1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حفاظت ِ حدیث کے مختلف ذرائع

'انکار حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏دسمبر 14، 2011۔

  1. ‏دسمبر 14، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حفاظت ِ حدیث کے مختلف ذرائع

    خطاب : حافظ عبدالرحمن مدنی
    مرتب : حافظ مبشر حسین لاہوری​

    منکرین حدیث کی طرف سے اکثر وبیشتر اس سوال کا اعادہ و تکرار کیا جاتا ہے کہ
    زیر نظر مضمون میں اس اعتراض کا تسلی و تشفی بخش جواب دیتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی(سنت)کس طرح محفوظ ہوئی؟
    صحابہ کرامؓ جب رسول کریم ﷺ کی زندگی کے شب و روز تابعین کے سامنے پیش کرتے تو چونکہ وہ آنحضرت ﷺ کی زندگی کے بارے میں خبر دیتے تھے، اس لئے ایک طرف تو ان کی یہ خبر (حدیث) دین کے لئے بنیاد متصور ہوگی اور دوسری طرف صحابہ کرامؓ کی بیان کردہ خبر ہی ہمارے لئے حجت ہوگی کیونکہ اللہ کے رسولؐ کی ساری زندگی انہی صحابہ کرامؓ کے درمیان بسر ہوئی ہے۔ لہٰذا صحابہ کرامؓ کا آنحضرت ﷺ کی زندگی کے بارے میں کوئی خبر دینا غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
    صحابہ کرامؓ کے بعد تابعین کے دور میں بھی تقریباً وہی حالات غالب رہے جو رسولِ کریم ﷺ کی زندگی میں تھے۔ پھر ان کے بعد تبع تابعین کے دور میں بھی یہی اجتماعی رنگ غالب تھا۔ اگر صحابہ کرامؓ، تابعین عظام اور تبع تابعین کے اَدوار کو تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ سلسلہ ۲۲۰ھ تک چلتا رہا جب کہ یہ تبع تابعین کے دور کا تقریباً اختتام تھا اور تبع تابعین تک کے اَدوار ہی کو خیرالقرون (بہترین اَدوار) سے موسوم کیا جاتا ہے۔
    یاد رہے کہ جس طرح صحابہ کرامؓ زندگیاں گزارتے رہے، اسی طرح تابعین نے ان کی اتباع کی اور تابعین کی انفرادی و اجتماعی زندگی کو دیکھتے ہوئے تبع تابعین نے اپنے آپ کو ان کے مطابق ڈھالنے کی پوری کوشش کی۔ حتیٰ کہ اگر کبھی کوئی خرابی، بدعملی یا کوتاہی نظر آتی تو فوراً ٹوک کر کہہ دیا جاتا کہ رسولِ اکرم ﷺ کا عمل تو اس طرح تھا۔ جیسا کہ ایک مرتبہ ابن مسعودؓ نے دیکھا کہ لوگ گٹھلیوں پر وِرد کررہے ہیں تو انہوں نے اس پر تعجب اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :
    گویا صحابہ کرامؓ نے رسولِ کریم ﷺ کی باتوں کا اتنا خیال رکھا کہ گٹھلیوں کے استعمال کو ’بدعت‘ کہہ کر اس سے روکا اور اس عمل کو ناپسند کیا۔ رسولِ کریم ﷺ کا معاشرہ تین نسلوں تک غالب رہا اور پھر اس معاشرے میں بہت سی تبدیلیاں اور بگاڑ دَر آئے۔ اس لئے تبع تابعین کے بعد والے دور یا معاشرے کو معیاری دور یا معیاری معاشرہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
     
