَانْطَلَقُوا عَلَى مُهْلَتِهِمْ، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ، فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي وَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ
میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے (یعنی دشمن کی فوج کو) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں، پس جلدی بھاگو۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا کہنا نہ مانا اور سچے دین کو جھٹلایا۔
[صحيح مسلم، حدیث: ۲۲۸۳]