گڈمسلم
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 10، 2011
- پیغامات
- 1,407
- ری ایکشن اسکور
- 4,918
- پوائنٹ
- 292
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال کچھ اس طرح کا ہے کہ ایک آدمی نے شادی کی اور اس نے نکاح کے وقت حق مہر میں ایک لاکھ روپیہ لکھوایا۔لیکن شادی کو تین سال ہوچکے ہیں اس نے حق مہر میں لکھوایا ہوا ایک لاکھ ابھی تک اپنی بیوی کونہیں دیا ۔تو اس آدمی کےلیے کیا حکم ہے ؟حق مہر کیا جماع کرنے سے پہلے دینا ضروری ہوتا ہے یا نہیں ؟ اگر ضروری ہے تو کیا سارا دینا چاہیے یا کچھ ادا کردے ؟اگر کچھ ادا کردے تو باقی وہ کب دے؟ اگر حق مہر بالکل ہی نہ دے توکیا اپنی بیوی کے پاس جاسکتا ہے یا نہیں ؟اگر حق مہر اس نے ادا نہیں کیا اور اپنی بیوی کے پاس بھی چلا گیا تو اس کےلیے کیا حکم ہے ؟
باقی حق مہر کی مقدار کتنی ہونی چاہیے ؟
علماء کرام سے درخواست ہے کہ قرآن وحدیث کے دلائل سے میرے اس سوال کا جواب دیں
والسلام
میرا سوال کچھ اس طرح کا ہے کہ ایک آدمی نے شادی کی اور اس نے نکاح کے وقت حق مہر میں ایک لاکھ روپیہ لکھوایا۔لیکن شادی کو تین سال ہوچکے ہیں اس نے حق مہر میں لکھوایا ہوا ایک لاکھ ابھی تک اپنی بیوی کونہیں دیا ۔تو اس آدمی کےلیے کیا حکم ہے ؟حق مہر کیا جماع کرنے سے پہلے دینا ضروری ہوتا ہے یا نہیں ؟ اگر ضروری ہے تو کیا سارا دینا چاہیے یا کچھ ادا کردے ؟اگر کچھ ادا کردے تو باقی وہ کب دے؟ اگر حق مہر بالکل ہی نہ دے توکیا اپنی بیوی کے پاس جاسکتا ہے یا نہیں ؟اگر حق مہر اس نے ادا نہیں کیا اور اپنی بیوی کے پاس بھی چلا گیا تو اس کےلیے کیا حکم ہے ؟
باقی حق مہر کی مقدار کتنی ہونی چاہیے ؟
علماء کرام سے درخواست ہے کہ قرآن وحدیث کے دلائل سے میرے اس سوال کا جواب دیں
والسلام