  2. ‏دسمبر 14، 2011 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حفاظت ِحدیث بذریعہ روایت و کتابت
    رسولِ کریم ﷺ کی زندگی کے بیان و روایت کرنے کو ’حدیث‘ کہا جاتا ہے۔ صحابہ کرامؓ، تابعین کو اور تابعین، تبع تابعین کو اللہ کے رسولؐ کی زندگی اور معمولات سے آگاہ کرنے کے لئے احادیث روایت کرتے رہے۔ اس دور میں لکھنے کا رواج اس قدر عام نہیں تھا۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ لکھنے کی بجائے زبانی روایت اور حفظ کو ترجیح دیتے تھے اور یہ ایک تجرباتی بات ہے کہ انسان جس چیز کو زیادہ استعمال کرتا ہے، وہی چیز زیادہ قوی ہوجاتی ہے۔ اس طرح اس دور میں حافظہ انتہائی قوی ہوتاتھا لیکن اس کے باوجود ایسی چیزیں جن کا تعلق حساب و کتاب اور شماریات سے ہوتا، بعض صحابہ اسے لکھ لیا کرتے۔ نیز وہ صحابہ جنہیں یہ خدشہ ہوتا کہ آنحضرت کی بتائی ہوئی حدیثیں ہمیں بھول نہ جائیں، وہ بھی احادیث لکھ کر انہیں محفوظ کرنے کی کوشش کرتے … :
    1۔حضرت علیؓ کو لوگوں کے جھگڑوں کو حل کرنے میں زیادہ دلچسپی تھی، اسی لئے آنحضرت ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ:
    چونکہ قضا میں ان کی خصوصی دلچسپی تھی، اس لئے انہوں نے قصاص و دیت وغیرہ کے حوالے سے بعض چیزیں لکھ کر اپنے پاس محفوظ کررکھی تھیں۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے :
    2۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کو اللہ کے رسولؐ کے فرمودات جمع کرنے کا بڑا شوق تھا اور وہ ہر وقت اسی کوشش میں رہتے کہ آنحضرت ﷺ کی زبانِ مبارک سے جب بھی کوئی بات نکلے میں فوراً اسے ضبط ِتحریر میں لے آؤں۔ حتیٰ کہ لوگوں نے ان پر اعتراض کرناشروع کردیا کہ اللہ کے رسولؐ کبھی غصے اور کبھی خوشی کی حالت میں ہوتے ہیں اور تم اللہ کے رسولؐ کی ہر بات لکھ لیتے ہو؟ عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ پھر میں احادیث لکھنے سے رُک گیا اور میں نے رسولؐ اللہ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا:
    حضرت عبداللہ بن عمروؓ کی لکھی ہوئی چیزیں محفوظ رہیں اور وہ آگے اولاد دَر اولاد منتقل ہوتی گئیں۔
    3۔یادرہے کہ ان چیزوں میں زیادہ نمایاں وہ احادیث تھیں جن کا تعلق زکوٰۃ وغیرہ سے تھا۔ عرب معاشرے میں زکوٰۃ کا زیادہ تر تعلق چوپایوں سے تھا، اس لئے کہ وہ لوگ زیادہ تر اونٹ، گائے اور بھیڑ بکریاں پالتے تھے اور انہیں زکوٰۃ کے لئے ان کے اَعدادوشمار کو مدنظر رکھنا پڑتا تھا۔ اس سلسلے میں یہ حدیث بڑی معروف ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے عاملوں کے لئے زکوٰۃ کے وہ احکامات تحریری طور پرروانہ کئے جو آنحضرت ﷺ نے طے کردیئے تھے۔ (دیکھئے: بخاری: کتاب الزکوٰۃ، باب زکوٰۃ الابل، باب زکوٰۃ الغنم، باب العرض فی الزکوٰۃ)
     
