• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حلیہ مبارک ــــــــــــــــــــــــــــ

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حلیہ مبارک :

حُلیۂ مُبارک :

ہجرت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اُمّ ِ معبد خُزاعیہ کے خیمے سے گذرے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روانگی کے بعد اپنے شوہر سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حلیہ مبارک کاجو نقشہ کھینچا وہ یہ تھا۔ چمکتا رنگ ، تابناک چہرہ ، خوبصورت ساخت ، نہ توند لے پن کا عیب ، نہ گنجے پن کی خامی ، جمال جہاں تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر ، سرمگیں آنکھیں ، لمبی پلکیں ، بھاری آواز، لمبی گردن ، سفید وسیاہ آنکھیں ، سیاہ سرمگیں پلکیں ، باریک اور باہم ملے ہوئے ابرو ، چمکدار کالے بال ، خاموش ہوں تو باوقار ، گفتگو کریں تو پرکشش ، دور سے (دیکھنے میں) سب سے تابناک و پُر جمال ،قریب سے سب سے خوبصورت اور شیریں ، گفتگو میں چاشنی، بات واضح اور دوٹوک ، نہ مختصر نہ فضول ، انداز ایسا کہ گویا لڑی سے موتی جھڑ رہے ہیں۔ درمیانہ قد ، نہ ناٹا کہ نگاہ میں نہ جچے، نہ لمبا کہ ناگوار لگے ، دوشاخوں کے درمیان ایک شاخ جو تینوں میں سب سے زیادہ تازہ وخوش منظر وپُر رونق ، رفقاء آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ، کچھ فرمائیں تو توجہ سے سنتے ہیں۔ کوئی حکم دیں تو لپک کر بجالاتے ہیں مطاع ومکرم نہ ترش رو، نہ لغو گو۔

-1حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
آپ نہ لمبے تڑنگے تھے نہ ناٹے کھوٹے ، لوگوں کے حساب سے درمیانہ قد کے تھے ، بال نہ زیادہ گھنگریالے تھے نہ بالکل کھڑے کھڑے ، دونوں کے بیچ بیچ کی کیفیت تھی ، رخسار نہ بہت زیادہ پُر گوشت تھا ، نہ ٹھڈی چھوٹی اور پیشانی پست ، چہرہ کسی قدر گولائی لیے ہوئے تھا۔ رنگ گورا گلابی، آنکھیں سرخی مائل ، پلکیں لمبی ، جوڑوں اور مونڈھوں کی ہڈیاں بڑی بڑی ، سینہ پر ناف تک بالوں کی ہلکی سی لکیر ، بقیہ جسم بال سے خالی ، ہتھیلی اور پاؤں پر گوشت ، چلتے تو قدرے جھٹکے سے پاؤں اٹھا تے۔ اور یوں چلتے گویا کسی ڈھلوان پر چل رہے ہیں، جب کسی طرف ملتفت ہوتے تو پورے وجود کے ساتھ ملتفت ہوتے ، دونوںکندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سارے انبیاء کے خاتم تھے۔ سب سے زیادہ سخی دست اور سب سے بڑھ کر جرأت مند، سب سے زیادہ صادق اللہجہ اور سب سے بڑھ کر عہد وپیمان کے پابندِ وفاء۔ سب سے زیادہ نرم طبیعت اور سب سے شریف ساتھی۔ جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اچانک دیکھتا ہیبت زدہ ہوجاتا۔ جوجان پہچان کے ساتھ ملتا محبوب رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصف بیان کر نے والا یہی کہہ سکتا ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسا نہیں دیکھا

۔2
حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر بڑا تھا۔ جوڑوں کی ہڈیاں بھاری بھاری تھیں۔ سینے کے درمیان بال کی لمبی لکیر تھی۔ جب آپ چلتے تو قدرے جھک کرچلتے گویا کسی ڈھلوان سے اتر رہے ہیں۔

-3
حضرت جابر بن سمرہؓرضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دہانہ کشادہ تھا۔ آنکھیں ہلکی سُرخی لیے ہوئے ، اور ایڑیاں باریک۔3
حضرت ابو الطفیل کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گورے رنگ ، پُر ملاحت چہرے اور میانہ قدر وقامت کے تھے۔

-4
حضرت انس بن مالکؓ رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں ، اور رنگ چمکدار ، نہ خالص سفید ، نہ گندم گوں، وفات کے وقت تک سر اور چہرے کے بیس بال بھی سفید نہ ہوئے تھے۔

-5
صرف کنپٹی کے بالوں میں سفیدی تھی ، اور چند بال سر کے سفید تھے۔

-6
حضرت ابوجُحَیفہؓ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آ پ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نچلے ہونٹ کے نیچے عنفقہ (داڑھی بچہ ) میں سفیدی دیکھی۔

-7
حضرت عبد اللہ بن بسرؓ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عنفقہ (داڑھی بچہ ) میں چند بال سفید تھے۔

-8
حضرت براء کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پیکر درمیانی تھا۔ دونو ں کندھوں کے درمیان دوری تھی۔ بال دونوںکانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔ میں نے آپ کو سرخ جوڑا زیب تن کیے ہوئے دیکھا، کبھی کوئی چیز آپ سے زیادہ خوبصورت نہ دیکھی۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۴۰۱، ۴۰۲ ، ترمذی شرح تحفۃ الاحوذی ۴/۳۰۳
2 ایضاً ترمذی مع شرح 3 صحیح مسلم ۲/۴۵۸
4 ایضاً ایضاً 5 صحیح بخاری ۱/۵۰۲
6 ایضاً ایضا ً وصحیح مسلم ۲/۲۵۹ 7 صحیح بخاری ۱/۵۰۱ ، ۵۰۲
8 ایضاً ۱/۵۰۲ ( ایضاً ایضاً
 
Top