ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 927
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
حماس کا انجام اور فلسطینی مزاحمت کا کفن
از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ
حماس کی جانب سے ذلت امیز معاہدہ قبول کرنے کے بعد اب فلسطینی مزاحمت کے کفن دفن کی بس رسمی کاروائی باقی ہے۔
دراصل حماس کے پاس اب اپنا وجود برقرار رکھنے کے چانسز ویسے بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے سو اس نے کچھ عرصے بعد دردناک موت کے بجائے معاہدے کے راستے کچھ کم تکلیف دہ موت کو قبول کر لیا اور حماس کے اس انجام کی واضح وجوہات ہیں۔
1- حماس کی جانب سے سات اکتوبر کا حملہ کرتے ہوئے اس نے مس کیلکولیشن کی تھی اور اس کو لگا تھا کہ اسرائیل کا جواب شدید تو ہوگا لیکن محدود ہوگا جب دنیا بھر میں قتل عام کے خلاف احتجاج پھوٹ پڑیں گے تو امریکہ اور یورپ کو "بس کافی ہے" کا اشارہ دینا ہوگا اور پھر جنگ رک جائے گی جیسا ہمیشہ سے ہوتا آیا تھا لکن اسرائیل کا جواب حماس کی توقع سے بہت الگ تھا اس نے عالمی احتجاج لوگوں کی چیخ و پکار اور امریکہ و یورپ دونوں کو جوتے کی نوک پر رکھا اور حماس کا وہ حشر کیا جس کا اس نے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔
2 - حماس کی اصل آکسیجن لائن ایران تھا۔ ایران نے تہران سے براستہ عراق، شام و لبنان ایک ایسی سپلائی لائن قائم کر دی تھی جس سے وہ حماس کی مدد کرنے اسرائیل کی سرحد تک آگیا تھا یہ قاسم سلیمانی کا بے مثال منصوبہ تھا جس نے اسرائیل کو دو طرف سے گھیرا تھا اس کے جنوب میں حماس اور اسلامی جہاد اور شمال میں حزب اللہ اور ایران آکر بیٹھ گئے تھے لیکن اسرائیل نے نہ صرف حماس کا صفایا کیا بلکہ شمالی سرحد پر حزب اللہ کو بھی عبرتناک انجام سے دوچار کر ڈالا اس کے علاوہ بشار کے سقوط سے آکسیجن لائن بھی کٹ گئی اور پھر ایران پر اسرائیلی حملے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی اس کے ساتھ ساتھ عراقی گروپس کی پٹائی اور یمن پر حملے بھی شامل ہیں جس کو نتھن یاھو فخر سے سات محاذوں پر بہ یک وقت جنگ اور فتح کہتا ہے۔
3 - جس طرح اسرائیل نے غزہ پر قبضہ کیا حماس کے پاس ایسی کوئی زمین باقی نہیں رہی جہاں سے وہ آپریٹ کر سکے اس لئے اس کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اپنا عسکری ونگ زیادہ عرصے قائم نہیں رکھ سکتی البتہ اس نے فیصلہ کیا تھا کہ سیاسی محاذ پر خود کو برقرار رکھا جائے گا اور حالات سازگار ہوتے ہی دوبارہ سے عسکری مضبوطی بھی حاصل کر لی جائے گی لیکن جب اسرائیل نے قطر میں سیاسی دفتر کو نشانہ بنا کر اشارہ دیا کہ جس طرح حماس کے عسکری ونگ کے لئے کوئی جگہ نہیں اس کے سیاسی ونگ کو بھی کہیں برداشت نہیں کیا جائے گا اس کے بعد قطر اور حماس دونوں کو سمجھ اگئی کہ اب مزید یہ سلسلہ جاری رکھنا ممکن نہیں۔
4- حماس کے اہم قائدین ھنیہ، یحیی سنوار، محمد ضیف اس کے ترجمان ابو عبیدہ اور دیگر کئی درجن اہم کمانڈروں اور رہنماوں کی ہلاکت سے بھی اس کو بہت شدید ضرب لگی تھی اور اتنے کم عرصے میں اتنے زیادہ قائدین کی ہلاکت سے خلاء پر کرنا ممکن نہیں رہتا۔
بہرحال اب امکان یہی ہے کہ یہ خطہ ایک بلکل نیا روپ اختیار کر رہا ہے جس میں فلسطینی مزاحمت اور ایرانی اثر ورسوخ ماضی کا قصہ بن جائے گا اور یہ اسلام اور مسلمانوں کےلئے اچھا ہے نقلی جہادی دنیا بھر میں معاہدوں یا دیگر راستوں سے ختم ہوتے جارہے ہیں اور میدان صاف ہورہے ہیں جس میں آخر کار صرف اصلی مجاہد اور کفار ایک دوسرے کے آمنے سامنے رہ جائیں گے اور یہ بہت تیزی سے ہو رہا ہے۔
وللہ الحمد