  3. ‏دسمبر 14، 2011 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حفاظت ِحدیث بذریعہ تعامل
    اصحابِ صفہ کی یہ کوشش ہوتی کہ وہ آنحضرت ﷺ کے اقوال و افعال کی روشنی میں دین حاصل کریں۔ اس وقت دینی تعلیم کے حصول کا کوئی باقاعدہ کتابی طریقہ مروّج نہیں تھا بلکہ صحابہ کرامؓ آنحضرت ﷺ کے افعال اور آپ ؐ کے فرمودات سے دین سیکھتے اور جو شخص جس قدر زیادہ آپؐ کی معیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا، وہ اسی قدر علم دین میں دوسروں کی بہ نسبت آگے ہوتا اور اس مقصد کے حصول کے لئے صحابہ کرامؓ نے آپس میں باریاں طے کررکھی تھیں کہ ایک دن ایک صحابی اللہ کے رسولؐ کے پاس آکر دین سیکھتا اور اس کا کام کاج کوئی دوسرا صحابی سنبھالتا پھر دوسرے دن یہ صحابی کام کرتا اور دوسرے کو موقع دیتا کہ آج وہ اللہ کے رسولؐ کی خدمت میں حاضری دے۔
    آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی شریعت صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں عملی طور پر رَچ بس جانے کی وجہ سے محفوظ ہوتی چلی گئی۔
    علاوہ ازیں یہ بات بھی یاد رہے کہ تعامل کا یہ سلسلہ صحابہ کرامؓ، تابعین عظام اور تبع تابعین تک معیاری اور قابل اعتبار تسلیم کیا جاتا ہے، کیونکہ آنحضرت ﷺ کی اس حدیث کہ
    کے مطابق یہ معیاری معاشرہ تبع تابعین کے دور کے اَواخر یعنی تقریباً ۲۲۰ھ تک کا ہے۔
    پھر اس کے بعد کے تعامل کی وہ حیثیت نہیں جو اس (۲۲۰ھ) سے پہلے کے تعامل کی ہے۔ لیکن اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ خیر القرون کا ہر تعامل حجت ہے بلکہ اس دور کا تعامل آنحضرت ﷺ کی زندگی کو مثبت طور پر پیش کرنے میں بڑا کردار رکھتا ہے ۔ البتہ اگر کسی جگہ کوئی اختلاف یا تبدیلی نظر آئے تو وہاں فیصلہ کن حیثیت صحیح احادیث و روایات ہی کو حاصل ہوگی۔
    یاد رہے کہ خیرالقرون کے تعامل کو تو ایک طرح سے بڑی اہمیت حاصل ہے مگر اس کے بعد چونکہ معاشرے معیاری نہ رہے، اس لئے بعد والے معاشروں کے تعامل کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس لئے جن لوگوں نے خیر القرون کے بعد والے معاشروں کے تعامل کو بھی حجت قرار دینے کی کوشش کی ہے وہ غلطی پر ہیں۔ بلکہ بعض لوگوں نے بڑا عجیب فلسفہ پیش کیا ہے کہ جن چیزوں (مسائل) میں اختلا ف نہیں، وہ تعامل میںشامل کردی ہیں مثلاً نماز کے رکوع، سجود، تشہد، قیام وغیرہ میں اختلاف نہیں، اس لئے کہہ دیا کہ یہ چیزیں تعامل سے ثابت ہیں اور یہ تعامل آج تک باقی ہے اور جن چیزوں میں اختلاف ہے مثلاً رکوع جانے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرنا یا آمین جہری یا سری کہنا وغیرہ، ایسے مسائل کے بارے میں کہا کہ یہ تعامل سے ثابت نہیں، حالانکہ تعامل کے نام پر ایسی تقسیم خود ساختہ ہے۔
     
