• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حذیفہ بن یمان عبسی کا بیان

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,961
ری ایکشن اسکور
5,788
پوائنٹ
354
حدیث نمبر: 3824
حدثني إسماعيل بن خليل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا سلمة بن رجاء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن هشام بن عروة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عائشة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ رضى الله عنها قالت لما كان يوم أحد هزم المشركون هزيمة بينة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فصاح إبليس أى عباد الله أخراكم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فرجعت أولاهم على أخراهم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاجتلدت أخراهم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فنظر حذيفة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا هو بأبيه فنادى أى عباد الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أبي أبي‏.‏ فقالت فوالله ما احتجزوا حتى قتلوه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال حذيفة غفر الله لكم‏.‏ قال أبي فوالله ما زالت في حذيفة منها بقية خير حتى لقي الله عز وجل‏.‏

مجھ سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن رجاء نے، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ احدکی لڑائی میں جب مشرکین ہارچکے تو ابلیس نے چلا کر کہا اے اللہ کے بندو! پیچھے والوں کو (قتل کرو) چنانچہ آگے کے مسلمان پیچھے والوں پر پل پڑے اور انہیں قتل کرنا شروع کر دیا، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو ان کے والد (یمان رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے انہوں نے پکار کر کہا اے اللہ کے بندو یہ تو میرے والد ہیں میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اللہ کی قسم! اس وقت تک لوگ وہاں سے نہیں ہٹے جب تک انہیں قتل نہ کر لیا، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے، (ہشام نے بیان کیا کہ) اللہ کی قسم! حذیفہ رضی اللہ عنہ برابر یہ کلمہ دعائیہ کہتے رہے (کہ اللہ ان کے والد پر حملہ کرنے والوں کو بخشے جو کہ محض غلط فہمی کی وجہ سے یہ حرکت کربیٹھے) یہ دعا مرتے دم تک کرتے رہے۔


کتاب مناقب الانصآر صحیح بخاری
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
جزاکم اللہ خیرا!
آخر میں ترجمہ میں کچھ جھول ہے!
قال أبي فوالله ما زالت في حذيفة منها بقية خير حتى لقي الله عز وجل‏.‏
(ہشام نے بیان کیا کہ) اللہ کی قسم! حذیفہ رضی اللہ عنہ برابر یہ کلمہ دعائیہ کہتے رہے (کہ اللہ ان کے والد پر حملہ کرنے والوں کو بخشے جو کہ محض غلط فہمی کی وجہ سے یہ حرکت کربیٹھے) یہ دعا مرتے دم تک کرتے رہے۔
 

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,961
ری ایکشن اسکور
5,788
پوائنٹ
354
جزاکم اللہ خیرا!
آخر میں ترجمہ میں کچھ جھول ہے!
قال أبي فوالله ما زالت في حذيفة منها بقية خير حتى لقي الله عز وجل‏.‏
(ہشام نے بیان کیا کہ) اللہ کی قسم! حذیفہ رضی اللہ عنہ برابر یہ کلمہ دعائیہ کہتے رہے (کہ اللہ ان کے والد پر حملہ کرنے والوں کو بخشے جو کہ محض غلط فہمی کی وجہ سے یہ حرکت کربیٹھے) یہ دعا مرتے دم تک کرتے رہے۔
جزاکم اللہ خیرا فی الدارین انس نظر بھائی زرا تفصیل سے اصلاح فرمادیں۔تاکہ میں نے جہاں جہاں اس تھریڈ کو پوسٹ کیا ہے وہاں درست کرلوں۔جزاک اللہ خیرا
اللہ آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔آمین
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
حدیث نمبر: 3824
حدثني إسماعيل بن خليل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا سلمة بن رجاء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن هشام بن عروة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عائشة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ رضى الله عنها قالت لما كان يوم أحد هزم المشركون هزيمة بينة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فصاح إبليس أى عباد الله أخراكم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فرجعت أولاهم على أخراهم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاجتلدت أخراهم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فنظر حذيفة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا هو بأبيه فنادى أى عباد الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أبي أبي‏.‏ فقالت فوالله ما احتجزوا حتى قتلوه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال حذيفة غفر الله لكم‏.‏ قال أبي فوالله ما زالت في حذيفة منها بقية خير حتى لقي الله عز وجل‏.‏

مجھ سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن رجاء نے، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ احدکی لڑائی میں جب مشرکین ہارچکے تو ابلیس نے چلا کر کہا اے اللہ کے بندو! پیچھے والوں کو (قتل کرو) چنانچہ آگے کے مسلمان پیچھے والوں پر پل پڑے اور انہیں قتل کرنا شروع کر دیا، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو ان کے والد (یمان رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے انہوں نے پکار کر کہا اے اللہ کے بندو یہ تو میرے والد ہیں میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اللہ کی قسم! اس وقت تک لوگ وہاں سے نہیں ہٹے جب تک انہیں قتل نہ کر لیا، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے، (ہشام نے بیان کیا کہ) اللہ کی قسم! حذیفہ رضی اللہ عنہ برابر یہ کلمہ دعائیہ کہتے رہے (کہ اللہ ان کے والد پر حملہ کرنے والوں کو بخشے جو کہ محض غلط فہمی کی وجہ سے یہ حرکت کربیٹھے) یہ دعا مرتے دم تک کرتے رہے۔


کتاب مناقب الانصآر صحیح بخاری
حدیث مبارکہ کا ترجمہ کچھ یوں ہوگا کہ
سیدنا ہشام بن عروہ اپنے باپ (عروہ بن زبیر) سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ فرماتی ہیں کہ اُحد کے دن (شروع میں) مشرکوں کو بڑی واضح شکست ہوئی۔ تو ابلیس نے چیخ کر کہا کہ اللہ کے بندو! اپنے پیچھے (توجہ کرو)، آگے والے پچھلے لوگوں کی طرف پلٹے تو پیچھے والوں نے (غلط فہمی میں) ان سے لڑنا شروع
کر دیا۔ اچانک سیدنا حذیفہ کی نظر اپنے باپ (یمان﷜) پر پڑی (وہ لڑنے والوں میں گھرے ہوئے تھے۔) تو انہوں نے پکارا اے اللہ کے بندو! میرا باپ! میرا باپ! سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! وہ نہ رُکے حتیٰ کہ انہیں (یمان﷜) کو شہید کر دیا۔ تو سیدنا حذیفہ﷜ نے (صرف اتنا) کہا: اللہ تمہاری مغفرت کرے۔
(سیدنا ہشام﷫ فرماتے ہیں کہ) میرے باپ (سیدنا عروہ بن زبیر﷫) نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس (کلمے غفر الله لكم اور صبر وتحمل وغيره) کی وجہ سے سیدنا حذیفہ﷜ میں ہمیشہ خیر باقی رہی، حتیٰ کہ وہ اپنے رب اللہ عز وجل سے جا ملے۔


ثابت ہوا کہ بعض نیکیاں اتنی برکت والی ثابت ہوتی ہیں (اور انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا) کہ پوری زندگی ان کی وجہ سے انسان میں خیر کا غلبہ رہتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم!
 
Top