محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,088
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
- اگر عورت کو حیض نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد آئے تو پاک ہونے کےبعد وہ اس نماز کی قضادے گی، کیونکہ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے نماز کی ایک رکعت پا لی اس نے پوری نماز کو پا لیا۔‘‘ (صحیح البخاری: 580) چنانچہ اگر عورت کو نماز کے وقت میں سے اتنا سا وقت بھی مل جائے جس میں ایک رکعت نماز ادا کی جاسکتی تھی تو پاک ہونے کے بعد اس پر قضا لازمی ہوگی۔
- اگر حیض والی عورت نماز عشاء کا وقت شروع ہونے کے بعدپاک ہو جائے تو اس پر عشاء کی نماز ادا کرنا لازم ہے؛ کیونکہ اس نے عشا کا وقت پا لیا ہے، اسی طرح ساتھ ہی مغرب کی نماز بھی ادا کرے گی ؛ کیونکہ مغرب کی نماز عشا ءکے ساتھ عذر کی صورت میں جمع کی جا سکتی ہے۔
- ایسے ہی اگر عصر کا وقت شروع ہونے کے بعد پاک ہو جائے تو ظہر اور عصر دونوں نمازیں پڑھے گی؛ عبدالرحمن بن عوف ، ابو ہریرہ ، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور جمہور علمائے کرام کا یہی فتوی ہے۔لیکن اگر فجر، ظہر ، یا مغرب کے بعد پاک ہو تو صرف وہی نماز پڑھے گی جس کے وقت میں وہ پاک ہوئی ہے، یعنی فجر، ظہر، یا مغرب؛ کیونکہ ان نمازوں کو پہلے والی نماز کے ساتھ اکٹھا نہیں کیا جا سکتا۔
- حیض سےپاک ہونے کے بعد عورت رمضان کے ان تمام روزوں کی قضائی دےگی جووہ حیض کی وجہ سے نہیں رکھ سکی۔
- اگر عورت رمضان میں فجر سے پہلے پاک ہو جائے اور اس نے غسل نا کیا ہو تو وہ روزے کی نیت کر کے روزہ رکھے گی کیونکہ روزے کاصحیح ہونا غسل پر موقوف نہیں ہے۔
- اگر حیض والی عورت نماز عشاء کا وقت شروع ہونے کے بعدپاک ہو جائے تو اس پر عشاء کی نماز ادا کرنا لازم ہے؛ کیونکہ اس نے عشا کا وقت پا لیا ہے، اسی طرح ساتھ ہی مغرب کی نماز بھی ادا کرے گی ؛ کیونکہ مغرب کی نماز عشا ءکے ساتھ عذر کی صورت میں جمع کی جا سکتی ہے۔
- ایسے ہی اگر عصر کا وقت شروع ہونے کے بعد پاک ہو جائے تو ظہر اور عصر دونوں نمازیں پڑھے گی؛ عبدالرحمن بن عوف ، ابو ہریرہ ، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور جمہور علمائے کرام کا یہی فتوی ہے۔لیکن اگر فجر، ظہر ، یا مغرب کے بعد پاک ہو تو صرف وہی نماز پڑھے گی جس کے وقت میں وہ پاک ہوئی ہے، یعنی فجر، ظہر، یا مغرب؛ کیونکہ ان نمازوں کو پہلے والی نماز کے ساتھ اکٹھا نہیں کیا جا سکتا۔
- حیض سےپاک ہونے کے بعد عورت رمضان کے ان تمام روزوں کی قضائی دےگی جووہ حیض کی وجہ سے نہیں رکھ سکی۔
- اگر عورت رمضان میں فجر سے پہلے پاک ہو جائے اور اس نے غسل نا کیا ہو تو وہ روزے کی نیت کر کے روزہ رکھے گی کیونکہ روزے کاصحیح ہونا غسل پر موقوف نہیں ہے۔