  4. ‏دسمبر 14، 2011 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    تعامل امت اور روایت ِسنت ساتھ ساتھ
    اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت ہے کہ جس طرح خیر القرون (۲۲۰ھ تک) کا تعامل ایک اہمیت وحیثیت رکھتا ہے، اسی طرح خیرالقرون کے ختم ہونے تک احادیث کی باقاعدہ اور بنیادی کتابیں بھی تقریباً مدوّن ہوچکی تھیں مثلاً دنیا میں اس وقت حدیث کی سب سے پہلی کتاب ہمام بن مُنبہ (معروف تابعی اور حضرت ابوہریرۃؓ کے شاگردِ رشید) کا وہ صحیفہ ہے جو اس وقت چھپ چکا ہے۔پہلے یہ مخطوطے کی شکل میں محفوظ تھا جسے ڈاکٹر حمیداللہ ؒ(پیرس) نے تگ و دَو کرکے شائع کروایا۔ اسی طرح امام مالکؒ جن کی تاریخ پیدائش ۹۵ھ (یا ۹۷ھ) اور تاریخ وفات ۱۷۹ ھ ہے، ان کی حدیث کی معروف کتاب الموطأ آج بھی موجود اور معروف ہے اور یہ کتاب بھی خیرالقرون کے اختتام سے پہلے باقاعدہ کتابی شکل میں منظرعام پر آگئی تھی۔ اسی طرح امام بخاری کی تاریخ پیدائش بھی ۲۲۰ھ سے پہلے کی ہے۔
    اس طرح خیرالقرآن کے تعامل کے ساتھ ساتھ روایات کا کتابی صورت میں مدوّن ہوکر سامنے آنا نعم البدل قرار پاتا ہے۔ یعنی خیرالقرون کے بعد معاشرے غیر معیاری ہوتے چلے گئے لیکن تب تک کتابی صورت میں اللہ کے رسولؐ کی زندگی ایک متبادل کے طور پر محفوظ ہوکر سامنے آچکی تھی اور پھر ان روایات کو باقاعدہ اسناد کے ساتھ جمع کیا گیا۔ اگرچہ اسناد کا یہ سلسلہ چھٹی اور ساتویں ہجری تک بھی چلتا رہا لیکن تیسری صدی ہجری میں مدوّن ہونے والی کتب ِاحادیث ہی زیادہ تر مراجع و مصادر کی حیثیت اختیار کرگئیں۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ ان کتابوں کے مؤلفین (محدثین) نے احادیث کو باسند روایت کیا ہے اور بعض محدثین نے اپنی کتابوں میں احادیث کی صحت کا خاص اہتمام بھی کیا ہے جبکہ دیگر محدثین نے مطلق طور پر رو ایات کو اسناد کے ساتھ پیش کردیا تاکہ بعد میں بھی اگر کوئی شخص کسی روایت کی تحقیق کرنا چاہے تو وہ اس روایت میں مذکور راویوں کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اُصولِ حدیث کی مدد سے بآسانی یہ تحقیق کرلے گا کہ کون سی روایت صحیح ہے اور کون سی ضعیف…؟
     
  5. ‏دسمبر 14، 2011 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    احادیث کے حجت ہونے کیلئے کتابت کی شرط کی حیثیت
    منکرین حدیث کے اس اعتراض کا جواب تقریباً واضح ہوچکا ہے لیکن اس اعتراض کی قلعی کھولنے کیلئے ایک جدید مثال پیش خدمت ہے،جس سے یہ واضح ہوگا کہ کسی چیز کے معیار و حجت اور آئین و دستور ہونے کیلئے ’کتابت‘ (یعنی اس چیز کا پہلے سے لکھا ہونا) کوئی ضروری نہیں…برطانوی معاشرے کا اصل دستور وہ رسوم و رو ایات ہیںجو ان کے ہاں شروع سے چلی آتی ہیں اور یہ رسوم و روایات باقاعدہ تحریری شکل میں موجود نہیں بلکہ برطانوی معاشرے کا تعامل ہی اس دستور کا محافظ ہے۔ اگر کہیں ان کے ہاں لوگوں میں کسی چیز میں اختلاف پیدا ہوجائے تو اس کا فیصلہ کرنے کیلئے ان کی عدالتیں یہ دیکھتی ہیں کہ اس قضیہ میں برطانوی معاشرے کا رواج کیا کہتا ہے اور پھر اسی رواج کے مطابق عدالت فیصلہ کرتی ہے۔
    اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر بالفرض آنحضرت ﷺ یا صحابہ کے دور میں احادیث تحریر شدہ نہ تھیں تو اس کے باوجود وہ حجت و معتبر تھیں کیونکہ عملی طور پر وہ مسلمان معاشرے کا حصہ بن چکی تھیں اور یہ بات بھی یاد رہے کہ فی الواقع شروع شروع میں آنحضرت ﷺ کی مکمل زندگی تحریری صورت میں نہیں ملتی لیکن اللہ کے رسولؐ کی زندگی (سنت) کے جن حصوں (احکامات) کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا، وہ فوری طور پر حضورؐ کی موجودگی میں لکھ لی گئی تھیں اور پھر تبع تابعین کے دور کے اختتام تک اسے خیر القرون کے معاشرتی تعامل سے تحریری شکل میں بھی مدوّن کرکے محفوظ کرلیا گیا۔
     
  6. ‏دسمبر 15، 2011 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں