• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث "نجد" کا صحیح مفہوم

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,713
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
یعنی مراد یہ ہوءی کہ نجد اور عراق ایک ہی جگہ کے دونام ہیں آئین اس قول کا جائزہ صحیح بخاری سے لیتے ہیں
نہیں اس کے معنی یہ نہیں ہوئے کہ نجد اور عراق ایک ہی جگہ کے دو نام ہوئے!! بلکہ یہ معنی یہ ہوئے کہ نجد متعدد ہیں اور اس حدیث الفتنة من قبل المشرق میں نجد کا عراق مراد ہے!!
وقَّتَ النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ قرنًا لأهلِ نجدٍ، والجُحفةَ لأهلِ الشأمِ، وذا الحُليفةَ لأهلِ المدينةِ . قال : سمعتُ هذا منَ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ، وبلغني أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ قال : ( ولأهلِ اليمنِ يلمْلمَ ) . وذكر العراقَ، فقال : لم يكن عراقٌيومئذٍ .
الراوي : عبدالله بن عمر | المحدث :البخاري | المصدر : صحيح البخاري
الصفحة أو الرقم: 7344 | خلاصة حكم المحدث : [صحيح]
یہ روایت آپ کے اس فلسفے کی نفی کررہی ہے کہ عراق اور نجد ایک جگہ کے دو نام ہیں اور کمال یہ ہے یہ روایت بھی ابن عمر سے ہی مروی ہے
لہٰذا ہمارے مؤقف کی نفی اس سے نہیں ہوتی!!فتدبر!!
 
Top